آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > مبشر اکرم سے شناسائی

مبشر اکرم سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”مبشر اکرم “ صاحب ۔ آپ ” لوگ کہانی – عام لوگ، خاص کہانیاں“ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ آپ بلاگ تو لکھتے ہی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر بھی کافی فعال ہیں۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

شکر الحمداللہ۔ عموما خوش رہتا ہوں۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

اپنے بارے میں بات کرنا ہمیشہ ہی سے مشکل محسوس ہوتا ہے۔ لہذا، میری اس مشکل کا ادراک و احترام کیجیے اور کچھ آسانی فراہم ہو تو مضائقہ نہیں۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

میں قصبہ ملکوال، جو ان دنوں ضلع گجرات کا حصہ تھا، میں پیدا ہوا۔ ملکوال آجکل ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ہے۔ پنجاب میں تین اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔ ایک جانب جہلم، دوسری طرف سرگودھا اور خود اپنے ضلع کا آخری قصبہ۔ میں 1993 سے اسلام آباد میں ہوں۔ روشن مستقبل کی خاطر آیا تھا۔ کچھ حاصل کرلیا، کچھ باقی ہے۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

زندگی کا ایک لمبا عرصہ مسلسل کوشش میں گزارا، میرے دوست۔ میٹرک تک کی تعلیم میری باقاعدہ تعلیم ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے لئے خاندان میں عمومی معاشی سہولت اور ذرائع نہ تھے۔ ایف اے اور بی اے پرائیویٹلی کیا۔ اور پھر زندگی کی مصروفیات کہ بس چلتی ہی چلی گئیں، چلاتی ہی چلی گئیں۔ والد صاحب اپنے دور اور وقت کے ملکوال میں نہایت سرگرم رکن اور آفس بئیرر تھے۔ ضلع گجرات کے نائب صدر رہے، اور پھر جنرل ضیاءالحق کے دور میں اسکی بھاری قیمت بھی چکائی۔ سنہء1979 سے ہی مارشل لاء حکومت کی بدولت معیشت و معاشرت گنوائی اور بس اسکے بعد سارا گھرانا ہی کوشش میں مبتلا رہا، میرے سمیت۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

میں کوئی باقاعدہ بلاگر نہیں۔ خیالات جب اپنا دائرہ مکمل کرتے ہیں تو ذہن پر بوجھ بناتے ہیں۔ اسی بوجھ کو اتارنے کےلیے کچھ لکھ دیتا ہوں۔ پھر کچھ یہ کہ زندگی کے مراحل میں تھوڑا سیکھا تو سوچا کہ جو ٹھوکریں میرے مقدروں میں رہیں، اور آئیں، ان ٹھوکروں کو دوسروں سے شئیر کرلیا جائے تو شاید چند ایک کا بھلا ہوتا ہو۔ آغاز کوئی دو تین سال قبل کیا تھا، اپنے لکھنے کا۔ بس سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

کوئی مرحلہ طے نہ کیا، میرے دوست۔ ایویں میں کیا کہنا، بھلا۔ اور کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ لکھنا، میرے نزدیک، پڑھنے سے مشروط ہے۔ نہ پڑھنے والا، لکھ بھی نہیں سکتا۔ یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ پڑھتا رہتا ہوں، تو جیسا کہ کہا، جب خیال کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے تو سائیڈ پر نوٹس لکھ کر، ایک تحریر آپ جیسے دوستوں کے حوالے کر دیتا ہوں۔ پھر تحریر جانے، یار جانیں!

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

سچ تو یہی ہے کہ اپنے خیال کے وزن کو اتارنے کےلیے لکھنا شروع کیا۔ ابھی بھی اکثریتی عمل اسی وزن کا محتاج ہوتا ہے۔ اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا، اور پھر سے سچ کہ زندگی کی مصروفیات اور مسلسل محنت کے عمل میں ایسا الجھا کہ اردو زبان یا بلاگنگ کو مجھ جیسے کیا فروغ دیں گے بھلا، جو صرف اردو ٹائپ کرسکتے ہیں۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

کوئی خاص نہیں۔ پھر سے سچ کہوں گا کہ میں کوئی باقاعدہ بلاگر نہیں، مگر اچھی تحریر جو لطف دیتی ہے، لازمی پڑھتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر کچھ وقت “ضائع” کرتا ہوں تو آس پاس سے

لِنکس میری جانب آتے رہتے ہیں۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اردو بلاگرز کا کوئی گروپ بھی ہے، اور ابھی بھی یہ معلوم نہیں کہ اگر ان بلاگرز کی تحاریر مسلسل پڑھنا ہوں تو اسکا کیا طریقہ واردات ہے۔ مدد کیجیے، بلکہ میری اس سلسلہ میں۔

منظرنامہ: اردو بلاگرز کی تحاریر کے سلسلے میں اردو سیارہ، بلاگستان فیڈز یا پھر اردو سورس کی جانب سے اس سلسلے میں بنایا گیا اینڈرائیڈ ایپ استعمال کریں۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

پرانی ہے، کافی پرانی کہ جب یہ شروع شروع میں “آئی لاگ” اور پھر “ویب لاگ” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

آپ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو رہتے ہیں، سوشل میڈیا کے استعمال کا تجربہ کیسا رہا ہے ؟

مِکس پلیٹ ہی ہے جناب۔ لوگ سوشل میڈیا پر عموما یہ تاثر لیے پھرتے ہیں کہ سوشل میڈیا ہینڈل یا آئی ڈی کے پیچھے کوئی انسان نہیں، بلکہ کوئی مشین بیٹھی/بیٹھا ہے۔ جانے بغیر رائے قائم کرتے ہیں، اور اس پر پھر مصر بھی ہوجاتے ہیں۔ اکثریتی لوگوں کو فوری جذبات کی تیزابیت کا شکار ہی پایا اور اس تیزابیت میں خود جلنے کے ساتھ ساتھ ایسے ہمراہی، دوسروں کو بھی جلانا عین عبادت گردانتے ہیں۔ میں کہتا ہی رہتا ہوں کہ یارو، دھیرج بھی نیکی کی ہی ایک شکل ہے۔ مگر کم ہی سنتے ہیں۔ بہرحال، اسی سوشل میڈیا کے طفیل، کئی اچھے دوست بھی ملے اور اس میڈیم کی طالبعلمی کا بھی اپنا ہی ایک مزہ ہے۔

کیا آپ کو سوشل میڈیا پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟

جی، تقریبا ہر روز ہی۔ پڑھنے والے لوگ کم ہیں، لکھنے والے زیادہ۔ پڑھائی اور لکھائی ایک متناسب توازن میں ہوں تو ہی بہتر ذہن سازی ہوتی ہے۔ ذہن سازی بہتر نہ ہوتو، زبان سازی بھی کبھی بہتر نہیں ہوسکتی۔ لوگ دو تین ہزار روپے میں چکن کڑاہی کھا کر قومی فریضہ پورا کرتے ہیں گویا، مگر کتاب اور موسیقی مفت میں ہی ڈاؤن لوڈ کرنے کے چکروں میں ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی غیرمتناسب اور غیر مناسب مشکلات کا سامنا کرتا ہی رہتا ہوں۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

بالکل ایسا نہیں ہوتا کہ بیٹھا اور لکھنا شروع کیا، اور لکھتا ہی چلا گیا۔ سوچ ایک بیانیاتی زاویہ تشکیل دیتی ہے کہ جس کے آس پاس خیال کی لڑی پروئی جاتی ہے اور بمانند ایک دائرہ یہ اپنے اوریجن سے جب آن ملتی ہے تو مضمون کی روح جنم لیتی ہے، میرے دوست۔ بغیر پڑھے، لکھنے والے بغیر سوچے لکھتا ہے۔ بقول، مرزا اطہر بیگ صاحب کے کہ (ماخوذ): گویا ایک گھسیٹا کاری کا عمل ہے۔ اور میں اپنے آپ کو گھسیٹا کار کے طور پر کبھی بھی نہیں دیکھنا چاہوں گا۔

نیز یہ بھی کہ، بات کچھ فلسفیانہ ہے، اپنے خیال کو پوری صداقت سے تولتا ہوں اور پھر اپنے تئیں اسے پبلک سفئیر کا حصہ بنانے کا سوچتا ہوں۔ اگر کسی خیال کی بابت میں خود مطمئن نہ ہوں تو کبھی نہیں لکھتا۔ میرے نزدیک ذہن کی زمین پر اترنے والا خیال، امانت ہوتا ہے۔ جس کو پوری کوشش سے ایک پیرائے میں اپنے ماحول، معاشرت اور اس کائنات کے حوالے کر دینا چاہیے کہ جس میں آپ، مجھ اور ہم جیسے کروڑوں اربوں زندہ ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

میں بلاگنگ فائدہ کے لیے کرتا ہی نہیں۔ ویسے بھی باقاعدہ بلاگر ہوں بھی نہیں۔ فائدہ کےلیے سوچا بھی نہیں کبھی۔ شاید سوچوں بھی نہیں کبھی۔ فائدہ کے لیے ایک مستعد دماغ اور محنت کرنے والے ہاتھ موجود ہیں۔ وہی کافی ہیں۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

اسکا فیصلہ پڑھنے والے کرتے ہیں۔ لوگ جان جاتے ہیں کہ کہانی کاری اور ایک خیال کی کمیونیکیشن میں کیا فرق ہے۔ وہ لوگ جو کہانی کاری میں خوش ہوتے ہیں، اور بدقسمتی سے ایسے اکثریت میں ہیں، وہ کہانی سننے کی لذت سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتے اور کہانیوں کے گرداب میں ہی اپنی ذات اور خیالات سمیت چکر کھاتے رہتے ہیں۔ یہ ذہنی بھنور ہوتا ہے، مگر زیادہ تر اسی میں راضی رہتے ہیں۔ خیال پڑھنے اور اسکی کمیونیکیشن کے عمل سے لطف اٹھانے والے آپکو کم ملیں گے، مگر ذہنی اور ظرفی طور پر مضبوط، سیکھنے اور سکھانے کے عمل پر یقین کرنے، اور رکھنے والے ہونگے۔ کہانی کاری میں آپکو گھسیٹا کاری کا عمل بھی زیادہ ملے گا، لہذا آپکو قوموں کی خیالی تاریخ میں کالم نگار کم ہی زندہ ملیں گے، جبکہ خیال کی ترسیل کرنے والے صدیوں زندہ رہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ معیار، ویسے بھی کم لوگوں کو راس آتا ہے کہ یہ کہانی کاری کی اس لذت سے محروم ہوتا ہے جس کی اکثریت عادی، بدقسمتی سے، ہوچکی ہے ہمارے معاشرے میں۔ گھسیٹا کاری کر پڑھ کر اپنی آراء بنانے والوں پر ترس آتا ہے، بخدا۔ رائے قائم رکنے کےلیے خیال کا پیرائے میں ہونا لازم ہوتا ہے اور خیالات کی پیرائیگی کیا ہے؟ اسکا جواب آپکو معاشرے میں کتب بین اور فنون لطیفہ سے لطف اٹھانے والوں کی تعداد دیکھ مل جائے گا۔

ہم، ہمارا معاشرہ جہاں ہیں، وہیں کیوں ہیں؟ اسکی وجوہات ہیں جناب۔ یہ حادثہ نہیں۔

مختصر سوال کے طویل جواب کی معذرت، بہرحال۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

جی، بالکل ملا۔ میں خواہمخواہی ماتم کے حق میں نہ تھا، نہ ہوں، نہ ہونگا۔ زبان اپنا مقام خود بناتی ہے۔ اردو زبان اپنی فطر ت میں “انکلوسِو” ہے اور جو چیز بھی اپنی فطرت میں انکلوسو ہو، انسان، کمیونیٹیز، معاشرے، ملک وغیرہ، وہ اپنا مقام اپنے گزرے کل سے بہتر ہی بناتی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

لطف اٹھاتا ہوں۔ بس ٹائپنگ انگلش زبان سے مشکل ہے!

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

کام شاید اس معیار اور مقدار کا نہیں ہو پا رہا۔ مگر یاد رکھیے کہ زبانیں معاشروں کی میراث و ذمہ داری ہوتی ہیں، سرکار اور حکومتوں کی نہیں۔ بیس کروڑ کی آبادی میں ایک کتاب کا ایڈیشن اگر صرف ایک ہزار چھپے، اور وہ بھی کبھی بِک نہ پائے تو یہ ایک بھدا تبصرہ ہے، معاشرے اور معاشرت پر۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

آج سے مقدار میں بہتر، معیار پر کچھ تحفظات ہیں۔ لکھنے والا اگر پڑھنے سے رشتہ نہ رکھے تو معیار نیچے آتا ہے۔ بس یہی اک خیال ہے جو پریشان کرتا ہے۔ کہانی کاری شاید زیادہ ہو کہ زیادہ بِکتی ہے، خیالات کی ترسیل کچھ مشکل دکھائی دے رہی ہے، جناب۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

چار درخواستیں ہیں، دوست:

پڑھو

پڑھو

پڑھو

پھر لکھو

مگر صرف کہانی ہی نہیں۔ خیال بھی۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

فکر روزگار کے علاوہ، مطالعہ، موسیقی، محفل یاراں۔ ذہن کے ساتھ ساتھ وجود کی ورزش پر بھی یقین رکھتا ہوں۔ لہذا اس طرف بھی رجحان ہے۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

آہ۔ زندگی کا مقصد!

نوجوانی میں میں نے اپنے آبائی گھر میں اپنے کمرے کی اندرونی دہلیز پر لکھ رکھا تھا کہ میں اک دن دنیا بدلوں گا۔ پھر دنیا نے میری ہنسی اڑائی اور مجھے بدل ڈالا۔ شروع میں مزاحمت کی، اب نہیں کرتا۔ اب زندگی جیتا ہوں، زندگی کے ساتھ جی کر۔ کوئی بڑا مقصد نہیں اور نہ ہی میں کسی بڑے مقصد کے حق میں ہوں۔ چھوٹے چھوٹے ہونے والے کام اور انہی کاموں میں سے اپنے لیے مقصدیت تلاش کرتا ہوں۔ اسی میں بہت خوش ہوں اور اسی میں بہت خوش رہوں گا۔ آپ سب کو بھی یہی درخواست ہے کہ اپنی ذات کے محدود دائرے میں اپنے “ایمبیشن” اور اپنی “کیپیسیٹی” کے درمیانی فرق و فاصلے کو اپنے “ٹیلنٹ” کے دھاگے سے باندھیں اور اس معاملے میں اپنی ذات و زندگی کی خودشناسی کے عمل سے لازمی گزریں، اور یہاں پھر مطالعہ کی اہمیت آتی ہے، جو کہ اس مقدار میں نہیں، جس میں اپنے معاشرے میں ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنے ایمبیشن اور اپنی کیپیسیٹی کے درمیانی فرق اور فاصلے کو مناسب ٹیلنٹ کے دھاگے سے باہمی نہیں باندھ سکتے، وہ مسلسل ردعمل کا شکار رہتے ہیں، اورایک شکایتی زندگی بسر کرتے ہیں۔ آس پاس دیکھیے، کافی تسلی ہوگی آپکو کہ جس مقدار میں لوگ معاشرے، ملک وغیرہ سے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

جوناتھن لِونگسٹن کی ہے: سی گل۔ بہت ہی مختصر مگر پراثر کتاب ہے۔ روٹین کے فریم ورک کے شکنجے کو توڑنے کے حوالے سے یہ تحریر انسانی ذات پر لگے کافی قفل چیلنج کرتی ہے۔

2۔ شعر ؟

میں شعر کا کبھی آدمی رہا ہی نہیں۔ سنہء1993 میں پرائیویٹ بی اے کی تیاری کرتے ہوئے میرے کزن، سہیل بٹ نے ملکوال میں ایک شعر سنایا تھا، سچ ہے کہ بس وہی یاد ہے:

ہر شخص اپنے وقت کا سقراط ہے یہاں

پیتا نہیں مگر زہر کا پیالہ کوئی

3۔ رنگ ؟

میرون، ابھی اسکی اردو کیا ہے، معلوم نہیں۔

4۔ کھانا ؟

دال مونگ اور دھلی ہوئی مَصر اور ابلے چاول، ساتھ میں پودینے اور اناردانہ کی چٹنی۔ اور کیا ہی عمدہ کہ یہ میری ماں کے ہاتھ سے بنے ہوں، کیا ہی عمدہ!

5۔ موسم ؟

ہر موسم کے اوائل اور اواخر، کہ ان میں ان موسموں کا تعارف ہوتا ہے اور شدت نہیں۔ کبھی تھا، میں اب شدت کا بندہ رہا ہی نہیں۔

6۔ ملک ؟

چھوٹے ملک مجھے فیسی-نیٹ کرتے ہیں۔ لٹویا، چیک ریپبلک، لتھوینیا، لیگزمبرگ، تائیوان، منگولیا وغیرہ۔ پاکستان کی پیدائش ہے، اسکی معاشرت کو جانتا ہوں، لہذا اس سے پیار ہے اور فیسی-نیشن بھی۔ اس ملک کو پراپر دیکھنے کےلیے اک زندگی بھی کافی نہیں۔

7۔ مصنف ؟

خوشونت سنگھ کی بڑی گہری چھاپ ہے میری ذات پر۔ ان سے سنہء 2001 کے فروری میں ملاقات بھی ہوئی، نئی دہلی میں۔ زندگی اور بعداززندگی کے معاملات میں وہ بہت کلئیر خیالات کے مالک تھے۔ کم ہی ہوتے ہیں لوگ ایسے۔

8۔ گیت؟

امریکی کنٹری موسیقی بہت بھاتی ہے۔ ساتھ میں راک میوزک بھی۔ پاکستانی راک، دنیا کے بہترین راکس میں سے ہے، مگر معاشرتی سوچ ہی ایسی کہ موسیقی اور فنون لطیفہ حرام سمجھے جاتے ہیں، تو لہذا یہ لعل بھی گندی گدڑی میں ہی ہے ابھی تک۔

یہ کہنے کا مقام تو نہیں، مگر فنون لطیفہ کے بغیر انسانوں اور معاشروں میں لطافت آ ہی نہیں سکتی۔ اور جو انسان اور معاشرے لطافت کے بغیر جیتے ہوں، وہ اپنے خیالات اور شخصیات میں نرمی نہیں، سختی لیے پھرتے ہیں، مختلف نظریات کے اوپر۔ پھر یہ بھی کہ مختلف نظریات اختلافات کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں، اپنے ہاں کے مذہبی فرقوں کو ہی دیکھ لیجیے، جبکہ فنون لطیفہ ایک سانجھ اور ہم آہنگی کا پیغام لیے ہوتے ہیں۔ کسی بھی محفل موسیقی یا تھئیٹریکل پرفارمنس میں آپکو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے آپکے اطراف کے لوگ کس نظریہ سے ہیں، مگر مختلف اختلافی نظریات کی تشریح والے مواقع پر مخالف الخیال لوگوں کا داخلہ سختی سے ممنوع ہوتا ہے۔

اور جب لوگ ملیں گے نہیں، تو دوست، جڑیں گے کیسے؟

9۔ فلم ؟

مولا جٹ۔ یہ فلم مجھے یاد دلاتی ہے کہ سینما کے ذریعے سے کسی بھی معاشرے اور معاشرت کا ، تشدد کو گلوریفائی کرکے، کیسے تیا پانچہ کیا جاسکتا ہے۔

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

یہ غلط اور درست کے درمیان کے ہی معاملہ ہے، جناب۔

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

ہیں؟ بالکل نہیں۔ کبھی ہوتا ہو۔ اب نہیں۔

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

بے حد سے بھی زیادہ۔

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

بالکل اچھا لگتا ہے، جناب۔

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

یہ بات آپ میرے دوستوں سے پوچھیں۔

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

بالکل نہیں۔ غصہ آتا ہے، قابو کرنا جانتا ہوں۔ مگر بندہ بشر ہوں، کبھی کبھار، مگر بہت ہی کم، لڑھکتا ہوں۔

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

بہت تو نہیں، مگر شاید کسی حد تک۔

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

محفل پر منحصر ہے، جناب۔

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

لوگوں کو، اور خود کو، مارجن دیا کریں۔ اس دنیا میں کوئی بھی مکمل نہیں، آپکے میرے سمیت۔ لہذا بہتری کی کوشش کیا کریں جو بھی آپکی ذات آپکو اس محدود دائرے میں کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ آسانی سے جیا کریں، اور دوسروں کوبھی آسانی سے جینے دیا کریں۔

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

جی، آپکا شکریہ کہ مجھ سست الوجود سے اتنا کچھ لکھوا لیا۔ جیتے رہیں، جناب۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

11 تبصرے:

  1. مبشر صاب اچھے لکھاری ہیں۔۔۔ احساسات کو صفحے پر اتارنے کی بہت عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ سلام دعا تو ان سے کبھی خاص نہیں رہی لیکن ان کی توجہ اور شفقت کا تجربہ ضرور ہے۔۔۔
    مبشر صاحب کے لیے بس ایک گزارش۔۔۔ لکھتے رہیں۔۔۔ لکھتے رہیں۔۔۔ لکھتے رہیں۔۔۔ اور پلیز اچھا لکھتے رہیں۔۔۔
    والسلام۔۔۔

  2. ایک دن میں اس دنیا میں ضرور طلوع ہوں گا. یہ فقرہ پہلی دفع مبشراکرم صاحب سے سنا جون 1996 میں صہیح تاریخ یاد نہیں لیکن مہینہ اور سال یاد ہے. اور میں یہ سمجھتا ہوں کے آج وہ طلوع ہو چکے ہیں. اپنے بڑوں سے سن رکھا تھا کہ لوگ مہنت کر کے اپنا مقام بناتے ہیں لیکن دیکھا نہیں تھا کیوں کے عمومن لوگوں کو دو نمبر راستے سے ہی اپنی منزل کو پاتے پایا. اللہ ان کو اور زیادہ کامیابیاں عطاء فرمائے کیوں کہ یہ ڈیزرو کرتے ہیں.

  3. می سوچنگ ۔۔
    اگر یہ برا وقت مجھ پر آگیا کسی دن ۔۔ تو میں بقراطی کیسے جھاڑوں گی ۔۔ میرا خیال ہے کچھ پریکٹس کر لوں بقراط بننے کی ۔۔ آپ لوگ جلدی نہ کرنا ۔۔ پہلے باقی بقراطوں سے ملاقات کرلیں ۔۔ میں زرا تیاری کر لوں 😛 😉

  4. مبشر اکرم صاحب سے مل کے خوشی ہوئی کہ بلاگر ہیں اور دیگر بلاگرز کی طرح دال چاول شوق سے کھاتے ہیں
    بلال بھائی سے درخواست ہے کہ اگرشناسائی کے ساتھ “بلاگر” دوست کی تصویر اور فیس بک /ٹویٹر آئی ڈی بھی دے دیا کریں تو شناسائی کو چار چاند لگ جائیں

  5. درست کہا ہے کہ لکھنے کیلئے پڑھنا ضروری ہے ۔ یہ بھی صحیح کہا کہ اُردو کی ترویج کیلئے عوام کی کوشش لازم ہے
    اگر لوگ اردو بولنا عار سمجھیں اور انگریزی بولنے میں فخر محسو س کریں تو اردو کا جو حال ہے وہ سامنے ہے
    دال چاول شاید سب کو پسند ہوتے ہیں ۔ مجھے بھی بہت پسند ہیں

  6. انٹرویو میں بہت سی باتین ایسی ہیں جنہیں پڑھ کر مبشر صاحب آپ کو تھوڑا بہت سمجھا جا سکتا ہے لیکن جو بات آپ نے بلاگ لکھنے کے حوالے سے کی ہے کہ ’’اپنے خیال کے وزن کو اتارنے کےلیے لکھنا شروع کیا۔ ابھی بھی اکثریتی عمل اسی وزن کا محتاج ہوتا ہے۔‘‘ بہت کمال کے جملے ہیں۔۔۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔۔۔ شناسائی۔کرانے کے لئے شناسائی کا شکریہ ۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر