آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو بلاگنگ ایوارڈز > منظرنامہ ایوارڈز2013: ووٹنگ

منظرنامہ ایوارڈز2013: ووٹنگ

منظرنامہ ایوارڈز 2013 کی ووٹنگ کا آغاز آج سے کردیا گیا ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ بلاگر کو ووٹ کرسکتے ہیں۔ ووٹنگ کے لیئے ستاروں کا نظام منتخب کیا گیا ہے اس نظام کے ذریعے آپ بلاگر کو اپنی پسند کے مطابق ووٹ کرسکتے ہیں۔ جس بلاگ کو ہر زمرہ میں زیادہ ووٹ ملیں گے اسے ایوارڈ کا حق دار قرار دیا جائے گا۔ جو بلاگر ایوارڈ کے لیئے منتخب ہوئے ہیں وہ اپنے لیئے ووٹ مانگ سکتے ہیں۔ ووٹ کوئی بھی شخص کرسکتا ہے۔ ووٹنگ کے دوران دھاندلی اور فیک ووٹ سے بچنے کا پورا انتظام ہے لیکن ہمیں امید ہے آپ فیک ووٹ کروانے اور کرنے سے پرہیز کریں گے۔

سال 2013 کا بہترین بلاگ

بلاگ اس طرف سے کے لیئے ووٹنگ

بلاگ جریدہ کے لیئےووٹنگ

بلاگ صلۂ عمر کے لیئے ووٹنگ

سال 2013 کا فعال ترین بلاگ

محمد سلیم کے بلاگ کے لیئے ووٹنگ

بلاگ کرک نامہ کے لیئے ووٹنگ

بلاگ بنیاد پرست کے لیئے ووٹنگ

سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ

بلاگ گھریلوباغبانی کے لیئے ووٹنگ

بلاگ گستاخیاں کے لیئے ووٹنگ

بلاگ طِب گردیاں کے لیئے ووٹنگ

منظرنامہ انتظامیہ آپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

ووٹنگ کرنے کی آخری تاریخ 26 دسمبر 2013 ہے۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

20 تبصرے:

  1. ووٹ تو ڈال دیئے ہیں۔ اور مجھے طریقہ کسی حد تک پسند ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے کہ جو بلاگ 4.5 کی ریٹنگ لینے کا حقدار اسے مجبورا یا تو چار دینے پڑیں گے یا پانچ۔

  2. ازراه کرم ووٹنگ کے عمل کو بے شک دھاندلی سے پاک صاف شفاف بنایا جاۓ لیکن اس عمل کو اتنا پچیده نه کریں که ووٹ کرتے وقت کچھ سمجھ هی نا آۓ که اب بنده کیا کرے یا کیا نه کرے…
    براه مهربانی همیں رهنمائ کی ضرورت هے.

  3. ستاروں کے حساب سے مجھے لگا که شاید برج دلو یا برج وغیره کا چکر ھو گا لیکن خور شید بھائ کے کمنٹ سے پتا چلا که ایسی کوئ بات نهیں یه تو سیدھا ساده طریقه ھے.
    ایک بار پھر بھت شکریه بھائ جان…

  4. 3000+ سے زائد روزانہ ایوریج وزیٹر ھٹس، 15 ماہ میں آٹھ لاکھ کے قریب وزیٹرز، ریکارڈ نمبرز آف فیس بک لائیکس، فیس بک بلاگ پیج کے 56000 ممبرز اور فعال ترین ہونے کے باوجود میرا بلاگ وائس آف پاکستان کلی نظر انداز کیا گیا۔ اور یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں اور بھی بہت سے ایسے معزز بلاگرز کے ساتھ کیا گیا جو جو بلاگنگ کے چند بڑے نام نہاد ناموں کے ساتھ نظراتی اختلافات رکھتے ھیں۔ لطف کی بات ہے کہ صرف 2، 3، یا 4 ووٹوں کے ساتھ نامزدگیاں ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ منظر نامہ فورم دراصل ڈھائی اینٹوں کی مسجد ہے جس میں چند یار دوست اک دوجے کو واہ واہ کرنا ہی عین اردو بلاگنگ گردانتے ہیں۔ بصد معذرت، لگتا ہے کہ چند دوست یار مل کر بیٹھے اور ” ایوارڈ ” کے اجرا کی “شرارت” کر دی ۔۔۔۔۔۔ واہ رے ” بلاگنگ کے فروغ کا جذبہء حق گویاں ” ۔۔۔۔۔۔۔ خدارا بلاگرز کے فورمز کو مذاق مت بنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “انصاف پسند احباب ” ۔۔۔

    1. محترم!
      آپ کو پہلے بھی بتایا جاچکا ہے کہ منظرنامہ انتظامیہ خود سے کسی کو نامزد نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی کو کیا ہے۔ آپ کے پاس چاہے ایک کروڑ وزٹس ہوں یا روز کے 5 یہ بلاگ کے پڑھنے والے پر ہے کہ وہ نامزد کرے یا نہ کرے۔ یہ سوال آپ کو اپنے 3000+ روزانہ کے وزیٹرز اور 56000 لائکس والے پیج کے ممبرز سے کرنا چاہیئے کہ ان سب میں سے کسی ایک نے بھی ایسا کیوں نہیں کیا، ناکہ منظرنامہ انتظامیہ سے۔
      منظرنامہ انتظامیہ جمہوریت پسند ہونے کی وجہ سے آپ کی بار بار تنقید برائے تنقید کو برداشت کررہی ہے۔ براہ مہربانی سچائی کو تسلیم کرنا سیکھیں اور یہ سوچیں کہ آپ کا بلاگ آپ کے پڑھنے والوں کی جانب سے کیوں نامزد نہیں کیا گیا اس کی وجوہات جانیں اور بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
      شکریہ

    2. محترم فاروق درویش صاحب ، نایاب تحریروں کا کیا مقابلہ ، مقابلہ تو اپنے ھم پلہ کا ھوتا ھے ، میرے خیال سے یہ مقابلہ آپکی شایان شان نھیں، آپ کی ریٹنگ سب سے آگے ، ویسے بھی آپ جو درد دل کے ساتھ لکھتے آپ کو داد کی ضرورت ھی نھی ، لوگ آپ کو فالو کرتے آپ کی تحریر پڑھتے آپ کے لیۓ یہی اعزاز.

    3. مسٹر فاروق درویش آپ کوبڑی غلط فھمی ہے جو statistics بتارہے ہیں اپنی ویب کے وہ غلط ہیں – اپ کی ویب پر اگر 3000+ ڈیلی وزٹرہوتے تو اس کے position یہ نا ہوتی جو ابھی ہی – آپ کی ویب کی حالت بہت بری ہے google نے زیرو نمبر دیا ہے – جو visitor counter اپ نے لگا ہے وہ فراڈ ہے – وزٹر کو فراڈکر رہے – اگر آپ کی ویب کی traffic سہی میں اتنی ہے تو google analytics سے ثابت کرو –
      facebook page کے fan زیادہ کرنا کوئی مشکل نہیں – دو دن کی advertisement سے ہو جاتا ہے – دو دن گندی تسویریں اور متنازہ post کرو تو پاگل لوگ دوڑتے اتے ہیں – آپ ایسا ہی کر رہے ہو – ویب اور فیسبک پر وینا ملک جیسی لوگوں کی تسویریں post کر کے لوگوں کو پاگل بنا رہے – آپ کا مسئلا کیا ہے – ہر چیز میں کیڑے کیون نکالتے ہو – جو آپ کی تریف کرے سر پر بٹا لیتے ہو اسے – جو آپ کو اہمیت نا دے یا آپ کے opposite ہو تو لڑنے لگتے ہو – اپ کو ارام کی ضرورت ہے – بای دا وے ویب کا ٹائٹل وائس آف پاکستان سہی نہیں – اپ کی ویب پاکستان کی وائس نہیں صرف مسٹر فاروق کی وائس ہے –

  5. میں نے تمام بلاگس کو فائیو اسٹار ووٹ دے دیا ہے۔( مگر میں ووٹنگ کے موجودہ طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں منظر نامہ کا سابقہ طریقہ زیادہ بہتر تھا)

    1. منظر نامہ پر آخری دفعہ ایوارڈ کا انعقاد میں نے اور سعود ابن سعید نے مل کر کیا تھا۔ تب بھی یہی طریقہ تھا۔ بس فرق صرف اتنا تھا کہ تب سعود بھائی نے اس کام کے لئے کسٹم کوڈ لکھا تھا تاکہ گڑبڑ سے بچا جا سکے۔ باقی طریقہ یہی تھا یعنی تاروں کے ذریعے ریٹنگ۔

  6. جناب ووٹنگ کے موجودہ طریقہ کار پر اعتراض ہے۔
    کچھ اس طرح ہونا چاہئے کہ ایک شخص ایک کٹیگری میں ایک ہی بلاگ کو ووٹ کرسکے، اور ووٹ کرنے کے لئے دوسرے صفحے پر جانا بھی کچھ اچھا نہیں لگا۔ جس طرح کمنٹ کرنے کے لئے ای میل کا دینا ضروری ہے تو ووٹ کرتے وقت ایک خانہ ای میل اینٹر کرنے کا بھی ہوتا تو اچھا ہوتا۔ تاکہ میں ہر کسی کو ووٹ نہ دے سکوں 🙂

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر