آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > تازہ تحاریر > ثروت ع ج سے شناسائی

ثروت ع ج سے شناسائی

اگر آپ کو چودھویں صدی کے جہاں حیرت “انگلستان”کو دیکھنا ہو تو ثروت ع ج کا بلاگ آپ کی پہلی ترجیع ہوگا، جیفری چاوسرکی مشہور نظم کینٹر بری کہانیوں کا رواں ترجمہ تصاویر اور حوالہ جات کےساتھ ان کے بلاگ کو چار چاند لگاتا ہے لیکن ذرا ٹھہرئے نام سے دھوکہ مت کھائیے ثروت ع ج کسی مرد کا نہیں ایک “خاتون اردو بلاگر” کا نام ہے،کہتی ہیں مجھے بلاگز کے نام یاد رکھنے اور اس حوالے سے بلاگرز کی شناخت میں میں دشواری ہوتی ہے اسی لئے میں نے اپنے بلاگ کا نام اپنے ہی نام پہ رکھ لیا،بیک وقت اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے والی “ثروت عبدالجبار”کو عربی پر بھی عبور حاصل ہے ،شاہینوں کے شعر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ثروت آج کے منظرنامہ میں ہماری مہمان ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نظرِ قارئین ہے

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@ اللہ کا کرم ہے

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ میرا نام ثروت  ع ج ہے۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@   جائے پیدائش: الخبر، سعودی عرب اور موجودہ رہائش:  سرگودھا ، پاکستان

اپنی تعلیم، پیشہ  اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ ابتدائی تعلیم الخبر کے پاکستانی کمیونٹی سکول اور کالج سے حاصل کی۔سرگودھا یونیورسٹی  سے ، اردو اور انگریزی ، دونوں میں ایم اے کیا۔    کئی بار تدریس کی طرف توجہ کی لیکن   مزاج اس طرف مائل نہیں رہا۔ کانٹینٹ رائٹنگ بھی آزمائی۔  اپنی مرضی اور ذہنی رحجان  کے مطابق   آزادانہ  تحقیق اور تحریر  مجھے نصیب رہی۔   میرا تعلق  زمیندار چوہدری خاندان سے ہے۔ دودھیال، ننھیال اور سسرال، ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔اپنے بھائی بہنوں کی بڑی بہن اور سسرال کی بڑی بہو ہونے کے  ناتے  زندگی بہت سی ذمہ داریوں اور  مصروفیات سے لبریز رہی ہے۔  چار بچے ہیں جو تعلیم کے مختلف مراحل میں ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ فروری 2013،  خود اپنی سالگرہ پہ  ،اپنی تحریروں کے لئے  ایک بلاگ بنا کر  ایک مقصد کا تعین ، خود کو تحفہ کیا۔    تحریر کرنے کا رحجان  سکول کے زمانے سے ہی رہا۔بہت سی تحریریں، زیادہ تر مضامین اور چند افسانے ، یہاں وہاں مختلف کاغذوں پہ لکھے پڑے ہیں ۔    بلاگ بنانے سے پہلے بہت سے اردو اور انگریزی بلاگز  کو پڑھا کرتی تھی۔ اپنے بلاگ کا خیال  بہت بعد میں آیا۔

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@ چونکہ میرا بہت سا مطالعہ  زیادہ ترکتابوں سے باہر، انٹرنیٹ پہ، دیگر دنیاؤں کے لکھاریوں کی تحریروں پہ مشتمل رہا ، اِسی سبب بلاگ کا انتخاب کچھ ایسی تعجب کی بات نہیں۔ ایک بار، اخبار میں بھی کچھ مضامین چھپے لیکن   اخبار کی پہنچ، حتمی طور پہ ، بلاگ سے کم ہی ہوگی۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ بلاگ کا آغاز ایک خاموش دن میں یونہی بیٹھے بیٹھے ، از خود ، ورڈ پریس پہ ہوا۔    مشکلات اگر کوئی آئی بھی تو گویا، مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آسان ہوگئیں. .. . . . شروع میں اردو تحریر کے فونٹس  چھوٹے ہونے کی بہت شکایات آتی تھیں،  پھر  ایک بھلے بھانجے نے  اس مشکل کا حل نکالا اور کوڈز  تلاش کردئیے۔  باقی کام خود ہی نمٹا لیا۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@   اس سوال کا پہلا حصہ   قدرے  پُراسرار ہے کہ  میں خود  بھی اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش میں ہوں کہ میں نے کیا سوچا تھا۔ اردو، انگلش اور  تصویری یا دیگر   بلاگنگ میں  کہکشاؤں جتنا فاصلہ  ہوگا۔ اور  ان تینوں دنیاؤں کا باہم کوئی رابطہ یا  نسبت تک نہیں۔ چنانچہ ایک غیر واضح  سا مقصد یہ بھی تھا کہ  کوئی  درمیان کی راہ ہو، اتفاقاََ  اردو، انگریزی اور عربی جاننے کے سبب  ترجمے کا لطف  حاصل  رہا تو بلاگ  کے لئے بھی یہی رنگا رنگی     ، برتری لے گئی۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتی ہیں ؟

@  بہت سے بلاگ  مقبول فہرست میں ہیں،   وہ بلاگز  زیادہ  دلچسپی حاصل کرتے ہیں جو  بے وجہ طوالت کا شکار نہ ہوں، موضوع  کارآمد اور متعلقہ ہو،  منفی جذبات کی نکاسی کے لئے  نہ بنائے گئے ہوں،  غیر مہذب الفاظ پہ مشتمل نہ ہوں  مبادا  کوئی لفظ  میری یادداشت میں  محفوظ رہ جائے، بلاگ کی ظاہری شکل  پڑھائی کے لئے  معاون اور آسان ہو،   جدت اور ندرت لئے ہوں جیسے سیاحت، نفسیات،  غذائیت،ادب، سادگی،  پکوان، سلائی  وغیرہ

آپ نے اپنے بلاگ کا نام ثروت  ع  ج     کیوں رکھا؟

@ میرے بلاگ کا نام، ثروت  ع  ج     ،   میرے نام پہ ہے . .. چونکہ ایک بلاگ  اپنے  لکھنے والے سے مخصوص ہوتا ہے اِس لئے اپنا نام رکھا، دوسری بات کہ میں خود  اکثر دیگر بلاگران  اور بلاگ کے نام گڈمڈ  کردیتی ہوں، چنانچہ  اپنے تئیں  اپنے قارئین کو  اِس سہولت   سے سرفراز کیا۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@  دیگر بلاگز کے مطالعے کے دوران اس لفظ سے  واقفیت ہوئی اور بعد ازاں ، معلوم ہوا کہ  دوسرے لوگوں کو  یہ لفظ سمجھانا ،  جوئے شِیر لانے  سے کہیں زیادہ  مشکل ہے۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزرتی ہیں یا لکھنے بیٹھتی ہیں اور لکھتی چلی جاتے ہیں ؟

@  اب تک میرے بلاگ کا زیادہ تر حصہ سلسلہ وار موضوعات  پر مشتمل رہا۔ یعنی وہ موضوعات جو ایک کے بعد دوسرے کی ترتیب میں تھے  چنانچہ  ایک ہی موضوع پہ باضابطہ  طریقے سے کام جاری رہا۔ کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ پہلے ترجمے کے مرحلے سے گزرتا، پھر تصاویر  اور دیگر حوالہ جات کی تلاش اور پھر ٹائپنگ اور پبلشنگ۔  دیگر تحریروں کو ایک بار لکھ کر کچھ وقت بعد خود ہی تنقیدی نگاہ سے دیکھتی ہوں ، بہت ہی کانٹ چھانٹ کے بعد فائنل کرتی ہوں۔  آج کل قرآنِ پاک میں موجود کردار کی خصوصیات کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس سلسلے نے کچھ زیادہ وقت لیا کیونکہ یہ موضوع بہت ہی احتیاط کا متقاضی ہے۔ چنانچہ اِسے پوری توجہ اور یکسوئی سے تحریر و ٹائپ کرتی ہوں۔  البتہ اردو پڑھنے والے  بہت سے قارئین اِس سلسلے  سے دور ہی بھاگتے ہیں (یہ میرا  باوثوق مشاہدہ ہے) جب کہ  غیر مسلم یا انگریزی قارئین کا رحجان  زیادہ ہے۔ اپنے تئیں ،  یہ سلسلہ بلاگ ٹریفک یا قارئین کی تعداد کو مدِ نظر رکھ  نہ شروع کیا گیا ہے اور نہ ہی اُس پہ منحصر ہے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ بلاگنگ کا فائدہ دو رُخا ہے،   پہلے درجے پہ بلاگ لکھنے والا، اپنے پاس جمع شدہ معلومات کو اپنے طور پہ ترتیب دیتا ہے، اِس میں خصوصیت کی بات یہ ہے کہ بلاگر اپنی معلومات کو اپنے تجربے اور اپنے نقطہء نظر کی آمیزش سے الگ رنگ میں پیش کرتا ہے۔ ہر لکھنے والا  ، ایک ہی طرح کی بات کو  منفرد انداز میں سامنے لاتا ہے جو قارئین  کو  ایک تنوع کا آپشن دیتی ہے۔  اس دوران  لکھنے والا  خود اپنی  صلاحیت اور معلومات  سے آگاہ ہوتا ہے۔  میں  کئی بار اپنے اندازِ تحریر اور موضوع  پہ  ایک  حیرت سے دوچار ہوئی۔

دوسرا فائدہ  جو بلاگ لکھنے والے کو حاصل ہوتا ہے کہ بلاگ کے ذریعے  ، زمان و مکان  کی حد سے باہر، بہت سے  دیگر بلاگران اور قارئین سے  تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی کمیونٹی وجود میں آتی ہے جہاں بہت سے نئے افکار اور آراء سے آگاہی ہوتی ہے،  مثبت یا منفی تنقید کے ذریعے اصلاح اور  دفاع کا راستہ کھلتا ہے۔ بلاگ لکھنے والے کی ایک شناخت قائم ہوتی ہے جو کہ  پہلے درجے پہ  تحریر اور افکار پہ مبنی ہوتی ہے۔  اس کے علاوہ بلاگ لکھنے والا  اپنی مہارت کے شعبے کو قارئین اور فالوورز کے زاوئیے  سے جانچتا ہے اور اس بات کا بہتر فیصلہ کرپاتا ہے کہ   اُس کی صلاحیت   معاشرے کے لئے کس طرح فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟

@میری نظر میں ایک معیاری بلاگ  کی بنیادی صفت  یہ ہے کہ پڑھنے  والا جب بھی اُس بلاگ کی کوئی پوسٹ پڑھے تو اُسے  اچھا احساس ہو، اُس کے علم میں اضافہ ہو، اُس کی زندگی میں بہتر تبدیلی آئے۔ دیگر خوبیاں  اُس بلاگ  کی جمالیاتی  خوبی ہوسکتی ہے کہ بلاگ دیکھنے میں خوبصورت، پڑھنے میں آسان  اور دلکش ہو۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@  یہ بہت بحث طلب موضوع ہے اور  چند سطور میں اس کا  احاطہ کرنا ناممکن  ہے۔ اِس میں تاریخ، معاشرت، لسانیات اور  اجتماعی قومی نفسیات   کے پہلوؤں کا جائزہ لینا  ہوگا۔  تاہم، مختصراََ اردو  کا موجودہ مقام ، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ  زبان زمانے کی تلخ و سرد سہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@  اردو میری اولین زبان ہے چنانچہ  انگریزی مطالعے اور انگریزی سے ترجمے  کی مہارت کے باوجود ،  میں سمجھتی ہوں کہ اردو  ہی، میرے تخیل  اور    ما فی الضمیر  کے اظہار کا  بہتر حق ادا کرسکتی ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ کافی حد تک اطمئنان بخش ہے۔ تاہم  اس کام کو مزید  مربوط اور  منظم  انداز میں کرنا  چاہیئے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتی ہیں؟

@ اللہ سےبہت بہتری اور بامقصد  تحریروں کی دعا ہے۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ ہر زبان کے بولنے والے اگرچہ اپنی طبعی عمر گزار کر دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن زبان اپنے دامن میں انمول چیزوں اور ادب کو ہمیشہ کے لئے سنبھال لیتی ہے اور ادب کا حصہ بن جانے والے شہہ پارے لازوال ہوجاتے ہیں۔  لہذٰا  اردو کی خدمت انجام دینے والے ہوں یا اردو بلاگرز، اردو کی تاریخ و ادب میں ایسا حصہ ڈالیں  جس پہ رہتی دنیا تک آنے والے اور پڑھنے والے   آفرین  و تحسین کریں اور وہی  صدقہء جاریہ کا کردار ادا کرے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ بلاگنگ کے علاوہ ، میری زندگی، مطالعہ و تحریر، سرگودھا رائٹرز کلب ،   گھر کی مصروفیات اور بچوں  سے دوستی پہ مشتمل ہے۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتی ہوں؟

@  زندگی کے مقاصد کی تلاش بھی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔    ہر انسان کو  اس زندگی میں مختلف مقاصد اور صلاحیتیں ودیعت  کی گئی ہیں۔  میری خواہش ہے کہ میری زندگی   حکمت  اور موعظۃ الحسنہ   کے سنہری اصول پہ گامزن  رہتے ہوئے  علم سیکھنےمیں صَرف ہو ، اللہ تعالیٰ تمام سعی کو  قبول فرمائے،     آسانیاں نصیب فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

 

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

 

پسندیدہ:

 

1۔ کتاب ؟

@ ہر وہ کتاب جو زندگی کی حقیقت اور  اہمیت  کے دَر کھولے ، فکر و عمل کی راہیں سُجھاتی ہو اور بلاشبہ  ایسا کرنے والی سب کتابوں میں سرِ فہرست   “کتاب الفرقان” ہے۔

2۔ شعر ؟

@ تو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے، کہ تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

کہ شکستہ   ہو  تو  عزیز  تر  ہے،  نگاہِ  آئینہ ساز  میں

3۔ رنگ ؟

@ آسمانی، سفید

4۔ کھانا ؟

@ سادہ، لذیذ اور غذائیت  کے اعتبار سے تیار کردہ

5۔ موسم ؟

@  معتدل

6۔ ملک ؟

@ جہاں بھی   امن ہو، اور پاکستان

7۔ مصنف ؟

@ بہت سے

8۔ گیت؟

@ بہت سے

9۔ فلم ؟

@ تاریخی اور ڈاکیومنٹری

 

غلط /درست:

 

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@ غلط

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@ درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ بہت درست

5۔ میں ایک اچھی دوست ہوں ؟

@ درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ غلط

7۔ میں بہت شرمیلی ہوں ؟

@ غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ صرف  ہم خیال دوستوں سے

 

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@  انسان کی زندگی ایسی ہو کہ جانے کے بعد ہر سمت اچھی یادیں بکھری ہوں

ہر پاسے خشبوواں سن

بندہ سی ؟ کستوری سی؟

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گی؟

@ منظر نامہ بہت اچھا کام کررہا ہے ، جو بھی عزم کریں  پھر اُسے  جہاں تک ہو، اچھی طرح نبھائیں۔  جہاں ممکن ہو ، اچھی تبدیلیاں شامل کریں۔  منظرنامہ ٹیم کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے انٹرویو کے لائق  گردانا اور پھر بہت عرصہ جوابات کا انتظار بھی کیا ۔

دعائیں

 

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

محمد اسلم فہیم
محمد اسلم فہیم پیشے کے اعتبار سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں، ان کی تحاریر سے پاکستان کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ وہ سادہ انداز میں عام لوگوں کی کہانیاں خاص بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ حرف آرزو کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں اور منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کی انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.draslamfaheem.com

18 تبصرے:

  1. بہت پیاری شخصیت کا انٹرویو پڑھکر اچھا لگا۔ پیدائش الخُبر کی ہے ماشاءاللہ یہ کس سال کی ہے نہیں معلوم شاید میں بھی وہاں اس زمانے میں وہی دمام میں تھی ہونگی ۔
    بہت اچھے اور معیاری جوابات دئے ہیں جیتے رہیں سدا خوش رہیں ۔آمین
    فہیم بھائی کے انٹرویو لینے اور ثروت پیاری کے انٹرویو دینے کا تہہ دل سے شکریہ

      1. اوہ ! میں 81 مئی کو دمام میں پہلی بار اتری تھی ۔ آپ پڑھائی بھی ایمبیسی اسکول سے یہاں کی ہے تو ہم ضرور ایک شہر میں ایک ساتھ رہے ہونگے ۔ اب کبھی بھی آپ یہاں آئے اور میں یہاں رہی تو ان شاءاللہ ضرور ملیں مجھے خوشی ہوگی

        1. میں نے 1980 سے 1992 تک پاکستانی کمیونٹی سکول میں پڑھا، الخبر میں ہی بچپن اور والد صاحب کی سب یادیں وابستہ ہیں. والد صاحب الخبر میں ہی آسودۂ خاک ہیں . والدہ اور بھائی بہن وہیں سکونت پذیر ہیں .

  2. پچھلی دو دہائیوں سے اپنی والدہ کو جاننے کے بعد بھی آج ان کو پھر سے ایک نئے انداز میں جانا ۔ بہت پیارا انٹروئیو – اللہ آپ کا سایا ہمارے سر پہ سلامت رکھے ۔ آمین۔

      1. ماشاءاللہ آپ کی بیٹی نے بھی کمنٹ کیا مجھے بہت اچھا لگا اللہ بٹیا رانی کو خوب دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کرے ۔ اور انہیں بتا دیں کہ ہم بھی ان کی امی کو بہت چاہتے اور پسند کرتے ہیں

  3. منظرنامہ کے سوالات کے جوابات جب کوئی تفصیل میں دیتا ہے تو کم از کم مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس سے شخصیت جاننے میں مدد تو ملتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی لگتا ہے کہ مہمان نے دل سے جواب دیئے ہیں 🙂 آپ کے بارے میں تفصیل میں جان کر اچھا لگا۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر