<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; راشد کامران</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/author/rkamran/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Oct 2010 15:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
		<item>
		<title>بلاگنگ کیا ہے؟‌ از راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Feb 2009 23:09:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=240</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ پر نقظہ نظر کے سسلے میں‌اس بار &#8220;بلاگنگ کیا ہے؟&#8220;‌کو موضوع بحث بنایا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ مضمون کی حدود قیود بھی کچھ سوالات کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں‌ میرا پاکستان بلاگ کے افضل صاحب‌ اپنی ایک تحریر پہلے ہی شائع کرچکے ہیں۔ اس مضمون میں میری کوشش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">منظر نامہ پر نقظہ نظر کے سسلے میں‌اس بار &#8220;<a href="http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/"  target="_blank">بلاگنگ کیا ہے؟</a>&#8220;‌کو موضوع بحث بنایا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ مضمون کی حدود قیود بھی کچھ سوالات کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں‌ میرا پاکستان بلاگ کے افضل صاحب‌ اپنی <a href="http://www.mypakistan.com/?p=2192"  target="_blank">ایک تحریر</a> پہلے ہی شائع کرچکے ہیں۔ اس مضمون میں میری کوشش ہوگی کہ پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اپنا نقطہ نظر واضح‌کروں اور ساتھ ساتھ دوسرے اردو بلاگرز سے یہ اپیل بھی کہ مشترکہ بلاگنگ کے اس سلسلے کو فروغ دیں تاکہ مزید اور وسیع مشترکہ اردو بلاگز وجود میں‌ آسکیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>بلاگنگ کیا ہے؟ بلاگنگ کی اہمیت۔</strong><br />
بلاگنگ کی کوئ ایک تعریف وضع کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ اسے ہم ایک اضافی اصطلاح بھی کہہ سکتے ہیں‌ جہاں بلاگنگ کرنے والے اپنے ماحول کے حساب سے اس کی مختلف تعریف کرسکتے ہیں۔ ایک کارپوریٹ نیوز نیٹ ورک کے لیے بلاگ کی تعریف اس سے کہیں مختلف ہوگی جو ایک عام روز مرہ کے معمولات انٹرنیٹ پر شائع کرنے والے بلاگر کا  مقصد۔ بہت ہی وسیع تعریف کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں‌ کہ معلومات کے تبادلے، احساسات و جذبات کے اظہار اور تبادلہ خیال کے لیے تکلفات سے مبرا صوتی، بصری یا تحریری ذریعہ اظہار کے لیے ویب کا استعمال بلاگنگ کہلائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">بلاگنگ کو انفارمیشن کی ترسیل کا تیز ترین ذریعہ کہا جاسکتا ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر اس کے استعمال کا دائرہ کار بھی وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ اظہار رائے کی مطلق آزادی ہی دراصل بلاگ کو دوسرے ذرائع سے ممتاز بناتی ہے یہی وجہ ہے کہ عام معلومات کے حصول کے دوسرے ذرائع خود انفارمیشن کی تیز ترین ترسیل کے لیے <a href="http://ac360.blogs.cnn.com/"  target="_blank">بلاگز کا سہارا</a> لینے لگے ہیں۔ عام قاری، ناظر اور سامع کے لیے فوری طور پر کسی بھی مباحثہ یا انفارمیشن کی زنجیر میں‌ اپنی آواز شامل کرنا بلاگنگ کا ایک اہم اور خصوصی  پہلو ہے اسی وجہ سے آپ اس کو آج کی دنیا کا آزاد ترین میڈیا کہہ سکتے ہیں۔ بلاگنگ کی اہمیت اور اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی آزادی کی دشمن حکومتیں بلاگنگ اور بلاگرز پر خصوصی توجہ دینے لگی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>کیا بلاگنگ کے کچھ اصول ہیں؟‌</strong><br />
بلاگنگ کا واحد اور سنہرا اصول ایمانداری ہے یعنی جو کچھ آپ بلاگ میں بیان کررہے ہیں اس کی سچائی میں آپ پورے ایماندار ہیں‌ اور جانتے بوجھتے حقیقت کو توڑنے مروڑنے کی کوشش نہیں کرتے تو بلاگ کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگنگ کا جو بھی اصول وضع کیا جائے یا بیان کیا جائے اس کے اطلاق پر بحث کی جاسکتی ہے اور غالبا اس کا اطلاق مختلف سوچ، ثقافت اور قومیت کے بلاگز پر یکساں طور پر نہ کیا جاسکے۔ بنیادی طور پر ایک ذاتی بلاگ کے اصول و قواعد بلاگر اپنی سوچ کے حساب سے خود وضع کرتا ہے یعنی جو بات اس کے نزدیک درست ہو وہی اصول کہلائے گا اور ایک مشترکہ بلاگ کے اصول و قوانین کسی ادارے یا متعلقہ افراد کے  کے باہمی مشورے سے طے کیے جاتے ہیں جس میں لامحالہ ادارے یا گروہ کے مفادات کا تحفظ پہلا اور بنیادی اصول ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>بہترین بلاگنگ کا میعار کیا ہے؟</strong><br />
جیسا کے بلاگ کی تعریف کے سلسلے میں اضافیت کے قانون کا اطلاق کیا گیا بالکل اسی طرح &#8220;بہترین&#8221;‌ بھی ایک اضافی اصطلاح ہے جس کی ایک تعریف ممکن نہیں جو چیز کسی فرد یا کمیونٹی کی نظر میں بہترین مانی جاتی ہو عین ممکن ہے کہ کوئی دوسرا فرد یا کمیونٹی اسی چیز کو بہترین نہ سمجھتا ہو کیونکہ بلاگنگ کو اس اصول سے ماوراء‌نہیں سمجھا جاسکتا چناچہ ہم مطلق بہترین کا فیصلہ نہیں‌ کرسکتے۔ ہاں چند باتوں‌ پر توجہ دے کہ کسی بھی بلاگ کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے<br />
1۔ بلاگ تسلسل سے لکھا جائے۔<br />
2۔ جس موضوع پر لکھنا مقصود ہو اس سے متعلقہ معلومات کی تصدیق کر لی جائے اور جہاں ضرورت ہو بلاگ میں‌ روابط فراہم کیے جائیں۔<br />
3۔ اختلاف رائے کا احترام کیا جائے۔<br />
4۔ بہت بڑی اکثریت کی رائے سے اختلاف کرنا ہو تو الفاظ کے چناؤ میں‌خصوصی احتیاط برتی جائے تاکہ بلاگ پر فتنہ کی چھاپ نہ لگے۔<br />
5۔ جہاں‌ تک ممکن ہو اپنے الفاظ استعمال کیے جائیں دوسرے ماخذین سے مواد مسلسل بلاگ میں شائع کرنے سے آپ اپنے بلاگ کی شناخت سے محروم ہوجائیں گے اور قارئین کے لیے آپ کے بلاگ کی اہمیت ختم ہوجائے گی کیونکہ ایک ہی کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کے انفارمیشن کے حصول کے ماخذ کم و بیش یکساں ہوتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>اردو انگریزی کی بحث۔</strong><br />
بلاگنگ کے لیے سب سے بہترین زبان وہی ہے جس میں‌ آپ بھرپور اظہار خیال کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہی کئ <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/01/venus-english-blog/"  target="_blank">مباحثے</a> ہوچکے ہیں اور دونوں‌ اطراف کے لوگوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ میری نظر میں اردو اور انگریزی دونوں‌میں ہی پاکستانی بلاگرز اچھی اور میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور دونوں زبانوں میں ہی بے کار اور لا حاصل بلاگنگ کا سلسہ بھی جاری ہے۔ نا اردو بلاگرز کے پاس کسی موضوع پر معلومات کی کمی ہے اور نا ہی انگریزی میں‌کچھ ایسا لکھا جارہا ہے جس پر اردو میں نہیں لکھا گیا یا نہیں‌ لکھا جاسکتا۔ اردو بلاگنگ بہرحال ابھی ابتدائی دنوں میں‌ہے اور مختلف لوگ انواع و اقسام کے خیالات پر کام کررہے ہیں اور جلد ہی یہ بحث بھی اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہائے رے بجلی از راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 26 Jul 2008 06:12:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/07/26/%db%81%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b1%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c%db%94/</guid>
		<description><![CDATA[یہ بھلے وقتوں کی بات ہے، بھلے وقتوں سے مراد کوئی بارہ، پندرہ برس پہلے کا تذکرہ ہے ، اب یہ گمان نہ کر بیٹھیے گا کہ ہم فرعون کے بھانجوں کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ خیر اُس وقت بجلی کا استعمال برقی قمقمے روشن کرنے سے زیادہ کا نہ تھا، میلاد محرم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یہ بھلے وقتوں کی بات ہے، بھلے وقتوں سے مراد کوئی بارہ، پندرہ برس پہلے کا تذکرہ ہے ، اب یہ  گمان نہ کر بیٹھیے گا کہ ہم فرعون کے بھانجوں کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ خیر اُس وقت بجلی کا استعمال برقی قمقمے روشن کرنے سے زیادہ کا نہ تھا، میلاد محرم بھی آج کل کے حساب سے سوچیں تو کافی “گرین“ قسم کے ہوا کرتے تھے اور ٹی وی نگوڑ مارا تو بڑا مقامی مقامی سا  تھا۔ شام کو بسم اللہ سے شروع اور رات گیارہ بجے فرمان الٰہی پر ختم۔ قصہ مختصر اس منحوس جنم جلی بجلی پر انحصار بس اتنا سا تھا کے اِدھر گئی اُدھر مٹی کے تیل کے دیے روشن یا غریب کی قسمت جیسی ایک لالٹین کو شعلہ دکھا دیا۔ چھوٹا سا گھر تھا، تھوڑی روشنی بھی بہت ہوا کرتی تھی کہ عام گھروں میں رت جگوں کا چلن ابھی معمول کی بات نہ تھی ۔ ہائے ہائے! کیا سادہ زندگی تھی جب بجلی جانے کی دعائیں مانگا کرتے تھے، اولاً تو پڑھائی کی چھٹی، دوم گلی میں ہلڑ بازی اور چھپن چھپائی  کس کو بری لگتی ہے۔ ٹیلیویژن بھی بس چوتھی اولاد کی طرح دیکھا دیکھا نا دیکھا نا دیکھا۔ ہاں ڈرامے طویل دورانیے کے ہوا کرتے تھے،  ہمارے جیسے لوگوں کی کہانیوں پر مبنی، قلیل دورانیے کی ڈھیں ڈھیں ڈُش ڈُش ابھی وبا نہیں بنی تھی۔</p>
<p>خدا جانے سیدوں کی بدعا کا اثر تھا کے موئے یہودیوں کی سازش، امریکی امداد اور بجلی،  طاعون کی طرح پورے معاشرے کو نگل گئے۔ اے لو! بھیا امریکی امداد اور بجلی کا تعلق کیوں نہیں ہے؟‌ دونوں ہوں تو دھڑکا لگا رہتا ہے جانے کم بخت کب چلی جائیں، اور نہ ہوں تو “اب کے ساون گھر آجا“ کی مثال۔ خدا لگتی کہتا ہوں، لگی لپٹی کی عادت  نہیں اب تو سانس لینے کے لیے بھی بجلی کے محتاج ہوگئے ہیں‌۔ دل پر ہاتھ رکھوں، رہا تو ہم سے بھی نہیں جاتا اس قاتل کے بغیر۔ لیکن بے رخی کی بھی حد ہوتی ہے، اتنے نخرے تو امراؤ جان کے بھی کسی نے نہیں اٹھائے۔ میاں پرانے آدمی ہیں لیکن جدید کھلونوں کا شوق عمر دیکھتا ہے کیا؟ خیر سے آٹھ دس برقی کھلونوں کے مالک ہیں، اب آپ ہی سوچیں کھلونے ہوں تو کھیلنے کو دل تو مچلتا ہے نا؟ پر یہ ہیں کہ روٹھی رہتی ہیں، دوسرے برس کی منگتیر کی طرح۔</p>
<p>ارے میں تو کہتا ہوں بہت ہوا۔ سوچتا ہوں صاحب لوگوں کے بنگلے کے پچھواڑے کٹیا ڈال لیتے ہیں اُنہیں بجلی کی کیا کمی۔ اتنی بجلی تو اپنی جیب میں رکھے پھرتے ہیں جتنی ہمارے جیسے قلندر زندگی بھر استعمال بھی نہ کرسکیں۔ خدا غارت کرے ان فرنگیوں کو، ارے کافروں جب جدید چیزیں بنانی ہی ٹہریں تو کچھ بغیر بجلی کے بھی بنالو، لیکن کہاں! مسلمانوں کا بھلا تو تم فرنگیوں سے دیکھا ہی نہیں جاتا،   کوئی بڑھکوں سے چلنے والی مشین بناؤ تو جانیں، پھر کہیں گے پھیکی رنگت کی جے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟ آخری جز (از: راشد کامران)</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam2-rashid/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam2-rashid/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 22 May 2008 22:58:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو، مقام، کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی، راشد کامر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/23/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c/</guid>
		<description><![CDATA[تعارف منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں ، میں‌ نے اردو کے تاریخی پس منظر میں اس مقدمہ کو پیش کرنے کی کوشش کی تھی کے اردو تعلیمی زبان نہیں رہی اور اشرافیہ میں بھی اس طور اردو کی پذیرائی نہیں‌ہوسکی جو زبان کی ترقی کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تعارف<br />
منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/20/urdu-ka-maqam-rashid/" >پچھلی پوسٹ</a> میں ، میں‌ نے اردو کے تاریخی  پس منظر میں اس مقدمہ کو پیش کرنے کی کوشش کی تھی کے اردو تعلیمی زبان نہیں رہی اور اشرافیہ میں بھی اس طور اردو کی پذیرائی نہیں‌ہوسکی جو زبان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ساتھ ساتھ مسلمانوں سے اسکا ناطہ جڑ جانے کی وجہ سے ایک مغلوب قوم کی زبان بھی ٹہری اور بالاخر بر صغیر پاک و ہند کی ایک اہم زبان ہونے کے باوجود دفتری اور سرکاری سطح پر پنپ  نہ سکی۔ اس سلسلے کی اس آخری پوسٹ‌ میں میری کوشش ہے کے کچھ سیاسی اور سماجی اسباب کا تجزیہ کیا جائے تاکہ ہم اردو کے موجودہ مقام کا تعین کرسکیں اور آنے والے دنوں میں اس کی ترقی کے لیے کیا کوششیں‌کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>تجزیہ<br />
سیاسی یا سماجی تجزیہ کرنے کے لیے سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھ لیں‌ کے اردو دراصل کھڑی بولی کی ایک مستند شاخ ہے ۔‌متحدہ ہندوستان کے وسطی اور شمالی حصوں میں رہنے والے کثیر لوگوں  کی زبان اور مستند ہندی، دکنی اردو،  جدید اردو اور ریختہ اسی کھڑی بولی اور ہندوستانی کی مستند شاخیں یا قسمیں ہیں۔ کسی بھی لہجے کو اختیار کرنے والے ایک دوسرے کی بات بڑی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں‌ لیکن ریختہ دراصل وہ زبان ہے جو شاعری یا ادب کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے اور بہت زیادہ فارسی زدہ ہے جبکہ مستندی ہندی دراصل سنسکرت زدہ کھڑی بولی یا ہندوستانی ہے۔ (الف) میں جس نکتے کی طرف اشارہ  کرنے جا رہا ہوں اسکے لیے یہ بات نہایت اہم ہے کے دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بالی وڈ دراصل جس زبان میں فلمیں بناتی ہے وہ بھی ہندوستانی ہی ہے جو مستند لہجہ بولنے والے تمام لوگوں میں‌یکساں سمجھی جاتی ہے (ب)۔ اب صورتحال یہ ہے کے دو مختلف رسم الخطوط اپنانے کی وجہ سے اصل زبان کھڑی بولی کی دو بڑی شاخیں وجود میں‌آگئ جس میں ہم ایک دوسرے کی بات تو سمجھ سکتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا لکھا نہیں پڑھ سکتے۔ اسکی وجہ سیاسی اور مذہبی زیادہ رہی ہے۔ اور اس چیز نے فارسی زدہ اردو کو ہندوستان کے مسلمانوں کی زبان کا درجہ دے دیا اور شاید دو قومی نظریہ زبان کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کا باعث بن گیا۔ (ج)</p>
<p>الف ۔۔ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Khari_boli" >کھڑی بولی</a><br />
ب ۔۔ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Urdu#Urdu_and_Bollywood" >اردو اور بالی وڈ</a><br />
ج۔۔ <a target="_blank" href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/avconsole?redirect=fs.shtml&amp;nbram=1&amp;nbwm=1&amp;ws_storyid=070812_urduat60&amp;ws_pathtostory=http://www.bbc.co.uk/go/wsindex/int/sg/urdu/-/urdu/news/avfile/2007/08/&amp;bbram=1&amp;bbwm=1&amp;lang=ur" >اردو :‌ایک زبان کی تقسیم</a></p>
<p>اس پس منظر میں تقسیم ہند کے بعد ریاست پاکستان وجود میں آگئی جس کی قومی و سرکاری زبان اردو مقرر کی گئ۔ پوری دیانت کے ساتھ میں‌یہ بات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کے ایک ایسا خطہ جس میں‌ جغرافیائی طور پر کوئی ایسا علاقہ شامل نہ تھا جس کی اپنی زبان اردو ہو اور نہ ہی یہ اکثریتی زبان تھی اردو کو قومی زبان مقرر کرنے سے اولا تو جمہوری عمل یعنی اکثریت کی حکمرانی کا تصور پہلے دن ہی مسخ ہوگیا کیونکہ اصولا بنگلہ زبان اکثریتی زبان تھی اور نہ ہی یہ کسی ایسے خطے کی زبان تھی جو اب پاکستان کہلاتا ہے۔ گویا اردو نہ تو اکثریت کی زبان تھی اور نہ ہی کسی بھی ایسے خطے کی زبان جو صوبوں کو طو پر پاکستان میں‌ شامل کیے گئے چناچہ اس سے نہ صرف یہ کے اردو ایک اجنبی سرزمین پر تھی بلکہ آگے چل کر کچھ معاملات بنگلہ دیش کے  قیام کا باعث بھی بنے۔</p>
<p>دوسری طرف سرکاری زبان بنانے کے باوجود ہنوز تمام کے تمام سرکاری کام انگریزی میں ہی انجام دیے جاتے ہیں (شناختی کارڈ اور کچھ اور چیزیں چھوڑ کر تمام سرکاری اعلانات انگریزی میں ہی جاری ہوتے ہیں) ‌اور انگریزی سے نا بلد لوگ کسی صورت بھی سول اشرافیہ بیوروکریسی یا نوکر شاہی کا حصہ نہ  بن سکتے تھے اور نہ بن سکتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کے پاکستان کا آئین بھی انگریزی زبان میں‌ہی لکھا ہوا ہے یعنی اگر عدالتوں‌میں آپ اردو نافذ بھی کردیں‌تو آئین اور تعذیرات کا تمام کام انگریزی میں ہی ہو سکے گا۔ جیسا کے میں نے پہلے بھی عرض کی کے مغلوں کا سارا ورثہ مسجد اور مقبروں تک محدود ہے اور فلاحی بہبود کے تمام بڑے منصوبے انگریزی دور میں ہی بنے جیسے کے کلکتہ اور<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Karachi" > کراچی</a> جیسے شہروں کی تعمیر نو، ہندوستان میں ریلوے کا نظام اور ڈاک کی ترسیل کا مربوط ا نظام تو یہ کیسے ممکن تھا کے یہ کام کسی ہندوستانی زبان میں کیے جاتے چناچہ انگریزوں کے زمانے سے ہی جدید اور عوامی سطح کے تمام محکموں کے خدوخال اور عہدے انگریزی زدہ ہیں‌ اور لائل پور کو فیصل آباد کردینے سے فیصل آباد کا ثقافتی اور تاریخی ورثہ تو برباد ہوا لیکن اردو کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔</p>
<p>انگریزی دور کے تربیت کے تمام طور طریقے ، فوج، پولیس اور ڈسٹرکٹ سطح کا نظام بھی اس وقت سے کم و بیش جوں‌کا توں ہے چناچہ عہدے اور رینک سب کے سب انگریزی ہی رہے اور اس طریقے سے پاکستان میں‌ طبقاتی نظام کی بنیاد پڑھ گئی جو انگریزی اور اردو متوازی تعلیمی نظاموں پر منتج ہوئی۔ اور عام عوام میں بھی اس کشمکش سے انگریزی کی اہمیت حد سے زیادہ بڑھ گئی اور مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے بھی انگریزی زیادہ اہم ٹہری۔ کتاب اور ادب پڑھنے کا رجحان بھی آہستہ آہستہ معاشی ناہمواری کی بھینٹ چڑھتا رہا اور ادیبوں، دانشوروں کے کام کا معیار بھی ایک خاص سطح سے نیچے آنا شروع ہوگیا ہے اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک خلاء ہے اور شاید اس پیڑی کے بعد ایک پائے کا شاعر اور مصنف تک دستیاب نہ ہوگا جو چار سطریں شستہ و شائستہ اردو میں لکھ سکے کیونکہ مارکیٹ‌سے اس چیز کی طلب ہی ختم ہوگئی۔ ٹی وی ڈرامے جو کسی زمانے میں نہ صرف یہ کے عام لوگوں کے حالات کے صحیح‌ عکاس بلکہ نہایت ہی عمدہ اردو میں لکھے جاتے تھے اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں اور انکی جگہ انگریزی اور اردو کے ایک بے ڈھنگے ملاپ نے لے لی ہے جو نہ انگریزی بولنے والے کو سمجھ آتے ہیں نہ اردو بولنے والے کو۔ حکومت کی سطح پر تو مسائل ہی دوسرے رہے ہیں وہاں اردو کے فروغ کی نوبت کہاں‌ آتی۔۔ ادنی معیار کا ایک وفاقی اردو کالج قائم کرکے حکومت گویا اپنے فرض‌سے سبکدوش ہوگئی۔ اور اردو کے علمبرداروں کی یہ حالت ہے کے سال چھ مہینے میں‌ایک اسٹیڈیم میں مشاعرہ منعقد کرلیا جس میں کئی شاعروں کے تلفظ تک درست نہیں ہوتے تو گویا فرض ادا ہوا۔</p>
<p>اردو زبان  کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی بھرمار کے باوجود ابھی تک کہیں سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی کے انفارمیشن کے اس دور میں اردو کو کسطرح دوسری زبانوں‌کے مقابل لا کر کھڑا کیا جائے۔ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے تو پھر سرمایا سگا نہ سہی ایجاد کا سوتیلا باپ ضرور ہوتا ہے اور فی الحال انفارمیشن ایج میں اردو کی ترقی کے لیے جو سرمایہ درکار ہے وہ یہ کارپوریشنز دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں اور اپنے اخبارات کی تصویریں انٹر نیٹ پر اپ لوڈ‌کر کے یہ خیال کیا جاتا ہے کے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے اور جب کوئی من چلا اپنے محدود وسائل کے ساتھ لمبے عرصے کی محنت کے بعد کوئی نئی ٹیکنالوجی بنا لے گا تو یہ بھی اسے استعمال کر لیں‌گے‌ورنہ جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔ دوسری زبانوں‌ کی ایسی صورت حال نہیں ہے اور نو آبادیاتی زبانوں کو چھوڑ ہندی، عربی، فارسی تک  کے لیے نہ صرف یہ کے اچھے مشینی مترجم دستیاب ہیں بلکہ لکھنے،  پڑھنے اور ترقی کے لیے سرمایہ لگانے والا ایک وسیع طبقہ بھی موجود ہے۔</p>
<p>نتائج<br />
اس ساری سنجیدہ  اور خشک گفتگو کا مقصد صرف اتنی سی بات کرنا تھا کے ان تمام حالات کے حساب سے اردو جہاں بھی پہنچی ہے وہ بھی ایک معجزے سے کم نہیں ۔ میرے حساب سے اردو کا کوئی مقام تھا ہی نہیں بلکہ ہمیں اب یہ مقام طے کرنا ہے۔ اردو کے لیے انٹر نیٹ اور عمومی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اگر کہیں ہورہی ہے تو وہ اس چھوٹی سی آن لائن کمیونٹی تک محدود ہے۔ کیا آپ نے کہیں اس پر کوئی مذاکرہ سنا یا آپ نے کسی سیاستدان کو اس پر بات کرتے دیکھا؟‌ کیونکہ ہماری ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ جو حکومت منصف کو انصاف فراہم نہیں کر سکی، جو قوم علامہ اقبال کی نثر سے واقف نہیں‌اور ان کو صرف شاعر جانتی ہے اور جس زبان کا شاعر اپنی شاعری سے چند ہزار روپے نہیں کما سکتا اسکی ترقی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اردو کو انٹرنیٹ پر اور انفارمیشن ایج میں‌اپنی کوئی حیثیت بنانی ہے تو فی الفور تو مندرجہ ذیل کام کرنے ہونگے<br />
- فوری طور پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئے الفاظ کے ذخیرے کے ساتھ ایک لغت کی تالیف جسے انٹر نیٹ پر کسی دوسری اپلیکیشن سے مربوط کیا جاسکے<br />
- اردو گرامر کی ایک واضح شکل جسے سافٹ ویر انجینیرز استعمال کرتے ہوئے مشین لرننگ ، صوتی و بصری ٹیکنالوجی،  گرامر اور اسپیل چیکنگ جیسے سافٹ ویر جدید شکل میں بنا سکیں<br />
- اردو کی بطور زبان تعلیم،  بجائے اسکے کے فزکس کی طبعیات کے طور پر تعلیم دی جائے کیونکہ اگر آپ درست اردو سے واقف پروفیشنل تیار کرسکیں‌تو شاید وہ جدید دور کے حساب سے موجود علوم کا اردو میں مناسب ترجمہ کرسکیں۔<br />
اسکے علاوہ بھی کئی منصوبوں کی شروعات کرنی ہو‌نگی لیکن مندرجہ بالا نکات پر تو گویا جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا کیونکہ باقی ساری چیزیں خودکار نظام کی طرح ان چیزوں سے ملحقہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam2-rashid/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ (از: راشد کامران)</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 20 May 2008 18:53:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/</guid>
		<description><![CDATA[نکتہ نظر کے عنوان سے منظر نامہ پر اظہار خیال کی دعوت پر سب سے پہلے تو منتظمین کا شکریہ۔ وسیع موضوع پر اختصار کے ساتھ کوشش ہوگی کے میں‌ اپنا نقطہ نظر بیان کرسکوں۔ اختلاف رائے انسان کا پیدائشی و بنیادی حق ہے اور کسی بھی قسم کی رائے کا اظہار بلا تامل کرکے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="right">نکتہ نظر کے عنوان سے منظر نامہ پر اظہار خیال کی دعوت پر سب سے پہلے تو منتظمین کا شکریہ۔ وسیع موضوع پر اختصار کے ساتھ کوشش ہوگی کے میں‌ اپنا نقطہ نظر بیان کرسکوں۔ اختلاف رائے انسان کا پیدائشی و بنیادی حق ہے اور کسی بھی قسم کی رائے کا اظہار بلا تامل کرکے تصیح‌کا موقع فراہم کریں۔</p>
<p align="right">مقدمہ:<br />
کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟‌ اس سوال سے سب سے پہلا تاثر تو یہ ابھرتا ہے کے جیسے ہم اردو کی نشاۃ‌ثانیہ یا کسی کھوئے ہوئے مقام کی بات کررہے ہوں جو زبان کو کسی طرح‌دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ میری ناقص رائے ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اردو زبان دنیا کی دوسری زندہ زبانوں کے مقابلے میں‌ کافی نئی زبان ہے اور اپنی پیدائش کے ساتھ ہی یہ ایک ایسی قوم کی زبان رہی ہے جو بدرجہ تنزلی کی طرف مائل رہی ہے ۔ اردو اس طرح‌کبھی بھی سرکاری یا دفتری زبان نہیں‌رہی جسطرح اسکے جد امجد عربی یا فارسی اور نہ ہی اس میں ادب کا اتنا تنوع اور وسیع ذخیرہ پایا جاتا ہے جیسا کے بیشتر دوسری زبانوں میں‌ اور جدید دور کے مضامین اور سائنس کے لحاظ سے تو یہ گویا بانجھ ہی شمار ہوگی۔</p>
<p align="right">پس منظر۔<br />
اردو ایک انڈو آرین زبان مانی جاتی ہے جو مغل بادشاہوں کے دور میں مختلف زبانوں‌ خصوصا عربی، فارسی اور ترکی بولنے والے مختلف لوگوں کے درمیان پروان چڑھی ۔ شاہجہاں کے دہلی میں‌لال قلعے کی تعمیر کے بعد سے &#8220;اردو&#8221;‌ کا لفظ مستعمل ہوا جو دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی فوج کے ہیں‌اور اسی لیے اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے ‘الف’۔ بنیادی طور پر پورے مغل دور میں‌ درباری زبان فارسی اور مذہب کی زبان عربی رہی ہے اور اشرافیہ کی زبان بھی فارسی ہی رہی ہے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں‌کے مغلوں کی اپنی زبان فارسی زدہ ترکش رہی ہے ۔ خیال رہے کے کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے اسکا اشرافیہ کے اندر سرایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 1739 میں‌ خیال کیا جاتا ہے کے اردو کو درباری یا سرکاری زبان کا درجہ ملا ’ب‘ لیکن خوشامدی شاعری یا نوحوں‌یا مرثیوں سے آگے کچھ بھی اس زبان میں‌ تعمیری تخلیق نہ ہوسکا یہاں‌تک کے نوہندوستان میں‌ نو آبادیاتی دور آپہنچا۔</p>
<p align="right"> ’الف‘‌ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Urdu#History" >http://en.wikipedia.org/wiki/Urdu#History</a></p>
<p align="right"> ’ب‘‌ <a target="_blank" href="http://sun.menloschool.org/~sportman/westernstudies/first/1718/2000/cblock/mughal/social.html" >http://sun.menloschool.org/~sportman/westernstudies/first/1718/2000/cblock/mughal/social.html</a></p>
<p align="right">مغلوں کا زوال اور انگریزی دور<br />
مغل دور کے خاتمے اور انگریزوں کے ہندوستان میں‌مکمل راج قائم ہوتے ہوتے اردو کو مسلمانوں‌کی زبان مانا جانے لگا تھا اور مغلوں‌کے ورثے میں مسجدوں اور مقبروں‌کے علاوہ ایسی کوئی چیز بھی موجود نہیں‌ تھی جو زبان کے اصل ترقی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ مثلا کوئی ایک اعلی پائے کی یونیورسٹی شاید ہی مغلوں سے منصوب کی جاسکے جہاں اردو زبان کو علوم و فنون کی زبان کے طور پر ڈھالا جاتا۔ بنیادی طور پر میں اس بات کا قائل ہوں‌کے اقتدار کے اس دور میں اگر تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ دی جاتی اور اردو کو ذریعہ اظہار بنایا جاتا تو شاید ہم اس بحث میں نہ الجھے ہوتے۔ The Empire Of the Great Mughals میں درج ہے کے 1800 میں‌ فورٹ ولیم کے کلکتہ میں‌قیام کے وقت کلکتہ اردو کا ایک اہم مرکز رہا ہے انگریزوں کے لیے لچھے دار فارسی اور خوشامدی اردو کی عملی حیثیت نہ ہونے کے برابر تھی اور بالآخر 1835 میں‌انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ ’الف‘</p>
<p align="right">’الف’ <a target="_blank" href="http://books.google.com/books?id=N7sewQQzOHUC&amp;pg=PA259&amp;lpg=PA259&amp;dq=Urdu+in+Mughal+Empire&amp;source=web&amp;ots=3LT3ITMBn6&amp;sig=5ZZkNLt3z-dceiEkvqKtRmPUytA&amp;hl=en" >سرکاری زبان انگریزی</a></p>
<p align="right">اردو کا مقام<br />
اب اگر ہم اپنی بحث کو سمیٹنا شروع کریں‌ تو درج ذیل باتوں پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔<br />
- اردو زبان مجموعی طور پر ایک بہت ہی نئی زبان ہے اور عربی اور فارسی زبانیں جن کا ہزار سالہ ورثہ موجود ہو اور انگریزی جو تاج برطانیہ کی زبان رہی ہو سے تقابل فی الوقت درست نہیں<br />
- اردو بنیادی طور پر لشکری اور عام لوگوں کی زبان ہے اور اشرافیہ میں اسے کبھی وہ پذیرائی حاصل نہ ہوسکی جو زبان کی اعلی سطح کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔<br />
- اردو زبان ابتداء سے ہی محکوم طبقے کی زبان رہی ہے اور عربی اسکرپٹ میں موجود اردو کو عموما مسلمانوں کی زبان ہی مانا گیا ہے اور زبان کی پیدائش سے آج تک اردو زبان بولنے والے جدید علوم و فنون سے کسطرح کنارہ کش رہے ہیں‌ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں<br />
- علی گڑھ یا اسطرح کی دوسری تحریکوں کے علاوہ ایسا کوئی ریفرنس نہیں ملتا جب اردو کسی طور پر تعلیمی زبان رہی ہو، نہ ہی رائج علوم و فنون کو اردو میں منتقل کرنے کی کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ خصوصا آج کی تاریخ میں‌اردو میں سائنسی یا تکینکی مضامین پڑھانا قریبا نا ممکن ہے۔<br />
- اردو ادب میں بھی اگر آپ بڑے نام تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو غالب گمان ہے کے ایک صفحے سے زیادہ درکار نہ ہوگا اس میں سے بھی عالمی سطح پر جانا یا مانا جانے والا کام خال خال ہی ملتا ہے۔<br />
- ہندوستان کی سطح پر مذہب کے پرچار کے لیے عام لوگوں کی زبان اردو کا بہت استعمال کیا گیا ہے جسکے شاید کچھ مثبت اثرات بھی پڑے ہوں لیکن اسے ایک حقیقت ماننا ہوگا کے عربی سے نا بلد اردو بولنے والوں‌ کے درمیان اس مذہبی ادب نے فرقہ بندی کی جڑیں دنیا کے کسی بھی اور خطے سے کہیں زیادہ گہری کی ہیں۔<br />
- تحریک پاکستان اور پاکستان کے آغاز سے لے کر آج تک سرکاری سطح پر اردو کی حیثیت گھریلو ملازمہ سے زیادہ کی نہیں رہی اور پاکستان جس کی سرکاری زبان اردو قرار پائی جغرافیائی طور پر اس ملک میں‌ایسا کوئی خطہ شامل نہ تھا جہاں لوگوں کی مادری زبان اردو ہو چناچہ ابتدائی طور پر مہاجرین کی زبان مانی گئی۔<br />
- موجودہ پاکستان میں‌ کسی کا تعلمی معیار اسکی انگریزی قابلیت سے جانا مانا جاتا ہے چناچہ نئی نسل کے لیے انگریزی کی مہارت اہم ٹہری اور اردو لڑائی جھگڑے اور مارکٹائی کی زبان بن کے رہ گئی جبکہ سنجیدہ تعلیم اور روزگار انگریزی سے وابستہ ہوکر رہ گیا۔</p>
<p align="right">ان تمام باتوں کے بات ہم دراصل کس مقام کی بات کررہے ہیں؟‌ ہاں۔ ہم حقیقت کو مانتے ہوئے اسکے لیے کوئی مقام طے کریں‌اور اس کے لیے کام کریں‌تو مناسب بات معلوم ہوتی ہے ورنہ میری رائے میں‌۔۔ سارے جہاں‌ میں ہماری زبان کی دھوم کبھی بھی نہیں‌رہی بلکہ مظلوموں اور محکوموں کی ایسی زبان ہے جس میں نوحے ، مرثیے اور عورتوں کے تعریفوں کے کچھ زیادہ تخلیق نہیں‌کیا گیا۔۔ ایک آدھ مثتثنیات بلا شبہ موجود ہونگی لیکن ایک آدھ لوگوں‌سے زبان نہیں‌بنتی بلکہ اسکے لیے ایک قوم درکار ہوتی ہے جو زبان پر فخر کرتی ہو جبکہ ہمارے یہاں صرف اردو دانی پر ایک چپراسی بھی ملازم بھرتی نہیں‌ہوسکتا زبان کیونکر ترقی کرے؟</p>
<p>راشد کامران</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

