آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > محمد اسلم فہیم سے شناسائی

محمد اسلم فہیم سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”محمد اسلم فہیم “ صاحب ۔ آپ ” حرفِ آرزو “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
@الحمدللہ ،اللہ کا احسان ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@محمد اسلم فہیم نام ہے،چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@ضلع اٹک کے شہر فتح جنگ میں پیدا ہوا ،اور ابھی بھی یہیں رہائش ہے۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@والدین قریبی دیہات سےبسلسلہ روزگار “ہجرت”کرکے یہاں شہر میں آباد ہوئے،والدِ محترم چونکہ ہومیوپیتھک معالج ہیں اس لئے ہومیوپیتھی مجھے ورثے میں ملی،گریجویشن کے ساتھ ساتھ DHMS کیااور آج کل یہیں فتح جنگ شہرمیں ہی کلینک کر رہا ہوں،
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@بلاگنگ سے میرا تعارف لگ بھگ کوئی ڈیڑھ سال قبل ہوا اور “سلیم بھائی”کی تحریریں پڑھنے کے بعداردو بلاگنگ سے متعارف ہوا،گزشتہ سال ورڈ پریس پر بلاگ بنایا لیکن مطمئن نہیں ہوا تو محترم مصطفٰی ملک اور دیگر دوستوں کے تعاون سے “بلاگر” پر منتقل ہو گیا ۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@بس بلاگر پر بلاگ بنایااور لکھنا شروع کر دیا ہم تو مزے میں ہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی،مشکلات تو ان کیلئے تھیں جو ہمارے راستے کے کانٹے صاف کر گئے، خصوصاً میں شکر گزار ہوں برادر ایم بلال ایم کاجن کے اردو انسٹالر نے ہم جیسوں کو اردو لکھنے کے قابل بنا دیا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا لیکن آپ کہ سکتے ہیں کہ بلاگ بنانے میں بڑی حد تک اردو کا فروغ بھی پیشِ نظر تھا چونکہ جب میں نے کمپیوٹر خریدا تو میرے دوست نے جب مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیسا کمپیوٹر خریدنا ہے تو میں نے اسے بتایا تھا کہ یار جس میں اردو بھی لکھی جاسکتی ہو 🙂 (کیونکہ اس وقت تک میں کمپیوٹر کی الف بے سے بھی واقف نہیں تھا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ میں نے کمپیوٹر آن تو کر لیا تھا لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اب یہ شٹ ڈاؤن کیسے ہوگا سو میں نے سوئچ آف کر دیا)۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@کوشش تو ہوتی ہر اچھی تحریر پڑھوں لیکن وقت ہمیشہ آڑے آتا ہے،محمد سلیم،مصطفٰی ملک،ڈفر جی،سکندر حیات بابا،کوثر بیگ،نورین تبسّم،یاسر جاپانی،اسرٰی غوری,بیاضِ افتخار میرے پسندیدہ بلاگز ہیں۔
لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@لاہور میں ایک میڈیا ورکشاپ میں شمولیّت کاموقع ملا تو وہاں زندگی میں پہلی بار لفظ بلاگ سنا لیکن ایک مدّت تک میں اسے ویب سائٹ کی ہی ایک قسم سمجھتا رہا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@تحریرلکھنے کیلئے تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ذہن پر نازل ہو رہی ہو بس لکھنے بیٹھتا ہوں تو لکھتا چلا جاتا ہوں۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@جی بالکل بہت فائدہ ہوا اپنے آپ کو سمجھا ،ایک پہچان ملی لوگوں کی محبّت ملی اور بہت پیارے احباب بھی،یہ بلاگ کا فائدہ ہی تو ہے کہ آپ میرا انٹرویو کر رہے ہیں ورنہ مجھے کس نے منہ لگانا تھا 🙂 ۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@جس کی تحریر دلوں کو چھولے ،اور جسے پڑھ کر لگے کہ گویا تم نے تو میرے دل کی بات کہ دی۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@میرا خیال ہے ہم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے ابھی بھی لوگ نہیں جانتے کہ ان پیج کے علاوہ بھی اردو لکھی جاسکتی ہے۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@ہندکو اگرچہ میری مادری زبان ہے لیکن اردو نے مجھے پہچان دی،رابطوں کو آسان بنایا۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@دیکھئے بہتری کی گنجائش تو ہر جگہ موجود رہتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ترقی کی رفتا ربہرحال تسلّی بخش ہے۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@بلاگنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب میں سمجھتا ہوں کہآئندہ پانچ سال اردو کے عروج کے سال ہوں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@گروپ بندی ، لیگ پلنگ(leg pulling) اور اصلی نقلی کے چکروں سے نقل کر آئیے اپنی زبان اور اپنی ترقی کیلئے مل کر کام کریں اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے روشن نشانِ منزل چھوڑ جائیں۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@کلینک ۔۔۔۔۔۔ صبح سے شام تک مریضوں کے چہروں پرمسکراہٹ بکھیرنے کی سعی۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@کچھ ایسا کر گزروں کہ لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاؤں۔۔۔۔ رہی بات خواہش کی تو اللہ رب العزت نے وہ سب کچھ عطا کردیا جو میں نے خواہش کی

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟
@قرآن مجید۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد ہر وہ کتاب جس کے لفظ بندے کو اپنی گرفت میں لے لیں۔
2۔ شعر ؟
@وقت آفاق کے جنگلوں کا جواں چیتا ہے
میری دنیاکے غزالوں کا لہو پیتا ہے
3۔ رنگ ؟
@نیلا
4۔ کھانا ؟
@دال چاول
5۔ موسم ؟
@گرمی کا کیونکہ اس میں آم ملتے ہیں اور عام ملتے ہیں
6۔ ملک ؟
@پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہ میں یہاں پیدا ہوا بلکہ اس لئے کہ اس کی نسبت مدینۃالنبیﷺ سے ہے ۔دنیا کے نقشے پر مدینہ طیبہ کے بعد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی واحد مملکت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسائل سے مالامال خوبصورت محل وقوع،ہر طرح کے موسم،گہرے سمندر ،خوبصورت نظارےاور سب سے بڑھ کر محنت کش لوگ جودنیاکی تعمیر کا ہنر رکھتے ہیں۔ کاش انہیں کوئی مخلص قیادت مل جاتی۔
7۔ مصنف ؟
@سید ابولاعلٰی مودودی شاعری میں علامہ اقبال،محسن نقوی اور پروین شاکر۔
8۔ گیت؟
@وہ گیت جو “میں”نے سنا نہیں۔
9۔ فلم ؟
@بہت دیکھیں لیکن کوئی خاص نہیں

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@ہمیشہ
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@نہیں بلکہ میرے دوست بہت اچھے ہیں
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@یہی تو ایک بری عادت ہے
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@بالکل بھی نہیں
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@نہیں بلکہ مجھے زیادہ باتیں سننااچھا لگتا ہے
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@رب نے جو عطا کیا اس پر راضی ہو جائیے حقیقی خوشی کو پا لیں گے،

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا شکریہ کہ جنہوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا،مجھے اپنے آپ سے آگہی ملی۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

16 تبصرے:

  1. ڈاکٹر فہیم اسلم صاحب اچھے آدمی ہیں لیکن مجھ سے ناجانے کیا غلطی سرزد ہوئی ہے کہ ان کے بلاگ پر جب بھہ تبصرہ لکھتا ہوں شائع کا بٹن دباتے ہی غائب ہو جاتا ہے حالاکہ کہ میں نے کبھی کوئی بری بات نہیں لکھی اور ان کی کسی لکھی بات کو غلط کہا

    1. افتخار بھائی آپ کہتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ میں اچھا آدمی ہوں آپ کا تبصرہ معلوم نہیں کیوں غائب ہو جاتا ہے ذرا آج کریں تو تبصرہ میں بھی دیکھوں ویسے میری میل ائی ڈی پر بھی کبھی اپ کا کوئی تبصرہ موصول نہیں ہوا بلال احمد خان بھائی ہی کوئی بہتر راہنمائی کر سکتے ہیں

  2. بہت اعلیٰ ـــــــ شکریہ منظر نامہ انتظامیہ آپ نے ڈاکٹر صاحب کا تفصیلی تعارف کروادیا ، ڈاکٹر صاحب بھی آتے ہی چھا گئے ہیں ، اللہ پاک انہیں اور آپ کو خوش رکھے ، اردو کی ترویج و ترقی میں ممد و معاون بن رہے ہیں ۔

  3. السلام علیکم
    ڈاکٹر صاحب آپ سے کوئی پرانانی شناسائی نہیں اس لیے آپ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے

    یہ انٹرویو پڑھنے کے بعد اب “لگ پتہ گیا ہے” 🙂

    اچھا لگا آپ کے بارے میں جان کر
    اور منظرنامہ کا شکریہ کہ آپ سے ملاقات کا موقع فراہم کیا

  4. ڈاکٹر صاحب، آپ کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی، مجھے اس بات پر فخر محسوس ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنے انٹرویو میں میرا ذکر کیا۔ جزاک اللہ۔

    آپ اپنے پیشے سے بہت مخلص ہیں‌اور اپنے مریضوں‌ کے چہروں‌ پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش میں‌ لگے رہتے ہیں‌، یہ پڑھ کر آپ کا احترام دو چند ہو گیا۔ اللہ پاک آپ کو اجر دے۔

    جدہ میں‌ ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب تھے جو مجھے تو ہمیشہ اور اپنے دوسرے مریضوں‌ کو بھی بہت شفقت سے یہی کہتے تھے: اب جب ٹھیک ہو گئے ہو تو دوائی لینے چلے آئے ہو؟ چلو خالی ہاتھ نا جاؤ، یہ دوائی لکھ رہا ہوں، اسے کچھ وقت استعمال کر لو تاکہ مکمل صحتیاب ہو جاؤ۔

    خوشیاں‌اور مسرتیں‌ آپ کی راہوں‌ میں‌ بچھی رہیں۔ آپ کیلئے بہت سی نیک خواہشات کے ساتھ۔

  5. منظر نامہ کا ایک خوبصورت سلسلہ۔۔۔ جس میں پڑھنے والوں کی نہ صرف صاحب تحریر سے شناسائی ہوتی ہے بلکہ لکھنے والے کو بھی اپنا احساس بانٹتے ہوئے۔۔۔۔اپنے اندر کا اندر شئیر کرتے ہوئے اچھا لگتا ہے۔
    آپ کا آئینہ بہت روشن بہت اپنا اپنا سا لگا۔ آپ کی تحاریر زیادہ تو نہیں پڑھیں ۔ لیکن آپ کی مسیحائی میں شک نہیں کہ آپ لفظ کے مرہم کا استعمال بھی خوب کرتے ہوں گے۔ جو سائل کو باربار دستک دینے پر مجبور کرتا ہے۔اسی طرح مسیحائی کرتے رہیں۔۔۔۔لکھتے رہیں ۔ سکون دیتے رہیں سکون ملتا جائے گا۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر