آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو بلاگنگ ایوارڈز > منظرنامہ ایوارڈز2013: نتائج

منظرنامہ ایوارڈز2013: نتائج

آخر کار منظرنامہ ایوارڈز 2013 کا سلسلہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے اپنے اختتام کو پہنچا۔ گو کہ منظرنامہ ایوارڈز کا یہ سلسلہ تقریباً 3 سال بعد شروع کیا گیا اور یہ ہمارے لیئے بہت بڑا چیلنج تھا کہ اسے بخیروعافیت سے انجام تک پہنچایا جائے اور اللہ کے فضل و کرم اور آپ کے تعاون سے ہم اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ایوارڈز کے سلسلہ کو نامزدگیوں سے لیکر پھر ووٹنگ اور اب نتائج تک لاکر ختم کیا گیا ہے اس دوران ہم نے بہت کچھ سیکھا اور ہم سے غلطیاں بھی ہوئیں جن سے ہم نے آئندہ کے لیئے بہت کچھ سیکھا ہے اور منظرنامہ ایوارڈز 2014 میں ہم پوری کوشش کریں گے کہ ایوارڈز کا نظام نئے سرے سے ترتیب دیا جائے اور نئے دور کے حساب سے مختلف ایوارڈز رکھے جائیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہےکہ تمام مشکلات کے باوجود ایوارڈز کا سلسلہ اچھے انداز اور طریقے سے ختم ہورہا ہے۔

اس سال بھی 2009 کے ایوارڈز کی طرح ووٹنگ کے لیئے ستاروں کا نظام رکھا گیا۔ اور جس نے سب سے زیادہ ستارے حاصل کیئے ایوارڈ کا حق دار وہی ہے۔ منظرنامہ ایوارڈز 2013 کے نتائج یہ ہیں۔

سال 2013 کا بہترین بلاگ:

علی حسان کے بلاگ اس طرف سے کو 72 ستارے ملے ، عمر بنگش کے بلاگ صلۂ عمر کو 61 ستارے ملے اور ریاض شاہد کے بلاگ جریدہ کو 37 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے بہترین بلاگ کا ایوارڈ علی حسان کو دیا جاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/best-blog-manzarnamah.jpg"></a>

سال 2013 کا فعال ترین بلاگ:

محمد سلیم کے بلاگ کو 219 ستارے ملے ، ابوشامل کے بلاگ کرک نامہ کو 183 ستارے ملے اور بنیاد پرست بلاگ کو 59 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے فعال ترین بلاگ کا یوارڈ محمد سلیم کو دیا جاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/faaltareen-blog-manzarnamah.jpg"></a>

سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ:

مصطفیٰ ملک کے بلاگ گھریلو باغبانی کو 324 ستارے ملے ، سکندر حیات کے بلاگ گستاخیاں کو 271 ستارے ملے اور عدیل کے بلاگ طِب گردیاں کو 55 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے بہترین نئے بلاگ کا ایوارڈ مصطفیٰ ملک کو دیاجاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/best-new-blog-manzarnamah.jpg"></a>

اس کے ساتھ ہی منظرنامہ کی جانب سے ایک خاص ایوارڈ پاک اردو انسٹالر بنانے  پر م بلال م کو دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کا مقصد حوصلہ افزائی ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/special-award-manzarnamah.jpg"></a>

منظرنامہ کی جانب سے تمام جیتنے والوں کو مبارک باد اور بلاگ پر بیج دکھانے کے لیئے کوڈ بھی ساتھ آپ کی آسانی کے لیئے دے دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منظرنامہ انتظامیہ ایوارڈز کو بہتر طریقے سے انجام دینے اور آپ کے تعاون  کے لیئے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی آپ اسی طرح تعاون کرتے رہیں گے اور مزید سے مزید بہتر بنانے میں ہمارا ساتھ دیتےرہیں گے۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

24 تبصرے:

  1. پہلے تو تمام جیتنے والے بلاگرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
    آپ نے غلطیوں کا اعتراف کر کے بہت بڑی عظمت کا ثبوت دیا ہے اور اس کے بعد ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر 2014 کے ایوارڈز کو بہتر بنانے کا عزم بھی اچھی بات ہے۔
    ہمارے خیال میں ان تینوں ایوارڈز کیلیے ووٹنگ کی قطعی طور پر ضرورت نہیں تھی۔ فعال ترین بلاگ پوسٹوں کی تعداد سے آسانی سے منتخب کیا جا سکتا تھا۔ بہترین بلاگ کے انتخاب کیلیے معیار کے دو چار پیمانے طے کر کے منتخب کیے جا سکتے تھے۔
    آئندہ کوشش کیجیے کہ ووٹنگ کے بجائے ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ تر ایوارڈز حقداروں کو دیں۔

  2. مجھے تو اس سارے طریقہ کار کی تفصیل کا علم نہیں اس لئے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ اچھا ہوا یا برا ہوا۔ اچھی بات یہ ہے کہ تین سال کا تعطل تو ختم ہوا۔ امید ہے اگلے برس بہتری ہوگی۔ جن احباب کو غلطیاں نظر آئیں اور جنھوں نے نشاندہی کی، ان کی تشفی ہو گی اور امید ہے کہ ہمیں اگلے برس کچھ نام مسلسل نہیں دیکھنے کو ملیں گے۔

    بلاگستان فیڈز پر اتنے زیادہ بلاگز کی موجودگی میں اگر نامزدگیوں کو دیکھا جائے تو کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اس کی کیا وجہات ہو سکتی ہیں، ووٹنگ، نامزدگیوں میں شامل رہنے والے احباب بہتر جانتے ہوں گے مگر کیا یہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ ہم صرف اپنے اپلاگ لکھنے کی حد تک محدود ہیں اور اگر کسی اچھی تحریر کی نشاندہی کرنی پڑے تو ہمیں موت پڑتی ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ “کسی اپنے” کو ہی اس کا حقدار ٹھہرایا جائے۔

    میں، کسی پر الزام نہیں لگا رہا مگر اتنے زیادہ اردو بلاگوں کے ہوتے ہوئے کچھ ناموں کی تکرار نے ایک عجیب سا تآثر قائم کیا۔ میں یہ ہر گز نہیں کہتا کہ یہ کچھ نام ان ایوارڈز میں شمولیت یا نامزدگی کے حقدار نہیں تھے۔ میں کون ہوتا ہوں ہوں یہ کہنے والا۔ البتہ یہ تاثر ضرور قائم کروں گا کہ اکثر کو علم ہی نہیں تھا، یا پھر نامزدگیوں کے طریقہ کار میں کچھ کمی تھی کہ جس کی وجہ سے بلاگروں کی اکثریت سامل نہ ہوسکی۔

    بہر حال مستقبل کی امید اچھی رکھنی چاہئے۔ امید یہی ہو گی کہ بلاگستان فیڈز میں شامل سب بلاگروں کو نامزدگی کا برابر حق ملے گا اور طریقہ کار ایسا ہوگا کہ لوگ بے ایمانی کا رونا نہ رو سکیں، جیسا کہ فاروق درویش صاحب ک ااعتراض تھا۔ حال آنکہ میں جانتا ہوں کہ جس طریقہ کار کو اختیار کیا گیا، اس کے تحت ان کا اعتراض بے معنی ٹھہرتا تھا۔

    والسلام

    1. بہت اچھی توجہ دلائی آپ نے اور ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی کسی تیسرے فرد کو ایسا ہی محسوس ہوگا کہ یہ آپس میں ایوارڈ ایوارڈ کھیلتے ہیں۔ میرے خیال میں پرانے کسی بھی فرد کو نامزد نہيں کرنا چاہیے تھے، نجانے کس نے میرا نام نامزد کردیا حالانکہ ایک مرتبہ جیت جانے کے بعد تو یہ حق ہی نہیں بنتا کہ دوبارہ نامزد ہوکر کسی اور کی جگہ سنبھالیں۔ بلکہ نامزدگی والا چکر ہی ہٹا دینا چاہیے۔ سب اردو بلاگرز ایوارڈ کے حقدار ہیں اور وہ سب نامزد امیدوار ہیں، جو جس کو چاہے ووٹ دے۔ اس کے لیے ووٹنگ کا طریقہ بہرحال بدلنا پڑے گا لیکن لوگوں کے ذہن سے تاثر ہٹانے میں ضرور مدد ملے گی اور “یہ ایوارڈ کہیں نہيں جائے گا” کی چھاپ ختم ہوگی۔

  3. تمام جیتنے والوں کو تہہ دل سے مبارک۔ ایوارڈ کا بحال ہونا خوش آئند امر ہے لیکن بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے اس لیے طریقہ کار میں تبدیلی ہونی چاہیے اور یہ لازمی ہے تاکہ نئے چہرے سامنے آئيں اور وہی مجھ جیسے پرانے بلاگر ہی ایوارڈوں پر سانپ بن کر نہ بیٹھیں (معذرت کے ساتھ 🙂 )

    1. دیکھیں یہ دیر بعد تجربہ ہوا ہے اس لئے کچھ کمی یا کوتاہی تو ضرور رہ گئی ہو گی مگر ان لوگوں کے حوصلہ کی بھی داد دینے کی ضرورت ہے ، تمام تر اعتراضات برداشت کرنے کے باوجود یہ لوگ اپنے محاذ پر ڈٹے رہے ، اللہ پاک ان کو استقامت دے ۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ ایوارڈز کے لئے طریقہ کار وضع کریں کیونکہ ووٹنگ درست نہیں ہے ، ججز کا پینل ہو جو سارے فیصلے کرے کوئی نامزدگی یا ووٹننگ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بحر حال اس کا ایک تو فائدہ ہوا کہ اردو بلاگنگ کا تعارف دور تک ہوا

  4. تمام جیتے والے دوستوں کو بہت بہت مُبارک، محمد سلیم ، مُصفطی ملک اور علی حسان تینوں محترم حضرات اپنی اپنی جگہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور یقینا وہ اِس عِزت افزائی کے حقدار تھے۔

  5. تمام جیتنے والوں کو بہت بہت مبارک ہو۔ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بلاگ کی دنیا سے دوری کے سبب ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکا۔ ایسے مقابلے کا انعقاد یقینا اردو سے محبت کرنے والوں کو اردو بلاگ کی طرف توجہ دلانے کا باعث ہو گا۔ تمام ٹیم سب سے زیادہ مبارک باد کی مستحق ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر