آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > ڈاکٹر محمد نور آسی سے شناسائی

ڈاکٹر محمد نور آسی سے شناسائی

منظر نامہ کے سلسلہ شناسائی میں آج کے ہمارے مہمان ہیں ڈاکٹر محمد نور آسی ۔ڈاکٹر محمد نور آسی کا تعلق ضلع خوشاب سے ہے ،گزشتہ دو دہایوں سے بسلسلہ روزگار اسلام آباد میں مقیم ہیں ،سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھی سے شغف رکھتے ہیں ۔آپ “لفظ بولتے ہیں” کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے

ڈاکٹر صاحب خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمدللہ ۔ شکرہے رب کریم کا

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ ایک سادہ مزاج سیلف میڈ آدمی ہوں ۔ ابھی کالج میں پڑ ھ رہا تھا کہ والد صاحب فوت ہوگئے ۔ تب سے اب تک زندگی رقص میں ہے۔ غم عشق سے غم روزگارتک ایک لمبا سفر ہے جوا بھی تک جاری ہے۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@ جائے پیدائش ضلع خوشاب ہے۔ اور پچھلی دو دہائیوں سے اسلام آباد میں مقیم ہوں ۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ تعلیم ایم بی اے۔ ایم اے۔ ڈی ایچ ایم ایس ۔ دیہاتی پس منظر ۔ والد صاحب بارانی علاقے کی دھر تی پر محنت کرتے فوت ہوئے۔ میرے والد صاحب نے ساری زندگی دوسروں کے لئے گذاری ۔ گھر میں بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ گو الحمد للہ میں شروع سے سکول میں ٹا پ کرتا آیا لیکن کبھی میری تعلیم کے حوالے سے میری والد صاحب نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ ۔ شب وروز لڑائیوں ، جھگڑوں کے فیصلے ، صلح صفائیاں ۔ رشتوں کے تنازعے حل کرتے گذار دی۔ جب والد صاحب فوت ہوئے تو میں نے اپنے گھر والوں سے زیادہ ارد گرد کے کئی دیہاتوں کے لوگوں کو روتے دیکھا۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ مجھے لکھنے کا شوق تو بہت شروع سے تھا۔ کئی رسائل میں لکھتا رہا ہوں ۔ شاعری کے جراثیم بھی تھے۔ کالج میں تھا تو ایک دفعہ احمد ندیم قاسمی کی زیرصدارت ایک مشاعرے میں پہلی دفعہ کلام پڑھا۔ پذیرائی نے حوصلہ بڑھا یا ۔ کچھ عرصہ خوب شاعری کی لیکن پھر حالات نے کچھ ایسے بھنور میں پھینکا کہ سب کچھ بھول جا نا پڑا ۔ غالبا 2007 کی بات ہے کہ انٹر نیٹ پر گھومتے گھامتے Pak.net پر جا نکلے اور وہاں ماحول ساز گا ر پا کر پھر سے کچھ لکھنا شروع کیا۔ وہیں سے بلاگنک کے بارے میں پتہ چلا ۔ اور پہلا بلاگ 2008 میں بنا یا جو ہومیوپیتھی کے حوالے سے تھا۔ یہ بلاگ ابھی تک جاری و ساری ہے۔

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@ بلاگنگ دراصل بہت سہولت فراہم کرتی ہے۔ قارئین تک آسان رسائی، لکھنے کی آزادی، اور فوری اشاعت وغیرہ

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ میں ابھی تک کمپیوٹر کے حوالے بہت کم معلومات رکھتا ہوں ۔ سو بلاگنگ کے ابتدائی دنوں میں گوگل سے مد د لے کر آہستہ آہستہ کا م کر تا رہا ۔ میرا پہلا بلا گ ہو میو پیتھی پر تھا۔ اور اس وقت یعنی 2008 میں انٹر نیٹ پر اردو میں ہومیو پیتھی پر مواد نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں نےانگلش ، اردو دونوں زبانوں میں بلاگنگ کی۔ اور کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ افراد تک رسائی حاصل کروں ۔ ایڈ سینس کے ذریعے کمائی بھی کی ۔ گرچہ میرا مقصد کبھی کمائی نہ تھا۔ پھر کچھ لوگو ں کے کہنے پر آکر SEOکو سیکھنے کی کوشش کی۔ نیم حکیم کے مصداق ایڈ سنس والوں نے بلاک کردیا۔ لیکن بلاگ پھر بھی جاری رہا ۔ اور ابھی تک ہے۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@بلاگ لکھتے ہوئے میری سوچ یہ تھی کہ جو کچھ میں جانتا ہوں ۔ مجھے اس کو شیئر کرنا چاہیے۔ کیوں کہ میرا یقین اور میرا تجربہ ہے کہ علم بانٹنے سے علم بڑھتا ہے۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@اس وقت انٹر نیٹ پر کافی لوگ بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ میں جب بھی وقت ہو تو بلاگ واکنگ کرتا ہوں۔ اور زیادہ تر میری دل چسپی ہلکی پھلکی تحریریں پڑھنے تک ہے۔ بہت زیادہ فلسفانیہ بلاگ میں نہیں پڑھتا ۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام لفظ بولتے ہیں کیوں رکھا؟

@ اس لئے کہ واقعی لفظ بولتے ہیں ۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@اس کی تفصیل میں میں اوپر دے چکا ہوں۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@ میں کوئی لکھاری نہیں۔ بس کبھی کچھ تحریک ہوئی تو لکھ لیا۔ عموما جب لکھتا ہوں تو بس لکھتا چلا جاتا ہوں۔ نہیں لکھتا تو کئی ماہ گذر جاتے ہیں۔ ہاں ذہن میں کچھ باتیں سٹور ہوتی رہتی ہیں۔ اور اچانک ہی کبھی لکھنے پہ موڈ بن جاتا ہے تو لکھ لیتے ہیں۔یہ معاملہ ” لفظ بولتے ہیں ” کے حوالے سے ہے۔ تاہم ہومیوپیتھی بلاگ پر میں جب لکھتا ہوں تو پہلے کافی پڑھتا ہوں۔ تحقیق کرتا ہوں ۔ پھر لکھتا ہوں

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ مجھے بلاگنگ سے بہت فوائد حاصل ہوئے ۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہیں لکھا ہے کہ میں نے کبھی پیسے کمانے کی خاطر بلاگنگ نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود میں نے بلاگنگ سے کمائی بھی کی۔ بہت سارے اچھے اچھے دوست بھی بنائے۔ اپنی کلینک کی مارکیٹنگ بھی کی۔ کئی پراڈکٹس بھی سیل کیں۔ اور کررہا ہوں۔ ہومیو پیتھی کے حوالے سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا۔ کیوں کہ کچھ لکھنے کے پہلے کافی پڑھنا پڑتا ہے۔ ریسرچ کرنی پڑتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@ میری نظر میں معیاری بلاگ وہ ہے جو کسی مقصد کے پیش نظر لکھا جائے۔ بلاگ میں لکھنے والا پوری تحقیق کے بعد لکھے اور جس موضوع پر لکھے اس سے انصاف کی کوشش کرے۔ تحریر میں بے شک ادبی رنگ نہ ہو۔ تقیل الفاظ کی بھر مار نہ ہو ۔ عام فہم اور جامع تحریر ہو

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@ چھوڑیں جناب ۔ اردو تو بے چاری رل رہی ہے۔ میں یہاں ایک وفاقی وزارت میں جاب کرتا ہوں ۔ اردو کو سپریم کورٹ نے سرکاری زبان کے طور پر رائج کے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی اردو لکھتا ہے تو جس تضحیک کا سامنا اسے کرنا پڑتا ہے آپ تصور نہیں کر سکتے ۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@ اردو سے میرا تعلق تب سے ہے جب میں نے پہلی مرتبہ ” ا” لکھنا سیکھا ۔ اب اتنا پرانا تعلق اپنی بیوی سے بھی نہیں ( مسکراہٹ) ۔ یوں کہں کہ بچپن کی محبت ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ کام ہو رہا ہے؟ کہاں ؟

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ اردو بلاگنگ ماشاءاللہ بہت مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ لوگ کتاب سے تو دور ہوگئے ہیں ۔ لیکن بلاگنگ اردو کی ترویج میں بہت زبردست کردار ادا کر رہی ہے۔ میرے خیال میں آنے والے دنوں میں اردو بلاگنگ کو بہت عروج حاصل ہوگا۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ اردو پاکستان کے کونے کونے میں بسنے والوں کے لئے ایک زنجیر کی طرح ہے۔ سو اردو سے وابستہ رہیے۔ اسے فروغ دیجیے اور اس کو ترویج دینے والوں کا ساتھ دیجیئے

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ جاب اور شام کے اوقات میں کلینک

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ زندگی کا مقصد لوگوں کے لئے آسانیاں پید اکر نا۔الحمدللہ ، بہت ساری خواہشات اللہ کریم نے پوری کی ہیں ۔ایک خواہش جو ابھی تک ادھوری ہے وہ اپنی والدین کے لئے کوئی ایسا کام جو صدقہ جاریہ ہو۔ کئی پراجیکٹ ذہن میں ہیں ۔ مجھے اپنے رب سے قوی امید ہے کہ انشاء اللہ میں اس میں کا میاب رہوں گا۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

@قرآن مجید تو ہمارے ہدائت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ میں Occult Science میں دل چسپی رکھتا ہوں۔ اس حوالے سے کچھ بکس زیر مطالعہ ہیں ۔ مزید ہومیوپتھی سے متعلقہ کتابیں ، شاعری زیرمطالعہ رہتی ہیں کسی ایک کا نام لکھنا مشکل ہے۔

2۔ شعر ؟

@ اچھے اشعار میری کمزوری ہیں۔ بے شمار اشعار یاداشت میں محفوظ ہیں ۔ ابھی فوری طورپر یہ شعر سن لیں

بات پہنچی ہماری غیروں تک

مشورہ کر لیا تھا اپنوں سے

3۔ رنگ ؟

@ سفید

4۔ کھانا ؟

@ سادہ کھانا۔ میں ہوٹل کے کھانے سے احتراز کرتا ہوں ۔ گھر میں جو پکا ہوشوق سے کھا تا ہوں

5۔ موسم ؟

@ رم جھم ساون ، بہار

6۔ ملک ؟

@پاکستان

7۔ مصنف ؟

@کتابیں کافی پڑھی ہیں۔ بہت سارے مصنف ہیں۔ سعادت حسن منٹو سے لے کر محی الدین نواب تک

8۔ گیت؟

@مجھے غزلیں زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔ گیت موڈ اور موسم کے مطابق

9۔ فلم ؟

@ بہت کم فلمیں دیکھتا ہوں ۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@غلط

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ففٹی ففٹی

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ ففٹی ففٹی

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@غلط
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں۔ دوسروں سے دھوکہ کھالیں ۔ خود کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ دکھ بھری باتوں پر مسکرانا سیکھ لیں ۔ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا سیکھ لیں۔ انکساری کو اپنا لیں۔ زندگی بہت آسان ہو جائے گی

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@ فوری طور پر یہ سب سے اہم ہے کہ منظر نامہ متحرک ہو۔ وہاں کچھ ایسی ایکٹویز شروع کی جائیں کہ لوگ منظر نامہ باقاعدہ وزٹ کریں۔ موضوعاتی بلاگز شروع کروائے جائیں ۔ اور اگر ممکن ہو تو ہر ہفتے، ہر ماہ کے بہترین بلاگز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر پندرہ دن کے بعد کسی ایک بلاگ کے حوالے سے ایک ہفتہ مختص کیا جائے ۔ اور اس بلاگ کی تحاریر پر سب بلاگر اپنی رائے دیں۔ اس کو بہتر بنانے کی تجاویز دیں۔ اس طرح کچھ ماہ میں بہت سارے لوگوں کے بلاگز میں بہتری آئے گی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر بلاگر کوئی ایک بلاگ وزٹ کرے اور اس پر اپنا تجزیہ تحریر کرے۔

یہ بھی ایک تجویز ہے کہ اردو بلاگنگ کے لئے کام کرنے والے کے کام کو سراہا جائے ۔ ہر ماہ مختلف کیٹگری میں کچھ انعامات کا سلسلہ رکھا جائے وغیرہ

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@ آپ کا بھی بہت شکریہ

محمد اسلم فہیم
محمد اسلم فہیم پیشے کے اعتبار سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں، ان کی تحاریر سے پاکستان کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ وہ سادہ انداز میں عام لوگوں کی کہانیاں خاص بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ حرف آرزو کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں اور منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کی انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.draslamfaheem.com

7 تبصرے:

  1. محمد نُور صاحب ۔
    آپ کے بارے جان کر بہت اچھا لگا۔ اور جو لوگ محنت سے کچھ کر پاتے ہیں ۔ وہ قابل تعریف ہوتے ہیں ۔
    آپ کی سبھی باتیں عمدہ ہیں مگر اس جملے نے دل مول لیا کہ “علم بانٹنے سے علم بڑھتا ہے” یقیناً یہ بہت اچھی سوچ ہے۔
    اللہ آپ کو خوش رکھے۔

  2. محترم جناب راجہ افتخار صاحب۔جناب علی فرقان صاحب اور جناب جاوید گوندل صاحب
    آپ سب احباب کا شکریہ ۔
    اللہ آپ سب کو سلامت رکھے ۔
    ڈاکٹر محمداسلم فہیم صاحب کا بھی شکریہ۔ کہ انہوں نے سب دوستوں سے مجھے متعارف کروایا

  3. ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ لوگ دوسروں کو آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن میں نے آپ کو لفظوں سے دیکھا ہے۔۔ کیونکہ لفظ بولتے ہیں۔۔۔ امید ہے جس محنت کا تذکرہ آپ نے کیا ہے۔اس کا ثمر پا چکے ہوں گے۔ موضاعتی بلاگ کی تجویز اچھی ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر