آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > عمران اقبال سے شناسائی

عمران اقبال سے شناسائی

 آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” عمران اقبال “ صاحب۔ آپ ” عمرانیات “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔
خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
@ الحمدللہ۔۔۔ اللہ کا بڑا کرم اور احسان ہے۔۔۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@ ایک عام سا انسان۔۔۔ اس سے بھی زیادہ اللہ کا عام بندہ۔۔۔ جس پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہے۔۔۔ الحمدللہ
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@ جائے پیدائش تو لاہور کی ہے۔۔۔ موجودہ رہائش عرصہ 24 سال سے عجمان، متحدہ عرب امارات ہے۔۔۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@ تعلیم: تعلیم کے بارے تو کچھ نا ہی پوچھیں۔۔۔ تعلیم سے انتہائی اختلاف کے باوجود، بی بی اے کیا اور پھر ایم بی اے بھی 90 فیصد ہو ہی گیا جو کچھ مجبوریوں کے باعث ادھورا چھوڑنا پڑا۔۔۔
پیشہ: عرصہ 10 سال سے مختلف آئل اینڈ گیس کمپنیوں میں کام کرتا رہا ہوں۔۔۔ فی الحال ناروے کی ایک کمپنی میں پرچیزنگ اور لوجیسٹک ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوں۔۔۔
خاندانی پس منظر: والدین پیشہِ تعلیم و تدریس سے منسلک رہے۔۔۔ والد صاحب تو اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ والدہِ محترمہ اپنی صحت کی وجہ سے ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں۔۔۔ ایک بھائی اور دو بہنوں کا اکلوتا بڑا بھائی ہوں۔۔۔ اور ایک ننھی پری کا والدِ ماجد ہوں۔۔۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@ اردو بلاگنگ 2010 میں شروع کی۔۔۔ آئی فون میں کسی اللہ کے بندے کی بنائی ہوئی “اردو سیارہ” نام کی ایپلیکشن ڈاون لوڈ کی تو معلوم ہوا کہ بلاگنگ اردو میں بھی ہو رہی ہے۔۔۔ ورنہ اس سے پہلے کچھ بھی علم نہیں تھا۔۔۔
سانحہِ سیالکوٹ نے کافی پریشان کیا۔۔۔ اور جی چاہتا تھا کہ اپنے دل کی بھڑاس کہیں تو نکالوں۔۔۔ اسی تکلیف نے ورڈ پریس پر بلاگ بنانے اور لکھنے پر مجبور کیا۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@ الحمدللہ مجھے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔۔۔ ایک لکھاری کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے “حوصلہ افزائی” کی۔۔۔ جو مجھے شروع سے ہی میسر رہی۔۔۔ اردو لکھنا مشکل لگتا تھا تو گوگل ٹرانسلیشن کی مدد لی۔۔۔ پھر نیٹ سے پرانی نسل کا اردو کی بورڈ انسٹال کیا جو بعد بھی بلال محمود صاحب کے پاک انسٹالر سے اپ ڈیٹ کر دیا۔۔۔ وہ وقت اور آج، اب اردو لکھنا آسان تر ہو گیا ہے۔۔۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@ بلاگنگ شروع کرتےہوئے دماغ میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔ صرف اپنے دل کے احوال صفحہ پر اتارنا چاہتا تھا۔۔۔ یہ ادراک بعد میں ہوا کہ دل کابوجھ اتارنے کے لیے لکھنا سب سے آسان اور کارآمد مشغلہ ہے۔۔۔
اردو بلاگنگ کے فروغ کے لیے اب تک تو میں کچھ نہیں کر پایا۔۔۔ لیکن اگر موقع ملا اس کارخیر میں حصہ لینا میرے لیے فخر کا باعث ہو گا۔۔۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@ بہت سے بلاگرز ایسے ہیں، جن کو پڑھ کر ہی لکھنا سیکھا۔۔۔ مرحومہ عنیقہ ناز کا شدید نقاد ہونے کے باوجود میں ان کی تحاریر کو بہت پسند کرتا تھا۔۔۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔
جعفر حسین، یاسر خوامخواہ جاپانی، کاشف نصیر، وقار اعظم ، محمد سلیم صاحب اور انکل ٹام کو بہت پڑھا اور سراہا ہے۔۔۔
آجکل عمر بنگش صاحب کی تحاریر کو پڑھنے اور سر دھننے میں مصروف ہوں۔۔۔ کئی بار تنقید بھی کرتا ہوں اور کئی بار تعریف کے لیے لفظ ہی ڈھونڈتا رہ جاتا ہوں۔۔۔ میں ببانگِ دہل یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر عمر بنگش کو صحیح رہنمائی مل گئی تو وہ آج کےمنٹو ہیں۔۔۔
ایک بلاگر جو اپنے ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے، وہ ڈفر ہے۔۔۔ اگر وہ “سنجیدگی “سے “مزاح ” لکھنا شروع کر دے تو بہت کامیاب ہوگا۔۔۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@ بلاگ سے شناسائی تو کافی پرانی ہے۔۔۔ کچھ انگریزی بلاگز کو کافی عرصہ پڑھتا رہا ہوں۔۔۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@ میری تحاریر جو قاری پڑھتے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب میں زیادہ تر “اپنی ڈائری” کے طور پر لکھتا ہوں۔۔۔ اپنی زندگی کے محسوسات اور جذبات لکھتا ہوں۔۔۔ اس لیے پہلے کی نسبت کم لکھتا ہوں۔۔۔ اور جب لکھتا ہوں تو ایک ہی نشست میں لکھتا جاتا ہوں اور اسی نشست میں پوسٹ بھی کر دیتا ہوں۔۔۔ میری ایک ہی تحریر (عجب چیز ہے لذتِ آشنائی) ایسی ہے جو میں نے مختلف اوقات میں مکمل کی۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@بلاگنگ سے مجھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اپنے دل و دماغ کا غبار میں آسانی سے اپنے بلاگ پر منتقل کر دیتا ہوں۔۔۔ باوجود یہ کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ میرے پیغام کو اس طرح سمجھ نہیں پاتے جیسا میں سمجھانا یا کہنا چاہتا ہوں۔۔۔
مزید یہ کہ بلاگنگ کی وجہ سے میں کئی اچھے دوستوں سے مل سکا ہوں۔۔۔ یقین جانئیے، اردو بلاگرز بڑے اچھے لوگ ہیں۔۔۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@ میں تو آج تک لفظ “بلاگ” کا اصل معنی ہی سمجھ نہیں پایا۔۔۔ معیاری بلاگ کے بارے صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں، کہ جہاں قاری ، بلاگر کے تجربے سے کچھ نیا سیکھ سکے یا اپنی معلومات میں اضافہ کر سکے۔۔۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@اگر آپ کے سوال کا مطلب “اردو بلاگنگ کامقام” ہے تو اردو بلاگرز کی اکثریت اس وقت کنفیوز ہے کہ کیا لکھیں جو قاری شوق سے پڑھ سکیں۔۔۔ اگر آپ غور کیجیے تو اس وقت اردو بلاگنگ کےپڑھنے والوں کی اکثریت صرف دو تین بلاگرز کو ہی پڑھ رہی ہے۔۔۔ اور وہ بلاگز بھی ایسے ہیں جو چار پانچ سال پرانے ہیں۔۔۔
بدقسمتی سے نئے بلاگرز اپنی وہ “فین فالوونگ” نہیں بنا پائے۔۔۔ جو بننی چاہیے تھی۔۔۔ جب ان کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو جو حضرات “کامیاب” بلاگرز ہیں، وہ اُن کا ہاتھ نہیں تھامتے۔۔۔
ایمانداری سے کہوں تو اردو بلاگنگ کو دوام بخشنے میں جن چند حضرات کا ہاتھ ہے۔۔۔ اس کے زوال میں بھی انہیں حضرات کا قصور ہے۔۔۔ میری اس بات کو سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔۔۔ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@ اردو سے میرے تعلق کو اگر کوئی نام دیا جائے۔۔۔ تو وہ “ضرورتِ زندگی ” ہے۔۔۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@جی نہیں۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو بلاگنگ کے لیے کام ہو کہاں رہا ہے۔۔۔ اگر آپ بلال محمود صاحب کے “انسٹالر” اور “بلاگنگ مینوئل” کی کاوش کو علیحدہ رکھ دیں۔۔۔ تو کام ہو کہاں رہا ہے۔۔۔ اگر فیس بک پر مختلف صفحات اردو میں بنانے کو “کام” کہتے ہیں تو معذرت سے کہوں گا کہ یہ کام کوئی کام نہیں۔۔۔
ماضی کے بارے میں اتنا علم نہیں۔۔۔ لیکن مختلف کتابوں کو اردو ٹائپ کرنے کا ایک پروجیکٹ شروع ہواتھا کبھی۔۔۔ وہ ایک “کام کا کام” کہا جا سکتا تھا۔۔۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ کہیں بھی نہیں۔۔۔ اردو بلاگرز کی کوانٹیٹی (تعداد) بڑھ جائے گی اور کوالٹی تیزی سے گر جائے گی۔۔۔ ویسے ہو تو یہ اب بھی رہا ہے۔۔۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں کو میں سلام اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔۔۔ جن میں بلال محمود صاحب سرِ فہرست ہیں۔۔۔ محدود زرائع کے باوجود بلال نے اردو کی انتہائی کارآمد خدمت کی ہے۔۔۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@ بلاگ کے علاوہ بہت سے مصروفیات ایسی ہیں، جو ہو سکتی تھیں لیکن اب نہیں ہیں۔۔۔ آفس۔۔۔ گھر۔۔۔ اور پھر آفس۔۔۔ یہی روزانہ کا معمول ہے۔۔۔ دوسری مصروفیات پالنے کا وقت ہی میسر نہیں رہا۔۔۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@ زندگی کے بہت سے مقاصد ہیں۔۔۔ جن میں ایک مقصد ‘واقعی اچھی تحریر” لکھنا ہے۔۔۔ اور معاشی حالات نے اجازت دی تو متحدہ عرب امارات میں امریکی سپانسرڈ “اردو بلاگرز کانفرنس” منعقد کروانا ہے۔۔۔ 
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
 
پسندیدہ: 
1۔ کتاب ؟
@ بہت سی ہیں۔۔۔ جن میں راجہ گدھ، علی پور کا ایلی، الکھ نگری ، شہاب نامہ اور مفتیانے شامل ہیں۔۔۔
2۔ شعر ؟
@ پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم۔۔۔ مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا۔۔۔
3۔ رنگ ؟
@ سفید، کالا اور ہلکا نیلا
4۔ کھانا ؟
@ چکن اچاری، حلیم، نہاری، پائے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
5۔ موسم ؟
@ گرم علاقے میں رہنے کی وجہ سے موسمِ سرما۔۔۔
6۔ ملک ؟
@ متحدہ عرب امارات
7۔ مصنف ؟
@ ممتاز مفتی
8۔ گیت؟
@ فیض احمد فیض کا لکھا ہوا اور ٹینا ثانی کی آواز میں۔۔۔ “دشتِ تنہائی”
9۔ فلم ؟
@ A Walk to Remember 
غلط /درست: 
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@ درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@ درست
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@ درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@ غلط
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@ یہ تو میرے دوست ہی بتا سکتے ہیں کہ میں اچھا دوست ہوں یا نہیں۔۔۔ ویسے میں اچھا دوست بننے کی کوشش ضرور کر رہا ہوں۔۔۔
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@ غلط
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@ غلط
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@ درست اور غلط۔۔۔ ماحول اور ساتھ پر انحصار کرتا ہے۔۔۔ 
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@ اچھا قدم ہے۔۔۔ مزید ورائٹی لائیں۔۔۔ یعنی انٹرویوز کے علاوہ تحریری مقابلے اور ایوارڈ زوغیرہ 
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@ زیادہ سے زیادہ پڑھیں تاکہ اچھا لکھ سکیں۔۔۔ 
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@ بہت شکریہ
محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

15 تبصرے:

  1. جب سے اردو کے ایک بہت ہی پیارے بلاگر کے منہ سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ عمران اقبال سے ملنے کیلئے بندہ دنیا کی آخری نُکڑ سے بھی دوبئی جائے تو بھی قبول ہے، تب سے آپ سے ملنے کا اشتیاق اور بھی بڑھ گیا ہے۔ آپ کے بارے میں آپ کی زبانی جان کر بہت اچھا لگا۔ شکریہ۔

  2. اچھے دوست کی تعریف نہیں کرنی چاھئے۔
    لیکن عمران ایسے بندے ہیں کہ انہیں دوست بھائی سب کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔
    پیارے اور مخلص بندے ہیں۔
    عمر بنگش میرے خیال ہم سب کے پسندیدہ لکھاری ہیں۔
    دلی خواہش ہے کہ عمر بنگش کا نام تاریخ میں رقم ہو۔

  3. اچھا لگا ایک سیدھے کھرے بلاگر کو جان کر۔
    ” اردو بلاگنگ کو دوام بخشنے میں جن چند حضرات کا ہاتھ ہے۔۔۔ اس کے زوال میں بھی انہیں حضرات کا قصور ہے” یہ جن صاحب کے بارے مین اشارہ ہے وہ خود ہی اپنا تعارف کروادیں :ڈ ۔۔۔

  4. ایک “جاہلانہ” انٹرویو پڑھنے کے بعد طبیعت جتنی مکدر ہوئی، آج اتنی ہی تازہ دم بھی ہوئی۔ بہت شکریہ عمران ۔۔۔ آپ کا یہ کہنا کہ “اردو بلاگنگ کو دوام بخشنے میں جن چند حضرات کا ہاتھ ہے۔۔۔ اس کے زوال میں بھی انہیں حضرات کا قصور ہے” ایک بندے کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا ذکر آپ نے اپنے انٹرویو میں ان الفاظ میں کیا ہے ” ایک بلاگر جو اپنے ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے، وہ ڈفر ہے” میں صحیح پہنچا شخصیت تک؟ 🙂

    1. ابوشامل صاحب بہت شکریہ۔۔۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو یہ انٹرویوو پسند آیا۔۔۔

      جہاں تک بات ہے نام لینے کی تو اور بہت سے لوگ بھی ہیں۔۔۔۔ اگر ان میں تھوڑی سی بھی عقل ہو تو وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے بارے بات ہو رہی ہے۔۔۔

  5. سب بھائیوں اور دوستوں کے پیار کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ سب بہت اچھے ہیں اسی لیے مجھ ناچیز کو اچھا سمجھتے ہیں۔۔۔ اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش و خرم اور زندگی اور آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر