آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > جاوید گوندل سے شناسائی

جاوید گوندل سے شناسائی

تین نسلوں سے امریکہ و یورپ میں مقیم جاوید گوندل اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ:

جٹ قبیلے کی شاخ “گوندل” سے تعلق ہے ۔ آبائی طور پہ زمیندار ہیں۔ ملک و قوم سے محبت بھی آبائی طور پہ حصے میں آئی ہے۔ تین نسلوں سے یوروپ اور امریکہ میں مقیم ہوں۔ ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوا جبکہ آبائی ضلع گجرات ہے۔ موجودہ رہائش بارسیلونا، اسپین۔ اور آجکل ایک بزنس پراجیکٹ کے سلسلے میں شمالی یوروپ اسکینڈے نیوبا اور سنٹرل یوروپ کے ممالک میں زیادہ وقت گزار رہا ہوں جبکہ کاروبار یعنی بزنس مین۔ پیشے کے لحاظ سے جدید ٹیکنالوجیز کے بارے برآمد درآمد میں بزنس کرتاہوں۔ کچھ عرصے سے نئے طرح کے بزنس کے لئیے نئے رستے دریافت کرنے کی کوشش میں ہوں۔ کہتے ہیں میں اور میرے آباء و اجدادنے جاگتی آنکھوں سے ایک خواب مسلسل دیکھا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام دنیا میں ممتاز ہوں۔ اس خواب مسلسل کی ہم نے قیمت بارہا چکائی ہے مگر خواب کے مقصد کے سامنے ایسی قیمت معمولی بات ہے۔ میں اور میری اہلیہ یہ خواب اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اردو کو اپنا عشق قرار دینے والے جاودید گوندل بے لاگ کے عنوان سے اپنا بلاگ لکھتے ہیں
اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

میں شروع سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میرے طالب علمی دور میں اخبارات اور رسائل تک رسائی ویسے ہی یورپ میں اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی۔ انٹرنیٹ عام ہونے سے اخبارات اور رسائل کے انٹرنیٹ ایڈیشنز تک رسائی عام ہوئی ہے۔

کچھ اخبارات اور میگزین میں کچھ مضامین چھپے۔ کچھ لوگوں نے اجازت سے چھاپے۔ جبکہ زیادہ تر نے چھاپے مارے۔

اخبارات اور رسائل کی اپنی کمرشل اور ادارہ جاتی پالیسیز ہیں چند ایک لوگوں نے لکھنے کی فرمائش کی مگر میں اپنے مزاج کا بندہ ہوں اخبار یا رسائل کی پالیسی کا پابند نہیں ہوسکتا۔

اردو بلاگنگ کی طرف کیسے آئے؟

یہ تو اب یاد نہیں مگر موجودہ بلاگ “بے لاگ” سے پہلے کچھ فورمز پہ دیگر زبانوں میں لکھنے کی کوشش کی۔ ویب سائٹ بھی بنائی ۔ اسپانوی میں بلاگنگ کی۔ چھوٹی عمر سے اردو میں بھی کوشش کی۔ بہت سے ناموں سے لکھا۔ ۔ یہ وہ دور تھا ۔ جب اردو بلاگنگ کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ انٹرنیٹ کی رفتار بہت آہستہ ہوا کرتی تھی۔ الفاظ بلاک کی صورت میں اترے تھے اور کہیں جاکر لفظ بنتے۔ اردو کی بلاگنگ بہت بعد میں شروع ہوئی۔ اور شروع میں یہ نہائت دقت آمیز کام تھا۔ جو بہت وقت مانگتا تھا۔ اور فرصت میرے لئیے ہمیشہ مسئلہ رہی ہے۔
کیا سوچ کر بلاگ لکھنا شروع کیا ؟

بس دیانتداری سے اپنا معافی الضمیر سب کے سامنے رکھناہے۔ اپنے حصے کی شمع جلانا اور اردو کی ترقی و ترویج میں اپنا سا حصہ ڈالنا ہے۔

البتہ اردو زبان کے بارے انتہائی سنجیدگی سے اپنی حد تک اپنے خیالات اورمعلومات کو دوسروں تک اردو میں منتقل کرنا فرض سمجھتا ہوں۔

علم اور قلم اللہ کی عطا ہے اور مثبت لکھنا اسکا صدقہ ہے۔
ساتھی بلاگرز کے بارے میں آپ کی رائے ؟

میرے لئیے سبھی اردو بلاگرز قابل احترام ہیں ۔ اور جوں موقع ملتا ہے۔ انھیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ بہت سے نہائت معتبر نام ہیں جو بہت اچھا لکھتے ہیں۔

نام اس لئیے نہیں گردانوں گاکہ اگر نادانستگی میں بھول چوک کی وجہ سے کوئی نام رہ گیا تو کسی کے دل میں کوئی ممکنہ بات جائے یا دل دکھے تو مجھے یوں اچھا محسوس نہیں ہوگا۔

آپ کے بلاگ کا نام ” بے لاگ ” کیوں ہے ؟

اپنے منہ اپنی تعریف مناسب نہیں لگتی مگر اب چونکہ آپ نے پوچھ لیا ہے تو مختصراً بیان کردیتا ہوں۔

“بے لاگ” لفظ میری زندگی کی عکاسی ہے۔ مجھے منافقت سے چڑ ہے۔ خوشامد اور چاپلوسی جو ہمارے سرکاری مزاج کا حصہ ہے اس کے سخت خلاف ہوں۔اصولوں پہ مفاہمت میرے لئیے ناممکن ہے۔

میٹنگز میں مختلف الخیا ل شخصیات سے ملاقات رہتی۔ جن میں سیاسی لوگ۔ اعلی حکومتی عہدیدار اور دیگر۔ بھی شامل ہوتے۔ ان میٹنگز میں ملکی و قومی مفاد میں بے دھڑک بات کرنے پہ بے لاگ دفاع۔ کرنے والے کی شہرت کی وجہ سے۔

ملک و قوم سے محبت مجھے ورثے ملی ہے۔ اور شاید میری دیانتداری کی وجہ سے۔ ملک و قوم سے محبت کرنے والے مجھے اپنا ترجمان مقرر کر دیتے۔ میں بھرپور کوشش سے بہتر طریقے سے یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرتا۔

اور مجھے تسلیم ہے کہ اس سے میں نے کچھ نقصانات بھی اٹھائے مگر یہ ثانوی قسم کے مضمرات تو ہوتے ہیں۔ ایسے کاموں میں یوں تو ہوتا ہے۔ مگر اللہ کا شکر ہے مجھے کسی قسم کا کبھی پچھتاوا نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ کا احسان سمجھتا ہوں کہ اسے نے ہر قسم کے دباؤ یا لالچ کے سامنے مجھے سرخرُو رکھا ہے۔ اور یوں بہت سے نہائت اچھے لوگ بھی دوست بنے۔جو میرے لئیے قیمتی سرمایہ ہیں۔

اس لئیے مجھے میرے جاننے والے ۔ میرے شناسا۔ میرے دوست۔ بغیر کسی جھجھک یا مصلحت اور بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کہنے پہ مجھے بے لاگ۔ بے دھڑک اور حق پہ ڈٹ جانے والا مانتے ہیں۔

نیز کچھ اور بھی ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے یہ لفظ “بے لاگ” کو اپنایا۔

الحمد اللہ اسی مناسبت سے اپنے بلاگ کا موضوع “بے لاگ” رکھا۔ اور میری رائے میں راست گوئی اور حق سچ بیان کرنے اور لکھنے کی ہمارے معاشرے میں اشد ضرورت ہے۔

 

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کیا کرتے ہیں ؟

عام طور پہ ایک ہی نشست میں لکھتا ہوں۔ الحمد اللہ مختلف اور متنوع موضوعات پہ میرے لئیے لکھنا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ صرف ایک بار “دسمبر دے دکھ” لکھتے ہوئے چند بار ٹھٹکا۔ ٹہرا۔ رکا۔ پھر آگے بڑھا ۔ کیونکہ اس میں جب ماضی کی کچھ یادوں کو یاد کیا تو یادوں کا ایک سیل رواں تھا جو اُمڈ آیا اور مجھے رک رک کر اسکے سامنے بند باندھنا دشوار ہو رہا تھا۔ اسلئے اسے ایک ہی دن میں مگر چند گھنٹوں میں جا کر مکمل لکھ پایا۔
معیاری بلاگ کیسا ہونا چاہئے ؟

معیاری بلاگ کی تعریف بہت وسیع ہےمختصراً بلاگ جس موضوع پہ بھی ہو بلاگ اس موضوع سے انصاف کرتا نظر آئے۔
نئے بلاگرز کے لئے ہدایات ؟

جو لوگ دلچسپی رکھتے ہوں اور انکی رائے میں لکھنے کا اسلوب جھلکتا ہو یا سوشل میڈیا پہ بات کہنے کا عمدہ انداز اپناتے ہوں ۔ انہیں بلاگ بنانے کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ اور اس بارے انھیں بلاگ لکھنے کی دعوت دے کر ان کی رہنمائی کی جانی چاہئیے۔

اور نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر وہ اپنی ذات اور اردگرد سے ہٹ کر دیگر جن بھی موضوعات پہ لکھیں انھیں ان موضوعات بارے مکمل معلومات ہونی چاہئیے اور انہیں اس بارے باقاعدہ معلومات اکھٹی کر کے پھر لکھنا چاہیے۔ مطالعہ کو عادت بنائیں۔ ڈال رہے ہیں۔ قارئین اکرام بلاگز کا رخ کرتے ہیں۔اپنے علم اور قلم کا صدقہ جاری رکھیں۔ آپ قومی ضمیر کی تعمیر میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
اردو کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

اردو کو وہ مقام ابھی نہیں ملا جس کی اردو مستحق ہے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگ اردو کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اور اردو زبان اپنانے میں اور اس کی ترقی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مگر اردو جس مقام کی مستحق ہے وہ مقام ابھی تک اسے نہیں ملا۔

جب تک اردو کا پاکستان میں سرکاری طور پہ ہر سطح پہ مکمل نفاذ نہیں ہوتا ۔ اور اس بارے آئین پاکستان اور اعلی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کی روح کے عین مطابق عمل نہیں کیا جاتا۔ تب تک پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنا ناممکن ہے۔

اس کے لئیے اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے۔ مقابلے کے امتحانات کے لئیے۔ سرکاری انتظامیہ کے لئیے۔ کارِ سرکار کا سارا کاروبار مملکت کے لئیے۔ صدر۔ وزیر اعظم۔ وزراء کے خطابات۔ مقننہ اور قانون سازی کے لئیے نیز ہر سطح کے لئیے اردو کو فی الفور لازمی قرار دیا جائے۔ جو لوگ اردو کی اس وجہ سے مخالفت کرتے ہیں کہ اردو اعلی سطح پہ ذریعہ تعلیم بنانے سے تعلیمی معیار گر جائے گا اور انگریزی اپنانے سے تعلیمی معیار بڑھے گا ۔ وہ نہائت بودی دلیل دیتے ہیں ۔ دنیا میں ہم سے نہائت چھوٹے اور ہم سے بہت بڑے ممالک موجود ہیں وہ آغاز سے اختتام تک اپنی زبانوں میں تعلیم دیتے ہیں ۔ اور اپنی زبانوں کے فروغ کے لئیے کوشاں رہتے ہیں۔

یہ کاروباری مسابقت کا دور ہے۔ آپ اپنی زبان اردو کو لازمی قرار دیں۔ پھر دیکھیں کہ دنیا بھر کے ناشران آپ کی زبان اردو میں کتابیں ۔ سوفٹ وئیر ز ۔ کمپیوٹرز پروگرامز ۔ مصنوعات کے ہدایت نامے۔ نیز ہر وہ چیز جو دنیا کے دیگر ممالک میں آپ کو انکی اپنی قومی زبانوں میں ملتی ہے آپ کو بھی ملے گی۔

ہمارے ارباب اختیار کو یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ پاکستان بیس کروڑ افراد کی آبادی کا ایک اہم ملک ہے۔ جسے کسی بھی طور نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔حکمروان و ارباب ِ اختیار محض ایک دفعہ قومی بصیرت سے کام لیتے ہوئے ملک میں اردو ہر سطح پہ فوری نفاذ کا فیصلہ کر لیں۔ تو دنیا کے دیگر ادارے و ممالک آپ سے آپ کی زبان مین بات کرنے پہ مجبور ہونگے۔

میری رائے میں انگریزی پاکستان میں صرف سرکاری زبان ہی نہیں بلکہ انگریزی سے نابلد پاکستانی پچانوے فیصد آبادی کا مستقل طور پہ استحصال کرنے کا ایک ذرئیعہ ہے۔ انگریزی زبان پاکستان میں “انگریزی کلب” کا طریقہ واردات ہے ۔ جس سے مذکورہ کلب نے پاکستان کے عوام کو حقیقی معنوں میں غلام بنا رلھا ہے۔

ایک آزادی ہمیں انیس سو سنتالیس میں ملی تھی ۔ اردو کا مکمل نفاذ پاکستان کی آزادی کی تکمیل اور حقیقی آزادی ہوگی۔

تصور کیا جاسکتا ہے جب محض انگریزی میں لکھنے پڑھنے اور بولنے کی حد تک واجبی شْد بْد کو ہی اہلیت مان کر ملک و قوم کا انتظام انصرام ایسے ہاتھوں میں پکڑا دیا جاتا ہے ۔ جو عام طور پہ عوام سے رعایا کا سلوک کرتے ہیں ۔ اردو کے عام نفاذ کے بعد “انگریزی کلب ” کا امتیاز ختم ہوجائے گا اور اہلیت کی بناء پہ جس میں پاکستان کے نچلے اور درمیانے طبقے سے عام پاکستانی کاروبارِ ریاست کو چلائیں گے۔ تو انہیں انگریزی جاننے کی بجائے مسائل کے ادراک اور حل پہ توجہ دینی ہوگی تو خود بخود ہی اہلیت اور صلاحیت اپنی جگہ بنائے گی ۔ اور ہم دنیا میں باعزت ملک اور قوم کے طور اپنی جگہ بنا سکیں ۔

پاکستان کی ترقی کا راز ۔ اردو کا فوری نفاذ۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ اردو ایک عشق۔ ایک محبت کی ماند ہے اور عشق و محبت کو بیان کرنا کے اہل حب کے لئیے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ اردو کے لئیے ذاتی طور پہ کوشش کرنے والوں اور اردو زبان کے لئیے “تحریک اردوپاکستان ” نامی تحریک اور دیگر سبھی ادارے اور لوگوں کا میں ذاتی پہ مشکور ہوں اور میری رائے میں کام تب ہوتا ہے جب کام کرنے والوں کو کام کرنے کے لئیے مناسب ماحول اور معیاری سہولیات مہیاء کی جاتی ہیں۔ جب کہ پاکستان میں آئین پاکستان کی رٌو سے اور اعلی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کے بعد اردو کے فوری نفاذ کی بجائے الٹا عدلیہ احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور اردو کے لئیے جو لوگ مثلا ََ “تحریک اردو پاکستان” اپنے وسائل سے اردو کے نفاذ کے لئیے کوشاں ہیں ۔ الٹا ان کے اس نیک مقصد میں روڑے اٹکائے جارہے۔ اس لئیے پوری قوم کو چاہیئے کہ اپنی آزادی ۔ ترقی اور خوداری کے لئیے “تحریک اردو پاکستان ” کا ساتھ دیں۔

امیری رائے میں جب تک حکمران سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کا فوری نفاذ نہیں کرتے تب تک اردو کے بارے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@میری رائے میں بلاگنگ پھلے پھولے گی۔ گو کہ سوشل میڈیا ۔ ننھی بلاگنگ یعنی مائکرو بلاگنگ ۔کے لئیے ایک اہم ذرئعیہ بن کر سامنے آیا ہے۔ مگر اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے کیونکہ سنجیدہ بات سے دیرپا طور پہ ا ستفادہ کرنا سوشل میڈیا پہ ننھی بلاگنگ کے ذرئعیے ممکن نہیں۔ اس لئیے آخر کار مختلف موضوعات سے استفادہ کرنے کے لئیے قارئین اکرام بلاگز کا رخ کرتے ہیں۔
ہر شخص کی بچپن میں مختلف خواہشات ہوتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ بننا ہے تو آپ نے اپنے بچپن میں ایسا کیا سوچا تھا ؟

اللہ کا شکر ہے کہ شائد ہی کوئی ایسی خواہش ایسی ہوگی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اور اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کر رکھی ہے۔ جس کا میں اپنے آپ کو اہل ثابت کرنے کی جستجو کرتا ہوں مگر کر نہیں پاتا۔ جو کچھ چاہا اللہ نے عطا کیا ۔ البتہ زندگی کے چھوٹے موٹے مسائل تو زندگی کی چاشنی ہیں جو ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

شاید آپ کو تعجب ہوگا کہ میں نے اپنی ذات کے لئیے ۔ اپنی ذات کے حوالے سے زندگی کے معاملات کا کوئی خاص تردد نہیں کیا۔ میرا اٹھنا بیٹھنا اور کچھ کرنا اوروں کے لئیے ہوتا ہے۔ جس میں اپنے بچوں سے شروع ہو کر ایک جہاں آتاہے۔ میں ہر قسم کے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہوں اور ہر ماحول کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مگر اپنی ذاتی زندگی میں سادگی کو پسند کرتا ہوں۔ اس لئیے میری خواہشیں اپنی ذات کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

البتہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئیے ایک خوہش ہمیشہ دل میں رہتی ہے کہ اللہ پاکستان کو اور اسکے عوام کو باعزت اقوام میں شامل کر اور ان کے مسائل ختم کر۔
مطالعہ تو کرتے ہوں گے ؟ پسندیدہ کتاب ؟

مسلمان کی حیثیت سے قرآن کریم اور مولانا شبلی نغمانی کی سیرۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے علاوہ میں نے اردو اور دیگر زبانوں میں ہزاروں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ۔ درجنوں ہونگی جواپنے وقت پہ اچھی لگیں ۔ ویسے سلجھے موضوعات مجھے راغب کرتے ہیں۔

پسندیدہ شعر ؟

بہت سے ہیں ۔ جو اچھے لگتے ہیں۔

اسپین میرا اقامتی ملک ہے ۔ میں اسپین سے بھی بہت محبت کرتا ہوں۔تاریخی پس منظر میں یہ شعر دل میں کسک پیدا کرتا ہے۔

اب فرشتوں کے سوا کوئی نہ آتا ہوگا

کون دیتا ہے خرابے میں اذاں دیکھ آئیں

مدتوں بعد مہاجر کی طرح آئے ہیں

رؤٹھ جائے نہ کھنڈر ۔ آؤ میاں دیکھ آئیں

رنگ ؟

سبھی

کھانا ؟

کوئی سا بھی مگر عمدہ بنا ہو۔

موسم ؟

سارے ہی موسم اچھے لگتے ہیں ۔ مگر موسم ِ گرمااس لئیے کہ شاید میرے مشاغل کا ذیادہ تعلق موسم گرما کے ساتھ ہے۔

ملک ؟

پاکستان اور اسپین دونوں۔

مصنف ؟

ہر اچھی تصنیف کا مصنف اچھا لگتا ہے اور بہت سے ہیں

گیت؟

گیت سے دلچسپی نہیں ۔

فلم ؟

کم دیکھتا ہوں۔ میل جبسن کی “بریو ہرٹ”

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

ہر اْس نیکی کرنے کا موقع مت ضائع جانے دیں جو آپ کے بس میں ہو اور جس کے کرنے سے دل مطمئین ہو۔

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

تجویز کی بجائے تعریف کرنا پسند کرونگا ۔ کیونکہ ایسے کسی فوروم کو فعال رکھنا بہت وقت مانگتا ہے اور دقت آمیز ہوتا ہے۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

مجھے احساس ہے کہ آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی ۔ اس کے لئیے میں آپ سے معذرت خواہ ہوں ۔ مصطفی ملک صاحب آپکا بہت شکریہ

مصطفیٰ ملک
پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مصطفی ملک شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ، قومی اخبارات میں ان کے بلاگ آرٹیکل چھپتے رہتے ہیں ، پاکستان سے بے بناہ محبت انہیں ورثہ میں ملی ہے اور اس کا عکس ان کے تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے ، اپنے عمومی بلاگ کے ساتھ ساتھ اردو میں باغبابی کے موضوع پربھی بلاگ لکھتے ہیں ، منظر نامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://mustafaji.blogspot.com

15 تبصرے:

  1. ” اس خواب مسلسل کی ہم نے قیمت بارہا چکائی ہے مگر خواب کے مقصد کے سامنے ایسی قیمت معمولی بات ہے۔ میں اور میری اہلیہ یہ خواب اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنے کی کوشش میں ہیں”
    گوندل ۔ بہت ہی اچھا لگا آپ کے بارے میں جان کر
    اللہ کریم آپ کے خواب پورے کرے۔
    آپ کی سب باتیں بہت اچھی لگیں ۔ خوشی ہوئی کہ اپنے وطن سے دور رہتے ہوئے بھی آپ اپنے وطن اور اپنی زبان سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔ اور حتی المقدور اس حوالے سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔
    آپ کے لئےبہت ساری پر خلوص دعائیں۔

  2. بہت عمدہ
    گوندل صاحب کے بارے میں اتنا کچھ جان کر بہت اچھا لگا۔۔۔۔یہ پہلی دفعہ ہے کہ گوندل صاحب کے بارے میں عوام الناس کو اتنا کچھ پتہ چلا ہے۔۔۔۔ویسے میرے خیال میں جاوید گوندل بذات خود ایک پوری دنیا ہے اور پوری دنیا کو جاننا مشکل ہوتا ہے
    بھرا جی سدا خوش اور آباد رہو ۔اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے آمین

    1. نجیب بھائی!
      آمین!
      میرے لئیے آپ کی محبت کا کا شکریہ ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہ آپ کی محبت ہے جو آپ مجھے کسی قابل سمجھتے ہیں ورنہ بندہ اس قابل کہاں ہے۔
      آپ کے خلوص اور آپ کی نیک دعاؤں کا بہت شکریہ ۔
      اللہ آپ کو خوش رکھے۔

  3. مصطفی ملک صاحب! کا ممنون ہوں جنہوں نے اتنی محبت سے اور جستجو سے انٹرویو کا جتن کیا ۔ اللہ انہیں خوش رکھے

    امنظر نامہ اور بلال بھائی! کا بھی شکریہ ۔ جنہوں نے منظر نامے پہ انٹرویو کو جگہ دی۔ اللہ انہیں خوش رکھے اور ان کے والد کے درجات بلند کرے۔

    دو وضاحتیں!
    امریکہ اور یوروپ میں میرا خاندان آباد و مقیم ہے جبکہ میں یوروپ میں مقیم ہوں ۔
    اور میل جبسن کی فلم ” بریو ہرٹ ” نامی فلم کہنا مقصود تھا
    Mel Gibson
    Braveheart

  4. ما شاء اللہ ما شاء اللہ۔۔۔تفصیلی انٹرويو پڑھ کر بہت اچھا لگا۔۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالی جاوید بھائی کو اپنے خصوصی حفظ و امان میں رکھے۔۔۔۔۔ جاوید بھائی کو سب سے پہلے اپنے نوکیا ای 50 کے معمولی سے موبائل میں بی بی سی اردو پر بطور اسلام پسند تبصرے کرتے ہوئے اس زمانے میں دیکھا جب نجیب الرحمن سائکو لاہور نامی کسی روشن خیال کی معیت میں مذہب اور اہل مذہب پر تورا بورائی بمباری جاری تھی،روشن خیالی، مذہب بیزاری اور اعتراضات و تلبیسات کا غلغلہ بلند تھا۔ وہاں ‌‌”‌‌جاوید گوندل بار سیلونا اسپین ‌‌”‌‌ کے یوزر نیم نے رزم گاہِ بی بی سی لندن میں اتر کر دفاع اسلام کے چوکھٹے میں وہ فاضلانہ، چشم کشا اور سیر حاصل تبصرے شروع کئے جس نے اقدام کرنے والوں کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کردیا۔۔۔میں نے سب سے پہلے آپ ہی کو مولوی کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا، ورنہ مولوی کا دفاع کون کرتا ہے کہ بر صغیری تناظر میں مولوی کا دفاع اور گدھے کی حمایت ایک بات ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کے دفاع میں آپ کے فکر و عمل کی تابانی اور علم و قلم کی ضیا پاشی کا گراف کیا رہا ہوگا۔ پھر اردو سیارے پر نمودار ہونے والے مختلف الانواع،گونا گوں اور بو قلموں بلاگز پر آپ کے علمی، تحقیقی، استدلالی اور اختلافی طویل و دراز نفس تبصرے پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کا تبصرہ صاحب بلاگ کی اصل پوسٹ سے طویل بھی ہوتا اور وقیع بھی۔ آج تو خیر دفاع عن الاسلام پر کام کرنے والے بہت سے نیٹ پر مل جاتے ہیں مگر اس زمانے میں خال خال ہی ہوا کرتے تھے، ان گنے چنے لوگوں میں جاوید بھائی کے تبصرے اور کمنٹس جہاں زخموں پر پھاہا رکھتے تھے وہیں یہ آپ کے ذو فنون،ملٹی ٹیلینٹڈ اور گلِ ہزار رنگ ہونے کی غمازی و عکاسی بھی کرتے تھے جنکا ہر تبصرہ آنکھوں کو بھانے اور دلوں کو سرور بخشنے کے ساتھ ساتھ آپ کے علم کی بے پناہی،معلومات کی کثرت، مطالعے کی وسعت،بھرپور دماغی سرمائے اور اپنی مذہبی و قومی اقدار و ثقافت سے غیر معمولی آگاہی پر دال ہوا کرتا تھا۔ راقم آثم،جوکہ شروع سے آپ کے خوانِ یغما کا ممتاز خوشہ چین رہا ہے،دعا گو ہے کہ خدائے بخشندہ اس پر آپکو شایان شان بدلہ عنایت فرمائے اور آپکو مع اہل و عیال اپنے خصوصی حفظ و امان میں رکھے۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

  5. محنت سے کوئی مقام بنانے والے لوگ مجھے ہمیشہ سے محبوب رہے
    اور جاوید بھائی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے
    وطن سے دور وطن اور اردو کی شمع کو اپنے جگر کے خون سے روشن رکھنے پر آپ کو سلام محبت بہت کچھ جان کے بھی کچھ تشنگی سی باقی ہے ملاقات کی خواہش شدت اختیار کر گئی
    سلامت رہیں اور اللہ آپ کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے

  6. جاوید بھائی۔۔۔ واہ۔۔۔ ان کےبارے میں کچھ کہنا میرے بس میں ہر گز نہیں۔۔۔ انتہائی شاندار شخصیت۔۔۔ خوبصورت سوچ اور اس سے بھی بڑھ کر الفاظ کا بہترین استعمال۔۔۔ اللہ جاوید بھائی اور ان کے اہل و عیال کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔

    1. عمران بھائی!

      اللہ تعالی۔ آپ کو خوش رکھے ۔
      یہ آپ کی محبت کا میں ہمیشہ سے قائل رہا ہوں۔ اور یہ آپکی کی محبت ہی ہے جو آپ نے میرے لئیے عمدہ انداز میں اظہار بیان کیا ہے ورنہ یہ بندہ ناچیز اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا۔

      دعاؤں کے لئیے بہت شکریہ ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر