آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو بلاگنگ > اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا روزہ

اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا روزہ

اردو بلاگستان کی ایک پرانی روایت اس رمضان اردو بلاگر شعیب صفدر صاحب کی وجہ سے پھر سے تازہ ہوچکی ہے۔ دراصل کچھ عرصہ پہلے جب فیس بک پاکستان میں مقبول نہ تھی تو اردو بلاگرز ایک موضوع کا آغاز کرکے اس پر مختلف بلاگرز کو ٹیگ کر کے لکھنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ کافی خوبصورتی کے ساتھ جاری رہتا تھا اور وسیع تر ہوتا جاتا تھا۔ مگر پھر فیس بک کا دور آیا جس کے شکار اردو بلاگرز بری طرح ہوگئے اور کئی پرانی روایات آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ  جو بلاگرز ایک ماہ میں 4 یا کبھی کبھی 6 تحاریر بھی لکھا کرتے تھے وہ اب 4 یا 6 ماہ میں 2 سے 3 تحاریر پر آگئے۔ گوکہ فیس بک کی وجہ سے اردو بلاگرز کی آواز اب بہت لوگوں تک پہنچ چکی ہے اور بے شمار نئے اردو بلاگرز کا اضافہ بھی ہوا ہے لیکن فیس بک نے اردو بلاگستان کو نقصان یہ دیا کہ اردو بلاگرز بلاگ کے بجائے فیس بک پر ہی اپنی رائے دینے لگ گئے اور بلاگ سے دور ہوتے چلے گئے ایسے میں اردو بلاگستان میں اس رمضان پرانی روایت کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے جس کی وجہ شعیب صفدر اور ان کی بلاگ تحریر چڑی روزے سے روزے تک ہے۔

یہ سلسلہ تو چل پڑا اور اس کا آغاز بھی شاندار طرح سے ہوچکا اور کئی بلاگرز اپنی تحاریر لکھ چکے اس موضوع پر لیکن اگر یہ تحاریر ایک جگہ جمع ہوجائیں تو دیگر قارئین اور بلاگرز کے لیئے پڑھنے میں آسانی ہوگی۔ اس سلسلہ میں نورین تبسم صاحبہ نے فیس بک پر ہی ایک ایونٹ بناکر تحاریر جمع کرنے کا کام کیا ہے جو کہ اچھا قدم ہے مگر یہاں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ فیس بک مستقل آپ کی تحاریر یا ایونٹ کو محفوظ نہیں بناتا اسی لیئے منظرنامہ کا یہ خیال ہے کہ اس موضوع اور آئندہ بھی ایسے موضوعات پر لکھی گئی تحاریر کو ایک جگہ منظرنامہ پر جمع کردیا جائے تاکہ دیگر بلاگستان کے بلاگرز کو آسانی ہو۔ اسی خیال کے تحت یہاں نیچے تمام تحاریر کے ربط دیئے جائیں گے تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی رہے۔ اس سلسلہ میں نورین تبسم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اب تک کی تحاریر کو جمع کر رکھا ہے۔ اگر آپ کی تحریر کا ربط نیچے موجود فہرست میں نہیں ہے تو جلد اس فہرست میں شامل کرنے کے لیئے فیس بک پر رابطہ کریں۔

تحریر: چڑی روزے سے روزے تک

مصنف: شعیب صفدر گھمن

تحریر: ہم نے روزہ رکھا

مصنفہ: کوثر بیگ

تحریر: روزہ خور کا پہلا روزہ

مصنف: نجیب عالم

تحریر: چڑی روزہ۔۔۔۔عیدی۔۔۔۔وغیرہ۔۔۔

مصنف: رمضان رفیق

تحریر: پہلا روزہ، کچھ یادیں

مصنف: راجہ افتخار خان

تحریر: 32 برس پہلے کا روزہ

مصنف: محمد اسلم فہیم

تحریر: بچپن کا رمضان

مصنف: مصطفٰی ملک

تحریر: محبت اب نہیں ہو گی

مصنفہ: نورین تبسم

تحریر: چھتیس برس پہلے کے روزے

مصنف: افضل جاوید

تحریر: دل نے پھر یاد کیا

مصنفہ: کائنات بشیر

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: مرزا زبیر

تحریر: میرا پہلا روزہ

مصنف: محمد اسد

تحریر: میرا پہلا روزہ

مصنفہ: اسرٰی غوری

تحریر: بانگ دے، روجی ماتی۔۔۔۔ میرا پہلا روزہ۔۔۔۔

مصنف: نعیم اللہ خان

تحریر: بچپن کا روزہ

مصنف: محمد علم اللہ

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: ڈاکٹر محمد نور آسی

تحریر: ہمارے بچپن کے روزے

مصنف: محمد سلیم

تحریر: پہلا روزہ

مصنفہ: عفت ملک

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: یاسر جاپانی

تحریر: بیس سال گزر گئے

مصنف: کاشف نصیر

تحریر: میرا پہلا روزہ ؟

مصنف: وجدان عالم

تحریر: کیسا تھا میرا پہلا روزہ (خدارا نہ ٹیگو کہ مجھے نہیں یاد!)

مصنف: سیف اویس مختار

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: جواد احمد خان

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: مبشر سلیم

تحریر: ہمارا پہلا روزہ

مصنفہ: فرحت طاہر

تحریر: پہلے روزے کی یادیں

مصنف: عمار ابنِ ضیا

تحریر: بچپن کے روزے

مصنفہ: ثروت عبدالجبار

تحریر: بچپن کا روزہ اور رمضان

مصنف: سعد مقصود

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: ملک انس اعوان

تحریر: بچپن و روزہ ، آگہی و عذاب

مصنف: خرم بقا

تحریر: بچپن کے روزے ہم اور پکوڑے

مصنف: ایم شاہد یوسف

تحریر: پہلا روزہ اور ہم

مصنف: وقار اعظم

تحریر: مجھے اپنا پہلا روزہ ہی یاد نہیں

مصنف: نعمان یونس

تحریر: پہلا روزہ اور بے ربطگیاں

مصنف: ارسلان شکیل

تحریر: ہمارے بچپن کے رمضان المبارک

مصنف: محمد بلال محمود

تحریر: بچپن سے جوانی تک کے روزے

مصنف: محمد بلال خان

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

13 تبصرے:

  1. کیا بات ہے ۔۔۔۔ خوبصورت ۔۔۔ طبیعت کوش ہو گئی دیکھ کر ہی ۔۔۔۔ اس کو تو کتابی شکل میں لانا چاہئے ۔۔۔۔ بھائی اس کا مقدمہ بھی اب لکھ ڈالئے ۔۔۔۔ آن لائن ای بُک تو بنا ہی دیتے ہیں ۔

  2. بہت اعلیٰ
    سب سے پہلے محترمہ نورین تبسم کو تحاریر ایک جگہ اکھٹی کرنے اور بعدازاں منظر نامہ کی پوری ٹیم کو بہت مبارکباد اور دعائیں ۔۔۔۔۔۔ تجویز اچھی ہے ‘‘ ای بک ‘‘ بھی بنا دی جائے تو بہتر ہوگا

  3. “بچپن کے روزوں” کا تذکرہ محترم “شعیب صفدر گھمن” صاحب سے شروع ہو کر “گھومتا گھامتا” برادرم “بلال خان” پر اختتام پذیر ہوا ۔ایک سے بڑھ کر ایک شاندار بلاگ پڑھنے کو ملا
    ویسے آپس کی بات ہے بڑی بڑی “لش پش کاروں” میں گھومنے والے ہوں یا صبح سویرے اٹھ کےگلیوں اور بازاروں میں کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے والے ۔۔۔۔۔۔۔ بچپن تو “سبھی” کا ہی شاندار ہوتا ہے۔
    بقول ڈاکٹر جواد احمد خان “کسی کی یادیں خوبصورت محل کی صورت ہوتی ہیں تو کسی کی کباڑی کی دکان” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بچپن ہر کسی کا ہنستا مسکراتا، اٹھکیلیاں کرتا، ہر غم اور تفکر سے آزاد جہاں نہ لالچ ہوتا ہے نہ ہوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس بچے ہوتے ہیں اور من کے سچے ہوتے ہیں۔

  4. بہت اچھا سلسلہ شروع کیا گیا اور اسے سب ہی نے آگے بڑھایا اور اپنی اپنی سنہری یادوں سے آراستہ کیا پڑھکر ایک دوسروں کو سمجھنے انکی یادوں باتوں انکے والدین کے ذکر سے اپنائیت محبت اور جاننے کا موقعہ ملا ۔سب ہی کے بلاگ بہت ہی خوب تھے
    اگر میں نے کسی کے بلاگ پرکمنٹ نہیں کری تو سمجھیں کہ میں نے نہیں پڑھا تو مہربانی فرما کر مجھے اپنے بلاگ کی طرف متوجہ فرمائیں مجھے پڑھکر خوشی ہوگی

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر