آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > مکالمہ > راجا اسلام کے ساتھ مکالمہ

راجا اسلام کے ساتھ مکالمہ

منظرنامہ کے قارئین کو ایک طویل عرصے بعد عمار ابنِ ضیا کی جانب سے آداب و تسلیمات!
اُمید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ میری واپسی منظرنامہ کے ایک نئے سلسلے کے ساتھ ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’’مکالمہ‘‘۔
جب ہم نے منظرنامہ کا آغاز کیا تو ہمارے ذہن میں سب سے پہلا سلسلہ ’’شناسائی‘‘ تھا اور اسی کی بنیاد پر ہم نے منظرنامہ کو آگے بڑھایا۔ اُس زمانے میں اکثر اُردو بلاگران ایک دوسرے سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ سلسلہ شناسائی کے تحت ہم نے بنیادی نوعیت کے سوالات ترتیب دیے جس سے کسی بلاگر کا ضروری تعارف اور پسند ناپسند سے واقفیت حاصل ہوسکے۔ ابتدا میں مختلف بلاگروں کے لحاظ سے سوالات میں مناسب تبدیلی کی جاتی تھی، لیکن بعدازاں ایک جیسے سوالات ہی دہرائے جانے لگے۔ سلسلہ شناسائی کے تحت ایک ای میل میں متعلقہ بلاگر کو تمام سوالات اکٹھے ارسال کردیے جاتے تھے اور وہ اُن کا جواب لکھ کر بھیج دیا کرتے۔
سلسلہ ’’مکالمہ‘‘ یوں سلسلہ ’’شناسائی‘‘ سے مختلف ہوگا کہ اس میں بلاگر سے براہِ راست سوال و جواب کیے جائیں گے اور یہ سوالات گھسے پٹے یا ایک جیسے نہیں ہوں گے بلکہ بلاگر کی شخصیت اور اُس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے متعلق ہوں گے۔ دوسرا بنیادی پہلو یہ کہ اس سلسلے میں صرف اُردو بلاگروں ہی سے نہیں، انگریزی بلاگرز سے بھی گفت گو ہوگی، بل کہ ایسے لوگوں سے بھی بات چیت شامل کی جائے گی جو بلاگر نہ ہوں لیکن آن لائن اُردو کمیونٹی میں ایک خاص مقام رکھتے ہوں یا کسی حیثیت میں اثر انداز ہوسکتے ہوں۔ یوں مجھے اُمید ہے کہ اُردو بلاگران مزید وسیع دھارے میں شامل ہوکر دیگر افراد اور بلاگروں کے نقطۂ نظر سے واقفیت حاصل کرسکیں گے، اُردو آن لائن کمیونٹی سے باہر کی دنیا کے خیالات جانیں گے اور مل جل کر کچھ اچھا کرنے کے قابل ہو پائیں گے۔
منظرنامہ کے اس نئے سلسلے میں ہمارے سب سے پہلے مہمان راجا اسلام ہیں۔

RajaIslam

راجا اسلام کراچی سے تعلق رکھنے والے فوٹو بلاگر ہیں، یعنی آپ تصویری بلاگ کرتے ہیں۔ آپ ۱۵ اگست ۱۹۸۱ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔والد صاحب کی پاکستانی بحریہ میں ملازمت کے باعث پیدائش کے بعد کچھ عرصہ بولیویا میں گزرا۔ وفاقی بورڈ کے تحت اسکول کے بعد ڈی جے کالج سے پری انجینئرنگ مضمون میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ پھر دادابھائی انسٹی ٹیوٹ سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ملازمت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری شہید ذوالفقار علی بھٹو یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ فی الحال ایک امریکی تکنیکی ادارے میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے گزشتہ آٹھ سال سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بلاگ ایوارڈز ۲۰۱۰ء میں آپ کے بلاگ کو بہترین فوٹوبلاگ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
۲ اگست کو اُردو بلاگروں کی عید ملن میں راجا اسلام نے شرکت کی تو ہمیں اُن سے گفت گو کا موقع ملا۔ آپ بھی شریکِ گفت گو ہوجائیے۔
منظرنامہ: اُردو بلاگروں کی کسی محفل میں یہ آپ کی پہلی شرکت تھی۔ کیسا محسوس کیا آپ نے؟
راجا: بہت اچھا لگا۔ ایک مختلف نقطۂ نظر سے واقفیت ہوئی۔ میں جن بلاگروں سے ملتا رہا ہوں، وہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ مختلف تھا اور زندگی میں مختلف ہونا چاہیے۔
منظرنامہ: بلاگنگ کی طرف کیسے آئے؟
راجا: جب آپ دن بھر انٹرنیٹ پر بیٹھے کام کر رہے ہوتے ہو ، پروگرامنگ کر رہے ہوتے ہو تو آپ کو ذہن تازہ کرنے کے لیے کچھ چاہیے ہوتا ہے۔ یوں میں نے بلاگ پڑھنا شروع کیے۔ ایک کراچی میٹ بلاگ مشہور تھا جہاں میں نے دیکھا کہ تصویریں کھینچ کر شایع کی جا رہی ہیں اور لوگ بڑی تعریفیں کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ کوئی بڑا کمال تو نہیں کر رہے، یہ تو ہم بھی کرلیں۔ مجھے کبھی آرٹس یا تخلیقیت سے اتنی دل چسپی رہی نہیں اور شاید ابھی بھی نہ ہو، لیکن جب وہ دیکھا تو۔۔۔ تعریف انسان کو اچھی لگتی ہے، انسانی فطرت ہے یہ۔ میں نے سوچا، چلو ہم بھی تصویریں کھینچتے ہیں۔ پہلے میں نے لوگوں کی تصویریں نقل کرنا شروع کریں، پھر نقل کرتے کرتے آپ اپنا ایک انداز بنالیتے ہو۔ یوں فوٹو بلاگ بن گیا۔ کراچی اپنا شہر ہے اور اپنے شہر سے محبت ہوتی ہے، اُنسیت ہوتی ہے۔ لہٰذا شہر کی تصویریں کھینچنا شروع کیں اور کوشش کی کہ پاکستان کی نمائندگی کریں، دنیا کو بتائیں کہ پاکستان میں کچھ اچھا بھی ہے، بری چیزیں تو ہر جگہ ہی ہوتی ہیں۔
منظرنامہ: فوٹو بلاگ سے آپ کی زندگی میں تبدیلیاں آئیں؟
راجا: گھومنے کا شوق تو پہلے بھی تھا، تصویریں کھینچنا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ جب کیمرا ملا تو ایک بہانہ مل گیا۔ اب لوگ پوچھتے ہیں کہ بھئی تھر کیا کرنے جا رہے ہو، تو اگر آپ کیمرے کے بغیر جاؤ اور کہو کہ میں گھومنے جا رہا ہوں تو لوگ کہیں گے کہ ابے پاگل ہے کیا جو تھر گھومنے جا رہا ہے، تھر میں کیا ہے؟ تو آپ بولتے ہو کہ تصویریں کھینچنے جا رہا ہوں۔ پھر لوگ سوچتے ہیں کہ ہاں، کوئی بات ہے۔
منظرنامہ: فوٹو بلاگ کے حوالے سے کس نے زیادہ متاثر کیا؟
راجا: فلکر پر امیر حمزہ ہوتے ہیں، اُس سے میری بات ہوئی۔ میں اُسے ایک طریقے سے اپنا استاد مانتا ہوں۔ اُس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ اُس سے میں نے سیکھا کہ آپ تصویریں کھینچنے کے لیے باہر کیسے نکلتے ہو، تصویریں کیسے کھینچتے ہو۔ اُس کا زیادہ ایکسپوزر تھا، اُس نے انٹرنیٹ پر آرٹیکل لکھے تھے، اُس نے میرے آرٹیکل شایع کروانے میں میری مدد کی، میں نے تھوڑا بہت لکھا، پھر صحیح کروایا، پھر اُس نے لکھا، میں نے اُسے تصویریں دیں، پھر میرا آرٹیکل شایع ہوا۔ ڈان کا ایک ریویو میگزین آیا کرتا تھا، اُس میں میرا پہلا آرٹیکل ۲۰۰۸ء میں شایع ہوا۔
منظرنامہ: پہلے آرٹیکل کی اشاعت پر کیا جذبات تھے اور کیا ملا تھا؟
راجا: پہلا چیک شاید دو ہزار روپے کا تھا۔ اُس زمانے میں وہ اچھا خاصا تھا۔ رقم سے بڑھ کر اس بات کی اہمیت تھی کہ ’ڈان‘ اخبار کا چیک ہے۔ میرے دوست نے ایک ہندوستانی فلم ڈائریکٹر کا بتایا کہ اُس نے اپنی پہلی فلم کا چیک اب تک کیش نہیں کروایا، تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اپنا چیک کیش نہیں کرواؤں گا۔ لیکن پھر ضرورت پڑی تو کیش کروالیا اور فوٹو کاپی کرواکر رکھ لی۔ پھر ایک لائن سمجھ آگئی کہ کس طرح کرنا ہے۔ جب پہلا کام شایع ہوا تو میں ہر ایک کو دکھاتا تھا کہ دیکھ تیرے بھائی کا کام شایع ہوا ہے۔ وہ ایک الگ احساس ہوتا ہے۔
منظرنامہ: اُس کے بعد کہاں کہاں مضامین شایع ہوئے؟
راجا: جب پہلا آرٹیکل شایع ہوگیا تو ایک لائن مل گئی۔ شایع ہونا شروع ہوا تو ہر جگہ ہی میرا کام شایع ہوگیا۔ یہاں تک کہ نیشنل جیوگرافک کی کتب کے لیے بھی میری ایک تصویری گیٹی کے ذریعے خریدی گئی۔ یہ میرا ایک خواب تھا کہ نیشنل جیوگرافک میں میرا کام شایع ہو۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف والوں نے بھی رابطہ کیا کہ آپ کی K2 کی ایک تصویر چھاپنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ چھاپ دو لیکن پیسے بھی دو۔ وہ کہنے لگے کہ بھئی ہم تو ڈبلیو ڈبلیو ایف ہیں، پیسے نہیں دیتے۔ بہ ہر حال، وہاں بھی شایع ہوئی۔ اب میرے پاس ایک بہت بڑا ڈبّا ہے ، اُس میں کافی سامان جمع ہے، اخبارات، میگزین، بروشر۔ اب وہ چیز ختم ہوگئی ہے کہ کچھ حاصل کرنا ہے کیوں کہ تقریباً سبھی کچھ حاصل کرلیا ہے۔ اب کوئی ہدف نہیں ہے، بس تصویریں کھینچتا ہوں۔
منظرنامہ: تصویریں چرائی بھی گئیں؟
راجا: جی ہاں، لوگوں نے تصویریں بھی چرائیں۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کوئی میری تصویریں چراتا ہے۔ پی آئی اے نے میری تصویر چرائی۔ میں فلائٹ میں بیٹھ کر سامنے دیکھ رہا ہوں تو مجھے اپنی کھینچی ہوئی تصویر نظر آئی۔ میں اُس کی تصویر کھینچنے لگا تو ایئرہوسٹس آگئی اور کہنے لگی کہ تصویر کھینچنا منع ہے، میں نے کہا کہ تصویر چرانا بھی منع ہے۔ غصہ بھی آتا ہے لیکن فخر بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہنچے ہیں کہ لوگ آپ کے کام کو سراہ رہے ہیں۔
منظرنامہ: کوئی یادگار موقع؟
راجا: میں ۲۰۱۰ء میں بلاگ ایوارڈ جیتا تھا، وہ ایک خاص بات تھی۔ لیکن جو میرا سب سے اچھا تجربہ تھا وہ ایک آئی ٹی کانفرنس ہوئی تھی، جس میں شاید آپ بھی موجود تھے۔ حکومتِ سندھ کے تحت اُس وقت کے وزیر رضا ہارون نے بلاگروں کے لیے کانفرنس کا انعقاد کروایا تھا، اُس میں اُردشیر کاؤس جی بھی تھے، فاروق ستار بھی تھے۔ وہ میرے لیے بہت اچھی یادوں میں سے ہے۔ وہاں میں نے اپنے فوٹو بلاگ کی پریزنٹیشن دی اور لوگوں نے اُس کو بہت سراہا۔ میں اب بھی لوگوں کو بتاتا ہوں کہ وہ میرے لیے بہت اہم چیز تھی۔ میں ایک اچھا پبلک اسپیکر (عوامی مقرر) نہیں ہوں لیکن وہ شاید بہت اچھا ہوگیا تھا۔ جب میں اسٹیج سے اُترا تو لوگ مجھے اپنے وزیٹنگ کارڈ دے رہے ہیں، اخبار والے تھے، میرا انٹرویو چھپا۔ بہت اچھا لگا۔ جو چیزیں چاہیے تھیں، وہ حاصل کرلیں۔
منظرنامہ: کسی کمپنی نے اسپانسر بھی کیا؟
راجا: جی، میں جو موبائل استعمال کر رہا ہوں، یہ مجھے نوکیا نے دیا ہے۔ میں نے بہت سفر کیے اور اس موبائل سے تصویریں کھینچیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں پاکستان کی پہلی ایسی نمائش کروں جس میں صرف موبائل فون سے کھینچی ہوئی تصویریں ہوں۔ لیکن وہ ممکن نہیں ہوسکا کہ کوئی اسپانسر نہیں ملا۔
منظرنامہ: پروگرامنگ کس لینگویج میں کرتے ہیں؟
راجا: کچھ بھی دے دیں، کرلیں گے بھائی۔ میں نے ڈاٹ نیٹ پر بھی کی ہے، پی ایچ پی پر بھی کی ہے، کولڈ فیوژن پر، سی شارپ، اے ایس پی کلاسک، وغیرہ۔
منظرنامہ: سب سے زیادہ مزا کس پروگرامنگ لینگویج پر آتا ہے؟
راجا: سی شارپ اچھی ہے۔ جاوا سے شروع کیا تھا۔ جاوا پر کام کیا لیکن اُس کی ملازمت نہیں ملی تو پھر دوسری طرف رجوع کیا۔ ابھی مختلف کام آتا رہتا ہے۔ ابھی سی آر ایم کنسلٹنگ کا کام کرتا ہوں، سی آر ایم سوفٹ ویئر کی ایک قسم ہے۔
منظرنامہ: بقول آپ کے، جو آپ صبح سے شام تک انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں، تو پھر آپ کے اسمارٹ ہونے کا راز کیا ہے؟
راجا: (ہنستے ہوئے) ایک تو یہ قدرتی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے تیراکی بہت کی ہے،کرکٹ ہر اتوار کو کھیلتا ہوں۔ آج صرف بارش کی پیشین گوئی کی وجہ سے کرکٹ کی چھٹی ہوگئی۔ کوئی جسمانی ورزش ضرور ہونی چاہیے۔
منظرنامہ: آپ فوٹوگرافی کے لیے ’کےٹو‘ بھی گئے تھے، اُس کے بارے میں کچھ بتائیں۔
راجا: میرا ارادہ تھا اور میں نے منت مانی تھی کہ میں شادی تب کروں گا جب ’کےٹو‘ سے ہوکر آجاؤں گا۔ یہ میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا اور۔۔۔ میرے رشتے کی بات ایک جگہ چل رہی تھی، ہم گھر والے لڑکی دیکھنے گئے، لڑکی بھی پسند آئی۔ پھر وہ لوگ ہمارے گھر آ رہے تھے اور میں نے ’کےٹو‘ کے لیے خریداری کرنی تھی تو میں خریداری کرنے چلا گیا۔ یہ دیکھ کر لڑکی والوں نے منع کردیا کہ لگتا ہے لڑکے کو دل چسپی نہیں ہے اور وہ زبردستی کر رہا ہے۔ لیکن مجھے ’کےٹو‘ جانا تھا اور یہ میرا جنون تھا۔ تقریباً تین چار سال میں نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ آخر ۲۰۱۰ء میں ہم لوگ گئے، ’کےٹو‘ پہنچے، تصویر کھینچی، بڑا اچھا رہا۔ پھر ہم لوگ پھنس گئے، وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ جب سیلاب آ رہا تھا تو ہم وہاں اوپر تھے، برف باری ہو رہی تھی۔ چار دن ہم علی کیمپ میں پھنسے رہے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ یہی سب سے بڑی مصیبت ہے اور اس سے نکل جائیں گے تو ہر مشکل آسان ہوجائے گی۔ جب ہم چار دن علی کیمپ میں گزارنے کے بعد شہر آئے تو بڑے خوش تھے کہ شکر ہے، اب تو گاڑی وغیرہ مل گئی ہے، پیدل نہیں چلنا پڑے گا۔ لیکن اصل کہانی وہاں سے شروع ہوئی پروازیں منسوخ ہوگئی تھیں، قراقرم ہائی وے پر جتنے پُل تھے وہ سب ٹوٹ گئے تھے، کوئی جانے کا راستہ نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے پہنچے۔

RajaIslam at K2

منظرنامہ: سنا ہے کہ ’کےٹو‘ کے سفر میں آپ نہاری سے اُکتا گئے تھے؟
راجا: میں یہاں سے پیک کرواکر نہاری لے گیا تھا۔ میرے ساتھیوں کی فرمائش تھی کہ تم کراچی کے ہو تو وہاں کی نہاری لے کر آؤ۔ دس بارہ دن نہاری کھائی تو نفرت ہوگئی تھی نہاری سے۔ میرے ساتھ کراچی کا ایک لڑکا ضیغم تھا۔ میں اور وہ کیمپ میں لیٹے ہوتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ یار، پیزا کھانا ہے۔ جب ہم واپس پہنچے اور پیزا کھایا تو بڑا سکون ملا۔
منظرنامہ: کوئی ایسی سب سے یادگار تصویر جسے دیکھ کر فخر ہوتا ہو کہ یہ تصویر میں نے کھینچی تھی؟
راجا: ہر تصویر کے پیچھے کوئی کہانی ہوتی ہے۔ جب آپ اُسے دیکھتے ہو تو آپ کو وہ خاص وقت اور بات یاد آتی ہے۔ ’کےٹو‘ کی جو تصویر ہے، اُس کے بارے میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ اُس کے پیچھے ایک بڑی محنت اور وقت لگا ہے۔
منظرنامہ: کبھی سوچا کہ پیشن (جنون) کو پروفیشن (پیشہ) بنالیں؟
راجا: کبھی نہیں۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ بڑا اچھا ہے، مزا آئے گا، لیکن میرا پروفیشن اچھا ہے، اُس میں پیسے بھی ہیں۔ فوٹوگرافی میں اتنے پیسے نہیں ہیں اور شوقیہ ایک کام کر رہے ہو تو مزا آتا ہے، اُس کو پیشہ بنالیں گے تو آپ کو ذمہ داری لگے گی،پھر وہ لطف نہیں رہے گا۔ اس لیے شوق کو صرف شوق رہنے دینا چاہیے۔
منظرنامہ: آپ کے خیال میں اُردو بلاگنگ اور انگریزی بلاگنگ میں زبان کے علاوہ کتنا فرق ہے اور کیا کبھی یہ ختم ہوسکے گا؟
راجا: میرا نہیں خیال۔ ہمارے ہاں روایت ایسی ہے کہ ہمیں بچپن سے پڑھایا گیا ہے کہ انگریزی پڑھنی ہے۔ یوں ہماری سوچ ایسی بن گئی ہے۔ سرسیّد سے اس کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور اتنی طویل تاریخ کو آپ ختم نہیں کرسکتے۔ یہ فاصلے رہیں گے۔ یہ ایسا ہے جیسے ساتھ ساتھ دو پٹریاں ہوتی ہیں۔ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی لیکن مل نہیں سکتیں۔
منظرنامہ: کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی میڈیا کو دوسرے ممالک کی طرح بلاگنگ کو فروغ دینا چاہیے؟ کیوں کہ دوسرے ممالک میں میڈیا بلاگروں سے رائے لینے کے لیے رابطہ کرتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا میں بلاگروں کی نمائندگی نظر نہیں آتی۔
راجا: یہ بات تو ہے لیکن مجھے پاکستان میں ایسا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔ ابھی وقت لگے گا۔ ابھی تک لوگوں کی یہی سوچ ہے کہ انٹرنیٹ پر لکھ رہا ہے، کچھ بھی اپنی مرضی سے لکھ دیا۔ ابھی اس میں سنجیدگی کا عنصر نہیں ہے۔
منظرنامہ: بہت شکریہ راجا کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں وقت دیا۔
راجا: آپ کا بھی شکریہ۔

6 تبصرے:

  1. عمار اس سلسلے کو شروع کرنے کے لیے میری طرف سے مبارک باد۔ میری رائے میں بہت دلچسپ اور مفید سلسلہ ہے۔ ممکن ہے اردو اور انگلش بلاگرز اسی سلسلے کی بدولت قریب آسکیں۔
    راجہ صاحب سے عید ملن پر ملاقات ہوئی تھی۔ خواہش تھی کہ مزید جاننے کو ملے یہ خواہش منظر نامہ نے پوری کردی۔
    اور ہاں۔۔۔۔ منظر نامہ سے غائب مت ہویے گا۔ :ڈ

  2. بہت زبردست سلسلہ ہے عمار، راجا کی گفتگو پڑھ کر بہت لطف آیا۔ اس سلسلے میں مزید افراد سے بھی ملاقات کریں۔ اس روز عثمان لطیف کراچی آئے تھے، اگر آپ ملاقات کرنے آجاتے تو شاید ایک اور انٹرویو ہاتھ لگ جاتا

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر