آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > ملک انس اعوان سے شناسائی

ملک انس اعوان سے شناسائی

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کا مصداق چہرے پہ مسکراہٹ سجائے شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے ملک محمد انس اعوان کامسٹس یونیورسٹی اٹک میں زیرِ تعلیم ہیں، آپ “انس نامہ” کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمداللہ ! بخیر و عافیت شب و روز گزر رہے ہیں ۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@اپنے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ نام انس اعوان ہے ایک معمولی سے گھرانے کا فرزند ہوں اور ایک معمولی سا یونیورسٹی کا طالب علم ہوں جو ہمیشہ غیر معمولی چیزوں کا مشتاق رہتا ہے ۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@میری پیدائش ہمارے آبائی ضلع سرگودھا میں ہوئی جبکہ رہائش شیخوپورہ میں ہے جبکہ بسلسلہ تعلیم فی الحال اٹک میں اٹکا ہواہوں گویا شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے مابین اخوت و محبت کی مثال قائم کیے ہوئے ہوں ۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ایف ایس سی تک کی تعلیم شیخوپورہ سے ہی حاصل کی اور اب کامسیٹس یونیورسٹی سے (بی ایس سی ایس )BSCSکر رہا ہوں ۔بنیادی طور پر ایک درمیانے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں داد جان ایک سخن شناس اور علم دوست شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ والد محترم نے ایم سی ایس ،اور انسٹرومنٹ ڈپلومہ کر رکھا ہے جبکہ کسی زمانے میں ایل ایل بی کا تجربہ بھی کر چکے ہیں چناچہ زمینداری کی جانب زیادہ توجہ نہیں دی اور گزشتہ 25 سال سے شعبہ صنعت میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں ۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@بات کچھ اس طرح سے ہے کہ آج سے کچھ سال پہلے مجھے ایک تقریب کی شرکت کے لیے لائل پور (فیصل آباد) جانا پڑا ، میرے میزبان مجھے شام کو ایک صاحب کے پاس لے گئے جو آنکھوں پر عینک ٹکائے کمپوٹر کی سکرین میں محو تھے ۔ انہوں نے میری جانب دیکھا اور خلاف توقع انتہائی گرمجوشی اور گرم جوشی سے استقبال کیا اور بہت الفت اور محبت سے تعارف “لیا” اس کے بعد انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے میرے اندر کچھ لکھنے کی ایسی آگ بھڑکا دی کہ بس جیسے ہی گھرپہنچا ایک عدد بلاگ داغ ڈالا اور بیٹھے بیٹھے ایک عدد تحریر بھی پوسٹ کر ڈالی۔ یہ آتشیں شخصیت کوئی اور نہیں محترم “مصطفیٰ ملک ” صاحب تھے۔۔۔! باکمال آدمی ہیں ،کھُلے ڈُلے اور بے باک ۔۔۔!

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@آزاد طبعیت کے مالک ہیں جبکہ ہر جگہ میڈیا میں کچھ “بُت” موجود ہیں جنہیں عام زبان میں پالیسی کہا جاتا ہے جسکی تعظیم ہم سے ہو نہیں پاتی اس لیے اپنی تحاریر کو بلاگ کی راہ دکھائی اور خوب درست دکھائی۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ بلاگ کے حوالے سے تکنیکی معلومات کا نہ ہونا تھا اور دوم اردو کیسے لکھی جائے اس سب کا کامل حل ہمیں محمد بلال صاحب کی ویب سائٹ ایم بلال ایم سے مل گیا ۔اللہ انہیں جزا خیر عطا فرمائے۔

کون سی ایسی بات ہو جس کو دیکھ کر بلاگ پڑھنے والا بلاگ لکھنے پر مجبور ہو جائے ؟

@آپ دل سے لکھیں ، دل کی بات باقی دل خوب سمجھتے ہیں ، اور جب کسی کو دل کا لکھا پڑھنے کو ملے تو وہ خوب دلچسپی سے پڑھتا ہے۔
نئے بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے کیا کیا جائے۔ جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں ؟

@ نئے آنے والوں کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا جائے ، مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے اور اگر انکو اسلم فہیم اور مصطفیٰ ملک جیسے اساتزہ مل جائیں تو انہیں اور کیا چایئے؟

آپ کے لکھنے پر کبھی آپ کے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہوا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں ؟

@ پہلے پہل کچھ معیوب سا لگتا تھا اور کچھ کچھ اعتراضات بھی لگتے رہے کہ ابھی 20 سال کے ہوئے نہیں اور لگے ہیں میاں احساسات سے کھیلنے لیکن خیر اس کا عمر سے کیا تعلق یہ تو اللہ کی دین ہے ۔اور میں اللہ کا شک گزار ہوں۔
ہر شخص کی بچپن میں مختلف خواہشات ہوتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ بننا ہے تو آپ نے اپنے بچپن میں ایسا کیا سوچا تھا ؟

@چھوٹے ہوتے تھے تو بڑے ہو کر بنے کو کئی خواب تھے، اب فقط یہی خواہش ہے کہ سعادت بھری زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمائے۔ بس کچھ ایسا مرنا چاہتا ہوں کہ کچھ دیر اہل خیر میں میرا نام زندہ رہے۔ باقی تو ہر شے فانی ہے اور ہر چیز نے بلآخر فنا ہی ہونا ہے۔
اپنی کوئی ایسی خاص تحریر جو آپ کو پسند ہو ؟

@”قرض” کے نام سے بلاگ پر ایک چھوٹی سی تحریر موجود ہے وہی میری پسندیدہ ہے۔
ایک طالب علم کیلئے بلاگ لکھنا یقیناً مشکل ہوتا ہے تو آپ کس طرح اپنے وقت کو مینج کرتے ہیں کہ آپ کی تعلیم کا بھی حرج نہ ہو اور بلاگنگ بھی چلتی رہے ؟

@ ایک طالب علم کے لئے بلاگ کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے ، بس اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ شام کو کچھ وقت مختص کر لیا جائے اور باقائدگی سے کچھ نہ کچھ لکھتے رہا جائے۔ یا طبعیت کے مطابق مختلف موضوعات میں تحاریر شروع کر دی جایئں اور وقتاً فوقتاً انہیں مکمل کر دیا جائے۔ اس طرح وقت کی کافی بچت ہو جاتی ہے۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@کچھ خاص تو طے نہیں تھا بس ڈائری لکھنے کی عادت تھی مگر ڈائری رکھنا اور سنبھالنا اور اس میں سے کسی مواد کو مخصوص مواقع منتقل کرنا انتہائی مشکل کام تھا سو بلاگ کو اپنی پرسنل ڈائری بنا لیا اس طرح الفاظ میں اندر کی گھٹن کو خوشنما صورت میں محفوظ رکھنے کا فن بھی سیکھ لیا۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@کسی ایک کا نام نہیں لکھ سکتا قریباً جو بھی سامنے آتا ہے پڑھ لیتا اور ان سے سیکھنے کی کو شش کرتا ہوں ۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام ۔۔۔۔انس نامہ۔۔۔۔۔ کیوں رکھا؟

@یوں ہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا اور رکھ دیا ” انس نامہ” یعنی انس کا نامہ اعمال ۔۔۔!

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@یہ مصطفے ملک صاحب کا کمال تھا وگرنہ ہم کہاں اور بلاگ کہاں !

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@جب بھی مجھے کچھ غیر معمولی محسوس ہوتا ہے چاہے وہ خوشی ہو یا غم اور چاہے اس کا سامنا مجھے دن میں دو تین بار ہی کیوں نہ کرنا پڑے اس کو الفاظ کے حوالے کر دیتا ہوں ۔سفر نامے کے اہم نکات موبائل میں پہلے سے محفوظ کر رکھتا ہوں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں اور تحریر میں شامل کیے جا سکیں ۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@اپنے حوالے سے بات کروں تو میں نے غصے کو قابو کرنا اور احساسات کا مناسب اظہار کرنا بلاگ سے ہی سیکھا ہے ۔علاوہ ازیں سینئر بلاگرز کے مشاہدات سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور زندگی میں فیصلے کرنے میں آسانی واقع ہوتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@بلاگ تو بلاگ ہوتا ہے ، بے لاگ ہوتا ہے۔ یہی اس کا معیار ہے ۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@اردو اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو چلی ہے اور کتاب بینی کا رجحان بھی دم توڑتا ہوا محسوس ہو رہا ہے چناچہ بلاگنگ ایک بہترین متبادل ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@بیان سے باہر ہے ! آپ نے انتہائی ذاتی سوال کر دیا ۔۔۔!(زور دار قہقہہ)

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@اردو کے لئے کہیں کہیں کام ہو ر ہا ہے ، ہوتا رہنا چاہیے ۔لیکن یہ کام اتنا زیادہ نہیں ہے جو اس کے مقابلے میں انگریزی کے سلسے میں کیا جا رہا ہے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@کچھ زیادہ نہیں ، آپ جیسے دوست احباب سے دوستیاں بنیں گی اور میری دائری کے صفحات بھرتے چلے جائیں گے۔ہاں البتہ بلاگ اردو کتاب کا متبادل ضرور ثابت ہوں گے۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ اس کام کو جہاد سمجھ کر کیجئے کیونکہ کہ ہماری ثقافت اور روایات کا آخری محاز ہے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@غیر نصابی مطالعہ،نصابی مطالعہ،آوارگی اور بہت کچھ ،،،!
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔۔!
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

@اول قر آن مجید اور دوم تفہیم القرآن از سید ابو الاعلی مودودی ؒ

2۔ شعر ؟

@شعر غالب ؔ کا ہو یا جونؔ ایلیاء کا سب ہی اچھے لگتے ہیں ۔

3۔ رنگ ؟

@سیاہ

4۔ کھانا ؟

@بریانی اور کدو لیکن شرط یہ ہے کہ کھانا والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا ہو

5۔ موسم ؟

@موسم سرما

6۔ ملک ؟

@ترکی

7۔ مصنف ؟

@سید ابو الاعلی مودودی اور سید قطب ؒ

8۔ گیت؟

@گیت سے زیادہ شغف نہیں رکھتا مگر اقبالیات اور بغیر ترنم کے ترانے ،اردو اور عربی دونوں زبانوں میں شوق سے سنتا ہوں ۔

9۔ فلم ؟

@Chappie

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@مجھ سے عام سے کیا خاص بات برآمد ہو سکتی ہے!

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@کسی خاص موضوع پر باقائدگی سے قریباً زبردستی بلاگز لکھوائے جائیں ۔ایک ہی موضوع پر جب مختلف افراد لکھتے ہیں تو کئی پہلو منظم ترین انداز سے آشکار ہوتے ہیں ۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@آپ کا بھی شکریہ

محمد اسلم فہیم
محمد اسلم فہیم پیشے کے اعتبار سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں، ان کی تحاریر سے پاکستان کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ وہ سادہ انداز میں عام لوگوں کی کہانیاں خاص بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ حرف آرزو کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں اور منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کی انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.draslamfaheem.com

9 تبصرے:

  1. محمد اسلم فہیم: آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
    انس اعوان: قریب کی عینک لگائی ہوتو بلاگ،دور کی لگائی ہوتو بے لاگ
    برحال بہت اچھا انٹرویو لکھا ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر