آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > ریاض شاہد سے شناسائی > ریاض شاہد سے شناسائی

ریاض شاہد سے شناسائی

آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” ریاض شاہد “ صاحب۔ آپ ” جریدہ “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔
خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
مزاج بخیر ہیں۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
میرا نام ریاض شاہد ہے والد صاحب قبلہ نے اپنی جوانی کے دنوں میں فلمی ڈائیریکٹر ریاض شاہد اور نیلو کے شاہ ایرن کے اعزاز میں رقص سے حکومت کو انکار اور ان کی حب الوطنی پر مبنی مشہور فلمیں غرناطہ ، یہ امن اور زرقا وغیرہ سے متاثر ہو کر رکھا تھا ۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
سنٹرل پنجاب کے شہر پاکپتن کے ایک نواحی گاوں میں جنم لیاتھا اور ابھی بسلسلہ روزگار کوئٹہ میں ہوں۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@میری تعلیم ایک طرح سے ٹیڑھی لکیر کی طرح چلتی رہی کیونکہ ابا جان بسلسلہ ملازمت اور پھر میں خانہ بدوشی کی زندگی گذارتے رہے ۔ تعلیم کے نام پر دیپال ور کے قریب ایک سرحدی قصبے سے پرائمری ، پانچویں گریڈ کے بعد ایک وہیں دینی مدرسے میں تین چار کی دینی تعلیم ، ائر فورس سے الیکٹرانکس میں ایک عدد ڈپلومہ، بی اے اور آئی ٹی میں ایک عدد ایم بی اے ہے ۔ والد صاحب شعبہ تعلیم میں معلم تھے ، اُس وقت دل میں تھا کہ میں بھی تعلیم کے شعبے میں پروفیسر بنوں گا لیکن میٹرک کے بعد کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایئر فورس میں بطور ٹیکنیشن شامل ہو گیا ۔ کوئی چھ برس وہاں رہنے کے بعد ایک دوسری پر کشش ملازمت مل گئی تو اسے خیرباد کہ دیا لیکن ائر فورس کے ادارے اور افراد نے جس لگن ، محنت اور محبت سے تربیت و رگڑا دیا وہ بعد میں کہیں نظر نہیں آئی ۔ تو اس کے چھوڑنے کا قلق و کسک ابھی تک دل میں موجود ہے اور میں اس ادارے کا مشکور بھی ہوں خصوصا میتھ کے انسٹرکٹر ونگ کمانڈر طارق کا کہ ان کی سی سادگی ، دیانت داری ، وعدے کی پاسداری، وقار ، پروفیشنل ازم اور محنت کرنے والا بعد کی زندگی میں نظر نہیں آیا۔ میری یادوں میں وہ لمحہ ابھی تک تازہ ہے جب آخری دن بیلٹ اتارتے ، اس پر لگے شاہین ،صحرا ست کہ دریا ست ، تہ بال و پر ما ست کے نشان کو بصد حسرت الوداع کہا تھا ۔
آباو اجداد قیام پاکستان سے ایک دو برس پہلے ہی مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آ گئے تھے ۔ہوا یوں کہ ددھیال کے بزرگوں کا وہاں ایک انگریز پادری سے کسی دینی مسئلے جھگڑا ہو گیا تو سب گاوں والوں نے مل کر اس پادری کی پٹائی کی ۔ انگریز سرکار کو خبر ہوئی تو بطور سزا پورا گاوں جلا کر سب کو دربدر کر دیا گیا۔ وہ تلاش معاش میں مشرقی پنجاب سے چلے تو دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ نیچے کی جانب چلتے چلے گئے ۔ راستے میں ہر مقام پر دو چار گھرانے کسی نہ کسی جگہ اور گاوں پڑاو ڈالتے گئے ۔یوں باقی لوگ رزق کی تلاش میں چلتے چلتے ریاست بہالپور ، محراب پور اور قیام پاکستان کے بعد بدین تک جا پہنچے ۔ ننھیال والے بھی ددھیال کےقریبی رشتہ دار تھے لیکن امرتسر کے نواح میں ایک گاوں میں صدیوں سے مقیم تھے کہ انگریز سرکار کو موجودہ امرتسر ائر پورٹ بنانے کی سوجھی تو ان کی زرعی زمین کو بحق سرکار معمولی رقم پر ایکوائر کر لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی نانا لیز کی رقم کی وصولی کے سلسلے میں ایک دو سال جاتے رہے لیکن بعد میں کشمیر کی جنگ وغیرہ کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تو یوں قیام پاکستان سے ایک برس قبل یہ گھرانا بھی پتوکی کے قریب ایک گاوں آن پہنچا ۔وہاں ایک ہندو ساہوکار سیٹھ اس زمانے میں کاشت کاروں میں زمینیں معمولی معاوضے پر تقسیم کر رہا تھا تو انہیں بھی کچھتحوڑی بہت زمین مل گئی اور وہ یہیں جم گئے ۔ ان کی پنجابی میں امرتسر کا لہجہ اور کلچر جھلکتا تھا تو ددھیال کے لہجے میں ساہیوالی لہجہ جو جھنگ اور ملتانی لہجے سے قریب ہے ۔ ابھی زیادہ برادری لاہور اور کراچی کے شہروں میں آباد ہے ۔ ویسے اہلیہ اہل زبان ہیں جن کے آباو اجداد نے شاہجہان پور لکھنو سے ہجرت کی تھی۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@2000 ء میں شوقیہ کمپوٹر پروگرامنگ شروع کی تو اردو سوفٹویئر کی تیاری کے سلسلے میں نیٹ پر اردو سے متعلق مواد بھی آگاہی ہوئی ۔ پہلے پہل اجمل بھوپال اور خاور کے بلاگ سے آشنائی ہوئی ۔ ویسے بھی اردو سے لگاو بچپن سے تھا تو دو ہزار چھ میں ایک بلاگ بنایا لیکن ایک تو عدیم الفرصتی اور دوسرا سلو نیٹ سپیڈ اس میں حائل رہا ۔ پھر دو ہزار نو میں جب کسی قدر فرصت اور براڈ بینڈ نیٹ میسر ہوا تو اپنا بلاگ ورڈ پریس پر بنایا جو اب ایم بلال ایم کی مہربانی سے اپنے آزاد ڈومین پر چل رہا ہے ۔ ایم بلال ایم کی خدمات کو اردو بلاگنگ کے فروغ میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@اُس وقت تو دوسروں کی نقل میں صرف بلاگران میں شمولیت کا شوق تھا بلکہ جب بلاگ بنایا تو پتہ نہیں تھا کہ کیا لکھنا ہے اور قارئین کیا پڑھنا چاہتے ہیں بعد میں آہستہ آہستہ چلتے گئے بس ۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں سمجھتا ہوں کہ تمام بلاگرز کا اپنا اپنا انداز ہے ۔ جیسے گلدستے کے ہر پھول کی علیحدہ مہک ، رنگ اور بو باس ہوتی ہے اسی طرح ہر بلاگر اپنے مزاج ، تعلیمی اور سماجی پس منظر کے مطابق لکھتا ہے تو اس لحاظ سے میں سب بلاگرز کی قدر کرتا ہوں ، دوستی کا خواہش مند رہتا اور سب کی تحاریر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں البتہ عنیقہ ناز مرحومہ (خدا انہیں جنت نصیب کرے ) عمر بنگش ، علی حسان ، ِ جعفر ، زُہیر چوہان ، ابرارا قریشی ، افتخار راجہ ، جاوید گوندل ، جوانی پٹا ، ساجد نامہ ، شاکر عزیز ، شعیب صفدر ، عدنان مسعود ، عامر(گوجرانوالوی ) ، وحید سلطان ، عمران اسلم ، ایم بلال ایم ، منیر عباسی اور یاسر جاپانی زیادہ پسند ہیں ۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@سن دوہزار ایک میں۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@میں چونکہ کسی خاص تنظیم یا فلسفے سے وابستہ نہیں ہوں بلکہ صرف شوق کے لیئے لکھتا ہوں تو اس لیئے لکھنے کی تحریک ذرا اسی وقت ہوتی ہے جب فرصت میسر ہو ۔ پہلے بنیادی خیال دفتر ی اوقات میں ذہن میں آنے پر موبائل میں محفوظ کر لیتا ہوں اور بعد میں اگر طبیعت مائل ہو تو پوسٹ لکھ لیتا ہوں ۔ پوسٹ لکھنے میں تین چار گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں کہ لکھنا ، حوالے چیک کرنا اور تدوین وقت مانگتی ہے ۔ ویسے چونکہ میں بلاگ پوسٹ لکھنے اور شائع کرنے میں جلد باز ہوں ، بس کاتا اور لے دوڑی کا شکار رہتا ہوں تو تحریر میں خامیاں اور املاء کی غلطیاں بے شمار ہوتی ہیں جن پر بعد میں افسوس بھی ہوتا ہے ۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@مجھے اپنے آپ کو جاننے کا موقعہ ملا ہے کہ جب تک آپ کے خیالات چیلنج نہیں ہوتے آپ اپنے سچ کو آخری سچ سمجھتے ہیں ۔ بلاگنگ کی دنیا میں اس دور میں جب بحث و مباحثہ زیادہ ہوتا تھا تو اس وقت زیادہ سیکھنے کا موقعہ ملا البتہ اب دوست بشمول میرے بحث و مباحثہ سے پرہیز کرتے ہیں کہ آخر میں بحث معقولیت سے اتر کر ذاتی سطح پر اتر آتی ہے جو کہ کچھ اچھی علامت نہیں ہے ۔ ۔ دوسرا فائدہ ہوا کہ نئے دوست میسر آئے جن سے غائبانہ تعارف تو برسوں سے ہوتا ہے لیکن جب عملی زندگی میں ملنے کا بھی اتفاق ہوتا ہے تو کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا ۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@میرے خیال میں معیاری بلاگ وہ ہوتا ہے جس سے پڑھنے والے کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی یا تحرک پیدا ہو اگر تحریر محض آپ کے منفی جذباتی ابال کا اخراج ہے ، اس سے آگے اور زیادہ کچھ نہیں ، مطالعے پر مبنی یا اس میں زبان کی چاشنی نہیں تو اس سے بہتر ہے کہ کچھ نہ لکھا جائے ۔ ایک اچھی تحریر کی عمر زیادہ ہونی چاہئیے تاکہ کچھ عرصہ بعد بھی کوئی اسے پڑھے تو اس کی تازگی برقرار ہو ۔ طعنو ں سے آج تک بشمول میرے کوئی نہیں سُدھرا تو ضروری ہے کہ لکھتے وقت قاری کی وہ عزت ذہن میں رکھی جائے جس کا وہ مستحق ہے کیونکہ بلاگ کو ہر ذہنی سطح کا قاری پڑھتا ہے ۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@اس لحاظ سے تو مقام ملا کہ اس زبان کو طورخم کے پٹھان سے لے کے ٹھٹھہ کا سندھی تک سمجھتا اور بولتا ہے لیکن زبان کی پالیٹکس اور معاشی مفاد کی سیاست نے اسے پنپنے نہیں دیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان کی عملی حیثیت اب تقریبا ختم ہو چکی ہے اور ایک دو نسلوں کے بعد یہ ایک بولی کی سطح پر آ جائے گی بلکہ آ چکی ہے کیونکہ اگر کوئی زبان کسی ملک کی معیشت اور افراد کو سائینس ، ٹیکنالوجی ، شعر و ادب اور عملی زندگی میں موجودہ مسائل کے حل کے فلسفہ کے ذریعے سیراب نہیں کر رہی وہ زوال پذیر ہے ۔ جیسے پنجابی اور فارسی زبان کے ساتھ پنجاب میں ہوا ۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@محبت کا۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@ مجھے نہیں پتہ کہ کون کتنا کام کر رہا ہے ۔ ابھی تک ایک ڈھنگ کی اردو سے اردو برقی لغت تو ہم بنا نہیں سکے ۔ البتہ بلاگنگ سے وابستہ حضرات قابل تعریف ہیں کہ بغیر کسی معاوضے کے اپنی بساط بھر کوشش میں مصروف ہیں ۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ میں اگرچہ قنوطیت پسند نہیں ہوں لیکن کہوں گا کہ اردو بلاگنگ وہیں کی وہیں کھڑی ہے ۔ کچھ عرصہ کوئی صاحب آ کر محفل کو گرماتے ہیں اور اس کے بعد چلے جاتے ہیں ۔ ان کے بعد کچھ اور نئے آ جاتے ہیں اور پھر مایوس ہو کر یا معاش کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے اس ذہنی عیاشی سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ پہلے بھی چند گنے چُنے لوگ تھے اور اب بھی اتنے ہی ہیں ۔ اردو بلاگنگ کو انگریزی اور مائکرو بلاگنگ سے سخت مقابلہ درپیش ہے جس میں بلاگرز کے لیئے فوری شہرت اور کسی حد تک پیسہ بھی ہے اگر سنجیدگی سے مسلسل کوشش نہ کی گئی تو اردو بلاگنگ اسی طرح چلتی رہے گی ۔ شوقیہ لکھنے والا سنجیدہ فیڈ بیک چاہتا ہے اگر وہ بھی اسے نہیں ملے گی تو پھر وہ اسے ایک بے فائدہ کام سمجھ کر الگ ہو جاتا ہے ۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ پیغام تو عظیم لیڈر دیتے ہیں ویسے بھی سارا میڈیا پیغامات سے بھرا پڑا ہے بس یہی کہوں گا کہ کوئی کوشش بھی چھوٹی نہیں ہوتی اور ہر کام کا معاوضہ زندگی میں فورا نہیں ملا کرتا ۔ قدرت ادھار بالکل نہیں رکھتی اور کسی نہ کسی مناسب وقت پہ حق ادا کر دیتی ہے ۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@ کتب بینی ، کمپیوٹر پروگرامنگ ، جاگنگ اور سونا۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@ مقصد تو اس وقت سمجھ آتا ہے نا جب انسان کی سوچ پیٹ کی سطح سے بلند ہو سکے فی الحال مجھ میں اتنی توفیق پیدا نہیں ہوئی کہ اس سے بلند ہو سکوں ۔ خواہش یہی ہے کہ زندگی میں توازن حاصل ہو جائے ، وہ کیا دعا ہے ربنا اتنا فی الدنیا ۔۔۔۔۔ 
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔ 
پسندیدہ: 
1۔ کتاب ؟
@ یوسفی کی آب گم
2۔ شعر ؟
@ میرے بلاگ کی ٹیگ لائن داغ دہلوی کا شعر ۔ کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے ، مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
3۔ رنگ ؟
@ کریم کلر یا آف وائٹ
4۔ کھانا ؟
@ بریانی ، بینگن کا بھرتہ ، آلو گوشت کا سالن( شوربے والا) اور مونگ کی گھلی ہوئی دال بمعہ لسی
5۔ موسم ؟
@ سرد
6۔ ملک ؟
@ جرمنی
7۔ مصنف ؟
@ مشتاق احمد یوسفی ، عصمت چغتائی ، مستنصر حسین تارڑ ،اور علی عباس جلال پوری
8۔ گیت؟
@ اردو ۔ آ لوٹ کے آ جا میرے میت ، پنجابی ۔ میری چُنی دیاں ریشمی تنداں ، انگلش ۔ بونی ایم بینڈ کا اٹس ہالی ہالی ڈے
9۔ فلم ؟
@ پنجابی ہیر رانجھا ، اردو شری چار سو بیس اور انگریزی فلم El Cid جس میں چالز ہیسٹن اور صوفیہ لورین ہیرو ہیروئن تھے ۔ 
غلط /درست: 
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@ درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@ نغلط
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@ درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@ درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@ نہیں (مگر صرف اہل دل کا )
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@ نہیں
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@ ہاں
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@ نہیں ( مگر ہم مزاج افراد کے ساتھ) 
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@ بلاگرز کے مقابلے منعقد کیئے بغیر منظر نامہ کا کوئی مقصد نہیں ہے چاہے اس کا انعام محض ایک عدد بیج ہی کیوں نہ ہو ۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ 
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@ شکریہ کہ آپ نے عنایت کی ۔
محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

16 تبصرے:

  1. اب تک کا بہترین معلوماتی انٹرویو
    پڑھ کر بہت اچھ لگا جناب
    خاص کر خاندانی پس منظر جس خوبصورتی سے بیاں کیا آپ نے
    اور خانہ بدوشی آپ کی تعلیم میں بھی جھلکتی نظر آتی ہے
    پہلے ایلکٹرانکس پھر آرٹس سے ہوتے ہوئے آئی ٹی اور آخر میں بزنس

  2. ریاض صاحب بہت سلجھی ہوئی شخصیت کے حامل ہیں، ان سے ہونے والی ملاقات ہم کراچی کے اردو بلاگرز کو ہمیشہ یاد رہے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ ہمیں شرف ملاقات بخشیں گے۔ انٹرویو اتنا اچھا ہے کہ اس مرتبہ واقعی سوالات کی کمی محسوس ہوئی کہ ریاض صاحب نے مزید سوالات بھی کرنے چاہیے تھے 🙂

  3. دل کر را ملنے کو 🙂

    صاحب ایک عدد اچھی، مفصل اور لمبی ساری تحریر لکھ ڈالیں تعلیم، پیشے خاندانی پس منظر کے بارے،

    بہت اچھا بیان کیا لیکن تشنگی رہ گئی، دھاگہ ٹوٹ گا جوں۔ اور شکریہ 😀

  4. ماشاءاللہ – ریاض شاہد بھائی آپ کے بارے جان کراچھا لگا – آپ سے فیس بُک پہ کچھ جملوں کے تبادے ہوئے اور پھر کچھ دن قبل آپ کے کمال بہربانی سے دئے گئے چند مشوروں نے آپ کے خلوص کا گرویدہ بنادیا-

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر