آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > مضامین > آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن

آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن

یہ سائنسی دور ہے اور  ہر چیز کو ماپنے کا پیمانہ بھی سائنسی ہے۔حتی کہ پیار کی پیمائش بھی  لو(love) کیلکولیٹرسے ہوتی  ہے۔مُحب اور محبوب کا نام  فیڈ کریں  تو کلیکولیٹر فٹ بتائے گا کہ  شرحِ پیار کتنی ہے۔؟۔سائنسی شرح نمو کم رہے توفہرست عاشقاں  سے مزیدنام  کیلکولیٹر میں فیڈ کرتے جائیں ۔حتی کہ معاملہ نوے ، پچانوے  تک نہ پہنچ جائے۔پھر زبردستی کے ’’تعلقات ‘‘استوارکر لیں۔ویسی بھی   ماڈرن عشق  بھی چائنا کے مال کی طرح  غیر معیاری اور ناقابل بھروسہ ہو چکاہے۔۔گئے وقتوں میں   عاشق  پھول کی پتی پتی توڑ کرhe love me and he love me not سے وفا  جانچتے تھے۔طلباکتابِ عشق  کا ورقہ ورقہ  تھل کےاحتسابِ عشق کرتے تھے  اور سہیلیاں آپسی پیار جانچنے کے لئے کانچ کی چوڑی سے جُوڑ نکالتی  تھیں۔  چوڑی  کو لعاب لگایا ۔ ماتھے کو چھوا، پھر  کہا پہلے تمہارا پیار نکالتی ہوں اور بعد میں اپنا۔سہیلی چوڑی ہتھیلی پر توڑتی جو تھوڑا بہت’’ست‘‘ہاتھ پرگر تا ۔وہ شدت عشق کا پیمانہ  ہوتا۔ اس دوران چوڑی سے ہتھیلی زخمی بھی ہو جاتی ۔  ’’محبتی‘‘جانتے تھے کہ  چوڑیاں سچ بولتی ہیں۔تو وہ وفا کی رفتار بڑھا دیتے  تھے۔پیمائش عشق کے کئی پیمانے  ہوتے تھے لیکن آزمائش  عشق کا ’’لو کیلکولیٹر‘‘ ایک ہی ہے ۔

شوہر(انجان  عورت سے):میری   بیوی نہیں مل رہی ۔آپ  تھوڑی دیر میرے پاس رُک سکتی ہیں ۔ ؟

عورت :  وہ کیوں۔ ؟

شوہر: میں جب بھی  کسی عورت سے بات کرتا ہوں  میری بیوی کہیں نہ کہیں سے ضرور آجا تی ہے۔

بیوی کے ساتھ شاپنگ پر جانے والے اکثر شوہر گم ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں شوہر انہیں دکان دکان ڈھونڈھتے ہیں اور بیویاں انہیں گلی گلی تلاشتی ہیں۔ میلاپ ہو ی ہی بیویاں  برہم ہوجاتی ہیں اور شوہر نرم ۔۔کہتے ہیں کہ غصہ آنا مرد کی نشانی ہے اور غصہ پی جانا شادی شدہ مرد کی نشانی ۔میرا دوست  شیخ مرید شادی شدہ ہے ۔ اسے بالکل غصہ نہیں آتا۔وہ ’’نرم دم گفتگو ہے اور نرم دم جستجو بھی‘‘ وہ نام کا بھی مرید ہے اور ۔رن مرید بھی بلکہ  کئی سال سے  گھر داماد ہونے کی وجہ سے وہ  سسرالی مرید بھی  ہے۔کھانے، پینے اور جینے کے لئے  وہ سسرال پر انحصار کرتا ہے۔وہاں  پل پل کے  وہ   ’’ پالتو‘‘ ہوچکا  ہے۔ساس ، سُسر اور سالے اسے کبھی ’’ سُسرائیل‘‘ نہیں لگے۔مرید نے بھی کبھی ڈبل سٹینڈرڈ نہیں رکھا۔وہ نصیبو کا نکاحیِ تابعدار ہے۔نصیبو بھی  اسے روزانہ خرچہ  دیتی ہے۔بعض  شوہروں کے بٹوئےپیاز کی طرح ہوتے ہیں  کھلتے ہیں آنسونکل آتے ہیں۔مرید کا بٹوا۔اندر سے تربوز جیسا رہتا ہے ۔وہ ہر بڑے فیصلے سے پہلے اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ پھر دماغ سے۔۔ پھر یاروں دوستوں سے۔اور بہن بھائیوں سے مشورہ کرتا اور۔ والدین سے صلاح کرتا ہے  لیکن کرتا  وہ ہے جو نصیبو کہتی تھی۔

دوست : یار تمہیں برا نہیں لگتا کہ تم بیوی کے ساتھ مل کر کپڑے دھوتے ہو ۔ ؟
شوہر :  برا لگنے والی کونسی بات ہے ۔؟ وہ بھی  میرے ساتھ مل کر برتن دھوتی ہے۔

مرید رن مریدوں کا رول ماڈل ہے۔وہ کہتا ہے رن مریدی ایک کیفیت کانام ہے جو ہر شوہر پر طاری ہوتی ہے اور میں اس کیفیت میں مستقل  رہتا ہوں۔ ایسا  شوہر گھرمیں ’’آیا‘‘  بھی ہوتا ہے اور  آئے گئے کا ذمہ دار بھی ۔کپڑا۔لیڑا۔اور ہانڈی روٹی بھی اُس کے ذمہ ہوتی ہے۔ہر گھردار شوہر کی بیگم ۔ بے غم ہوتی ہے۔نصیبو  بھی پھُوڑ مغز نہیں  تھی لیکن اس نے کبھی  زبیدہ آپا بننے کی کوشش بھی نہیں کی۔مرید وہاں  بیوی بن کررہتا تھا ۔ شادی کے  بعداُس  کی’’ ڈولی‘‘ سسرال  میں جواُتر گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ  ’’اگرآپ بیڈ ٹی پینے کے شوقین  ہیں تو اپنابستر کچن میں لگائیں‘‘۔نصیبو کو بیڈ ٹی کا شوق تھا سو مریدکہاں سوئے گا آپ جانتے ہی ہیں۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بڑا چرچہ  ہوا کہ ’’ بیوی اگر آپ سے تھکاوٹ کی شکایت کرے تو اس کے لئے ایک اور بیوی لے آئیں‘‘۔ نصیبو پیدائشی تھکن کا شکار تھی  لیکن مریدکسی  ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔وہ ان شوہروں سے خار کھاتا۔۔جو سمجھتے ہیں ’’  گھر کو جنت بنانے کااختیار بیوی کے پاس  ہوتا ہے۔اگر وہ میکے چلی جائے‘‘۔وہ کہتا ہے  آج کل بیوی پر رعب جھاڑنے کا دور نہیں ۔عزت و احترام سے پیش آئیں تو وہ بھی احترام کرتی ہیں ۔

شوہر: میں تم سے ناراض ہوں۔ تم وجہ نہیں پوچھو گی۔

بیوی  : نہیں میں تمہارے فیصلے کا احترام کرتی  ہوں۔

احترام آدمیت ہی ہر رن مرید کاسبق ہے ۔گئے دنوں میں شوہر  کی انا۔باقرخانی کی طرح خستہ   ہوتی تھی۔ فورا بکھر جاتی ۔تب  ہر جرم کی  سزا عورت کو ملتی  تھی۔ آج وہ سزا شوہر کو ملتی ہے یہ  معاشرہ  رن مریدوں  کا  ہو چکا  ہے۔ باقرخانی  شوہر۔اب میسو کی طرح Ignored  ہیں۔کہتے ہیں کہ  بیوی اگر بدمزاج ہو تو شوہر کی  زندگی  صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔سقراط نے اس دنیا کو کئی نظرئیے دئیے۔اُس نے ملک  کی سب سے بد مزاج عورت کو تلاش کرکے شادی کی۔اس عورت نے سقراط سے ’’سوتیلے شوہر ‘‘والا سلوک کیا۔ سقراط نے  ایام کی تلخیِ کو ہنس کر پینے کی شعوری  کوشش کی ۔شائد وہ دنیا کا واحد شوہر تھا جس نے زہر کا پیالہ دو بار پیا ۔بلکہ بقول مشتاق احمد یوسفی کہ ’’وہ زہر دے کر مارتی تو دنیا کی نظر میں آجاتی ۔ انداز قتل تو دیکھو ۔ ہم سے شادی کر لی‘‘۔وہ(سقرا ط) پیکرِ صبر ۔رن مریدوں  کاجد امجد تھا۔ ضبطِ نفس کے کئی سنگ میل اس نے  عبور کئےتھے۔ کانٹوں کا بستراس نے خودچُنا تھا۔ نوشتہ دیوار خود لکھا تھا ۔وہ   جب تک زندہ رہا۔  زنداں میں رہا۔کیونکہ وہ صرف سوچتا تھا۔ اس کی بیوی بولتی تھی ۔

کال سینٹر  کے باہر کھڑے  آدمی اندر والے سے بولا:معاف کیجیے گا آپ  کافی دیر  سے فون ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں اور بول نہیں رہے۔؟

دوسراشخص : میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں ۔

شادی کے بعد ہر شوہر کی زندگی میں  ڈسپلن آجاتا ہے۔ کھانا پینا، دفتر آنا جانا، کپڑے ٹائم پر استری ہوتے ہیں۔صحت بھی اچھی ۔کیونکہ بیگم ہر کام سختی سے وقت پر کرواتی ہے۔ بیوی پرست شوہروں کی یہ نسل ہر گھر میں پائی جاتی ہے۔مرید تو۔ نِرا ۔سقراطی تھا۔مسلسل زہر پینے والا۔وہ کشمیریوں کی طرح  صرف ظلم سہنے کے لئے پیدا ہواتھا۔اس کی حسِ آزادی سالوں پہلے دم توڑ چکی تھی۔آج کل وہ نئی تحریک کے لئے متحرک ہے۔’’آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن‘‘۔مرید اس کا بانی چئیرمین ہے۔وہ ’’ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز۔۔کبوتر با کبوتر، باز با باز‘‘۔ کا مطلب بخوبی سمجھتا ہے۔اسے ملک بھر سے کئی ہم جنس بھی مل گئے  ہیں۔نگوڑے نے  ممبر شپ کا ایک فارم مجھے بھی بھیج دیا ہے۔ نا ہنجار ۔! اللہ جانے کب مجھے سونگھ کرپتہ چلا گیا تھا۔ ۔ناٹھور۔مجھے کہتا ہے ایسویسی ایشن کا عہدہ بھی لے لو۔ میں توصرف  ممبر شپ ہی لے رہاہوں۔کیونکہ سائنس ترقی کر رہی ہے اور ۔ رن مریدی کی  پیمائش والا  کیلکولیٹر بن گیا توہر شوہر پکڑا جا ئے گا۔

اجمل ملک
میں پکامسلمان ہوں اور سچا بھی۔ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہوں۔۔۔ کئی سال سے ایکسپریس نیوز فیصل آباد کا بیور و چیف ہوں۔۔ مزاح لکھنا چاہتا ہوں۔۔ کوشش ہے کہ کچھ لوگ میری تحریروں سے مزاح تلاش کرکے۔اپنے غم غلط کر لیں۔ خواہ یہ چند لمحوں کے لئے ہی ممکن ہے۔
http://ajmalmalik111.blogspot.com

ایک تبصرہ:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر