آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > وحید سلطان سے شناسائی

وحید سلطان سے شناسائی

 منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر ” وحید سلطان “ ۔ آپ ” شمال مشرق سے “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ ان سے شناسائی کا آغاز کرتے ہیں۔
خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
@الحمدُللہ ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@ نام وحید سلطان ہے اور بچپن سے آج تک اسی نام سے پکارا جارہا ہوں، اور ایک غیرسرکاری ادارے میں نوکری کررہا ہوں۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@میری جائے پیدائش تو خانیوال ہے۔ والد صاحب سرکاری ملازم تھے جس کی وجہ سے بہت پہلے خانیوال سے ہجرت کرکے اسلام آباد شفٹ ہونا پڑا۔ جبکہ میں پچھلے آٹھ سال سے بسلسلہ روزگار لہور میں مقیم ہوں اور اب تو خود بھی تھوڑا بہت لہوری بن گیا ہوں۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@بڑی زِگ زیگ تعلیم ہے میری، پہلے جینیٹک انجنیئرنگ(پلانٹس) میں ایم فِل کیا، اُس کے بعد سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا اور پھرڈیفنس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز میں کچھ ماہ لگانے کے بعد اُسےخیرباد کہہ کر نوکری میں پناہ ڈھونڈی۔ان دنوں پرائیویٹ ادارے کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ میں بطور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ مینیجر کام کررہا ہوں۔ فیملی میں امّی،ایک بڑے بھائی ، بھابھی، اُن کے دو بچّے ۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@ میں گوگل پر ایک دن “اِن پیج” ڈھونڈ تھا جس کی فائل کرپٹ ہوچکی تھی، تو گوگل نے مجھے “ایم بلال ایم” کے بلاگ کا راستہ دکھلا دیا جہاں اپنی طرز کی علیحدہ ہی دنیا آباد تھی۔ انگلش زبان میں میں نے دو چار دفعہ جینیٹکس اور سائیکالوجی پر لکھا تھا لیکن وہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ اردو بلاگنگ نومبر دوہزار بارہ میں شروع کی۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@پہلے مرحلے میں تو “H”کی جگہ”ح” اور “S” کی جگہ”س”لگانا سیکھا۔۔۔ اس کے بعد لکھ کے پوسٹ کرنا۔ پہلے پہل انگریزی کیلئے بنے سانچوں پر گزارا تھا لیکن بعد میں اسے بھی اردو کردیا۔ ایک دو بار البتّہ ڈفر صاحب نے بھی رہنمائی کی۔۔۔۔اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@میرا بلاگ بنیادی طور پر ڈائری بلاگ ہے جس میں اپنے روزمرّہ کے مشاہدات اور واقعات لکھتا ہوں، اور یہی میرا مقصد بھی تھا۔اردو بلاگنگ کے فروغ کیلئے تو کوئی ٹیکنیکل بندہ ہی کچھ کرسکتا ہے۔ ہاں البتہ انٹرنیٹ پر اردوالفاظ بڑھانے کی حد تک اردو بلاگنگ کو فروغ بھی دے رہے ہیں۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں اردو بلاگنگ میں ہر بندے سے متاثر ہوں جیسے ڈفر صاحب کی بے باکی سے، جعفرحسین صاحب کی لفّاظی سے، علی حسان صاحب کے جملہ بنانے کےانداز سے، افتخار اجمل صاحب کا اپنے تجربات بیان کرنے کا انداز، بلال محمود صاحب کی پختگیِ تحریر، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سلسلہ بہت آگے تک چلتا ہے۔ میں ہر وہ تحریر پڑھتا ہوں جو بلاگر ز کی اپنی تخلیق ہوتی ہے، اور کئی کئی بار پڑھتا ہوں۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@ دوہزار سات میں، ایک غیر ملکی اخبار کےبلاگ پیج سے۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@عام طور پر ایک ہی نشست میں، کیونکہ ایک بار جو خیالات کا تسلسل ٹوٹ جائے وہ بعد میں میّسر نہیں ہوتا۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@مجھےبلاگ کی صورت میں غبارِ دِل نکالنے کا ایک پلیٹ فام ملا ہوا ہے جو کافی سے بھی بہت زیادہ ہے، جبکہ بونس میں کئی نئے نئے خیالات رکھنے والے دوستوں سے سلام دُعا ہوگئی۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@بلاگنگ کبھی بھی غیر معیاری نہیں ہوتی کیونکہ جو بلاگ ایک بندے کی نظر میں غیرمعیاری ہے، ہوسکتا ہے تین لوگ اسے پسند کررہے ہوں۔ میری نظر میں ہروہ بلاگ جو کاپی پیسٹ سے پاک ہو معیاری بلاگ ہے۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@اردو کو جو مقام ملنا تھا وہ مِل چکا، اب اردو زبان مسلسل پیچیدگیوں کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ جن کی قومی زبان اردو تھی وہ ذہنی غلامی میں اس قدر دھنس گئے ہیں کہ اردو کو “اُرنگلش”بنا بیٹھے ہیں۔ویسےآپس کی بات ہے کہ اگر کوئی شخص گفتگو کے دوران چار پانچ انگریزی الفاظ نہ کہہ سکے، ہم اُسے پڑھا لکھا ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@اردو کے ساتھ میرا وہی تعلق ہے جو اسلام آباد کا پاکستان کے ساتھ، اور لہور کا تختِ لہور کے ساتھ۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@جو لوگ اسے بے لوث ہوکر فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں، اُن کے خلوص پر تو شک نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ ہیں تھوڑے۔ اور جو پروفیشنل انداز میں خدمت کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، وہ فروغ دینے کی بجائے اس کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔چند ماہ پہلے ملک کے ایک معروف اخبار میں چھپنے والا کالم جس میں رومن رسم الخط کی وکالت کی گئی تھی، اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بہرحال، اردو کی جڑوں میں بڑے بڑے نامیوں نے اپنا پسینہ بہایا ہے اس لئے “جیسی ہے، جہاں ہے”تو رہے گی ہی۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@اردو بلاگرز کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرجائے گی، اسی دوران ہوسکتا ہے ایک آدھ کانفرنس اور بھی ہوجائے۔ جبکہ میں اپنی روائتی غیرمستقل مزاجی کے سبب اپنے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ جی بالکل “اردو کی خدمت کرنے کا اجر اللہ تعالیٰ کی ذات دے گی، کیونکہ برصغیر میں اس زبان نے اسلام کی بہت خدمت کی ہے”۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@فوٹوگرافی، پینٹنگ، پارک میں بیٹھ کر(دوسروں کے)بچّوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنا۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@مقصدِ زندگی تو اتنے ہیں کہ زندگی ہی مقصدوں میں پھنسی پڑی ہے۔ البتہ خواہش ہے کہ پنتالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو کر اپنا بڑھاپا سانتیاگو میں گزاروں۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔ 
پسندیدہ: 
1۔ کتاب ؟
@شہاب نامہ – قدرت اللہ شہاب
2۔ شعر ؟
@اے طائرِ لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی – جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔
3۔ رنگ ؟
@کالا اور آسمانی نیلا۔
4۔ کھانا ؟
@بھنڈی۔
5۔ موسم ؟
@خزاں
6۔ ملک ؟
@چلِّی
7۔ مصنف ؟
@پطرس بخاری، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد اور منٹو
8۔ گیت؟
@جو نہ مِل سکے وہی بے وفا – نُور جہاں
9۔ فلم ؟
@ Cast Away
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@درست
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@غلط
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@غلط
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@غلط
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@غلط
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@درست
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@غلط
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@ جو سلسلے ہیں اُنہیں جاری رہنا چاہیئے، مزید ایک ایسا سالنامہ مرتب کیا جائے جس میں تمام اردو بلاگرز کی اُس سال لکھی جانے والی ساری تحریریں شامل ہوں۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@حقیقت پسندی میں گزری ایک دن کی زندگی، سو سال کی خوابی زندگی سے بہتر ہے۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

10 تبصرے:

  1. جیو استاد
    بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ وحید صاحب سے فضل دین کے بارے پوچھنا تھا کہ کیا ہوا اور کیا تھا
    وحید صاحب کے بلاگ ہم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں لیکن ان کے بارے معلومات صفر تھی اس لیے پڑھ کر بڑی خوشی ہے
    اللہ لمبی زندگی دے آپ کو

  2. یار ایک بات اچھی طرح سوچ لو پھِر تبدیلی کی گنجایش نہیں رہنی سوال میں دہرا دیتا ہوں ۔ آپ کا نام وحید سُلطان ہی ہےَ؟ ۔ ویسے مُجھے فضل دین بھی بہت پیارا لگتا تھا۔ آپ کے متعلق جان کر بہت اچھا لگا ۔ مگر آپ نے زیادہ تفصیل سے اپنا انٹرو نہیں دیا۔ یہ بات درست ہے کہ وحید سُلطان بلاگ زیادہ تر ڈائیری بلاگ کے طور پر لِکھتا ہے مگر اِس کے طرزِ تحریر کے ساتھ ساتھ اِس کا مُشاہدہ کمال کا ہے۔
    بھلے فضل دین اوہ معاف کیجئے گا وحید سُلطان کِتنا ہی غیر مستقل مزاج کیوں نہ ہو۔ اُسے یہ بات کان کھول کر سُن لینی چاہئے کہ ہماری دُنیا میں آنے کے سو رستے ہیں مگر واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ اللہ آپ کو ہر میدان میں ترقیاں دے۔ آپ سدا ہنستے بستے رہیں اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں (آمین)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر