آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > 25 اپریل تا 1 مئی: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – افتخار اجمل بھوپال

25 اپریل تا 1 مئی: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – افتخار اجمل بھوپال

ٹوٹل: 26 | ستارے: 4

رواں ہفتے کی بہترین تحریر اس بار افتخار اجمل بھوپال صاحب نے جیتی ہے،، تحریر کا کچھ حصہ  یہاں شائع کیا جا رہا ہے باقی ان کے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں۔ کیمرہ مین کے بغیر، وجدان عالم، منظرنامہ، ملتان۔


بات ہے سمجھ کی

یہ سطور میرے ایک دوست نے بھیجیں ہیں ۔ یہ اُن کے ایک واقفِ کار کی خود نوشت آپ بیتی ہے ۔ سوچا کہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں

پچھلے دنوں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک دوست کے ساتھ ایک کیفے جانے کا اتفاق ہوا ۔ کچھ کھانے کا مُوڈ نہیں تھا تو بس دو فریش لائم منگوا لئے
ایک سیون اَپ کین کی قیمت 50 روپے ہے ۔ ایک لیموں کی قمیت اگر مہنگا بھی ہو تو 5 روپے ہے ۔ سٹرا شاید 2 روپے میں پڑتا ہو گا ۔ ٹوٹل ملا کر 109 روپے بنتے ہیں ۔ بل آیا تو مجھ سے پہلے میرے دوست نے بل دیکھے بغیر ویٹر کو اپنا ویزا کارڈ تھما دیا ۔ میرا دوست واش روم گیا ۔ اتنے میں ویٹر کارڈ اور پرچی واپس لے آیا ۔ میں نے بل اٹھا کر دیکھا تو تفصیل یوں تھی
فریش لائم -/1200 ۔ جی ایس ٹی -/204 ۔ ٹوٹل -/1404
اس بل کو دیکھ کر نہ مجھے کوئی حیرت ہوئی اور نہ میرے دوست نے ایسا محسوس کیا
ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جہاں ہم بے دریخ پیسے خرچ کرتے ہیں
تین سال کی وارنٹی والا کوٹ دس ہزار میں خرید کر اگلے سال دو اور لیں گے
سال میں چار جوڑے جوتوں کے لیں گے
ہوٹلنگ پر ہزاروں روپے برباد کریں گے
انٹرنیٹ، تھری جی، موبائل سیٹس، ٹائی، شرٹس، گھڑیاں، پین، لائٹرز، گیجٹس، لیپ ٹاپس اور پتہ نہیں کیا کیا
لیکن ہم خرچ کرتے رہتے ہیں ۔ جب کماتے ہیں تو خرچ کرنے کے لئے ہی کماتے ہیں
لیکن کبھی غور کریں کہ فریش لائم کے یہ 1404 روپے کسی کی زندگی میں کتنے اہم ہیں

آج بارش میں ایک جگہ انتظار کرتے ہوئے درخت کے نیچے خاتون نظر آئیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ ایک بھکاری ہے ۔ بھیک مانگنا ان کا پیشہ ہے
غور کریں تو یہ ماں ہے ۔ ستر سالہ بوڑھی ماں ۔ جھریوں سے بھرا چہره سفید بال ایک چادر میں سردی اور بارش سے بچنے کی کوشش میں جانے کس مجبوری اور کس آس میں یہاں بیٹھی انسانیت کا ماتم منا رہی تھی
کبھی اپنی ماں کی مجبوری کا تصور کیجئے اور پھر اپنے دل کو ٹٹولئے کہ کیا یہ ایک بھکاری ہے؟
میں اظہار سے قاصر ہوں کہ میں اس وقت کس کیفیت کا شکار ہوں ۔ میں نے ان اماں جی کو ایک نوٹ تھمایا ۔ بڑی حسرت اور کرب سے کہنے لگیں ”بیٹا اس کا کھلا ہوتا تو یہاں بیٹھ کر کیا کرتی“۔
میں نے کہا ”ماں جی بس رکھ لیں“۔ جانے کتنی بار انہوں بے یقینی سے مجھے دیکھا ۔ پھر ایک نگاہ نوٹ پر ڈالی ایک مجھ پر ڈالی اور ایک آسمان پر ڈالی ۔ اس ایک نگاہ میں خوشی، طمانیت، دعا، شکر اور پتہ نہیں کیا کیا تھا ۔ اس نگاہ نے مجھے جتنی خوشی دی میں بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ اس ایک نگاہ نے مجھے اور ماں جی کو بیک وقت اپنے رب کے حضور جھکا دیا

بقیہ تحریر یہاں پڑھیں

2 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر