آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > 18 تا 24 اپریل: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – از عمر احمد بنگش

18 تا 24 اپریل: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – از عمر احمد بنگش

سلسلہ اس ہفتہ کی بہترین تحریر برائے 18 تا 24 اپریل کے لیئے کی گئی ووٹنگ میں عمر احمد بنگش کی جانب سے ترجمہ کی گئی تحریر ” اول المسلمین – جلا وطن – 17 ” جو کہ انگریزی کتاب ” دی فرسٹ مسلم ” کے ایک حصہ کا اردو ترجمہ ہے نے زیادہ ووٹ حاصل کیئے. 8 افراد نے ووٹ دیئے اور 4.6 ستارے حاصل کیئے.

کل ووٹ: 42 | فاتح تحریر ووٹ: 8 | فاتح تحریر ستارے: 4.6

تحریر کا کچھ حصہ آپ نیچے منظرنامہ پر پڑھ سکتے ہیں جبکہ باقی تحریر آپ عمر احمد بنگش کے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں.

سیاسی طور پر کسی بھی بالغ نظر، سیانے آدمی سے پوچھ لیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ایک منجھا ہوا سیاسی رہنما جب اندرون ملک دباؤ کا شکار ہو جائے تو مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرتا ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جو تاریخ میں تقریباً ہر اہم موڑ پر غالباً ہر سیاستدان نے ہی استعمال کی ہے۔ محمد صلعم نے اسی طور کو اپنا لیا۔ اگرچہ وہ مدینہ کے اندر مخالفین کو کامیابی کے ساتھ دھول چٹا رہے تھے مگر کلی طور پر یہ ضروری تھا کہ اپنا حلقہ اختیار اور اثر بڑھانے کے لیے مدینہ سے باہر بھی کاروائیاں عمل میں لائیں۔ چنانچہ، مکہ کے تجارتی قافلوں کو ہراساں کرنے میں تیزی لائی گئی۔ یہ حربہ اس قدر کامیاب ہوا کہ بالآخر قریش روایتی شمال سے جنوب میں سیدھے خط پر واقع تجارتی راہداری کو ترک کر کے نجد کے لق و دق اجاڑ اور جنوبی عراق میں واقع نسبتاً طویل اور مہنگے روٹ کو استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جلد ہی، یہ راستہ بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، اسی راہداری پر زید کی سربراہی میں کی جانے والی ایک چھاپہ مار کاروائی کے نتیجے میں ایک بڑا قافلہ لوٹ لیا گیا۔ اس قافلے کو نجد کے میدانوں میں جا لیا گیا اور خاصا مال ہاتھ آیا۔ تجار اور حفاظتی دستوں کو اپنی جان بچانے کے لیے لدے ہوئے اونٹ اجاڑ میں چھوڑ کر بھاگتے ہی بنی۔

حسان بن ثابت نامی شاعر نے اس واقعے کو خاصے پر جوش انداز میں بیان کیا ہے۔ مکہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے، تجارت اور ان کے نام کو یوں تہل ترغہ ہونے پر طنز کا نشانہ بنایا۔ نہایت پر شوق انداز میں لکھا، ‘دمشق کی انہار کو الوداع کہو، بھول جاؤ۔۔۔ کہ ان راستوں پر اب تمہارے لیے خار ہے’۔ ابن ثابت آج کے کسی بھی شاعر کے مقابلے میں زیادہ مصروف رہا کرتے تھے۔ ان کی مصروفیت میں صرف اور صرف ہم سر شاعروں کی ہجو لکھنا نہیں تھی جنہیں آپ صلعم کی شدید مخالفت اور توہین پر قتل کر دیا گیا تھا بلکہ کئی دوسری اصناف پر بھی طبع آزمائی کرنی پڑ رہی تھی۔ حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے تھے کہ ہر نئے دن کے ساتھ کچھ نہ کچھ تازہ تخلیق کرنا پڑتا۔ بعض اوقات، ابن ثابت جیسے شعراء کے لیے یہ خاصا مشکل بھی ہو جاتا تھا۔ مثلاً، کیا ہوا کہ مومنین کا ایک ٹولہ شمال میں خیبر کے نخلستان میں چھاپہ مار کاروائی کے لیے روانہ کیا گیا۔ یہ فوجی ٹکڑی کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچ گئی اور مطلوبہ شخص کو نیند میں قتل بھی کر دیا مگر اس ایک شخص خاصا اوتاولا ہو رہا تھا۔ وہ فرط جوش سے پیچھے ہٹا اور پتھروں سے نیچے لڑھک گیا، جس کے شور سے ارد گرد لوگ جاگ گئے۔ حملہ آوروں کو جان بچا کر نکاسی کے لیے کھودے گئے گندے پانی کے ایک تالاب میں پناہ لینی پڑ ی۔ اگرچہ گڑھے میں خاصی بد بو تھی لیکن انہیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے تو وہیں دبک کر بیٹھے رہے۔ بہر حال، کئی گھنٹے چھپے رہنے کے بعد انہیں فرار کا راستہ مل ہی گیا اور وہ بچ نکلے۔ اگرچہ، یہ واقعہ کسی طور پر بہادری کو ظاہر نہیں کرتا مگر ابن ثابت نے پھر بھی اس کو کچھ یوں سمیٹا کہ، ‘رات میں دبے پاؤں سفر کرتے، ننگی تلواریں تھامے یہ لوگ، شیر کی طرح بہادر اور جنگل کے باسی، کوئی آفت ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے’۔
اس طرح کی شاعری، بالخصوص وہ جس میں واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، یقیناً احد کی لڑائی کے بعد مومنین کے ہو رہے پست حوصلے بلند کرنے کے کام آتی تھی ۔ یہ اس وقت کی ضرورت بھی تھی، لیکن یہی تخلیقات محمد صلعم کے مخالفین کو طیش دلانے کا موجب بھی بن گئی۔ چنانچہ، مکہ کے سردار ابو سفیان نے اب کی بار اتحادیوں کو ساتھ ملا کر خاصی بڑی فوج تشکیل دینے کا ارادہ کیا ۔ اس فوج میں قریش کے دیرینہ اتحادی نجد کے بدو غطفان اور خیبر کے یہودی قبائل کثیر تعداد میں شریک تھے۔ بنو نضیر کے کئی لوگ اب خیبر میں جا بسے تھے اور وہ ابھی تک مدینہ سے بے دخلی پر تلملائے بیٹھے تھے اور محمد صلعم سے اپنی املاک اور جائیداد ضبط کرنے کا حساب چکتا کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ، 627ء کے اوائل میں ابو سفیان نے مدینہ پر چڑھائی کا عندیہ دے دیا۔ اس دفعہ، اس لشکر کا ارادہ مدینہ کے مضافات تک محدود رہنے کا نہیں ، بلکہ وہ ایک ہی بار اس نخلستان کے اندر گھس کر محمد صلعم کی ابھرتی ہوئی طاقت کا ہمیشہ کے لیے قصہ تمام کرنا چاہتے تھے۔
لیکن، اتنے بڑے لشکر کو صحرا میں نقل و حرکت میں خاصا وقت لگ رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حملے کی خبر محمد صلعم تک بہت پہلے ہی پہنچ گئی اور انہیں پوری تیاری کا موقع مل گیا۔ پہلے تو انہوں نے مدینہ کے گرد و نواح میں موسم بہار کی فصل کو وقت سے پہلے ہی کاٹنے کا حکم دیا کہ جب قریش کا لشکر یہاں پہنچے تو گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے چارا نا پید ہو۔ پھر، اگلا فرمان نخلستان کے گرد ایک گہری خندق کھودنے کا جاری ہوا۔ مدینہ کے ارد گرد مغرب، جنوب اور مشرق کی جانب جمے ہوئے لاوے کے میدانوں کی وجہ سے گھوڑوں اور زرہ پوشوں کا گزر ناممکن نہیں تھا۔ لیکن شمال کی جانب واقع مرکزی راستہ کھلا تھا اور یہاں سے ابو سفیان کے لشکر کے گھڑ سوار اور پیدل فوج آسانی سے اندر گھس سکتی تھی۔ اس کافوری حل یہ نکالا گیا کہ مدینہ کی ساری آبادی بشمول عورتوں اور بچوں کو کدالیں تھما کر اس راستے کو کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ کھدنے والی خندق اتنی گہری اور چوڑی تھی کہ کوئی بھی گھڑ سوار کود کر اسے پار نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ، دوسری طرف کناروں اور گہرائی میں تیز دھار چوب دار لکڑیاں نصب کر دی گئیں تا کہ ایسی کوئی بھی کوشش واقعی ناکام رہے۔ آبادی میں سے ہر دس افراد کے ذمے ساٹھ فٹ کھدائی کا کام لگایا گیا اور یوں چھ دن کے اندر ہی خندق تیار ہو گئی۔ جب یہ ہو چکا تو مدینہ میں شمال کی جانب سے داخل ہونے والا راستہ اب ایک گہری کھائی کا منظر پیش کر رہا تھا اور کھدائی کے دوران نکلنے والی مٹی کے تودے اور بڑے پتھروں کو اندر کی طرف ڈھیر لگا کر دفاعی فصیل اور چوکیاں بنا دی گئی تھیں۔
ابو سفیان اور ان کے لشکر کو اس طرح کی تیاری کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ خندق کھودنے کا یہ تصور، جسے عام طور پر ‘بے عزت’ اور ‘غیر عرب’ خیال کیا جاتا تھا، فارس میں استعمال ہونے والی ‘فرسودہ’ اور ‘پاجی’ ترکیب تھی۔ ایسے حربوں کو وہیں رہنا چاہیے تھے۔ چنانچہ، قریش کے فوجی جھنجھلاہٹ میں تیر برساتے اور ساتھ با آواز بلند لعن طعن اور طنزیہ جملے کستے ۔ کہا جاتا، یہ کس طرح کے ڈرپوک اور خائف جنگجو ہیں جو دھول کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھے ہیں؟ یہ ڈھیر عورتوں اور بچوں نے جمع کیا ہے؟ مکہ کے لشکر میں ایک شاعر نے وہیں بیٹھے بٹھائے اشعار جڑ دیے کہ، ‘لیکن یہ خندق جس پر ان کا انحصار ہے۔۔۔ ہم ان کو پھر بھی مٹا دیں گے ۔۔۔ ہم سے ڈر کر انہیں دیکھو تو ۔۔۔ کیسے، اس کے پیچھے دبک کر بیٹھے ہیں’۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید پڑھنے کے یہاں کلک کریں۔
محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

2 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر