<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; نقطہ نظر</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/category/point-of-views/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Jul 2010 09:12:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>میرے اور آپ کے بیچ ہم آہنگی کی ضرورت</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 22 May 2010 06:54:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<category><![CDATA[ہم آہنگی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=860</guid>
		<description><![CDATA[میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا ہے، چاہے مجھے اور آپ کو محسوس ہو یا نہیں، چاہے میں اور آپ چاہیں یا نہیں۔</p>
<p>ذرا ٹھہریں، انٹرنیٹ کی دنیا سے ہٹ کر اپنے اردگرد کی دنیا کا جائزہ لیں۔ آپ کے آس پاس لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو آپ سے مماثلت رکھتے ہوں گے، کچھ بہت زیادہ اور کچھ بے حد معمولی سی۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کی شخصیت کے بالکل برعکس ہوں گے۔ اور کیوں نہ ہوں کہ ہر ایک کی شخصیت، ہر ایک کا خاندان، ہر ایک کا گھریلو ماحول، ہر ایک کا پس منظر، سبھی کچھ مختلف ہے۔ تو کیا آپ اپنے مخالفوں کو جینے کا بھی حق نہیں دیتے؟ کیا اُن کی جائز بات بھی نہیں سنتے؟ کیا ہر وقت اُن سے جھگڑتے رہتے ہیں؟</p>
<p>اچھا، یہ تو ابھی کی بات ہے جب آپ گھر سے باہر کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور جہاں مختلف پس منظر کے حامل لوگوں سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔ ذرا ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں جب آپ کی زندگی کا دائرہ صرف گھر اور خاندان والوں کے گرد گھومتا تھا۔ مشترکہ روایات، مشترکہ پس منظر، مشترکہ ماحول، لیکن کیا اس کے باوجود کہیں آپ کا اپنے خاندان یا اپنے ہی گھر میں کسی بات پر اختلاف نہیں ہوا؟ کسی نکتے پر عدم اتفاق نہیں پایا گیا؟ تو کیا آپ نے قطع تعلق کرلیا؟ ناطے توڑ لیے؟ یقیناً نہیں۔</p>
<p>ہم جس ماحول میں بھی رہیں، جیسے حالات میں بھی گزر بسر کریں، بحیثیت انسان ہم میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو سمجھ سکتے ہیں، بدلتے ماحول میں خود کو ڈھال سکتے ہیں، مختلف الخیال لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔ اور جس طرح یہ اصول آپ کی حقیقی زندگی پر منطبق ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت اور ضرورت ہے۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">منظرنامہ کی جانب سے ایک سلسلہ ’’<a href="http://www.manzarnamah.com/category/point-of-views/" >نقطۂ نظر</a>‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت کسی ایک موضوع پر بلاگرز اظہارِ خیال کرتے تھے۔ یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے بیچ ہم آہنگی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور اس کو کتنا اہم سمجھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کیا ہم آہنگی کسی قدر پائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ ہمیں کہاں اور کیا تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس پر آپ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #008000;"><strong>تحریر کی اشاعت کا طریقہ:</strong></span><br />
فی الحال منظرنامہ پر مصنفین کو رجسٹر نہیں کیا جارہا لہٰذا آپ اس موضوع پر اپنی تحریر اپنے ہی بلاگ پر شائع کریں۔ آپ کے بلاگ پر پوسٹ ایڈیٹر کے نیچے ایک ٹیکسٹ فیلڈ Send Trackbacks کے نام سے ہوگی، وہاں آپ منظرنامہ کی اس تحریر کا ربط ڈال دیں گے تاکہ اس موضوع پر آنے والی تمام تحاریر کا ربط اس تحریر کے تبصروں میں ظاہر ہوتا رہے اور قاری اس سلسلے کی ہر کڑی سے باخبر رہے۔ شکریہ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">ازراہِ کرم ذاتیات سے گریز کریں۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اردو بلاگنگ &#8211; ترغیب بذریعہ معیار</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/10/urdu-blogging/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/10/urdu-blogging/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2009 19:07:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ، ترغیب، معیار]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=603</guid>
		<description><![CDATA[اردو بلاگران کی ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا خلاصہ سننے اور پڑھنے کو ملا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اردو بلاگنگ پر کچھ رائے میں بھی دوں۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنے یا پڑھنے میں اب کوئی عظیم ٹیکنالوجیکل رکاوٹیں حائل نہیں ہیں۔ اردو لکھنا اور پڑھنا آسان ہے۔ جو بھی چاہے وہ ذرا سی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اردو بلاگران کی ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا خلاصہ <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/10/usa-bloggers-meeting/" >سننے</a> اور <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/10/eidmilan09-report/" >پڑھنے</a> کو ملا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اردو بلاگنگ پر کچھ رائے میں بھی دوں۔</p>
<p>کمپیوٹر پر اردو لکھنے یا پڑھنے میں اب کوئی عظیم ٹیکنالوجیکل رکاوٹیں حائل نہیں ہیں۔ اردو لکھنا اور پڑھنا آسان ہے۔ جو بھی چاہے وہ ذرا سی تلاش سے ایسے دسیوں مضامین اردو اور انگریزی زبانوں میں ڈھونڈ سکتا ہے جس میں کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے، فونٹ انسٹال کرنے اور کی بورڈ لے آؤٹ تبدیل کرنے تک کے طریقے موجود ہیں۔یہ بحث کہ اردو لکھنے کو آسان تر بنایا جانا چاہئے محض کمیونٹی کا وقت ضائع کرتی ہے۔ جو اردو لکھنا چاہے وہ اب باآسانی اردو لکھ، پڑھ اور شائٰع کرسکتا ہے۔ تاہم جو لوگ اردو لکھنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں ترغیب، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو اس کے لئے ایک <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/mehfil" >مناسب فورم</a> پہلے سے موجود ہے جہاں سوالات کے جوابات، موضوعات کا ڈھیر، ڈاؤنلوڈز کا ذخیرہ اور اردو کمپیوٹر اپلیکشن پروگرامنگ کے ماہرین موجود ہیں اور اگر آپ محفل کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ کافی سارے لوگوں نے وہاں سے اپنے کمپیوٹر اور ویب پر اردو لکھنے کی رہنمائی اور ترغیب پائی ہے۔ ٹیکنالوجیکل رہنمائی کے حوالے سے اردو کمیونٹی کی سمت درست ہے اور رفتار سبک۔ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔</p>
<p>اردو بلاگنگ کی غیر مقبولیت کی اصل وجہ اس کا غیر معیاری ہونا ہے۔<span id="more-603"></span></p>
<p>جب میں کوئی اچھی تحریر پڑھتا ہوں، کوئی اچھی بات سنتا ہوں، کوئی اچھا گیت یا کوئی اچھا جملہ سنتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسے یاد کرلوں، اسے دوسروں کے ساتھ بانٹوں، یا اس جیسی اچھی چیزیں کہنے کی کوشش کروں۔ اکثر لکھنے والوں کو ترغیب پڑھنے سے ہی ملتی ہے۔ اگر ہمارے لکھے ہوئے مضامین قاری کے دل میں کسی قسم کی تحریک بیدار نہیں کرتے، انہیں کچھ کہنے پر اکساتے نہیں ہیں یا انہیں ترغیب نہیں دیتے  تو ہماری تحریر اچھی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ  اگر ہم لوگوں کو اردو بلاگنگ کی ترغیب دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اچھا لکھنا ہوگا اور اپنے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ ہر اردو بلاگر کو یہ اپنی انفرادی ذمہ داری سمجھنا چاہئے اور خود ہی اپنی تحریر کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔</p>
<p>میں اس قسم کی کوئی اہلیت نہیں رکھتا کہ معیار طے کروں۔ تاہم کامن سینس اور لکھنے کے فن پر تھوڑا بہت پڑھ لینے کے بعد چند سادہ سی تجاویز گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اس امید پر کہ وہ پڑھنے والوں کو اور مجھے خود کو بہتر لکھنے میں مدد دیں گی۔ ان تجاویز کے علاوہ میں یہ مشورہ دونگا کہ انٹرنیٹ پر بہتر لکھنا سکھانے کے کئی ویب سائٹ موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔</p>
<p>اچھا لکھنے سے مراد یہ نہیں کہ آپ اردو ادب کے اساتذہ کی نقالی کریں۔ اگر آپ مزاح لکھ رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کا انداز مشتاق یوسفی، کرنل شفیق الرحمن، پطرس بخاری جیسا ہو۔ اگر آپ سیاسی اور معاشرتی مضامین پر لکھ رہے ہیں تو یاد رکھیں آپ کا بلاگ روزنامہ ایکسپریس نہیں ہے۔ جدت اپنائیں اور اپنے خود کے انداز میں لکھیں۔ اپنی تحریر کو اپنے تشخص کا لبادہ پہنائیں اور اسی کو سنوارنے اور سدھارنے کی کوشش کیا کریں۔</p>
<p>بے تکے پن کو بھی خوبصورتی اور مہارت سے پیش کریں۔ بے مقصدیت کو کبھی بھی رقم بند نہیں کیا جاسکتا اس لئے یاد رکھیں کہ چاہے آپ کچھ بھی لکھ رہے ہوں، وہ بے مقصد ہو ہی نہیں سکتا ہاں بھونڈے پن سے وہ ناقابل فہم ضرور ہوسکتا ہے اور لوگ اسے پڑھنا پسند نہیں کریں گے اور اگر کوئی چیز پڑھے جانے کے قابل نہیں تو اسے لکھا بھی نہیں جانا چاہئے۔ اپنے الفاظ کی قدر سمجھیں اور انہیں سمجھداری سے استعمال کریں۔</p>
<p>نئے خیالات لائیں اور اردو کو دقیانوسیت کے بوسیدہ غلاف سے باہر نکالیں۔</p>
<p>دلچسپ اور رنگارنگ خیالات پر طبع آزمائی کریں۔</p>
<p>دل سے لکھیں مگر دماغ سے اسے درست کریں۔ لکھتے ہی پوسٹ شائع نہ کردیا کریں۔ اسے پہلے خود پڑھا کریں اس کی نوک پلک درست کیا کریں۔ جملوں کو چست، خیال کو دلچسپ اور بیان کو آسان بنانے کی کوشش کیا کریں۔</p>
<p>ویب ایک مختلف میڈیم ہے۔ یہاں لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ ایک طرف انہوں نے آپ کو مضمون کھولا ہوتا ہے تو دوسری طرف فیس بک پر کسی پری چہرہ کی پروفائل، دوسرے ٹیب میں جی میل اور تیسرے ٹیب پر یوٹیوب پر کوئی مزیدار ویڈیو۔ آپ ان کے قیمتی وقت کو ضائع نہ کریں اور اپنی تحریر کو بلاوجہ طول نہ دیں۔ لوگ طویل تحاریر میں دلچسپی کھودیتے ہیں اور مکمل مضمون پڑھے بغیر ہی کہیں اور متوجہ ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>اگر طویل مضمون ہی لکھنا ہے تو زیادہ سے زیادہ پیرا گراف بنائیں۔ چند بلاگر ایک ہی پیراگراف میں لمبی لمبی پوسٹس لکھ دیتے ہیں جنہیں پڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>بہتر لکھنے کی چند تجاویز کے بعد اب کچھ اور باتیں۔</p>
<p>خوبصورتی سے زیادہ اہم بات <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Web_usability" >قابلیت استعمال</a> ہے۔ اکثر اردو بلاگ اس بات کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ یوں ان کے قاری کو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ غیر سنجیدہ لوگوں کا ٹولہ ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کا بلاگ تمام جدید ویب براؤسروں پر درست دکھنا چاہئے۔ آپ کے بلاگ کو جلدی کھلنا چاہئے۔ اور اس کی نیوی گیشن سادہ اور قابل فہم ہونا چاہئے۔ اگر کسی کے کمپیوٹر میں کوئی بھی اردو فونٹ نہیں ہے تب بھی اسے آپ کا سائٹ پڑھے جانے کی حالت میں نظر آنا چاہئے۔</p>
<p>تھیم اردوانے والے حضرات سے گذارش ہے کہ وہ معیاری تھیم ترجمہ کریں۔ اردوائے گئے اکثر تھیم غیر معیاری ہوتے ہیں۔ اردو بلاگنگ بار بار تھیم بدلنے کا نام نہیں ہے۔ دس بارہ معیاری اردو تھیم کافی ہیں۔ اور یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ کمیونٹی بلاگر کے اردو ٹیمپلیٹس پر توجہ دیں، صرف ورڈ پریس ہی ایک بلاگنگ ٹول نہیں ہے۔</p>
<p>ویب پیڈ، گوگل ٹرانسلٹریشن اور اس قسم کے دیگر ٹولز کی افادیت اپنی جگہ مگر کمپیوٹر کی اپنی سپورٹ کے ذریعے اردو لکھنے کو فروغ دیا جائے ۔ کیونکہ یہ درست طریقہ ہے، اس کی سہولت تمام آپریٹنگ سسٹمز میں موجود ہے، اور اس کے بغیر اردو کی ترقی ممکن نہیں ہے۔</p>
<p>اردو کے فری ویب ہوسٹس کے ناقابل اعتبار ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بلاگر یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر بلاگنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے۔ <a target="_blank" href="http://www.blogger.com" >بلاگر</a> کو اکثر اردو کمیونٹی نظر انداز کردیتی ہے حالانکہ اس میں زبردست اردو سپورٹ موجود ہے۔ یہ مفت ہے اور  کافی قابل اعتبار ہے۔ بعد ازاں جب لکھنے والے کو بلاگنگ کا تھوڑا تجربہ ہوجائے تو وہ خود کہیں ہوسٹنگ کا انتظام کرسکتا ہے۔</p>
<p>ہر اردو بلاگر کے بلاگ پر ایک صفحہ رابطے کا ہونا چاہئے جس کے ذریعے لوگ انہیں ای میل کرسکیں۔ اور جب کوئی آپ سے پوچھے کہ وہ اپنا اردو بلاگ کیسے شروع کریں تو انہیں <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/mehfil" >اردو محفل</a> کا پتہ دیا کریں۔</p>
<p>اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے میرے اس مضمون شامل تجاویز کا خلاصہ یہ ہے کہ۔</p>
<p>ا۔ بہتر لکھیں، نیا لکھیں، ذمہ داری کے ساتھ لکھیں اور جو بھی لکھیں اس کا پڑھا جانا آسان بنائیں۔<br />
2۔ ورڈ پریس کے علاوہ بلاگر پر بھی نظر کرم کریں۔ یہ مفت بھی ہے اور قابل اعتبار بھی۔<br />
3۔ ترغیب دیں، رہنمائی کریں۔ مگر لوگوں کو مفت خدمات فراہم نہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/10/urdu-blogging/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>29</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اردو بلاگنگ کا منظرنامہ از نبیل حسن نقوی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/urdubloggingscene/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/urdubloggingscene/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 Feb 2009 19:35:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نبیل حسن نقوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=265</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم، کچھ روز قبل منظر نامہ کی جانب سے اردو بلاگرز کو اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ نکات کے حوالے سے اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ راشد کامران اور افضل صاحب پہلے ہی اس بارے میں اظہار خیال کر چکے ہیں۔ اسی دوران فیصل نے بھی ایک اردو بلاگنگ کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم،<br />
کچھ روز قبل <a href="http://www.manzarnamah.com/" >منظر نامہ</a> کی جانب سے اردو بلاگرز کو اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ نکات کے حوالے سے <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/" >اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی تھی</a>۔ <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> اور <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >افضل صاحب</a> پہلے ہی اس بارے میں <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/" >اظہار</a> <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2192" >خیال</a> کر چکے ہیں۔ اسی دوران فیصل نے بھی ایک اردو بلاگنگ کے فروغ کے اعتبار سے ایک نہایت عمدہ تجویز موضوعاتی بلاگنگ کی پیش کی ہے۔ زیر نظر مضمون میں میں اردو بلاگنگ کے بارے میں انہی نکات کے حوالے سے چند گزارشات پیش کروں گا۔ اردو بلاگنگ یا بالعموم پاکستان اور انڈیا کے بلاگنگ سین کے حوالے سے میرے پاس کوئی مستند اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ میں اس سلسلے میں اپنے اندازے سے ہی کام چلاؤں گا۔ اگر کسی دوست کے پاس بہتر حوالہ جات موجود ہوں تو وہ حقائق کی درستگی میں میری مدد کر سکتے ہیں۔</p>
<p>میرے اندازے کے مطابق اردو بلاگنگ کا آغاز تقریباً چھ سال قبل ہوا تھا۔ عمیر سلام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انٹرنیٹ کا پہلا اردو بلاگ سیٹ اپ کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی سائٹ کو چھوڑ کر انٹرنیٹ پر تحریری شکل میں اردو تقریباً ناپید تھی۔ اگرچہ اس وقت بھی اردو کے حوالے سے متعدد ویب سائٹس موجود تھیں، لیکن ان سب پر تصویری یا رومن (انگریزی حروف میں لکھی گئی) اردو کا استعمال مروج تھا۔ تصویری یا رومن اردو کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور اردو سے محبت کرنے والے انہی فارمیٹس کو استعمال کرکے کسی طور انٹرنیٹ پر اردو کی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں۔ لیکن جہاں گزشتہ ایک عشرے سے یونیکوڈ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریری شکل میں عربی اور فارسی مواد پر مشتمل ہزاروں ویب سائٹس وجود میں آ گئیں تھیں، وہاں انٹرنیٹ پر اردو مواد کی کمیابی اردو دان طبقے کے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ ایسے میں اردو بلاگز کے منظر عام پر نمودار ہونے سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اس طرح کم از کم کسی طور انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی ایک راہ نکل آئے گی۔</p>
<p>چھ سال کا عرصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایک طویل مدت ہے اور اتنے عرصے میں کئی ٹیکنالوجیز کا استعمال متروک ہوجاتا ہے اور بے شمار نئے معیارات اور ایجادات سامنے آجاتی ہیں۔ چھ سال کے عرصے میں دنیا بھر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کا استعمال نہایت تیزی سے بڑھا اور اس کا اثر پاکستان اور انڈیا پر بھی پڑا ہے جہاں بہت سے لوگوں نے ڈائل اپ کی جگہ ڈی ایس ایل کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کنکشنز کی بینڈ وڈتھ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ویب پر ملٹی میڈیا مواد بھی کثرت سے پیش کیا جانے لگا ہے اور یوٹیوب سمیت متعدد ویڈیو ہوسٹ منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوشل نیٹورکنگ سائٹس کی مقبولیت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ وقت گزرنے اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ سے وابستہ توقعات بھی کچھ بدل گئی ہیں۔ شروع میں کسی اردو بلاگ کا آغاز ہونا اور فعال رہنا ہی غنیمت جانا جاتا تھا، لیکن اب اردو بلاگرز سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنے بلاگ پر فکر انگیز اور معلوماتی تحاریر پیش کریں گے۔ اور گزشتہ کچھ عرصے میں اس اعتبار سے مثبت پیشرفت بھی ہوئی ہے اور کئی اچھے ادبی اور معلوماتی اردو بلاگ لکھے جانے لگے ہیں۔ </p>
<p>اگر گزشتہ چھ سال میں بلاگنگ کے ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ جہاں انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز کی تعداد لاکھوں، بلکہ ملینز کے اعتبار سے بڑھی ہے، وہاں ابھی تک اردو بلاگز کی تعداد غالباً 100 بھی نہیں ہے۔ اس میں فعال اور غیر فعال بلاگ دونوں شامل ہیں۔ اگر صرف پاکستان کے بلاگنگ سین کا جائزہ لیا جائے تو میرے اندازے کے مطابق انگریزی بلاگ لکھنے والی پاکستانی بلاگرز کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ میری نظر میں اردو بلاگنگ کے خاطر خواہ انداز میں ترقی نہ کرنے کی پہلی بنیادی وجہ خالصتاً تکنیکی ہے۔ میں ایک مرتبہ پہلے بھی متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ جب تک کمپیوٹر پر اردو کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سا سلوک کیا جائے گا، انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج ایک خواب ہی رہے گا۔ اگرچہ کہنے کو مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں اردو لکھنے پڑھنے کی سپورٹ موجود ہے لیکن ایک عام یوزر کے لیے آپریٹنگ سسٹم پر اردو کی سپورٹ فعال کرنا اور اس کے بعد اردو کی بورڈ انسٹال کرنا آسان مراحل ثابت نہیں ہوتے۔ <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/blog/2005/10/47/" >ویب بیسڈ اردو ایڈیٹر</a> اور<a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/blog/2008/03/127/" > ورڈپریس کے اردو ورژن</a> کی دستیابی سے انٹرنیٹ پر اردو کا استعمال اور اردو میں بلاگ لکھنا قدرے آسان ضرور ہو گیا ہے لیکن حقیقی معنوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو کو فروغ اسی وقت حاصل ہوگا جب آپریٹنگ سسٹمز میں اردو کی سپورٹ آؤٹ آف دی باکس موجود ہوگی۔</p>
<p>انٹرنیٹ پر اردو کے پیچھے رہ جانے کی ایک اور بڑی اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگوں کو اردو کم کم ہی آتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اردو کو بطور اختیاری مضمون ہی پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے بھی انہیں اردو پر کم دسترس حاصل ہوتی ہے۔ اور انڈیا میں اردو کی حالت اس سے بھی زیادہ پتلی ہے۔</p>
<p>اردو بلاگز کی سست رفتار گروتھ کی ایک اور بڑی وجہ انٹرنیٹ پر اردو مواد کو شائع کرنے میں درپیش دشواری بھی رہی ہے۔ زیادہ تر اردو بلاگر بلاگسپاٹ یا ورڈپریس کے سٹائل میں تبدیلی کرکے انہیں اردو کے سانچے میں ڈھالنے کے بعد اردو بلاگ پبلش کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اردو بلاگنگ بڑی حد تک کمپیوٹر لٹریٹ طبقہ تک محدود رہی ہے۔ اسی لیے خاص ایک اردو بلاگ ہوسٹنگ سروس کی ضرورت ہمیشہ محسوس ہوتی رہی ہے جہاں اردو بلاگرز کو بنا بنایا اردو بلاگ مل جائے اور جہاں وہ بغیر کسی دقت کے اردو لکھ سکیں اور شائع کر سکیں۔ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ اردو بلاگ ہوسٹ سامنے بھی آئے ہیں لیکن شاید ان سائٹس کے منتظمین اس قسم کی سروس کے لیے درکار ریسورسز کا درست طور پر ادراک نہیں کر سکے اور اب تک جتنے بھی اردو بلاگ ہوسٹ سامنے آئے ہیں، ان سب میں کم از کم ایک مرتبہ تمام بلاگز کا ڈیٹا کرپٹ یا ضائع ہو چکا ہے۔ اس قسم کی صورتحال بھی اردو بلاگرز کے لیے نہایت حوصلہ شکن ثابت ہوتی رہی ہے۔ اس لیے میری نظر میں اردو بلاگنگ کو فروغ دینے اور اس کی کریڈیبلیٹی بحال کرنے کے لیے ایک پائیدار اردو بلاگ ہوسٹنگ سروس بہت ضروری ہے۔ موجودہ اردو بلاگ ہوسٹنگ سائٹس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا بہتر ادراک کریں۔</p>
<p>اردو بلاگز کے فیڈ ایگریگیٹر</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.zackvision.com/weblog/" >زکریا </a>نے پہلی مرتبہ اردو سیارہ کے نام سے اردو بلاگز کا ایک فیڈ ایگریگیٹر سیٹ اپ کیا تھا۔ اردو سیارہ کی بدولت تمام اردو بلاگرز کی تحاریر کو ایک جگہ پر پڑھنا ممکن ہو گیا۔ اردو سیارہ نے اردو بلاگنگ کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعد میں <a target="_blank" href="http://www.urdutech.net/venus/" >اردو ٹیک وینس</a> اور چند دوسرے فیڈ ایگریگیٹر بھی بنائے گئے۔ عام طور پر اس طرح کے فیڈ ایگریگیٹرز میں بلاگ پوسٹس کی ایک یا دو سطریں نظر آتی ہیں اور باقی پوسٹ پڑھنے کے لیے متعلقہ بلاگ پر ہی جانا پڑتا ہے۔ لیکن چونکہ اردو بلاگز کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے، اس لیے اردو بلاگز کے فیڈ ایگریگیٹر قدرے بڑا اقتباس یا پھر پوری پوسٹ شامل کرتے رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ سامنے آیا ہے کہ اردو سیارہ اور اس طرح کی دوسری سائٹس فیڈ ایگریگیٹر سے زیادہ ایک فورم کی شکل اختیار کر گئی ہیں، یا کم از کم اردو بلاگرز انہیں اسی انداز میں دیکھتے ہیں۔ منظرنامہ کی ایک پوسٹ پر ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے اسی بات کی نشاندہی کروائی تھی کہ اردو بلاگر قارئین سے زیادہ اب ایک دوسرے کے لیے لکھتے  ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات قابل غور ہے۔ حال ہی میں اردو سیارہ میں ایک بلاگ کی شمولیت کے حوالے سے کچھ شکایات سامنے آئی تھیں، وہ بھی غالباً اسی وجہ سے تھیں کہ شاید اردو بلاگر اردو سیارہ اور اردو ٹیک وینس کو محض فیڈ ایگریگیٹر کی بجائے ایک فورم کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>اردو بلاگنگ کے فروغ کے لیے تجاویز</p>
<p>میں یہاں اردو بلاگنگ کو فروغ دینے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں چند تجاویز بھی پیش کروں گا۔ اس سلسلے میں میری پہلی تجویز یہ ہے کہ لوگوں کو اردو بلاگنگ کی طرف لانے کی فعال کوشش کی جائے۔ اس کی مثال اردو ٹیک پر <a target="_blank" href="http://mohib.urdutech.com/" >محب علوی </a>کا لوگوں کو اردو بلاگنگ کی طرف لانا ہے جس کے نتیجے میں کئی بہترین اردو بلاگ وجود میں آئے ہیں۔ میرے خیال میں انہی لائنز پر چلتے ہوئے مشہور پاکستانی بلاگرز، جو کہ انگریزی میں بلاگ لکھتے ہیں، کو اردو بلاگ لکھنے کی دعوت دی جانی چاہیے۔ مغربی میڈیا کے اکثر کالم نویس اور تجزیہ نگاروں کی اپنی ویب سائٹس اور بلاگ موجود ہیں جبکہ اردو میں اس طرح کی کوئی ویب سائٹس یا بلاگ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ میرے خیال میں اگر مشہور کالم نویسوں کو اردو بلاگ لکھنے پر آمادہ کیا جائے تو اس سے بھی اردو بلاگنگ کی مقبولیت اور کریڈیبیلیٹی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں میری مشہور کالم نگار اوریا مقبول جان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں نے انہیں اردو بلاگ لکھنے کا کہا تھا اور انہوں نے اس میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔ میرے خیال میں کچھ کالم نویس خواتین و حضرات کو محض بلاگ ہی نہیں بلکہ علیحدہ ڈومین اور ویب سپیس آفر کی جانی چاہیے۔ اگر شروع میں کچھ اردو کالم نویس حضرات نے بھی بلاگ لکھنا شروع کر دیا تو اس سے باقی صحافیوں کو بھی تحریک ملے گی۔ اردو بلاگ ہوسٹنگ سائٹس کے منتظمین کو اس جانب بھی توجہ کرنی چاہیے۔</p>
<p>موضوعاتی بلاگ</p>
<p>آخر میں میں موضوعاتی بلاگ لکھنے کی تجویز کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ یہ تجویز فیصل نے پیش کی تھی اور میری دانست میں یہ ایک نہایت عمدہ تجویز ہے، اگرچہ اس بارے میں کچھ غلط فہمی بھی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ موضوعاتی بلاگنگ کی تجویز کا مقصد اردو بلاگنگ کو کسی ضابطے کے تحت لانا نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک تجویز ہے کہ ایسے اردو بلاگ سیٹ اپ کیے جائیں جہاں کسی ایک خاص موضوع پر معلوماتی تحاریر شائع کی جائیں، اور بہتر یہ ہوگا اگر کسی ایک موضوع میں دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات ایک ہی بلاگ پر اپنی تحاریر شائع کریں۔ اس طرح اردو بلاگنگ کا ایک بہت تعمیری استعمال سامنے آئے گا۔ اردو میں موضوعاتی بلاگ پہلے سے موجود ہیں۔ اردو ویب بلاگ اس کی سب سے پرانی مثال ہے جہاں اردو کمپیوٹنگ سے متعلقہ موضوعات پر مبنی تحاریر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ منظرنامہ اور <a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/" >اردو ماسٹر</a> بھی موضوعاتی بلاگ ہیں۔ ایسے بے شمار موضوعات ہیں جن پر بلاگ لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں حالات حاضرہ سے لے کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات شامل ہیں۔ میرے ذہن میں اردو ٹائپوگرافی کے حوالے سے ایک بلاگ کا آئیڈیا بھی موجود تھا جہاں اردو فونٹ سازی کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔  ٹائپوگرافی کے ماہرین کو اس موضوع پر ایک بلاگ ضرور سیٹ اپ کرنا چاہیے۔ </p>
<p>اس مضمون میں میں نے انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ میں اردو بلاگنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور اردو بلاگنگ کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ دوستوں کو یہ تجاویز پسند آئیں گی اور اس سلسلے میں میں آپ کی جانب سے بھی تجاویز کا منتظر رہوں گا۔<br />
خیر اندیش<br />
نبیل حسن نقوی</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/urdubloggingscene/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>21</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلاگنگ کیا ہے؟‌ از راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Feb 2009 23:09:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=240</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ پر نقظہ نظر کے سسلے میں‌اس بار &#8220;بلاگنگ کیا ہے؟&#8220;‌کو موضوع بحث بنایا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ مضمون کی حدود قیود بھی کچھ سوالات کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں‌ میرا پاکستان بلاگ کے افضل صاحب‌ اپنی ایک تحریر پہلے ہی شائع کرچکے ہیں۔ اس مضمون میں میری کوشش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">منظر نامہ پر نقظہ نظر کے سسلے میں‌اس بار &#8220;<a href="http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/"  target="_blank">بلاگنگ کیا ہے؟</a>&#8220;‌کو موضوع بحث بنایا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ مضمون کی حدود قیود بھی کچھ سوالات کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں‌ میرا پاکستان بلاگ کے افضل صاحب‌ اپنی <a href="http://www.mypakistan.com/?p=2192"  target="_blank">ایک تحریر</a> پہلے ہی شائع کرچکے ہیں۔ اس مضمون میں میری کوشش ہوگی کہ پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اپنا نقطہ نظر واضح‌کروں اور ساتھ ساتھ دوسرے اردو بلاگرز سے یہ اپیل بھی کہ مشترکہ بلاگنگ کے اس سلسلے کو فروغ دیں تاکہ مزید اور وسیع مشترکہ اردو بلاگز وجود میں‌ آسکیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>بلاگنگ کیا ہے؟ بلاگنگ کی اہمیت۔</strong><br />
بلاگنگ کی کوئ ایک تعریف وضع کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ اسے ہم ایک اضافی اصطلاح بھی کہہ سکتے ہیں‌ جہاں بلاگنگ کرنے والے اپنے ماحول کے حساب سے اس کی مختلف تعریف کرسکتے ہیں۔ ایک کارپوریٹ نیوز نیٹ ورک کے لیے بلاگ کی تعریف اس سے کہیں مختلف ہوگی جو ایک عام روز مرہ کے معمولات انٹرنیٹ پر شائع کرنے والے بلاگر کا  مقصد۔ بہت ہی وسیع تعریف کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں‌ کہ معلومات کے تبادلے، احساسات و جذبات کے اظہار اور تبادلہ خیال کے لیے تکلفات سے مبرا صوتی، بصری یا تحریری ذریعہ اظہار کے لیے ویب کا استعمال بلاگنگ کہلائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">بلاگنگ کو انفارمیشن کی ترسیل کا تیز ترین ذریعہ کہا جاسکتا ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر اس کے استعمال کا دائرہ کار بھی وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ اظہار رائے کی مطلق آزادی ہی دراصل بلاگ کو دوسرے ذرائع سے ممتاز بناتی ہے یہی وجہ ہے کہ عام معلومات کے حصول کے دوسرے ذرائع خود انفارمیشن کی تیز ترین ترسیل کے لیے <a href="http://ac360.blogs.cnn.com/"  target="_blank">بلاگز کا سہارا</a> لینے لگے ہیں۔ عام قاری، ناظر اور سامع کے لیے فوری طور پر کسی بھی مباحثہ یا انفارمیشن کی زنجیر میں‌ اپنی آواز شامل کرنا بلاگنگ کا ایک اہم اور خصوصی  پہلو ہے اسی وجہ سے آپ اس کو آج کی دنیا کا آزاد ترین میڈیا کہہ سکتے ہیں۔ بلاگنگ کی اہمیت اور اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی آزادی کی دشمن حکومتیں بلاگنگ اور بلاگرز پر خصوصی توجہ دینے لگی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>کیا بلاگنگ کے کچھ اصول ہیں؟‌</strong><br />
بلاگنگ کا واحد اور سنہرا اصول ایمانداری ہے یعنی جو کچھ آپ بلاگ میں بیان کررہے ہیں اس کی سچائی میں آپ پورے ایماندار ہیں‌ اور جانتے بوجھتے حقیقت کو توڑنے مروڑنے کی کوشش نہیں کرتے تو بلاگ کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگنگ کا جو بھی اصول وضع کیا جائے یا بیان کیا جائے اس کے اطلاق پر بحث کی جاسکتی ہے اور غالبا اس کا اطلاق مختلف سوچ، ثقافت اور قومیت کے بلاگز پر یکساں طور پر نہ کیا جاسکے۔ بنیادی طور پر ایک ذاتی بلاگ کے اصول و قواعد بلاگر اپنی سوچ کے حساب سے خود وضع کرتا ہے یعنی جو بات اس کے نزدیک درست ہو وہی اصول کہلائے گا اور ایک مشترکہ بلاگ کے اصول و قوانین کسی ادارے یا متعلقہ افراد کے  کے باہمی مشورے سے طے کیے جاتے ہیں جس میں لامحالہ ادارے یا گروہ کے مفادات کا تحفظ پہلا اور بنیادی اصول ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>بہترین بلاگنگ کا میعار کیا ہے؟</strong><br />
جیسا کے بلاگ کی تعریف کے سلسلے میں اضافیت کے قانون کا اطلاق کیا گیا بالکل اسی طرح &#8220;بہترین&#8221;‌ بھی ایک اضافی اصطلاح ہے جس کی ایک تعریف ممکن نہیں جو چیز کسی فرد یا کمیونٹی کی نظر میں بہترین مانی جاتی ہو عین ممکن ہے کہ کوئی دوسرا فرد یا کمیونٹی اسی چیز کو بہترین نہ سمجھتا ہو کیونکہ بلاگنگ کو اس اصول سے ماوراء‌نہیں سمجھا جاسکتا چناچہ ہم مطلق بہترین کا فیصلہ نہیں‌ کرسکتے۔ ہاں چند باتوں‌ پر توجہ دے کہ کسی بھی بلاگ کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے<br />
1۔ بلاگ تسلسل سے لکھا جائے۔<br />
2۔ جس موضوع پر لکھنا مقصود ہو اس سے متعلقہ معلومات کی تصدیق کر لی جائے اور جہاں ضرورت ہو بلاگ میں‌ روابط فراہم کیے جائیں۔<br />
3۔ اختلاف رائے کا احترام کیا جائے۔<br />
4۔ بہت بڑی اکثریت کی رائے سے اختلاف کرنا ہو تو الفاظ کے چناؤ میں‌خصوصی احتیاط برتی جائے تاکہ بلاگ پر فتنہ کی چھاپ نہ لگے۔<br />
5۔ جہاں‌ تک ممکن ہو اپنے الفاظ استعمال کیے جائیں دوسرے ماخذین سے مواد مسلسل بلاگ میں شائع کرنے سے آپ اپنے بلاگ کی شناخت سے محروم ہوجائیں گے اور قارئین کے لیے آپ کے بلاگ کی اہمیت ختم ہوجائے گی کیونکہ ایک ہی کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کے انفارمیشن کے حصول کے ماخذ کم و بیش یکساں ہوتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong>اردو انگریزی کی بحث۔</strong><br />
بلاگنگ کے لیے سب سے بہترین زبان وہی ہے جس میں‌ آپ بھرپور اظہار خیال کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہی کئ <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/01/venus-english-blog/"  target="_blank">مباحثے</a> ہوچکے ہیں اور دونوں‌ اطراف کے لوگوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ میری نظر میں اردو اور انگریزی دونوں‌میں ہی پاکستانی بلاگرز اچھی اور میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور دونوں زبانوں میں ہی بے کار اور لا حاصل بلاگنگ کا سلسہ بھی جاری ہے۔ نا اردو بلاگرز کے پاس کسی موضوع پر معلومات کی کمی ہے اور نا ہی انگریزی میں‌کچھ ایسا لکھا جارہا ہے جس پر اردو میں نہیں لکھا گیا یا نہیں‌ لکھا جاسکتا۔ اردو بلاگنگ بہرحال ابھی ابتدائی دنوں میں‌ہے اور مختلف لوگ انواع و اقسام کے خیالات پر کام کررہے ہیں اور جلد ہی یہ بحث بھی اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%e2%80%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b1%d8%a7%d8%b4%d8%af-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلاگنگ کیا ہے؟</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 02 Feb 2009 20:57:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگنگ کیا ہے?، اردو، انگریزی، پاکستانی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=218</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم، ہم سلسلہ نقطہ نظر کے ساتھ حاضر ہیں۔ کچھ ماہ پہلے ہم نے بلاگرز کو ایک عنوان دیا تھا کہ &#8220;بلاگنگ کیوں؟&#8221; یعنی آپ ، میں اور ہم بلاگنگ کیوں کرتے ہیں۔ آج کا موضوع اس  سے کچھ ملتا جلتا ہے۔ ہم بات کریں گے کہ “اصل میں بلاگنگ ہے کیا؟“ اکثر کچھ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">السلام علیکم،</p>
<p style="text-align: right;">ہم سلسلہ نقطہ نظر کے ساتھ حاضر ہیں۔ کچھ ماہ پہلے ہم نے بلاگرز کو ایک عنوان دیا تھا کہ &#8220;<a href="http://www.manzarnamah.com/2008/10/blogging-kion/" >بلاگنگ کیوں؟</a>&#8221; یعنی آپ ، میں اور ہم بلاگنگ کیوں کرتے ہیں۔ آج کا موضوع اس  سے کچھ ملتا جلتا ہے۔ ہم بات کریں گے کہ “اصل میں بلاگنگ ہے کیا؟“ اکثر کچھ سنئیر بلاگرز کی طرف سے یہ تنقید سننے کو ملتی رہتی ہے کہ “اردو بلاگرز کو بلاگنگ کا کچھ علم نہیں اور اردو بلاگرز اکثر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور کچھ نیا اردو بلاگز پر پڑھنے کو نہیں ملتا۔ مزید اردو بلاگز پر ایک دوسرے کی تنقید کی روایت بھی چل نکلی ہے۔“ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اکثر پڑھنے کو ملتا ہے کہ “ہمیں انگریزی بلاگرز سے سیکھنا چاہیے۔ پاکستانی انگریزی بلاگرز کا معیار پاکستانی اردو بلاگرز سے بہتر ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔“</p>
<p style="text-align: right;">ہم نے ایسی ہی تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار سلسلہ&#8221;<a href="http://www.manzarnamah.com/category/%D9%86%D9%82%D8%B7%DB%81-%D9%86%D8%B8%D8%B1/" >نقطہ نظر</a>&#8221; کے تحت منظرنامہ کے قارئین کے لیے یہ موضوع منتخب کیا ہے،  کہ &#8220;بلاگنگ کیا ہے؟&#8221;آپ سب بلاگرز سے ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس موضوع پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرے۔ تاکہ ہر کسی پر ایک دوسرے کے خیالات عیاں ہو سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مقصد یہ بھی ہے کہ جو بلاگنگ میں نئے ہیں یا بلاگنگ سے نابلد ہیں، اگر وہ معلوم کرنا چاہیں کہ بلاگنگ کیا ہے؟ تو آپ سب کی تحاریر سے ان کو اندازہ ہو سکے کہ دراصل بلاگنگ ہے کیا؟</p>
<p style="text-align: right;">1۔ بلاگنگ کیا ہے اور آپ کی نظر میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ (یہاں بلاگنگ سے مراد صرف اردو بلاگنگ نہیں بلکہ آپ نے صرف لفظ “بلاگنگ“ کی وضاحت کرنی ہے۔<br />
2۔ کیا واقعی بلاگنگ کے کچھ اصول ہیں یا پھر بلاگ ایک ذاتی بیاض کی سی حیثیت رکھتا ہے، جس پر ایک بلاگر کچھ بھی لکھ سکتا ہے؟<br />
3۔ بہترین بلاگ کا معیار کیا ہے یا کس طرح ایک بلاگر اپنے آپ کو بلاگنگ کی دنیا میں نمایاں کر سکتا ہے؟</p>
<p style="text-align: right;">یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ہر کسی میں بہترین انداز میں لکھنے کی قابلیت نہیں ہوتی۔ ہر کوئی اپنے انداز میں لکھتا ہے۔ تو یہ تنقید کس لیے؟ آپ سنیئر بلاگر ہیں یا جونیئر، یا  آپ بلاگ لکھتے ہیں یا نہیں لکھتے۔۔۔۔آپ بلاگنگ کو کیا سمجھتے ہیں؟ اور کیا آپ کی نظر میں واقعی اردو بلاگرز میں کوئی کمی یا خامی ہے؟  اگر واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی انگریزی بلاگنگ اور اردو بلاگنگ میں نمایاں فرق ہے؟ تو کیوں؟  یا اس کے علاوہ آپ کچھ اس موضوع میں شامل کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس کے لیے آپ اپنے خیالات کا اظہار منظر نامہ پر بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنے بلاگز پر بھی تحاریر لکھ سکتے ہیں۔جن کے روابط ہم منظر نامہ پر اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔ اگر آپ منظر نامہ پر لکھنا چاہتے ہیں تو <a href="http://www.manzarnamah.com/write-on-manzarnama/" >اس صفحے</a> پر اس کا طریقہ کار جانئے اور ہمیں میل کیجیے۔ مزید تفصیلات ہم آپ کو میل میں بھیج دیں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">اپڈیٹ: آپ اس موضوع پر 20 فروری تک لکھ سکتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">بلاگرز کی تحاریر:</p>
<p style="text-align: right;">1۔ &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2192" >بلاگنگ کیا ہے</a>&#8221; برائے &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a>&#8220;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/what-is-blogging/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلاگنگ کیوں؟ از راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/11/blogging-kion1/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/11/blogging-kion1/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 02 Nov 2008 04:02:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ نظر، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=179</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ اپنی طرز کا ایک منفرد سلسہ ہے جس میں اردو بلاگرز کو مختلف موضوعات پر لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ موضوعات پر بلاگرز کو لکھنے کی دعوت دی جاچکی ہے اور بشمول خود میرے کئی دوسرے بلاگرز اپنے اظہاریے منظر نامہ کی زینت بنا چکے ہیں۔ گو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ اپنی طرز کا ایک منفرد سلسہ ہے جس میں اردو بلاگرز کو مختلف موضوعات پر لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ موضوعات پر بلاگرز کو لکھنے کی دعوت دی جاچکی ہے اور بشمول خود میرے کئی دوسرے بلاگرز اپنے اظہاریے منظر نامہ کی زینت بنا چکے ہیں۔ گو کہ ابھی تک اس سلسے میں وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جسکی امید کی جاتی رہی ہے لیکن منظر نامہ میں‌اس بار “بلاگنگ کیوں؟”‌کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس بات کی قوی امید ہے کہ کئی دوسرے بلاگرز اس انتہائی دلچسپ سلسلے میں‌ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔</p>
<p>سوال بڑا دلچسپ ہے۔ بظاہر سادہ لیکن دماغ میں پیچیدہ سوچوں کا ایک جم غفیر اکھٹا کرنے کے لیے کافی۔ اتنے وسیع موضوع پر بلاشبہ ایک سے زیادہ آراء ہوں گی چناچہ عمومی نکتہ نظر کے بجائے اسے آپ “میں‌بلاگنگ کیوں کرتا ہوں” کی عینک سے دیکھے گئے منظر کی روداد گردانیے۔</p>
<p>بلاگنگ آزادی اظہار رائے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو ایک گھٹن زدہ ماحول میں طویل عرصہ زندگی گزارنے والے انسان کی زندگی میں نعمت کا درجہ رکھتی ہے چناچہ میری نظر میں‌بلاگنگ کا اولین مقصد اپنے سب سے پہلے حق یعنی سوچنے، سمجھنے اور اظہار کرنے کی آزادی کا لطف لینا ہے۔ بات جب عمومی اظہار کی ہوتو پھر موضوعات میں‌بھی تنوع آجاتا ہے اور بلاگ افقی طور پر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔</p>
<p>بلاگنگ کا دوسرا اہم سبب اپنا علم اور تجربات دوسروں‌تک پہنچانا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر علم اور تجربات دوسروں‌تک پہنچانا اولین ترجیح ہو تو پھر موضوعاتی بلاگ وجود میں‌آتا ہے اور عمودی طور پر پھیلنا شروع کردیتا ہے جسکی کئی مثالیں آپ کو بلاگستان میں‌نظر آسکتی ہیں۔ <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >محمد علی مکی</a> اور <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> کے بلاگز کو آپ موضوعاتی یا عمودی بلاگ کی مثالوں‌کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔</p>
<p>بنیادی طور پر میں متوازی سچائیوں‌‌کے فلسفے کا قائل ہوں اور بلاگنگ میں اس فلسفے کی عملی شکل میرے لیے ایک اہم کشش کا باعث ہے۔ بلاگنگ مجھے میرے ہم خیال اور میری سوچ سے اختلاف رکھنے والے لوگوں‌سے گفتگو کا موقع فراہم کرتی ہے جو اصلاح‌ کا ایک بہت بہترین ذریعہ ہے اور “برقی معاشرتی تعلقات”‌ کا سب سے بڑا ماخذ۔ بلاگنگ میرے لیے محبت، نفرت، شدت اور تمام دوسرے انسانی جذبات کے اظہار و اخراج کا سب سے مثبت ذریعہ ہے اور شاید ایک عام انسان کے لیے اپنے بعد اپنی میراث‌چھوڑ‌جانے کا ایک انوکھا انداز۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/11/blogging-kion1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلاگنگ کیوں؟</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/10/blogging-kion/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/10/blogging-kion/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 31 Oct 2008 00:43:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ نظر، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=177</guid>
		<description><![CDATA[ہمارا بلاگ منظر نامہ ایک طرح سے بلاگ خبر نامہ کی طرح ہے جس میں بلاگرز ایک دوسرے کے ساتھ جان پہچان بھی بڑھا رہے ہیں اورساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کی دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے اس بارے میں بھی کچھ نیاجان رہے ہیں۔ بلاگ کیا ہے؟ میرے خیال میں تو بلاگ کسی بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارا بلاگ منظر نامہ ایک طرح سے بلاگ خبر نامہ کی طرح ہے جس میں بلاگرز ایک دوسرے کے ساتھ جان پہچان بھی بڑھا رہے ہیں اورساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کی دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے اس بارے میں بھی کچھ نیاجان رہے ہیں۔</p>
<p>بلاگ کیا ہے؟ میرے خیال میں تو بلاگ کسی بھی بلاگر کے لیے ہائیڈ پارک کی طرح سے ہے۔۔جہاں وہ بلاججھک اپنے دل کی بات کہہ سکتا ہے۔۔۔۔یہاں اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پوسٹ حذف ہونے کا خطرہ ہے۔ بلاگر خود ہی منتظم ہوتا ہے اور خود ہی رکن <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p>اردو بلاگنگ میں ماشاءاللہ اب ہر رنگ نظر آرہا ہے۔۔۔کہیں آپ کو سیاسی نوک جھوک نظر آتی ہے تو کسی جگہ محبتوں میں ڈوبی ہوئی شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔۔۔ کسی جگہ مزیدار قسم کے پکوانوں کو تراکیب آپ کے منہ میں پانی لاتی ہیں تو کسی جگہ کسی کی آپ بیتی آپ کی آنکھیں نم کردیتی ہے۔ الغرض بلاگنگ اب ہر موضوع ہر ہورہی ہے۔</p>
<p>منظر نامہ پر لکھتے ہوئے ہمارے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ بلاگر حضرات سے پوچھا جائے کہ وہ بلاگنگ کے لیے کیا سوچ کر آئے۔۔؟ وہ بلاگنگ کیوں کررہے ہیں۔۔؟ اور بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کوئی خاص مقصد سامنے تھا۔۔؟ آپ کی تحاریر سے دوسرے لوگوں کو بھی تحریک ملے گی کہ وہ بھی بلاگ کیوں اور کس موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہی ہے اس بار ہمارا “نقطہ نظر” کا موضوع۔ تو جلدی سے ہمیں اپنی تحاریر ارسال کیجیے۔ منظرنامہ پر اپنی تحریر شائع کرنے کا طریقہ کار جاننے کے لیے <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/write-on-manzarnama/" >یہ صفحہ</a> دیکھیں۔ یا ہمیں اپنی تحریر ہمیں بذریعہ ای۔میل بھیجیں۔ ہمارا ای۔میل ایڈریس یہ ہے:<br />
mail[at]manzarnamah.com</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/10/blogging-kion/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہائے رے بجلی از راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 26 Jul 2008 06:12:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/07/26/%db%81%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b1%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c%db%94/</guid>
		<description><![CDATA[یہ بھلے وقتوں کی بات ہے، بھلے وقتوں سے مراد کوئی بارہ، پندرہ برس پہلے کا تذکرہ ہے ، اب یہ گمان نہ کر بیٹھیے گا کہ ہم فرعون کے بھانجوں کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ خیر اُس وقت بجلی کا استعمال برقی قمقمے روشن کرنے سے زیادہ کا نہ تھا، میلاد محرم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یہ بھلے وقتوں کی بات ہے، بھلے وقتوں سے مراد کوئی بارہ، پندرہ برس پہلے کا تذکرہ ہے ، اب یہ  گمان نہ کر بیٹھیے گا کہ ہم فرعون کے بھانجوں کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ خیر اُس وقت بجلی کا استعمال برقی قمقمے روشن کرنے سے زیادہ کا نہ تھا، میلاد محرم بھی آج کل کے حساب سے سوچیں تو کافی “گرین“ قسم کے ہوا کرتے تھے اور ٹی وی نگوڑ مارا تو بڑا مقامی مقامی سا  تھا۔ شام کو بسم اللہ سے شروع اور رات گیارہ بجے فرمان الٰہی پر ختم۔ قصہ مختصر اس منحوس جنم جلی بجلی پر انحصار بس اتنا سا تھا کے اِدھر گئی اُدھر مٹی کے تیل کے دیے روشن یا غریب کی قسمت جیسی ایک لالٹین کو شعلہ دکھا دیا۔ چھوٹا سا گھر تھا، تھوڑی روشنی بھی بہت ہوا کرتی تھی کہ عام گھروں میں رت جگوں کا چلن ابھی معمول کی بات نہ تھی ۔ ہائے ہائے! کیا سادہ زندگی تھی جب بجلی جانے کی دعائیں مانگا کرتے تھے، اولاً تو پڑھائی کی چھٹی، دوم گلی میں ہلڑ بازی اور چھپن چھپائی  کس کو بری لگتی ہے۔ ٹیلیویژن بھی بس چوتھی اولاد کی طرح دیکھا دیکھا نا دیکھا نا دیکھا۔ ہاں ڈرامے طویل دورانیے کے ہوا کرتے تھے،  ہمارے جیسے لوگوں کی کہانیوں پر مبنی، قلیل دورانیے کی ڈھیں ڈھیں ڈُش ڈُش ابھی وبا نہیں بنی تھی۔</p>
<p>خدا جانے سیدوں کی بدعا کا اثر تھا کے موئے یہودیوں کی سازش، امریکی امداد اور بجلی،  طاعون کی طرح پورے معاشرے کو نگل گئے۔ اے لو! بھیا امریکی امداد اور بجلی کا تعلق کیوں نہیں ہے؟‌ دونوں ہوں تو دھڑکا لگا رہتا ہے جانے کم بخت کب چلی جائیں، اور نہ ہوں تو “اب کے ساون گھر آجا“ کی مثال۔ خدا لگتی کہتا ہوں، لگی لپٹی کی عادت  نہیں اب تو سانس لینے کے لیے بھی بجلی کے محتاج ہوگئے ہیں‌۔ دل پر ہاتھ رکھوں، رہا تو ہم سے بھی نہیں جاتا اس قاتل کے بغیر۔ لیکن بے رخی کی بھی حد ہوتی ہے، اتنے نخرے تو امراؤ جان کے بھی کسی نے نہیں اٹھائے۔ میاں پرانے آدمی ہیں لیکن جدید کھلونوں کا شوق عمر دیکھتا ہے کیا؟ خیر سے آٹھ دس برقی کھلونوں کے مالک ہیں، اب آپ ہی سوچیں کھلونے ہوں تو کھیلنے کو دل تو مچلتا ہے نا؟ پر یہ ہیں کہ روٹھی رہتی ہیں، دوسرے برس کی منگتیر کی طرح۔</p>
<p>ارے میں تو کہتا ہوں بہت ہوا۔ سوچتا ہوں صاحب لوگوں کے بنگلے کے پچھواڑے کٹیا ڈال لیتے ہیں اُنہیں بجلی کی کیا کمی۔ اتنی بجلی تو اپنی جیب میں رکھے پھرتے ہیں جتنی ہمارے جیسے قلندر زندگی بھر استعمال بھی نہ کرسکیں۔ خدا غارت کرے ان فرنگیوں کو، ارے کافروں جب جدید چیزیں بنانی ہی ٹہریں تو کچھ بغیر بجلی کے بھی بنالو، لیکن کہاں! مسلمانوں کا بھلا تو تم فرنگیوں سے دیکھا ہی نہیں جاتا،   کوئی بڑھکوں سے چلنے والی مشین بناؤ تو جانیں، پھر کہیں گے پھیکی رنگت کی جے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haeyre-bijlee-rkamran/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہائے رے بجلی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haey-re-bijlee/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haey-re-bijlee/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 19 Jul 2008 11:45:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/07/19/haey-re-bijlee/</guid>
		<description><![CDATA[کہتے ہیں، اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔ ؛۔) ہاں، ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں کی عوام ہر کچھ دیر بعد ایک خوشی حاصل کرتی ہے اور پھر زور سے نعرہ مارتی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a target="_blank" href="http://www.youtube.com/watch?v=NizU4ridIfE" >کہتے ہیں، اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔</a> ؛۔) ہاں، ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں کی عوام ہر کچھ دیر بعد ایک خوشی حاصل کرتی ہے اور پھر زور سے نعرہ مارتی ہے۔۔۔۔ &#8220;لائٹ آگئی۔۔۔۔!!!&#8221; شاید ہماری حالت زار پر پہلی کے بجائے صرف دوسری بات ہی صادق آتی ہے۔</p>
<p>&#8220;ارے دیکھو تو سہی، ابھی اتنے گھنٹے بعد بجلی آئی تھی اور منحوس مارے پھر لے گئے۔۔۔&#8221; &#8220;میرا اتنا اچھا ڈرامہ آرہا تھا ٹی۔وی پر۔۔۔&#8221; &#8220;مااااااں۔۔۔ پھر بجلی چلی گئی۔۔۔ میں نے کام کرنا تھا۔&#8221; ایسے مکالمے تو ہمارے گھروں میں سنے جانا معمول بن گیا ہے۔۔۔ اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں یا کبھی رہنے کا اتفاق (حسن اتفاق یا سوئے اتفاق؟) ہوا ہے تو یقینا اس مصیبت کا سامنا ضرور کیا ہوگا۔ تو پھر کیا خیال ہے، ہوجائے اس موضوع پر ایک ہلکی پھلکی تحریر۔۔۔؟</p>
<p>جی ہاں، منظرنامہ کے سلسلہ &#8220;نقطہ نظر&#8221; کے لیے ہمارا نیا موضوع ہے: &#8220;ہائے رے بجلی&#8221; اور ہمیں امید ہے کہ اس موضوع پر ہمیں دلچسپ تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔۔۔!</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
جو قارئین منظرنامہ کے لیے لکھنا چاہتے ہیں لیکن انہیں رجسٹر ہونے کا جھنجٹ گوارا نہیں، ان کے لیے سہولت ہے کہ اب وہ ہمیں اپنی تحریر ای۔میل کرسکتے ہیں۔ ہم خود ان کے نام سے تحریر شائع کردیں گے۔ ہمارے ای۔میل ایڈریس کی تو خبر ہے نا؟<br />
<a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/files/2008/05/mail.png"  title='email'><img src='http://focus.urdutech.net/files/2008/05/mail.png' alt='email' /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/07/haey-re-bijlee/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار اور پاکستان کا نظامِ تعلیم (از ایم بلال)</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system-2/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system-2/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 20 Jun 2008 00:27:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/20/pakistan-education-system-2/</guid>
		<description><![CDATA[ سب سے پہلے میں منظر نامہ کا شکریہ ادا اور مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اتنا اچھا سلسلہ شروع کیا۔       تعلیم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی مذہب، معاشرہ یا ملک ہو ہر کوئی تعلیم کی طرف زور دیتا ہے۔ اسلام نے بہت زیادہ تعلیم پر زور دیا ہے۔ اللہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p align="right"><font face="Times New Roman"> </font>سب سے پہلے میں منظر نامہ کا<font face="Times New Roman"> </font>شکریہ ادا اور مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اتنا اچھا سلسلہ شروع کیا۔<font face="Times New Roman">   </font></p>
<p align="right"><font face="Times New Roman">   </font>تعلیم کی اہمیت سے کوئی<font face="Times New Roman"> </font>انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی مذہب، معاشرہ یا ملک ہو ہر کوئی تعلیم کی طرف زور<font face="Times New Roman"> </font>دیتا ہے۔ اسلام نے بہت زیادہ تعلیم پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت محمدﷺ کی<font face="Times New Roman"> </font>طرف پہلی وحی بھیجی تو وحی کا پہلا لفظ ہی &#8220;پڑھ&#8221; تھا۔ ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں<font face="Times New Roman"> </font>کہ کسی کام کی شروعات صرف اور صرف تعلیم سے ہی ہو سکتی ہے اور کوئی کام تعلیم کے<font face="Times New Roman"> </font>بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ مختلف آیات اور احادیث میں تعلیم کی<font face="Times New Roman"> </font>اہمیت واضع الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔۔۔</p>
<p align="right">رہی بات پاکستان کے<font face="Times New Roman"> </font>نظامِ تعلیم کی تو جب سے ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ تاریخ کھول کر دیکھیں تو یہ بات کھل<font face="Times New Roman"> </font>کر سامنے آ جاتی ہے کہ آج تک پاکستان میں کوئی ایک معیاری تعلیمی نظام رائج ہی نہیں<font face="Times New Roman"> </font>ہو سکا۔ ہر حکومت تعلیم کے فروغ کے لئے نئے سے نئے تجربے کرتی ہے جو کہ پہلے نظام<font face="Times New Roman"> </font>سے بھی برے نتائج لاتا ہے لیکن اصل مسئلے کی طرف نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ ہی اس کا<font face="Times New Roman"> </font>کوئی حل سوچا جاتا ہے۔میری نظر میں پاکستان کے<font face="Times New Roman"> </font>نظامِ تعلیم کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں۔</p>
<ul>
<li>
<p align="right">اپنی زبان سے دوری<font face="Times New Roman"> </font></p>
</li>
<li>
<p align="right">طبقاتی تفریق<font face="Times New Roman"> </font></p>
</li>
<li>
<p align="right">ریسرچ اور معیارِ تعلیم کا فقدان<font face="Times New Roman"> </font></p>
</li>
</ul>
<p align="right">ہمارے نظامِ تعلیم میں سب سے<font face="Times New Roman"> </font>بڑا مسئلہ اپنی قومی زبان اردو سے دوری ہے۔ ہم انگریزی کو اعلٰی مرتبہ کی زبان سمجھ<font face="Times New Roman"> </font>بیٹھے ہیں اور ہاتھ دھو کر انگریزی کی اندھی تقلید اور اردو کے دشمن ہو چکے ہیں۔<font face="Times New Roman"> </font>ہمارے عام لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ انگریزی عالمی زبان ہے اس لئے اسے اپنانا<font face="Times New Roman"> </font>چاہئے۔ ویسے بھی جدید ٹیکنالوجی نے انگریزی میں ترقی کی ہے اس لئے جدید ٹیکنالوجی<font face="Times New Roman"> </font>کو پڑھنے کے لئے انگریزی بہت ضروری ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ اگر<font face="Times New Roman"> </font>جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے انگریزی ہی ضروری ہے تو باقی ترقی یافتہ ممالک<font face="Times New Roman"> </font>جنہوں نے اپنی قومی زبانوں میں ترقی کی ہے وہ انگریزی کے بغیر ترقی کیسے کر گئے<font face="Times New Roman"> </font>ہیں۔ دنیا کے زیادہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے نہ کہ کسی<font face="Times New Roman"> </font>دوسری زبان میں۔<font face="Times New Roman"> </font>انسان ہمیشہ اپنی زبان میں ہی<font face="Times New Roman"> </font>سوچتا ہے۔ اگر آج پاکستان میں نظامِ تعلیم کی زبان اردو کر دی جائے تو ایسے ایسے<font face="Times New Roman"> </font>شاہکار ہوں جن کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ میرے ایک چھوٹے سے سروے کے مطابق<font face="Times New Roman"> </font>دیہاتی بچے جو پڑھ نہیں پاتے اور پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اُن میں سے تقریباً 95 فیصد<font face="Times New Roman"> </font>صرف انگریزی کی وجہ سے چھوڑتے ہیں۔ اگر آپ میٹرک میں فیل ہونے والے طلباء کا جائزہ<font face="Times New Roman"> </font>لیں تو اُن میں سے تقریباً 80 فیصد انگریزی کے مضمون میں فیل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد<font face="Times New Roman"> </font>انٹرمیڈیٹ کا حال بھی عجیب ہی ہے۔ ایک طالب علم ساری زندگی اردو میں پڑھتا ہے پھر<font face="Times New Roman"> </font>اچانک کالج پہنچ کر سب کچھ اردو کی بجائے انگریزی میں ہو جاتا ہے تو اسے ٹیکنیکلی<font face="Times New Roman"> </font>سمجھ تو سب آ جاتی ہے لیکن انگریزی کی وجہ سے وہ لکھ نہیں پاتا۔ جن کی میرے پاس<font face="Times New Roman"> </font>میرے ساتھ کالج میں پڑھنے والے کئی طالب علموں کی مثالیں موجود ہیں۔ قومی زبان کے<font face="Times New Roman"> </font>علاوہ دوسری زبان میں تعلیم کی وجہ سے کئی طالب علم کم نمبر لیتے ہیں یا فیل ہو<font face="Times New Roman"> </font>جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دل چھوڑ<font face="Times New Roman"> </font> دیتے ہیں اور تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد<font face="Times New Roman"> </font>گریجوایشن آتی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے آرٹس کے طالب علم جو فیل<font face="Times New Roman"> </font>ہوتے ہیں اُن میں 97 فیصد صرف انگریزی میں فیل ہوتے ہیں اور یہاں ایک بات مشہور ہے<font face="Times New Roman"> </font>کہ آرٹس کا طالب علم صرف انگریزی پر دن رات کھپاتا ہے کیونکہ انگریزی لازمی<font face="Times New Roman"> </font>ہے۔ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی<font face="Times New Roman"> </font>کہ ہمیں بنیادی طور پر کسی طالب علم کا علم دیکھنا چاہئے نہ کہ کسی بیگانی زبان میں<font face="Times New Roman"> </font>مہارت۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انگریزی بالکل نہیں پڑھنی چاہئے بلکہ<font face="Times New Roman"> </font>میں تو کہتا ہوں کہ سارا نظامِ تعلیم اردو میں ہو تاکہ ایک عام طالب علم بھی آسانی<font face="Times New Roman"> </font>سے علم حاصل کر سکے اُس کے علاوہ جو انگریزی یا کوئی بھی دوسری زبان سیکھنا چاہے<font face="Times New Roman"> </font>ضرور سیکھے بلکہ علم میں اضافے کے لئے جتنی چاہے زبانیں سیکھے۔۔۔ کتنے افسوس کی بات<font face="Times New Roman"> </font>ہے بلکہ شرم کا مقام ہے کہ گریجویشن میں سائنس یا آرٹس میں انگریزی لازمی ہے اور<font face="Times New Roman"> </font>ہماری قومی زبان اردو صرف اس لئے ہے کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھے نہیں تو رہنے<font face="Times New Roman"> </font>دے۔۔۔</p>
<p align="right">ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ<font face="Times New Roman"> </font>طبقاتی تفریق ہے جو قومی زبان اردو اور انگریزی کو بنیاد بنا کر ہی ڈالا گیا ہے۔<font face="Times New Roman"> </font>پرائیویٹ ادارے کاروباری ذہن کے پیشے نظر انگریزی میں تعلیم دینے کو ترجیع دیتے ہیں<font face="Times New Roman"> </font>اور امراء کے بچے انہیں پرائیویٹ اداروں میں پڑھتے ہیں اور غریب گورنمنٹ کے اداروں<font face="Times New Roman"> </font>میں دھکے کھاتے ہیں۔ یہاں سے ہی طبقاتی تفریق ڈال دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی<font face="Times New Roman"> </font>گورنمنٹ کالج یا یونیورسٹی میں غریب کا بچہ دن رات کی سر توڑ محنت کے بعد میرٹ پر آ<font face="Times New Roman"> </font>کر داخل ہوتا ہے اور امیر کا بچہ سلف فنانس جیسی چیز جیب میں ڈالے داخل ہو جاتا ہے۔<font face="Times New Roman"> </font>یوں یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ غریب طالب علم طالب علم ہے اور امیر حکمران جو پیسے<font face="Times New Roman"> </font>سے کہیں بھی داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ اداروں کا معیار اتنا اچھا نہیں<font face="Times New Roman"> </font>جتنا پرائیویٹ کا اچھا ہے۔ چونکہ پرائیویٹ میں فیس بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے غریب<font face="Times New Roman"> </font>کی پہنچ سے دور اور امیر وہاں تعلیم حاصل کرتا ہے یوں امیر کا معیار غریب سے بلند<font face="Times New Roman"> </font>سمجھ لیا جاتا ہے۔ بات سیدھی سی ہے عام طور پر غریب کا بچہ ماسٹر کر کے کلرک بنتا<font face="Times New Roman"> </font>ہے اور امیر کا ماسٹر کر کے افسر۔۔۔ اسی طبقاتی تفریق کی وجہ سے سفارش اور رشوت کے<font face="Times New Roman"> </font>ذریعے امیروں کو نوکریاں ملتی ہیں لیکن غریب اس سے محروم رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے<font face="Times New Roman"> </font>غریب بچوں اور جوانوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ تعلیم حاصل<font face="Times New Roman"> </font>کر کے بھی ہمیں کچھ نہیں ملنا اس لئے بہتر ہے کہ جلد ہی اسے چھوڑوں اور کوئی مزدوری<font face="Times New Roman"> </font>کرو۔۔۔</p>
<p align="right"><font face="Times New Roman"> </font><font face="Times New Roman">      </font>پاکستان کے نظامِ تعلیم<font face="Times New Roman"> </font>میں ایک بیماری یہ بھی ہے کہ یہاں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی طالب علم نے کتنی<font face="Times New Roman"> </font>کتاب اپنے ذہن میں نقش کی ہے اور یہ کتنا لکھ سکتا ہے۔ عام طور پر چھٹی جماعت سے لے<font face="Times New Roman"> </font>کر گریجویشن تک امتحانات میں یہ ہی دیکھا جاتا ہے کہ کوئی طالب علم ایک خاص وقت میں<font face="Times New Roman"> </font>کتنا لکھ سکتا ہے۔ جو جتنا زیادہ لکھتا ہے اسے اتنے ہی نمبر ملتے ہیں۔ ہمارا معیار<font face="Times New Roman"> </font>علم کی بجائے لکھنے کی رفتار بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ دیکھا<font face="Times New Roman"> </font>جائے کہ ایک طالب علم کتنا علم رکھتا ہے۔ لیکن یہاں زیادہ سے زیادہ لکھنے اور<font face="Times New Roman"> </font>خوبصورتی کے نمبر ہوتے ہیں۔ اب ایک طالب علم بہت ذہین ہے وہ ایک اچھا سکالر بن سکتا<font face="Times New Roman"> </font>ہے لیکن اُس کی لکھنے کی رفتار یا لکھائی خوبصورت نہیں تو بس اسے اسی بات کی سزا دی<font face="Times New Roman"> </font>جاتی ہے کہ تم تیز اور خوبصورت لکھ نہیں سکتے اس لئے تم کسی کام کے نہیں۔۔۔ مزید<font face="Times New Roman"> </font>ہماری اعلٰی تعلیم میں سب سے بڑا مسئلہ ریسرچ سے دوری ہے۔ کتابیں یاد کرنا اور پھر<font face="Times New Roman"> </font>انہیں امتحانات میں لکھ دینا ہی معیار سمجھ لیا ہے اور ریسرچ کا شوق اور فائدہ<font face="Times New Roman"> </font>بتایا ہی نہیں جاتا۔ سنی سنائی بات پر یقین ہی سب کچھ ہے یہاں۔۔۔</p>
<p align="right"><font face="Times New Roman">      </font>ان سب باتوں کے علاوہ<font face="Times New Roman"> </font>پاکستان کے باقی اداروں کی طرح نظامِ تعلیم میں بھی بے شمار کمزوریاں ہیں۔ جن میں<font face="Times New Roman"> </font>اساتذہ کی تربیت، آئے دن نصاب کی تبدیلی، جدید سہولیات کی کمی، عملی تربیت، تجربہ<font face="Times New Roman"> </font>گاہ کی کمی، تجربہ گاہ میں معیاری سامان کی کمی، امتحانات کا نظام، تعلیمی اداروں<font face="Times New Roman"> </font>کی عمارتوں کا غلط استعمال، رشوت، سفارش اور ان جیسی بے شمار<font face="Times New Roman"> </font>کمزوریاں۔۔۔</p>
<p align="right"><font face="Times New Roman">      </font>اگر ہم چاہتے ہیں کہ<font face="Times New Roman"> </font>پاکستان ترقی کرے تو ہمیں سب سے پہلے نظامِ تعلیم کی طرف دیوانہ وار توجہ دینی ہو<font face="Times New Roman"> </font>گی۔ یہ کام حکومت بھی کرے اور ہمارے صاحبِ حیثیت لوگ بھی۔ ہم سب کو انفرادی طور پر<font face="Times New Roman"> </font>تعلیم عام کرنے اور نظامِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے کوشش کرنی ہو گی۔ حکومت کا<font face="Times New Roman"> </font>انتظار کئے بغیر جو جتنی طاقت رکھتا ہے اتنا کام کرنے کے لئے میدان میں کود پڑے۔<font face="Times New Roman"> </font>جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جو جتنی طاقت رکھتا ہے اتنا کام کرے اور مختلف سکولوں،<font face="Times New Roman"> </font>کالجوں اور یونیورسٹی میں تعلیمی مقابلے کرائیں۔ غریب طالب علموں کے اخراجات جو<font face="Times New Roman"> </font>اٹھا سکتا ہے اٹھائے۔ اگر کوئی سکول یا کالج بنا سکتا ہے تو بنائے اور معیاری اور<font face="Times New Roman"> </font>سستی تعلیم دے تاکہ غریب آسانی سے پڑھ سکے۔ تعلیمی ماحول کو عام کیا جائے۔ بچوں اور<font face="Times New Roman"> </font>نئے طالب علموں کی بہتر سمت میں رہنمائی کرنے، ریسرچ کا جذبہ پیدا کرنے میں<font face="Times New Roman"> </font>خاص طور<font face="Times New Roman"> </font>پر توجہ دینی ہو گی۔ انٹرنیٹ جیسے میڈیا پر کھیل کود کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ<font face="Times New Roman"> </font>تعلیمی مواد اردو میں مہیا کیا جائے۔ یوں تو کئی باتیں ہیں جو تعلیم کے فروغ کے لئے<font face="Times New Roman"> </font>کرنی ہیں لیکن میں بس اتنا کہتا ہوں جو جتنا کر سکتا ہے وہ اتنا کرے لیکن ابھی سے<font face="Times New Roman"> </font>میدانِ عمل میں کود پڑے اور ذمہ داری قبول کرے۔ اس طرح ہم بہتر لوگ پیدا کر سکیں گے<font face="Times New Roman"> </font>جو ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔۔۔</p>
<p align="right">دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب<font face="Times New Roman"> </font>کو تعلیم کی روشنی پھیلانے کی توفیق دے۔۔۔آمین</p>
<p align="right">ایم بلال</p>
<p align="right">میرا بلاگ</p>
<p align="right"> <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/" ><font color="#0000ff" face="Times New Roman">mbilal.paksign.com</font></a><font face="Times New Roman"> </font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
