<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; منتخب بلاگز</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Oct 2010 15:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
		<item>
		<title>اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 May 2010 12:06:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[April 2010]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=852</guid>
		<description><![CDATA[تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔ الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔<br />
الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور  امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی، اس مہینے اختلافات اور احتجاج (جمع احتجاجات؟) کے باوجود پاکستان کے صوبۂ سرحد کا نام بدل کر صوبۂ <a target="_blank" href="http://urdu.inspire.org.pk/?p=313" >خیبر پختونخواہ</a> رکھ دیا گیا اور اسی مہینے ایک سنسنی خیز داستان کا انجام شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی میں صورت میں ہوا۔ تاہم اس مہینے اردو بلاگنگ کے دائرے میں کیا ہلچل رہی، اس کا کچھ ذکر ہے فی الوقت ہمارا موضوعِ سخن۔<br />
<span id="more-852"></span><br />
<a target="_blank" href="http://urdutech.net/" >اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ</a> ایک بار پھر غائب ہوچکا ہے۔ بے چارے پریشان حال بلاگرز ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ اُن کی دادرسی کون فرمائے گا۔ اکثر احباب شکایت کرتے پائے گئے کہ یہ <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" >عالی جناب</a> ہمارے پیغامات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے۔ بہرحال، ایسے بلاگرز کے دکھ کا کچھ حد تک مداوا کرنے کی قابلِ صد تحسین کوشش خرم ابنِ شبیر نے <a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/" >نوائے ادب</a> پر کی کہ بلاگ سے محروم ہونے والے  بلاگرز کو اپنے بلاگ پر لکھنے کی سہولت دے دی یوں شاہدہ اکرم کا بلاگ کچھ عرصہ نوائے ادب پر پڑھا گیا۔ اس کے علاوہ محمد رضوان بھی نوائے ادب پر ہی بلاگ کرتے نظر آئے۔تاہم اب شاہدہ اکرم کا بلاگ <a target="_blank" href="http://shahi.urdunama.org/" >اردو نامہ</a> پر پڑھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اس بار بلاگز کا تجزیہ خرم ہی سے شروع کرتے ہیں۔ ’’انسانیت ری انسٹال پر ایک تبصرہ‘‘ کے نام سے خرم کی تحریر نے اُن کی ایک پُرانی تحریر ’’انسانیت ری انسٹال‘‘ کی یاد دلادی جو واقعی خوب لکھی گئی تھی۔ لکھا تھا:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں نے کہا  انسان نے بہت کچھ بنا تو لیا ہے لیکن خود انسان نہیں بن سکا۔ سردار جی کو میری یہ بات بہت پسند آئی۔ میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہنے لگے یار کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان کو فارمیٹ  کر کے اس میں انسانیت ری انسٹال کی جائے، پھر شاید وہ انسان بن سکے۔ میں نے کہا ان کے ساتھ سی ڈی نہیں آتی نا۔ رات ان کا کام ختم ہوا تو وہ چلے گئے لیکن بعد میں جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میری ذہن میں پھر وہی بات آگئی۔ کاش انسانیت ری انسٹال ہو سکتی۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=554" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس پر بدرالزمان کا تبصرہ بھی فکر انگیز ہے جسے خرم نے الگ تحریر کی صورت میں بھی شائع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔خوش قسمتی سے انسانیت کی سی ڈی اور User’s Manual نہ صرف موجود بلکہ Scratch &#038; Errors Free ہے۔ یہ 2 in 1 پیکج قرآن کہلاتا ہے۔ جب آپ اس کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کے اندر کی ونڈو ریپئر ہونے لگ پڑتی ہے۔اسکے ا یررز ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1065" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی پچھلے مہینے کا گرما گرم موضوع رہا۔ جس کو دیکھیں، اسی کی گفتگو کرتا دکھائی دے۔ جس محفل میں بیٹھیں، یہی موضوع زیرِ بحث رہے۔ خرم نے اس موضوع پر ایک ہندوستانی ساتھی سے دلچسپ مکالمے کا حال بیان کیا۔ ’’ملک، مرزا اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>میں نے کہا: ’’اچھا یار آئی پی ایل کو چھوڑو، بتاؤ! شادی کب ہو رہی ہے؟‘‘<br />
وہ سمجھا، اس کی شادی۔ کہتا ہے: ’’جب انڈیا جاؤں گا تو شادی ہو جائے گی۔‘‘<br />
میں نے کہا: ’’نہیں یار تمہاری نہیں، ثانیہ مرزا کی۔‘‘<br />
اس پر اس کا منہ سرخ ہو گیا اور میں ہنسنے لگا۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1063" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>سعدیہ سحر بھی اسی موضوع پر خامہ فرسائی کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’بہوِ پاکستانی‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری ایک دوست کہہ رہی تھی ثانیہ مرزا پاکستان کی بہو بننے جا رہی ہے۔ پتا نہیں‌کیوں سب اتنے خوش ہو رہے ہیں ایک ایسی لڑکی کے لیے جیسے کپڑے پہننے کا ڈھنگ بھی نہیں‌ آتا۔ میں نے کہا، اسی بے ڈھنگے پن کی تو عوام دیوانی ہے، یہی کوئی پھوپھی اماں ٹائپ کی کوئی باپردہ خاتون ٹائپ لڑکی ہوتی تو کیا پاکستان کے منچلوں نے ایسے مچل مچل کر بھنگڑے ڈالنے تھے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/09/%D8%A8%DB%81%D9%88-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی تحریر ’’شعیب اور ثانیہ: دامادِ ہندوستان اور بہوِ پاکستان‘‘ اس حوالے سے میڈیا کے کردار پر  بحث کرتی ہے۔ جیساکہ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ  ’’ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں‘‘۔۔۔ ’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔۔۔ ’’ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔‘‘ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی ایک اور تحریر ’’اصل وجہ؛ مولوی یا جہالت‘‘ کو نظر انداز کرنا قطعاً مناسب نہ ہوگا جو ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے پر کچھ حد تک روشنی ڈالتی ہے۔ لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>آج نوجوانوں کی اکثریت اگر دینی حلقوں کے مکمل خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہے اور اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔ مولوی اصل مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو.۔مولوی طبقہ زیادہ بدنام اسلئےہے کہ وہ اپنے جائز و نا جائز تبصروں، ذاتی چپقلشوں اور دشمنیوں ، سیاست یا باقی تمام معاملات میں دین کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ ہمارے چاروں طرف یہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس جو بھی علم ہے اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرو،تو پھر ہم میں سے ہی نکلنے والے مولوی ہم سے مختلف کیونکر ہوں گے؟ میں علما کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post_12.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>سفرناموں کو ہر زبان کے ادب میں خاص مقام حاصل ہے لیکن اردو بلاگرز میں ابھی اس صنفِ ادب پر کم ہی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ قدیر احمد کی تحریر Seven Days in the Capital کو سات دنوں کا ایک مختصر ترین سفرنامہ کہا جاسکتا ہے جس کے ایک دن کی کہانی باقی چھ دنوں کی کہانی پر بھاری ہے۔ یعنی چھ پیرا میں اسلام آباد آمد اور پہلی رات اور دن گزارنے کا قصہ ہے جبکہ آخری پیرا باقی چھ دنوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس سفر کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔3 اپریل بروز ہفتہ میرے mid exam ختم ہوئے۔ پیپرز کے دوران سو سو کے تھک گیا تھا چنانچہ سوچا کہ اب کچھ تفریح ہو جائے۔ حارث نے مجھے دعوت دی لاہور آنے کی تو میں نے لگے ہاتھوں اسلام آباد کا چکر بھی لگا لیا؛ واضح رہے کہ یہ چکر سات دِنوں پر محیط تھا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://i042986.blogspot.com/2010/04/seven-days-in-capital.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس سفرنامے میں خاصی تشنگی پائی جاتی ہے۔ گمان ہے کہ قدیر کے ساتھ یا تو وقت نے ساتھ نہیں دیا یا مزاج نے یاری نہیں کی ورنہ وہ اس حوالے سے خاصا تفصیل سے بھی لکھ سکتے تھے۔</p>
<p>عمر احمد بنگش کا شمار ایسے اردو بلاگرز میں کیا جاسکتا ہے جو اپنی منفرد پہچان حاصل کرنے کی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ صوبۂ سرحد کا نام کیے جانے کے حوالے سے ان کی تحریر کا عنوان ’’لپے کا نیا نام، خیبر پختونخوا‘‘ ہے تاہم اس کی تمہید سے نام بگاڑنے کی عادت اور اس کے اثرات کے حوالے سے فکر کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔یہ نام بگاڑنے کا قضیہ بھی دلچسپ ہوتا تھا۔ دلچسپ ایسے کہ کسی سے آپ کی خار ہے، آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں یا پھر کسی بھی شکل میں اگلے کو تھلے لگانا چاہتے ہیں، اس کا نام بگاڑ دیجیے۔ متعلقہ شخص کی جسمانی یا پھر ذہنی کمزوری اس میں نہایت مددگار ہوسکتے ہیں۔ کسی کو اس حوالے سے مجروح کرنے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہیں ورنہ اگر آپ کچھ ’’زیادہ ہوشیار‘‘ ہیں تو اس کی زات، مذہب، عادت یا پھر والدین میں سے کسی کے حوالے سے نفسیاتی مات دے دیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2010/04/blog-post_04.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>تانیہ رحمان اپنا بلاگ عین الیقین کے نام سے لکھتی ہیں اور انہیں اردو بلاگنگ کے دائرے میں شامل ہوئے سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ تحاریر کی سادگی، دلچسپ اور متنوع موضوعات ہونا تانیہ کے بلاگ کی ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو اپنے پن کا احساس دلاتی ہیں۔ اکثر موضوعات ہمارے ارد گرد سے ربط رکھتے ہیں۔ ’’اچھی اور بری یادیں‘‘ کے عنوان سے اپنی زندگی میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے ماضی کی کچھ یادیں اور تجربات قسط وار بیان کیے ہیں۔ پہلی قسط میں لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کہ نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاؤں۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو، آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=989" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس کے علاوہ بزرگ ساتھی عبدالرحمٰن سیّد کی تحریر کردہ ایک سچی کہانی ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=981" >دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ</a>‘‘ بھی دو اقساط میں تانیہ کے بلاگ کی زینت بنی۔ کہانی اچھی ہے لیکن اسے شائع کرتے وقت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ تحریر کا ایک حصہ پہلی قسط میں موجود ہے تو کچھ حصہ پہلی قسط کے تبصروں میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کرکے لکھا گیا ہے اور بقیہ کہانی دوسری قسط میں موجود ہے۔ بہرحال محبت کی یہ داستان ہے خاصی متاثر کن۔</p>
<p>اگلے بلاگر کی طرف بڑھنے سے پہلے تانیہ کی ایک تحریر ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=975" >آؤ کہانی لکھتے ہیں</a>‘‘ کا ذکر نہ کرنا قطعاً مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ تانیہ کی تجویز تھی کہ ایک مشترکہ کہانی لکھی جائے اور انہوں نے اس کہانی کا آغاز بھی فراہم کیا لیکن اس کے بعد تبصرہ نگاروں نے اس کہانی کی جو درگت بنائی، وہ بے حد دلچسپ اور ہر ایک کے زاویۂ نگاہ، تصورات و خیالات اور اندازِ فکر کی بہت حد تک عکاس ہے۔</p>
<p>تانیہ رحمان کا ذکر ہوا ہے تو ایک اور خاتون بلاگر کا ذکر کرتے چلیں جن کی ایک تحریر اوپر پیش کی جاچکی (امید ہے کہ انہیں اپنے لیے ’’خاتون‘‘ کا لفظ استعمال کیا جانا گراں نہ گزرے گا)۔ سعدیہ سحر بڑی سادگی سے اپنی بات کہنا جانتی ہیں۔ اِن کی تحاریر مثلاً ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/12/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%86/" >میرے نانا جان</a>‘‘، ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/16/%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%86-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%af%d8%b2%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%a7/" >محبت کا دن بھی گزر گیا</a>‘‘، <a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/23/%da%be%d9%85-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c-%da%be%db%8c%da%ba/" >ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں</a>‘‘ ہمیں ایک عام خاتون کے اندازِ فکر، گہرائی اور اظہارِ خیال کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اپنی زندگی میں موسیقی کے عمل دخل کے حوالے سے مختصر سی تحریر  ’’میوزک اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری عادت ہے میں جب پڑھتی ہوں یا لکھتی ہوں ساتھ ساتھ میوزک سنتی ہوں۔ یہ اس وقت کے موڈ پہ منحصر ہے، کبھی غزلیں، کبھی قوالی، کبھی نئے کبھی پرانے اور کبھی صوفیانہ کلام اور کبھی فاسٹ اور ری مکس۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/13/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%b2%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>موسیقی کی بات ہے تو ریاض شاہد کی تحریر کا بھی تذکرہ ہوچلے۔ قوالی اور عزیز میاں کے حوالے سے ایک تحریر ’’خدا سے مکالمہ‘‘ میں کچھ بچپن کی یادیں، شریعت اور طریقت کے متبعین کا انداز اور پھر قوالی، سبھی کچھ مختصر مختصر مگر دلچسپ انداز میں سمودیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں جہاں والد صاحب کی اور کرم فرمائیوں کا  شکر گذار ہوں وہاں اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے موسیقی سے متعارف کروایا یہ وہ جادوئی منتر ہے جو  آج بھی زندگی کے بعض نازک مقامات پر پلک جھپکتے میں جادوئی قالین پر بٹھا کر مجھے تصورخیال کی رنگین اور خوبصورت وادیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔آج بھی پتہ نہیں دل کا کیا عالم ہے کہ یہ قوالی کوئی تیس دفعہ سن چکا ہوں مگر پھر بھی سنے جا رہا ہوں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/13/%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ریاض شاہد نے اپنی جامع تحاریر کے باعث اردو بلاگنگ کے دائرے میں بہت جلد اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ قدرے طویل تحریر ’’ترقی کے گھوڑے‘‘ قاری کو غور و فکر پر راغب کرتی ہے کہ معاشرے میں کس قدر تیز ی سے تبدیلیاں رونما ہوتی جارہی ہیں اور ہم کس طرف جارہے ہیں۔ آخر میں رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں اس ماچے پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اپنی مٹی سے ناطہ دوبارہ استوار کروں یا پھر اس سے دامن چھڑا کر اجنبی سرزمینوں اور ترقی کی شاداب چراگاہوں کی طرف نکل جاؤں جہاں مزید ترقی میرا انتظار کر رہی ہے۔ رہی بات روح اور فلاح کی تو اسے کون پوچھتا ہے۔ ویسے بھی ترقی  فلاح کی دشمن ہے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/15/%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%da%be%d9%88%da%91%db%92/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسٹ انڈیز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010ء کا آغاز ہوچکا ہے۔ اپنے تبصرے کا اختتام  اسی حوالے سے محمد اسد کی ایک تحریر پر کرتے ہیں۔ ’’تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیال کا اظہار یوں کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔سابقہ خراب کارکردگی اور موجودہ مشکلات کے باوجود پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کے دفع کے لیے مکمل تیار ہونے کا دعوی کررہے ہیں. اس کے علاوہ بھارتی ٹیم بھی IPL کے اختتام کے بعد نئے اور پرانے تجربیکار کھلاڑیوں کے ساتھ میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. اکثر مبصرین کی رائے میں اس بار آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیم بھی مقابلہ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دی جاسکتی ہیں. جبکہ کچھ لوگوں کا ووٹ ساوتھ افریقہ کی ٹیم کے حق میں ہے۔ (<a target="_blank" href="http://blog.bilaunwan.co.cc/2010/sports/3rd-t20-world-cup/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسے محمد اسد کے بلاگ کی ترتیب اور تزئین و آرائش خاصی دلکش ہے۔ اچھا کام کیا ہے۔</p>
<p>بہرحال، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیں گے۔ والسلام۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 11 Apr 2010 18:00:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=840</guid>
		<description><![CDATA[nاپریل 2008ء میں جب منظرنامہ کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (عمار اور ماوراء کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے انٹرویوز لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو مشترکہ موضوعات دیے جائیں گے۔ بعد [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>nاپریل 2008ء میں جب <a href="http://www.manzarnamah.com/2008/04/welcome/"  target="_blank">منظرنامہ</a> کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (<a target="_blank" href="http://www.ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://www.mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/interviews/" >انٹرویوز</a> لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو <a href="http://www.manzarnamah.com/category/point-of-views/" >مشترکہ موضوعات</a> دیے جائیں گے۔ بعد ازاں ایک اور سلسلے کا اضافہ ہوا جس کے تحت پہلے ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >منتخب بلاگز</a> پر تبصرے شائع کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ توقع سے زیادہ پسند کیا گیا لیکن ہم دونوں میزبانوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اسے قارئین کے اصرار اور ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری نہ رکھا جاسکا۔</p>
<p>تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے بھلادیا ہے۔۔۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ منظرنامہ کو بیدار رکھا جائے۔ مزید باتوں میں الجھے بغیر آئیے ماہِ مارچ 2010ء کے اردو بلاگز میں سے کچھ منتخب تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p>کیوں نہ <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> سے شروع کریں۔ یہ اُن اردو بلاگرز میں سے ہیں جو باقاعدگی سے بلاگ کرتے ہیں اور ان کی تحاریر پسند کی جاتی ہیں، اُن پر ہونے والے تبصروں کا تو پوچھئے ہی نہیں۔ جعفر کی ایک تحریر ’’میرا پسندیدہ شاعر‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ علامہ اقبال کی ہمہ جہتی شاعری کی منفرد خصوصیت اجاگر کرتے ہوئے جعفر رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے &#8220;اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو&#8221; گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے &#8220;نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر&#8221; کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے &#8220;ذرا نم ہو تویہ مٹی&#8221; کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے &#8220;بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے&#8221; کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے &#8220;سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ&#8221; گاتے رہے۔ فوج والے &#8220;شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن&#8221; کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔۔۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=828" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>محبت کا کھوتا جعفر ۔۔۔ مطلب جعفر کی لکھی تحریر ’’محبت کا کھوتا‘‘ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کے طرزِ نگارش کی خوب صورت اور پُرمزاح نقل ہے۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی، چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور آنکھوں کے گوشے انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے یوں گویا ہوا: اس محبت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سکول میں پڑھتا تھا تو ہمسایوں کی لڑکی سے محبت ہوئی۔ پر وہ کٹھور ہمیشہ بھائی جان ہی کہتی رہی۔ کالج گیا تو شاعری کا شوق ہوگیا۔ فراز سے فیض تک سب کو گھول کے پی لیا۔ لیکن محبت ہونی تھی نہ ہوئی۔ جس لڑکی کی طرف بھی محبت کی نظر ڈالی، اس نے یا تو دھتکار دیا یا پھر ’’بھائی جان‘‘  کہہ کے کاری وار کیا۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=832" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اردو بلاگستان کے منظرنامے کا ذکر ہو اور <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفرستان</a> کی ڈفریاں رہ جائیں، ایسا کیسے ممکن ہے۔ ’’ڈیل کرلیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں پردیس میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمان افروز گفتگو کا دلچسپ ذکر کرنے کے بعد فکر انگیز اختتام یوں ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں۔“</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=1044" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل</a> اردو بلاگنگ میں ایک سنجیدہ اور علمی لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخ کے موضوعات پر اکثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی ایک شخصیت ابنِ فرناس ثانی کے حوالے سے اپنی تحقیقی تحریر میں بیان کرتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>مسلم تاریخ کے روشن ابواب میں سے ایک عباس ابن فرناس بھی ہے جو اندلس کی اُن سینکڑوں نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھا جنہوں نے ’’دورِ ظلمت‘‘ (Dark Age) میں یورپ میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایسے محیر العقول کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے ان کا نام آج بھی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/ahmet-celebi/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اس کے علاوہ ہندوستان کی ایک معروف تجارتی کمپنی کی چائے کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام میں فکر و شعور بیدار کرنے کی کوشش پر بھی ایک تحریر میں ابوشامل نے اُن تمام اشتہارات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو: <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/jaago-re/" >اُٹھو نہیں، جاگو</a>!</p>
<p>کزن میرج ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں ایک خاص سوچ گھر کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" >بدتمیز</a> کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2010/03/09/ibn-e-safi-k-deewanay/" >ابنِ صفی کے دیوانے</a>‘‘ میں برسبیلِ تذکرہ ایک بات یوں آگئی کہ</p>
<blockquote><p>امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔ کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔</p></blockquote>
<p>اس پر <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/" >افتخار جمل بھوپال</a> کی دو تحاریر ’’<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%a9%d8%b2%d9%86-%d9%85%d9%8a%d8%b1%d8%ac-%db%94-marriage-between-cousins/" >کزن میرج</a>‘‘ اور ’’<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%a9%d8%b2%d9%86-%d9%85%d9%8a%d8%b1%d8%ac-%db%94-%d8%a7%d9%8a%da%a9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%81/" >کزن میرج۔ایک ڈاکٹر کا تبصرہ</a>‘‘ معلوماتی ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>گذشتہ عرصے میں امریکہ اور چند دیگر یورپی ممالک میں حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اسکریننگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے بے شمار خدشات کا اظہار کیا گیا اور یہ نظام اعتراض کا نشانہ بنا۔ سینئر بلاگرز میں سے ایک، <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/" >شعیب صفدر</a> ایڈووکیٹ نے اپنی تحریر ’’تحفظ و برہنگی‘‘ میں اس موضوع پر کچھ گفتگو کی ہے۔ روابط سے مزین ہونے کے باعث یہ تحریر خاصی معلوماتی ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں!</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2010/03/blog-post_08.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اب اپنا رُخ کرتے ہیں شعر و سخن کی طرف۔ <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث</a> اپنے بلاگ کے ذریعے سخن شناسوں کی تشنگی بجھانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ دیگر شاعرانہ کلام کے ساتھ ساتھ ممتاز شاعر جگر مراد آبادی کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ پیش کی۔ رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>جگر مُرادآبادی کا شمار غزل کے آئمہ میں سے ہوتا ہے، فقر و فاقہ و مستی میں زندگی بسر کی اور یہی کچھ شاعری میں بھی ہے۔ کسی زمانے میں ان کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا اور ہر طرف جگر کی غزل کی دھوم تھی۔ انکے کلیات میں انکا کچھ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ انکے مجموعے ’’شعلۂ طور‘‘ سے ایک فارسی غزل کے کچھ اشعار ترجمے کے ساتھ &#8220;’’تبرک‘‘ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2010/03/blog-post_13.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر جب سے سننے میں آئی ہے، ہر محفل میں یہ موضوع ضرور زیرِ بحث آتا ہے۔ بلاگرز نے بھی اس پر دلچسپ تحاریر کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا۔ مختصراً اس پر بھی ایک نظر:<br />
جعفر: <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=847" >ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال)</a><br />
شعیب صفدر: <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2010/03/blog-post_30.html" >بڑا کھلاڑی کون؟</a><br />
عنیقہ ناز: <a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/2010/03/blog-post_31.html" >واہ شعیب ملک، آہ ثانیہ مرزا</a></p>
<p>گذشتہ کچھ عرصے میں اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ نئے آنے والے بلاگز میں سے ایک ’’<a target="_blank" href="http://asma.nawaiadab.com/" >پھپھے کٹنی</a>‘‘ کافی منفرد رہا اور اردو بلاگنگ میں پہلی بار ان موضوعات پر کھل کر لکھا گیا جن سے اب تک چند وجوہات کی بِنا پر گریز کیا جاتا رہا۔</p>
<p>فی الوقت اس مختصر جائزے کے ساتھ اجازت۔ امید ہے کہ اگلی بار کچھ تفصیل سے لکھا جاسکے گا ان شاء اللہ۔  اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>33</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Jul 2009 08:29:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[blogs]]></category>
		<category><![CDATA[comments]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=423</guid>
		<description><![CDATA[اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ بلاگز چننا کچھ مشکل لگا، جن کو منتخب کرکے ان  کا ذکر کیا جائے۔ کچھ تحاریر، تحاریر کم سوال نامہ زیادہ محسوس ہوئیں اور کچھ تحاریر ایسی کہ پڑھتے چلے جاؤ اور طویل تحریر ختم ہونے پر سوچنا پڑے کہ پڑھا کیا ہے؟ (ہوسکتا ہے یہ ہماری ہی نالائقی ہو) کچھ تحاریر ایسی کہ کسی اخبار یا نیوز سائٹ سے خبر کاپی کی   اور کچھ ایسی کہ ایک تصویر یا ویڈیو لگاکر ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ گئے، لو جی، بلاگ پوسٹ ہوگئی۔ ایسا لگا جیسے اس مہینے اردو بلاگنگ کو زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔</p>
<p>مہنگائی، دہشت گردی، ہزارہا مسائل میں مبتلا پاکستانی قوم کی حالت اس وقت افسوس ناک ہے۔ ان سب مسائل کے سبب عوام نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ اخلاقی اقدار  بھی تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ ’<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >تیرا ککھ نہ رہوے</a>‘ کے عنوان سے شاکر عزیز لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔ اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔</span></p>
<p>پاکستانی معاشرہ اس وقت بہت بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے. ایک طرف عوام میں شعور بیدار ہورہا ہے تو دوسری طرف دیوار سے لگانے والے بھی اپنی کوششوں میں پیہم مصروفِ عمل ہیں. عنیقہ ناز اپنی تحریر ’<a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/2009/06/blog-post_19.html" >فتراک کے نخمچیر</a>‘ میں ایسے ہی متضاد رویوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے دعوتِ فکر دیتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ ایف سکسٹین ان سے لیکر اڑانا سیکھ لیں۔ البتہ بناتے وہ اسے رہیں اور اپنی ضرورت کے حساب سے اس میں نئ تبدیلیاں وہ لاتے رہیں۔ پھر ان نئ تبدیلیوں کو آپ ان سے پیسہ دیکر سیکھیں۔ کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ اپنی فوجوں کی صحت کے لئے، جان بچانے والی اشیاءاور دوائیں ان سے خریدیں اور ان کا طریقہ ء استعمال بھی۔ البتہ وہ اس چیز پہ تحقیق کرتے رہیں کہ اسے مزید بہتر اور سستا کیسے بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">چلیں اتنی بڑی باتوں پہ جی کیا جلانا ۔ یہ مجھے کسی نے باہر سے سلائ کی مشین تحفے میں لا کر دی ہے۔ اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت ہلکی اور چھوٹی سی ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لیکر کہیں بھی پھر سکتی ہوں۔ اس کا وزن کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن لانے والا اس کا مینوئل وہیں بھول آیا ۔ باہر سے کوئ سوراخ نظر نہیں آتا اندر سے یہ بالکل بند لگتی ہے۔ اب میں نیٹ پر بیٹھی سرچ کر رہی ہوں کہ اس میں تیل ڈالنےکا کیا طریقہ ہوگا۔ یہ مشین یہاں کسی نے استعمال نہیں کی اور کوئ مجھے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہم سب نے صرف ضرورت کا علم حاصل کیا ہے۔</span></p>
<p>جب دو مخالف باتوں یا اصولوں کے بیچ انتہائی حد تک ٹھن جائے تو معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں طرف سے اِنتہا کا زور لگتا ہے اور یہ انتہا پسندی اُس ماحول میں بسنے والے انسانوں کی زندگی پر بُری طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔ نت نئی ایجادات نے ایک طرف دنیا کو گلوبل ولیج بنادیا ہے تو دوسری طرف دِلوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا کردی ہیں۔ اِس بھری دنیا،  بھری محفل میں ’<a target="_blank" href="http://www.pakiez.com/983/07/06/2009/" >تنہا انسان</a>‘ کا ذکر کررہے ہیں فرخ انور کہ</p>
<p><span style="color: #993366;">انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔<br />
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔<br />
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔<br />
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں۔</span></p>
<p>اُردو بلاگنگ کے دائرے میں نئے اضافے یقیناً خوش آئند ہیں۔ کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جن کا بلاگ لکھنا اردو بلاگنگ پر اُن کا احسان ہے (اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا نہ لکھنا احسان ہوگا)۔ محمد وارث کا تعلق اوّل الذکر صاحبان سے ہے۔ اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >مہربان</a>‘ سے  اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<p><span style="color: #993366;">اس &#8216;دشتِ بلاگران&#8217; میں ہمیں بھی ایک سال ہو گیا ہے، مئی 2008ء میں یہ بلاگ بنایا تھا اور اب الحمدللہ ایک سال مکمل ہوا۔ کیا کھویا کیا پایا کا سوال میرے لیے اہم نہیں ہوتا کہ سفر کرنا ہی اصل شرط ہے لیکن نشیب و فراز تو انسانی زندگی کا حصہ ہیں سو اس بلاگ کے ساتھ بھی شامل رہے۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">اس کے ساتھ ساتھ، یہاں پر یہ بھی &#8216;اعتراف&#8217; کرنا چاہوں گا کہ بلاگ کی دنیا میں وارد ہونے کے بعد بہت اچھے احباب اور دوستوں سے واسطہ پڑا۔ گو ہمارے بلاگ پر تشریف لانے والے زائرین کی تعداد اس ایک سال میں 10 فی یومیہ کے حساب سے تقریباً چار ہزار ہے اور ظاہر ہے اس میں بھی بہت سے اتفاقیہ یا بھولے بھٹکے تشریف لانے والے ہیں اور مستقل قارئین کی تعداد دونوں ہاتھوں کی پوروں پر بآسانی گنی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی میرے لیے مسرت کی بات ہے کہ کم از کم کوئی تو ہے جو جنگل میں اس مور کے ناچ کو دیکھ رہا ہے۔</span></p>
<p>اِس تحریر میں وارث نے بلاگنگ کی طرف آنے، مختلف مسائل کے درپیش ہونے اور اُن سے نمٹنے کا ذکر بھی کیا ہے اور اُس نامعلوم مہربان کا بھی جس نے اُن کے بلاگ کو انتہائی بُرا قرار دے کر اپنے اعلیٰ ذوق کا اظہار کیا۔ محمد وارث کو مستقل مزاجی سے ایک سال اردو بلاگنگ کرنے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ باذوق معیاری تحاریر پیش کرنے پر منظرنامہ کی جانب سے مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اِظہار کہ وہ باقاعدگی سے اِسی طرح لکھ کر ہمارے علم میں اضافہ کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ ماہِ جون میں علمِ شاعری پر وارث کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post_12.html" >بحرِ مُتَقارِب &#8211; ایک تعارف</a>‘ اُن کے علمی ذوق پر دال ہے۔ اگر آپ کے ذہن کے کسی کونے میں کبھی بھی شاعری کرنے کی خواہش نے سر اُبھارا ہو اور آپ نے استاد شعرا کی ڈانٹ کے ڈر سے اپنی خواہش کو تھپک کر سلادیا ہو تو آپ کے لیے وارث کے بلاگ کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا۔ فنِ شاعری پر لکھے گئے بے حد آسان اور عام فہم مضامین سے صرف وارث کی قابلیت سے آگاہی نہیں ملے گی بلکہ یہ مضامین آپ کو باقاعدہ شاعر بننے میں مدد بھی دیں گے۔</p>
<p>نکاح سنتِ رسولﷺ ہے۔ گھر بسنے کے بعد انسان کی حیات کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ نئی ترجیحات، نئی مصروفیات، نئی زندگی۔۔۔ اِس زندگی میں عموماً بہت سی عادتیں اور معمولات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کی زندگی میں ایک نئے مہمان کی آمد ہوجائے (اور آپ شرماتے ہوئے، زیرِ لب مسکراتے ہوئے دو سے تین ہونے کی خوش خبری سنیں) تو جیسے بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود خاتون اردو بلاگر امن ایمان طویل طویل وقفہ کے ساتھ ہی سہی، لیکن اردو بلاگنگ سے ناتا جوڑے ہوئے ہیں (ہمیں امید ہے کہ انہیں خود کو خاتون لکھے جانے پر اعتراض  نہ ہوگا)۔ غیر متوقع طور پر اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=200" >خیر مبارک</a>‘ پڑھنے کو ملی۔ لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">خیر مبارک۔۔۔!<br />
یہ کہنے میں میں نے کافی دن لگا دیے۔۔اس کے لیے بہت بہت معذرت خواہ ہوں۔۔پہلے بتا دوں کہ خیرمبارک کس بارے تھی۔۔آپ سب نے مجھے میری بیٹی کے پیدا ہونے پر جو ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور دعائیں دی ہیں یہ اس کے لیے ہے۔</span></p>
<p>پھر ایک عرصہ غائب رہنے کی وجوہات بیان کرتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ایک تو میں تین چار ماہ کے بعد لاہور ماما کے گھر آئی۔۔سسرال میں نیٹ کی سہولت نہیں۔۔پھر یہاں لاہور میں لائٹ جانے کے بدترین اوقات تھے۔۔اس لیے میرے اور نیٹ کے تعلقات جلدی بحال نہ ہوسکے۔۔۔خیر کسی طرح یہ سب مینیج کیا تو خیر سے سارے پاسورڈز بھول گئے اور پھر پاسورڈز ہاتھ چڑھے تو بلاگ پر پرانی تھیم دیکھ کر لکھنے کا دل نہ چاہا۔۔۔پورا ایک ہفتہ اچھی تھیم ڈھونڈنے میں لگا دیا۔۔۔۔جب اچھی تھیمز ہاتھ لگیں تو کوئی تھیم بھی اردو لباس پہننے کو تیار نہ ہوئی۔</span></p>
<p>یہ تو ان کی عادت ہی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ چند دن ہی کے لیے بلاگ پر حاضری دی لیکن بلاگ کا سانچہ تبدیل کیا، اُس کو اردو میں ڈھالا، جہاں مشکلات پیش آئیں، انہیں بلاگ کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=213" >کوئی تھوڑی سی نقل کروادے پلیز</a>‘ میں بیان کیا اور اُن کا حل کھوجا۔ اُن کی پیاری سی بچی <a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=203" >حبہ</a> کے لیے منظرنامہ کی طرف سے نیک خواہشات اور ڈھیر ساری دعائیں۔</p>
<p>کھانے پینے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ کوئی روایتی دیسی کھانوں کا شوقین ہوتا ہے تو کسی کو فاسٹ فوڈ یا غیر ملکی کھانے کا جنون ہوتا ہے۔ اردو بلاگز میں <a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/category/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%da%a9%d8%a7-%da%a9%da%86%d9%86/" >کہنی سننی</a>، <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/category/%DA%86%D9%B9-%D9%BE%D9%B9%DB%92-%D9%BE%DA%A9%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%94/" >حجاب</a>، <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/category/foodcooking/" >ماوراء</a> وغیرہ کے بلاگ پر کھانے پینے کی مختلف تراکیب پڑھنے کو مِلتی رہی ہیں لیکن <a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/" >ماہ رُخ</a> نے تو اردو بلاگنگ میں باورچی خانہ ہی قائم کرڈالا ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/irani-onion-soup.html" >ایرانی پیاز سوپ</a>‘، ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/lucknavi-qourma.html" >لکھنوی قورمہ</a>‘ وغیرہ سمیت ایسی کئی مزے مزے کی تراکیب ہیں جنہیں پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ماہ رُخ کے کچن کی کیا ہی بات ہے!</p>
<p>اپنی تاریخ سے دوری اور ماضی ناآشنائی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اِسی لیے دوست، دشمن کی پہچان میں اب تک ٹھوکر کھاتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ کے ایسے ہی ایک اہم باب سے پردہ اُٹھایا ہے ابوشامل نے۔ یہ داستان ہے ’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/muslim-holocaust/" >سقوطِ کریمیا</a>‘ کی  جب مسلمانوں کا بڑی تعداد میں خون بہایا گیا۔ ابوشامل رقم طراز ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">وسط ایشیا، قفقاز، وولگا-یورال و کریمیا کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا “تاریخ ملت اسلامیہ” کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً وسط ایشیا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں بخارا و سمرقند جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ سوویت عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں برطانیہ، اٹلی، فرانس و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ سوویت اشتراکی عہد کا ایک کریہہ باب جوزف اسٹالن کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔</span></p>
<p>ابوشامل نے اِسے مسلم ہولوکاسٹ سے تعبیر دی ہے۔ بلاشبہ یہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کی داستان ہے لیکن ایسی ہی کئی داستانیں آج ہمارے گرد افغانستان و عراق میں بکھری پڑی ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اِن سے سبق حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>کہتے ہیں، فارغ نہ بیٹھو کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ لیکن دیکھئے، سعدیہ سحر کے دماغ میں کیا بات آئی ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/06/06/%D8%A2%D9%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D9%88%DA%86%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D8%B1%D8%A7/" >آپ بھی سوچیں ذرا</a>‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">پاکستان میں اتنے عامل پیر فقیر ہیں جن کے قابو میں بڑے بڑے جن ہیں جو بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے ان سے کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے کہیں چلہ کاٹیں۔ جادو کے زور سے ڈرون طیاروں کے رخ دشمنوں کی طرف موڑ دیں اپنے شاگرد جنوں سے کہیں وہ سب ملک دشمن عناصر کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک آئیں۔ جو عامل محبوب کو قدموں میں ڈال سکتا ہے، وہ دہشت گرد کو حکومت کے قدموں میں کیوں نہیں ڈال سکتا؟ جو عامل پتھر دل محبوب کے دل کو موم کر سکتا ہے، وہ راکٹوں کو موم کیوں نہیں کر سکتا؟</span></p>
<p>سعدیہ! آپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا اچھا خیال پیش کیا ہے۔ عامل باباؤں اور نجومیوں سے ڈفر کو بھی کچھ جلن ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=829" >پھر کیڑے</a>‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">نام نہاد پیروں سے دشمنی بلکہ جیلسی (لفظ جلاپا سے زیادہ کھندک ٹپکتی ہے) تو کافی پرانی ہے لیکن اب لگتا ہے نجومیوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔ مسئلہ میرا یہ ہے کہ دہائیوں کی تعلیم کے بعد بھی مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ میں عالم کیوں نا بن سکا۔ بن نا سکا یہ میری نالائقی لیکن یہ نا اہلی مجھ سے ہضم نہیں ہوتی کہ اپنے آپ کو عالم کہلوا بھی نا سکا۔ اتنا تو بزدل نا تھا کہ اندھوں میں کانا راجہ بننے کی ناکام کوشش بھی نا کرتا۔ ویسے بھی جاہلین کا جو اعلٰی و ارفع درجہ اور تعداد ہمارے ہاں موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھے اپنی اس شکست کو تسلیم کرنا چاہئے اور جلد از جلد کسی دو آتشی پیر کے آستانہء عالیہ بلالیہ جلالیہ اور بعد میں ملالیہ پر حاضری دے کر اپنی ناکامیوں کو بخشوانا چاہئے کہ کیا پتا میں دنیا کہ ساتھ ساتھ اپنی آخرت میں بھی تاریکیاں بھرتا رہا ہوں؟</span></p>
<p>ڈالر۔۔۔ اگرچہ بے جان شے ہے لیکن ہے ایسی کہ نام سنتے ہی لوگوں میں جان آجاتی ہے۔ ڈالرز کے عوض لوگوں کی جان ہی نہیں، ایمان بھی خرید لیے جاتے ہیں۔ نعیم صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے مال و دولت کی طلب میں تھرکتے جسموں اور پھڑکتے ضمیروں کا اندازہ کرتے ہوئے ایک نظم ’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >ڈالر! مِرے اِس دیس کو ناپاک نہ کرنا</a>‘ لکھی تھی جسے شعیب صفدر نے پیش کیا ہے۔ کچھ سطور ملاحظہ ہوں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا<br />
تو ظلم کا حاصل<br />
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص<br />
سرمائے کی اولاد<br />
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل<br />
تو سود کا فرزند!<br />
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے<br />
بیواوں کی فریاد!<br />
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش<br />
توضعیف کی اک چیخ<br />
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر</span></p>
<p>کراچی میں حکومتِ سندھ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_10.html" >قومی بلاگرز کانفرنس</a> کیا منعقد ہوئی، دائرۂ بلاگنگ میں کئی اضافے دیکھنے میں آنے لگے۔ پھر کچھ ایسا رنگ نکلا کہ تحریر ایک ہونے لگی، تبصرے پچاس۔ بدتمیز کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/06/14/%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1/" >مہاجر</a>‘ اس کی روشن مثال ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">جب پاکستان بنا تو صرف مہاجرین ’’اردو سپیکنگ‘‘ نہیں تھے۔ آج بین ڈالنے کو صرف اردو سپیکنگ کیوں ہیں؟ بالخصوص ایسے میں جب ان کی تیسری اور چوتھی نسل یہاں پیدا ہوئی ہے یہ لوگ پاکستانی کیوں نہیں بن سکے اور ان کے والدین نے انکے دماغوں میں ’’مہاجر‘‘ زہر کیوں بھر دیا اور یہ آگے اپنی اولادوں میں یہ زہر کیوں منتقل کر رہے ہیں؟</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ان کی ٹرمز بھی دیکھ لیں۔ حق پرست پنجابی۔ اگر ان کی بات من و عن تسلیم کر لی جائے تو اپ کو خطاب دیں گے حق پرست پنجابی۔ تائب کارکنان کو نہ جانے کیا خطاب دیتے ہیں جو اصلیت فاش کرتے رہتے ہیں۔</span></p>
<p>اس تحریر پر ہونے والا مباحثہ ہمارے ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے سیاسی پروگرام سے کسی طور کم نہیں ہے کیوں کہ اس میں ایک دوسرے کے نظریات کے پرخچے بھی اُڑائے گئے ہیں اور ایک دوسرے کی ذات کے بھی۔ یعنی ایک مکمل ٹی وی پروگرام ہے۔</p>
<p>حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے کہ بہت سے لوگ اِس کی آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں اور بہت سے لوگ استطاعت رکھنے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ اردو ادب میں سفرنامے لکھے جانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ بہت سے ادیبوں نے مقدس سفر حج/ عمرہ کی داستان بھی رقم کی۔ چوں کہ یہ سفر مقدس ہے اِس لیے حج کے اکثر سفرنامے محبت و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں لیکن مشہور ادیب ممتاز مفتی کا سفرنامۂ حج ’’لبیک‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد ترین سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے آپ شک اور یقین، دونوں کی منزل سے بیک وقت خود کو گزرتا محسوس کرتے ہیں۔ وہاب اعجاز خان نے ’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/06/blog-post_20.html" >ممتاز مفتی (لبیک)</a>‘ پر ایک تجزیہ پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">لبیک ایک متنازعہ کتاب ہے ۔ یہ تصنع بناوٹ اور ریاکاری کے درمیان ، سچ اور خلوص اور جذبے کی ایک مثال ہے ۔ جس نے اپنی حیثیت و اہمیت کو منوالیا ہے۔ لبیک ایک ایسے فنکار کا شاہکار ہے جو تجزیہ کرتا ہے سوچتا ہے محض جذبے میں لتھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ سوچ سمجھ کر اس راستے پر روانہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مزاج دیگر حج ناموں سے ہٹ کر ہے۔ ممتاز مفتی اس رپورتاژ میں عقیدت نہیں پالتے بلکہ عقیدے کو سینچتے نظرآتے ہیں ۔ وہ ایسی کئی باتوں کو منظر عام پر لانے سے نہیں چونکتے ۔ جو دیگر دنیا دار قسم کے لوگ چھپاتے ہیں۔ وہ اپنی داخلی کیفیات کا بیان کھل کر کرتے ہیں۔</span></p>
<p>وہاب اعجاز خان کے اس تجزیے کے علاوہ پچھلی تحاریر بھی دیکھتے ہوئے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اُمید ہے ان کے ذریعے ہمیں کئی اچھی کتب سے آگاہی ہوگی۔</p>
<p>دنیا میں دن منانے کا رواج چل نکلا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن اِس بار ایک تجویز ہے ہفتہ منانے کی۔ شگفتہ ’<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=483" >ہفتۂ بلاگستان</a>‘ کی تجویز دیتے ہوئے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">میرا دل ہے کہ ہم سب بلاگرز مل کےایک ہفتہ منائیں یعنی کہ ایک ہفتہ منایا جائے بنام ۔ ۔ ۔ ہفتہ بلاگستان ۔ ۔ ۔ ہلکے پھلکے انداز میں اور کچھ سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہوسکے اس تجویز سے پہلے ایک خیال یہاں پیش کیا تھا۔ ۔ ۔ حالیہ تجویز گذشتہ سے پیوستہ ۔ دراصل کچھ اس طرح سوچا کہ یعنی ایسا سلسلہ ہو کہ تمام اردو بلاگرز دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں سب کی ایک ساتھ شرکت ممکن ہو سکے اور اس طرح سب کی ذاتی مصروفیات بھی متاثر نہیں ہوں گی۔</span></p>
<p><strong><em>مختصر مختصر:</em></strong><br />
محمد علی مکی اس بار جو پاکستان آئے ہیں، ہر کچھ دن بعد ایک خوش خبری سناتے ہیں۔ پہلے <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس کا اجراء</a> کیا اور اب <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو اوبنٹو جاری</a> کرکے نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔</p>
<p>ہمارے بہت پرانے بلاگر <a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/466" >نعمان یعقوب کی والدہ محترمہ</a> گذشتہ دنوں انتقال فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون. منظرنامہ اُن سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی والدہ محترمہ کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہے۔</p>
<p>ماہ جون ۲۰۰۹ء میں پاکستانی قوم کو جو ایک بڑی خوشی ملی، وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۰۹ء میں فتح تھی۔ اس موضوع پر کافی سارے بلاگز دیکھنے کو ملے۔<br />
<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/06/21/aur-hum-jeet-gay/" >اور ہم جیت گئے</a>۔ کہنی سننی<br />
<a target="_blank" href="http://yasirimran.wordpress.com/2009/06/21/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%84/" >فائنل جیت لیا</a>۔ یاسر عمران مرزا<br />
<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2731" >جیو تو ایسے</a>۔ میرا پاکستان<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1098" >ہم کسی سے کم نہیں</a>۔ دریچہ<br />
<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-20-%da%a9%25d" >عالمی چیمپئن</a>۔ فرحان دانش<br />
<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/t20-worldcup/" >وہ ایک چھکا، یہ ایک فتح</a>۔ ابوشامل<br />
<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post_22.html" >مبارک باد</a>۔ آوازِ دوست</p>
<p>اس بار ہمارا تبصرہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے لہٰذا باقی باتوں کو اگلی نشست کے لیے مؤخر کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہیں گے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں، خوش رہیں۔ اللہ حافظ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2009 06:06:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[ammar]]></category>
		<category><![CDATA[mawra]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[politics]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، عمار اور ماوراء اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ وہی ہے، <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >مہینے کے منتخب بلاگز</a> پر ایک نظر۔</p>
<p>جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو ہمیں قطعی اندازہ نہ تھا کہ جہاں یہ ہمارے لیے سر کا درد ثابت ہوگا، وہاں قارئین میں بھی مقبولیت حاصل کرے گا۔ قارئین کی طرف سے اگر اس قدر مثبت ردِّ عمل نہ آتا تو شاید ہم اس سلسلہ پر کب کا اللہ اکبر کرچکے ہوتے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' />   ماشاء اللہ، گذشتہ دنوں اُردو بلاگنگ میں مزید کچھ اضافے دیکھنے میں آئے اور کچھ مستقل لکھنے والوں نے اردو بلاگ شروع کیا۔ امید ہے کہ ہمیں مزید معیاری بلاگز پڑھنے کو ملیں گے۔</p>
<p><a href="http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/" >اپریل ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر مختصر تجزیہ</a> پچھلے دنوں پیش کیا جاچکا۔ آئیے، مئی ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/" >امید</a> طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/?p=132" >خود کلامی</a>‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں:</p>
<blockquote><p>’’بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے۔<br />
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خواہش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔‘‘</p></blockquote>
<p>اور اس مختصر تحریر کا اختتام اس فکر انگیز جملے پر ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>’’مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خواہش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>’امید‘ سے ہمیں امید ہے کہ باقاعدگی سے اپنے بلاگ پر نظر آئیں  اور اتنی غیر حاضریاں نہ کریں تاکہ ہمیں اچھی اچھی تحاریر پڑھنے کو مل سکیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان یعقوب</a> اردو میں کم ہی بلاگ کرتے ہیں۔ عموماً ان کی تحریر کراچی کے سیاسی حالات کے حوالے سے متحدہ قومی مومنٹ کی وکالت میں ہوتی ہے۔ ’’<a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/452" >فساداتِ ایم کیو ایم کراچی</a>‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر سے اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<blockquote><p>’’جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘</p></blockquote>
<p>ایم کیو ایم مخالف پروپیگنڈے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نتائج نعمان کی نظر میں یوں نکلتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نعمان علی اپنی ایک مختصر تحریر ’’<a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2009/05/01/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86-%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82.html" >مزدوروں کا دن یا ایک مذاق</a>‘‘ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہوا ایک شعر لکھتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر<br />
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے</p>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>وطنِ عزیز کے سنگین حالات کے سبب  متاثرہ علاقوں کے مہاجرین کی  دوسرے صوبوں میں آمد ایک بڑا ایشو ابھر کے سامنے آئی اور کئی ’’عظیم‘‘ رہنماؤں کے چہرے سے ’’حبّ الوطنی‘‘ کا نقاب اتر گیا۔ فرحان دانش’’<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%259" >سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں</a>‘‘ کے موضوع کے تحت لکھتے  ہیں:</p>
<blockquote><p>’’سندھ میں افغانستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرشاہ لطیف بھٹائی کی دھرتی پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے۔ سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور وہ ایک بار پھر سندھ کو خون میں نہلانے‘ دھرتی پر قبضہ جمانے اور مستقل باشندوں کو غلام بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں‘ اس مقصد کیلئے افغان مہاجرین کی آڑ میں لاکھوں افراد کو لاکر سندھ کے شہروں اور قصبوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس اقتباس سے اگرچہ بہت کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بقیہ تحریر بھی یقینا آپ کو کافی کچھ جاننے اور ’حب الوطنی‘ کے جذبے سے سرشار &#8220;افراد&#8221; کا مؤقف سمجھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>شکاری کراچی کے حالات کا رونا روتے ہوئے اپنی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=239" >ہم کہاں جارہے ہیں</a>‘‘ میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’عجیب افراتفری کا عالم ہے. بدھ 29 اپریل شام چار پانچ بجے سے رات گئے تک چالیس، بیالس افراد سکون کی نیند سو گئے. ان سکون سے سونے والوں میں اکثریت پھٹانوں کی تھی. ایک عرصے سے کراچی میں الطاف بھائی طالبان کا رونا رو رہے تھے کبھی پریشانی میں کھانا پینا چھوڑرہے ہیں تو کبھی نیند نہیں آتی. . . .<br />
اب تک ان کو یا متحدہ کو ہی طالبان دکھائی دیتے رہے اور کسی کو بھی کراچی میں طالبان نظر نہیں آئے. ان طالبان کو منظر پر لانے کے لیے سہراب گوٹھ میں ریڈی میٹ طالبان سامنے لائے گئے جنھوں نے وال چاکنگ کی، چرچ کی انتظامیہ کو دھمکیاں دی اور غائب ہو گئے… لیکن یہ نسخہ بھی کار آمد نہ ہوا تو دوبارہ ایسے طالبان کہیں ظاہر نہ ہوئے. مجھے تو حیرت ہوتی ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو سوات سے صرف ایک چرچ کی انتظامیہ کو دھمکی دینے آئے تو اور پھر دوبارہ سوات واپس چلے گئے.‘‘</p></blockquote>
<p>بات تو خیر سمجھنے کی ہے۔ یہ تو معصوم شکاری ہیں اس لیے شاید حیران ہیں لیکن کوئی اصل شکاریوں کے دامِ فریب کا شکار ہونے والوں سے پوچھے۔</p>
<p>ڈفر کی ایک مختصر مگر اپنے مخصوص دل چسپ انداز میں لکھی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=781" >یہ بچہ کس کا ہے</a>‘‘ سے ایک اقتباس:</p>
<blockquote><p>ڈفر : کیا یہ آپکا بچہ ہے؟<br />
لڑکی : ( شرم نما ہنسی کے ساتھ) نہیں اس کی امی تو اندر وارڈ میں ہیں۔<br />
ڈفر : (ساتھ والے لڑکے سے) دیکھا میں نے کہا تھا نا، ماں کبھی بھی اپنے بچے کو ہینگر کی طرح نہیں لٹکاتی۔</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /><br />
سیاق و سباق جاننے کے لیے ان کے بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کی زحمت تو کرنی ہی پڑے گی۔</p>
<p>محمد وارث کا تعارف کرانا غیر ضروری ہوگا کہ آپ کی قابلیت کے سبھی معترف ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اچھے شاعر ہیں اور علمِ شاعری کا بھرپور مطالعہ رکھتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_07.html" >علمِ عروض اور ہجے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’علمِ عروض دراصل ایک &#8216;ہوا&#8217; ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔<br />
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر &#8216;بناتا&#8217; ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں &#8216;شاعری&#8217; کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس تحریر کے بعد اگلی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_08.html" >علمِ عروض۔ کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید</a>‘‘ کا مطالعہ بھی  شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔</p>
<p>وہاب اعجاز خان نے محمود نظامی کے نظرنامہ پر <a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post.html" >ایک تجزیہ</a> شایع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔<br />
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔<br />
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔<br />
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔</p></blockquote>
<p>وہاب اعجاز خان کی ملکی حالات پر ایک فکر انگیز تحریر ’’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post_10.html" >مبارک ہو</a>‘‘ بھی سامنے ہے:</p>
<blockquote><p>مبارک ہو جناب۔ اب آپ کے لائف سٹائل کو کوئی خطرہ نہیں۔ صبح اٹھیے۔ واک کے لیے پارک میں جائیے۔ رات کو پارکوں میں جائیے۔ ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ کیجیے۔ بچوں کو بڑے بڑے سکولوں میں داخل کیجیے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیجیے۔ مگر میرا کیا ہوگا۔ میں اپنے گھر سے دور ایک خمیے میں پڑا ہوا ہوں۔ نہ کھانا ہے نہ پینے کو پانی۔ میرے بچے بیمار ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے لائف سٹائل کو بچانے کے لیے مجھے قربانی دینا پڑے گی۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>دو مختلف موضوعات پر وہاب اعجاز خان کی پختہ تحاریر پڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جانب سے مزید معیاری اور مختلف موضوعات پر تحاریر سامنے آئیں گی۔ </p>
<p>اردو بلاگرز میں عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج بھی خوب چل نکلا ہے۔ پہلے صرف موصوف <a target="_blank" href="http://badtamiz.com/blog" >بدتمیز</a> ہوتے تھے، پھر <a target="_blank" href="http://dufferistan.com/" >ڈفر</a> آئے جن پر کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ بدتمیز ٹائپ کی کوئی چیز ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر <a target="_blank" href="http://billubilla.com/" >بلو بلا</a>، <a target="_blank" href="http://lafunga.wordpress.com/" >لفنگا</a>، <a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/" >مسٹر کنفیوژ</a> اور <a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/" >بے فضول</a> سامنے آئے۔ ہمارے سامنے اس وقت بے فضول کی چند تحاریر ہیں، اللہ جانے بے فضول سے ان کی مراد واقعی بے فضول ہے یا فضول جیسے یہاں کچھ لوگ ’فالتو‘ کو ’بے فالتو‘ بولتے ہیں۔۔۔ کیوں؟ بس جی، ایسے ہی، بولنے میں مزا آتا ہے۔ بہرحال، بے فضول کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%a7%da%ba/%d9%85%d9%b0%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/" >میں ڈرتا ہوں</a>‘ سے ایک اقتباس پیش ہے:</p>
<blockquote><p>’’تو جی واقعہ یہ ہے کہ ہم تو سدا کے بزدل واقع ہوئے ہیں۔ خوف ہے ناکامی کا، شرمندگی کا اور اذیت کا۔ ظاہر ہے میں تو اکیلا تو نہیں بزدل بیٹھا اس دنیا میں۔ اکثر نام نہاد بہادر جو اپنے سے چھوٹے اور کمزور لوگوں پر منہ زوری کرتے ہیًں، ان کی نسبت تو میں بہادر ہوں ۔ کیونکہ ایک تو ان کو اپنے سے بڑے بندے کی جوتی چاٹتے میں نے دیکھا ہے۔ فلموں میں ہی سہی’ مگر اصل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اور دوسرا یہ کہ میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا’ بس اس سے ڈرتا کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ہی ہی ہی۔ آپ بھی ہنسیے۔</p>
<p>اب ایسا بھی نہیں کہ میں ساری زندگی بزدل رہا ہوں۔ بچپن میں رات کو باغیچے کے اندھیرے کونوں مین جہاں باقی جانے سے ڈرتے تھے، میں کم از کم دھڑکتےدل کے ساتھ ہی سہی، آیۃ الاکرسی پڑھتے ہوئے چلا تو جایا کرتا تھا۔‘‘</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </p>
<p>کراچی میں شدید گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/" >شب</a> کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کا ذمہ دار انہوں نے بات گھما پھرا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کو ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />  آج تک ہم بوتل میں جن سنتے آئے تھے، شب کی زبانی ذرا ’<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2009/05/chai/" >بوتل میں چائے</a>‘ کا قصہ پڑھتے چلیں:</p>
<blockquote><p>آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا ۔ لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>مکمل قصے کے لیے ان کے بلاگ پر جانے کی زحمت فرمائیں۔</p>
<p>شعیب صفدر نے ملک کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے ایک واقعہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/05/blog-post_21.html" >یہ حفاظت کو بنایا ہے</a>‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> کو لکھتے ہوئے چند ہی ماہ گزرے ہیں۔ دل چسپ لکھتے ہیں۔ ’’<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/%da%a9%da%86%da%be-%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%84%da%a9%d8%a7/%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%be%d9%84%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1/" >ویل پلیسڈ بلاگر</a>‘‘ ایک اچھی تحریر ہے:</p>
<blockquote><p>فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>ایک دن اچانک کیا ہوا، اس کے لیے آپ جعفر کے بلاگ پر مکمل تحریر پڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ابوشامل اردو بلاگرز میں معروف نام ہے۔ گذشتہ دنوں ابوشامل نے اپنا ڈومین خریدا اور ویب ہوسٹنگ لے کر اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل ڈاٹ کام</a> پر منتقل کیا۔ اس پر منظرنامہ کی جانب سے انہیں مبارک باد۔ ابوشامل کی اپنی تحاریر تو بلاشبہ لاجواب ہوتی ہی ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/swat-operation-consensus/" >قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو</a>‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> اردو بلاگنگ کی دنیا میں نسبتاً نئی لکھاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی لکھنا شروع کیا۔ آپ کی تحاریر عموماً مختصر لیکن پُر فکر  ہوتی ہیں۔’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/05/27/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D9%85%D8%B2%D9%88%D8%B1-%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DA%BE%DB%92-%D8%9F/" >کیا مسلم عورت کمزور ہوتی ہے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>مغربی ممالک مسلم خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے مسلم عورت پردے میں لپٹی ہوئی ڈری سہمی جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جو شادی سے پہلے باپ اور بھائی کی مرضی سے زندگی بسر کرتی ہے شادی کے بعد شوہر کے اشاروں پہ چلتی ہے مسلم عورت جس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔<br />
کیا مسلم عورت حقیقت میں کمزور ہوتی ہے؟</p></blockquote>
<p>تو کیا مسلم عورت واقعی کمزور ہوتی ہے؟ اس کا جواب سعدیہ سحر نے اپنی تحریر میں خوب دیا ہے۔</p>
<p>ان تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط:<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1053" >کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟</a> (فرحت کیانی)<br />
<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/" >عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام</a> (افتخار اجمل بھوپال)<br />
<a target="_blank" href="http://naatiqa.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html" >یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے</a> (م۔م۔مغل)<br />
<a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/articles/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7-%db%94%db%94%db%94%d8%9f/" >نیکی یا۔۔۔؟</a> (مسٹر کنفیوژ)<br />
<a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/05/10/jabmujhe/" >جب مجھے بور کیا گیا </a>(فہیم اسلم)</p>
<p>بلاگنگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک اہم ترین خوش خبری کے اردو زبان میں، نستعلیق رسم الخط میں پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس</a>‘‘ جاری ہوگیا ہے۔ اس کارنامے پر ہم محمد علی مکی کو بے حد مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اردو سلیکس دراصل لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم ہے، مختصر حجم کا ہے، استعمال میں آسان ہے۔ ونڈوز صارفین اسے اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ امید ہے، مستقبل میں اس حوالہ سے ارتقائی سفر جاری رہے گا۔</p>
<h2>بلاگرز کے لیے گُر کی بات:</h2>
<p>چلتے چلتے نئے بلاگرز کے لیے ہم ایک گُر کی بات پیش کرنامناسب سمجھتے ہیں۔ جب آپ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہیں تو پوسٹ ٹائٹل کے ٹیکسٹ ایڈیٹر کے عین نیچے تحریر کا ربط ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug-300x102.png" alt="slug" title="slug" width="300" height="102" class="alignnone size-medium wp-image-409" /></a><br />
پھر ہوتا یوں ہے کہ تحریر آپ کے بلاگ پر شائع ہو تو جاتی ہے لیکن جب ہم اس کا ربط کاپی کرکے کہیں پیسٹ کرتے ہیں تو وہ بہت عجیب و غریب انداز میں سامنے آتا ہے جیسا کہ کافی بلاگرز کی تحاریر کے ربط اس تجزیے کے دوران ہمارے سامنے آئے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2-300x17.png" alt="slug2" title="slug2" width="300" height="17" class="alignnone size-medium wp-image-411" /></a><br />
کئی بار تو اس طرح کے روابط شیطان کی آنت کی طرح اتنے لمبے ہوجاتے ہیں کہ دو، تین سطور تک پہنچ جاتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ اس ربط کو ایڈیٹ کرکے انگریزی یا رومن میں کرلیا کریں تاکہ آپ کی تحریر کا ربط بالکل واضح رہے جیسے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3-300x28.png" alt="slug3" title="slug3" width="300" height="28" class="alignnone size-medium wp-image-412" /></a><br />
یہاں تک کہ ربط کے درمیان خالی اسپیس بھی نہ دیں۔  امید ہے آپ سب بلاگر حضرات آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ کسی مشکل کی صورت میں سوال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی اپنے میزبانوں کو دیجئے اجازت۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی نئی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اپنا اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا بہت بہت بہت خیال رکھیے گا۔ فی امان اللہ۔ والسلام</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اپریل 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 31 May 2009 18:45:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[2009]]></category>
		<category><![CDATA[april]]></category>
		<category><![CDATA[blogs]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=390</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔ اپریل کے اقتباسات لکھنے میں بہت دیر ہو گئی، جس کی وجہ یہی تھی کہ عمار اور میں امتحانات میں مصروف تھے۔ میں کچھ فارغ ہو گئی ہوں، اور منظر نامہ کی طرف توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گی۔ اپریل میں اردو بلاگنگ میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔</p>
<p>اپریل کے اقتباسات لکھنے میں بہت دیر ہو گئی، جس کی وجہ یہی تھی کہ عمار اور میں امتحانات میں مصروف تھے۔ میں کچھ فارغ ہو گئی ہوں، اور منظر نامہ کی طرف توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گی۔ اپریل میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا، اس بار ذرا مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<h1>طنز و مزاح</h1>
<p>سب سے پہلے <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> کی تحریر سے آغاز کرتے ہیں۔ راشد کامران مزاح پر نہایت ہی عمدہ لکھتے ہیں، آپ  کی چند پچھلی تحاریر بھی داد کے لائق تھیں۔ اپریل میں آپ کی تحریر “<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=233" >حقہ ۔۔ زیر زمین وکی پیڈیا سے ایک ورق</a>” جو کہ “حقے” سے متعلقہ ہے،جس میں آپ نے حقے کی تاریخ، ساخت و استعمال پر لکھا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔حقے کی تاریخ۔<br />
مغل شہزادوں کی تعداد اور عمر میں خاطر خواہ اضافے کے پیش نظر کہاجاتا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کچھ ایسی خواہش ظاہر کی کہ “شہزادہ بھی مرجائے اور ملکہ بھی نہ روٹھے”۔ مغل فیملی ڈاکٹر نے ظل الہٰی کے حکم کی تعمیل میں حقے کا نسخہ پیش کیا اور دربار سے وابستہ ہر فرد کے لیے حقہ کا استعمال لازمی قرار پایا۔ جہاں کسی شہزادے نے تخت شاہی کے زیادہ قریب ہونے کی کوشش کی محل کے خواجہ سراؤں نے بادشاہ کے تیور دیکھتے ہوئے چلم میں سنکھیا رکھوا دی۔ تاریخ‌ کی کتابوں میں درج ہے کہ ایک ہی کش میں شہزادہ دھویں کا مرغولا اڑانے سے پہلے ہی رحمتہ اللہ علیہ ہوجایا کرتاتھا۔۔۔<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=233" >مزید پڑھیں</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=295003433" >اظہر الحق</a> دل میں درد رکھنے والےپاکستانی بلاگر ہیں، آپ کی اکثر تحاریر ملک کے حالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ آپ نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=652241532" >ایک دہشت گرد سے انٹرویو</a> لیا، جس میں آپ لکھتےہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>آپ کا نام ؟<br />
-دھشت گرد!!</p>
<p>- آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!<br />
- دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !!</p>
<p>- اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں<br />
- ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !!</p>
<p>- اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں<br />
- دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے۔۔۔م<a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=652241532" >زید پڑھیں</a></p></blockquote>
<h1>آپ بیتی</h1>
<p>اظہر الحق کی ہی ایک تحریر  جو ان کے اپنے اور پاکستان سے تعلق کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ “ <a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!708.entry" >میری پہچان، پاکستان</a>” میں آپ لکھتے ہیں کہ  جب گیارہ سال پہلے وہ یو اے ای میں گئے تھے، تو اس وقت سے اب تک  پاکستانیوں سے متعلق حالات بہت مختلف ہیں۔</p>
<blockquote><p>“۔۔۔میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا۔۔۔”</p>
<p>۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں   ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ،  مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ۔۔۔”</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث</a> نے  “<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/04/blog-post_26.html" >چاندنی راتیں</a>” کے نام سے تحریر لکھی، جس میں آپ نے اپنا کمرہ اور گھر چھوٹ جانے پراور نئے گھر کے بارے میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔</p>
<blockquote><p>“۔۔۔زندگی کی ہر کروٹ، حشر ساماں ہوتی ہے اور ہر انگڑائی قیامت خیز اور اب زندگی کی ایک اور کروٹ مجھ سے بہت کچھ اگر لے گئی ہے تو بہت کچھ دے بھی گئی ہے۔ ہفتہ ہونے کو آیا کہ مجھ سے وہ میرا وہ کمرہ چُھوٹ گیا ہے جس میں &#8220;بلا شرکتِ غیرے&#8221; میں نے اپنی زندگی کے سینتیس سال بتا دیئے، اس کمرے کے ساتھ اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ سوچنے لگوں تو بیکار ہو جاؤں اور وہ گھر چھوٹ گیا جس میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور جوان ہوا۔ ہمارا وہ چھوٹا سا آبائی گھر جس کی تین منزلہ عمارت میں، میں ایک طرح سے تہہ خانے میں رہ رہا تھا اب اس سے ہجرت کر کے ساتھ والے گھر میں اٹھ آیا ہوں۔۔”</p></blockquote>
<h1>منظر نامہ خبریں</h1>
<p>۔  18 اپریل 2009  بروز ہفتہ <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_10.html" >پہلی نیشنل بلاگرز کانفرنس</a> کراچی میں منعقد کی گئی۔</p>
<p>۔  <a target="_blank" href="http://baazauq.blogspot.com/" >باذوق</a> نے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی منفرد تحریروں کے اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ <a target="_blank" href="http://aabegum.blogspot.com/" >مشتاق احمد یوسفی &#8211; شہ پارے </a>کے نام سے شروع کیا۔</p>
<p>۔  وہاب اعجاز خان نے اپنا نیا اردو بلاگ “<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/" >غبارِ خاطر</a> “ کے نام سے شروع کیا۔ ہم انھیں اردو بلاگنگ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔</p>
<p>۔  خورشید آزاد نے اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://bolo.urdutech.net/" >اردو ٹیک</a> سے <a target="_blank" href="http://imaazad.blogspot.com/" >بلاگ سپاٹ</a> پر منتقل کیا۔</p>
<p>۔ منیر عباسی نے ایک بار پھر بلاگنگ کی طرٖ رخ کرتے ہوئے اپریل میں اپنا نیا بلاگ “<a target="_blank" href="http://achoota.blogspot.com/" >طفل مکتب</a>” بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مارچ 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 Apr 2009 16:30:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[مارچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=343</guid>
		<description><![CDATA[معاشرہ و سیاست: فیصل اپنی  ایک تحریر “آئی ایم ناٹ شیور” کے آغاز میں اپنے ایک پروفیسر کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ہر بات کا آغاز “آئی ایم ناٹ شیور” سے کرتے تھے۔ اور اسی تحریر میں آپ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1>معاشرہ و سیاست:</h1>
<p><a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/" >فیصل</a> اپنی  ایک تحریر “<a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/03/28/%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D9%86%D8%A7%D9%B9-%D8%B4%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >آئی ایم ناٹ شیور</a>” کے آغاز میں اپنے ایک پروفیسر کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ہر بات کا آغاز “آئی ایم ناٹ شیور” سے کرتے تھے۔ اور اسی تحریر میں آپ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ہر بات کا علم ہے۔ آپ کچھ اس طرح لکھتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔قصہ کچھ یوں کہ ہم طلبا کے ہر سوال کے جواب کا آغاز وہ “آئی ایم ناٹ شیور بٹ آئی تھنک۔۔۔” سے کرتے تھے، یعنی مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال کچھ یوں ہے۔ جواب دینے کے بعد یا اس سے پہلے وہ کلاس کے باقی طلبا سے بھی انکی رائے طلب کرتے تھے اور ہم اپنی کم علمی کے باوجود پھول پھول کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال پہلے پہل تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ عجیب استاد ہے، کسی بات کا مکمل علم ہی نہیں رکھتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا، مجھے اس بات کی گہرائی کا احساس ہوا۔ اوروں کا تو نہیں پتہ، اپنی بات کرتا ہوں۔ یقین کیجئے مجھے تو یہ کہنا کہ مجھے کسی بات کا علم نہیں یا مکمل علم نہیں، بہت ہی مشکل ہے۔ انا آڑے آ جاتی ہے، اندر کھڑے بت لرزنے لگتے ہیں، پسینہ آ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتی ہے اور پھر میں بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کر دیتا ہوں کہ نو، آئی ایم شیور، مجھے یقین ہے کہ میرا علم کامل ہے، درست ہے۔۔۔م<a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/03/28/%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D9%86%D8%A7%D9%B9-%D8%B4%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >زید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<h1>طنزومزاح:</h1>
<p><span style="font-size: medium;">اردو شاعری پر ایک مزاح کے طور پر لکھی ہوئی </span><a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" ><span style="font-size: medium;">راشد کامران</span></a><span style="font-size: medium;"> کی تحریر “</span><a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=218" ><span style="font-size: medium;">خونی غزل</span></a><span style="font-size: medium;">” ایک بہترین تحریر ہے۔ راشد نے نہایت ہی  بہترین انداز میں اس تحریر کو لکھا ہے۔۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔اہل زبان ہونا بھی بڑا بوجھ ہے چاہے اپنی زبان بولیں یا نہ بولیں اس کی بے توقیری برداشت کرنا اپنے بس سے باہر ہے۔ راستے بھر حلوائی شاعر کے مجوزہ دیوان کے بارے میں سوچ سوچ کر جان ہلکان کرتے رہے پھر طرح طرح کے منصوبے بناتے رہے کہ کس طرح اپنی زبان کو اس میٹھی شاعری سے محفوظ رکھا جائے۔ اردو شاعری کا ہاضمہ پہلے ہی درست نہیں‌اس پر اسطرح کی آزادانہ اور شیریں نظموں سے شوگر لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ زبان سے محبت رکھنے والے زندگی بھر شاعری کو انسولین لگاتے نہیں دیکھ سکتے۔ اور خدانخواستہ کلو قصائی کے جاری عشق کی ناکامی کا خمیازہ بھی اردو شاعری کو بگھتنا پڑ گیا تو قلب و نظر کی شاعری کہیں چانپوں اور کلیجیوں کی نظر نہ ہو جائے۔ ویسے بھی قصائی چھیچھڑے ڈال کر وزن پورا کرتے ہیں اسطرح غزل تو ہوجائے گی لیکن بڑی خونی قسم کی ہوگی۔</span></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;"> </span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" ><span style="font-size: medium;">سارہ پاکستان</span></a><span style="font-size: medium;"> اردو بلاگنگ میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔ آپ اپنی  تحاریر میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ سنجیدہ معاملات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپ کی تحریر “</span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" ><span style="font-size: medium;">قصہ کچھ ہماری  فطرت ثانیہ کا۔۔۔</span></a><span style="font-size: medium;">” میں بھی کچھ مزاح اور کچھ سنجیدہ حالات کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔طبقاتی فرق پر مشتمل ہمارا یہ معاشرہ بھی عجیب ہی ہے پہلے تو اچھے ڈاکٹر کو افورڈ کرنا ہی آپ کی مالی حیثیت کا آئنہ دار تھا پھر جب سے تعلیم کے شعبےپر بھی کر پشن کے شیداءیوں کی نظر عنایت بڑھی تو اب تو حال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا بھی آپ کے اسٹیٹس کو ظاہر کرتا ہے ۔ابھی تک تو ذہن انہی باتوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںتھا کہ کس طرح لوگ دھڑلےسے نقل کرتے سفارش کرواتے ،پیپرز میں نمبر لگواتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اب تویہ سب باتیں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ اب انہیں چھپانے یا ان پر شرمندہ ہونے کی بجائے بڑے فخر سے دوستوں کی محفل میں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔اور سننے والے سب بڑے رشک سے اس شخص کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس کی کرپشن کی داستان جتنی شرمناک ہوگی وہ اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے ۔م</span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" ><span style="font-size: medium;">زید پڑھیں۔۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;">ہمارے شاعر بلاگر </span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" ><span style="font-size: medium;">محمد وارث</span></a><span style="font-size: medium;"> کے بلاگ پر آپ کو شاعری سے متعلقہ تحاریر پڑھنے کو ملتی ہی رہتی ہوں گی۔ شاعری سے ہی متعلقہ ایک مزاح سے بھر پور تحریر “</span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post_27.html" ><span style="font-size: medium;">سبکسارانِ ساحل</span></a><span style="font-size: medium;">” میں آپ لکھتے ہیں کہ …</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔یقیناً &#8220;ہارٹ اٹیک&#8221; کی کیفیات کو فیض نے اسی نام کی نظم میں بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے لیکن کیا کیجے ان حضرات کا جنہیں بیدل جونپوری کے الفاظ میں اکثر کچھ ایسا درد اٹھتا ہے۔<br />
ہیں یہاں دوشیزگانِ قوم بیدل با ادب<br />
اس جگہ موزوں نہیں ہے فاعلاتن فاعلات<br />
گرلز کالج میں غزل کا وزن ہونا چاہیے<br />
طالباتن طالباتن طالباتن طالبات<br />
لیکن دوشیزگان کے حق میں سب سے محلق وہ درد تھا جو &#8216;مَنّے موچی&#8217; کے پیٹ میں اس وقت اٹھا جب اسکا بیٹا امریکہ سے ڈالر بھیجنے لگ گیا اور اس نے گاؤں کے چوہدری سے اسکی باکرہ بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلیے مانگ لیا، گویا دوشیزہ نہ ہوئی اردو شاعری ہو گئی۔ </span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post_27.html" ><span style="font-size: medium;">مزید پڑھیں۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد</a> اپنی ایک تحریر”<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/03/blog-post_10.html" >بھوکا</a>” میں مشہور ہونے کی خواہش رکھنے والوں پر کچھ اس طرح سے طنز کر رہے ہیں۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔</span>تو خوب سوچا! سر پیٹا، سوچتے اور سو جاتے، پیٹ بھر کر کھانے کو مل جاتا تو ہر نوالے کے ساتھ مشہور ہونے کی (ایک سو ایک) ۱۰۱ ترکیبیں بھی حلق پار کر جاتیں، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جنگل کی جانب نکل کھڑے ہوئے، جائے مخصوصہ جہاں اکثر بیٹھ کر سوچ وچار کیا کرتے، وہاں بیٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔<br />
سوچا خودکشی کر لیں، جیو پر پٹی بھی چل جائے گی اور یہاں کی مقامی اخباروں میں چند روز چٹ پٹی خبر بھی، جان بھی چھوٹے گی اور مشہوری الگ!<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/03/blog-post_10.html" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<h1><span style="font-size: x-large;">معلوماتی تحاریر:</span></h1>
<p>اجمل صاحب نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک معلوماتی تحریر پوسٹ کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور چند حقائق کو سامنے لایا ہیں۔ آپ کے مشاہدے کے مطابق ہم وطنوں کے علم میں نہیں کہ دراصل 23 مارچ کو کیا ہوا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p><span style="font-size: small;">آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا “ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ اسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلافات اتنے بشدید اور تلخ ہیں کہ ان دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ انہوں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں۔ </span><a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%DB%8C%D9%88%D9%85%D9%90-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DB%94-%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%9F/" ><span style="font-size: small;">مزید پڑھیں۔۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> نے <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=464" >روزویل کا واقعہ</a> سے متعلق ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس کا آغاز آپ کچھ اس طرح کرتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>آخر کار دوسری عالمی جنگ اپنے انجام کو پہنچی اور اپنے پیچھے ایسی تباہ کاریاں چھوڑ گئی جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، خاص طور سے جب کہ ایٹم بم سے دو جاپانی شہر “ہیروشیما” اور “ناگاساکی” پوری طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور دنیا دہل کر رہ گئی..</p>
<p>اور پھر دنیا نے ایک نئے دور کا آغاز کیا..<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=464" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> کی ہی ایک اور تحریر “<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=451" >زمان ومکان میں سفر</a>” جو کہ نہایت ہی معلوماتی تحریر ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>بڑی ہی عجیب اصطلاح ہے یہ..</p>
<p>زمان ومکان..</p>
<p>شاید یہ سطور لکھنے تک بھی ہماری حواسِ خمسہ کبھی اس اصطلاح کی عادی نہ ہوسکی حالانکہ یہ ایک خالصتاً علمی اصطلاح ہے جو 1905ء سے مستعمل ہے..</p>
<p>یقیناً تاریخ پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور نا ہی یہاں طباعت کی غلطیوں کا کوئی امکان ہے، یہ اصطلاح واقعی ایک صدی سے زائد عرصہ سے مستعمل ہے..</p>
<p>اُس سال مشہورِ زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک نیا علمی نظریہ پیش کیا جسے طبیعات اور ریاضی میں انقلابی حیثیت حاصل ہوئی اور جسے “خصوصی نظریہ اضافیت” کا نام دیا گیا.. <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=451" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب</a> نے طالب علموں سے متعلقہ تحریر “<a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2009/03/03/%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%88%d9%82%d8%aa/" >مطالعہ کرنے کے لئے بہترین وقت</a>” لکھی، جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>امریکہ کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ علی الصباح بیدار ہو کر مطالعہ کرنے والے کالج یا یونیورسٹی کے طلبا رات گئے پڑھنے والے طلبا کی نسبت امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔</p></blockquote>
<p>اسی سے متعلقہ تحریر” <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DA%A9%D8%A8-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1/" >پڑھنا کب بہتر</a>” <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/" >اجمل صاحب</a> نے اپنے تجزیے کے مطابق بھی لکھی۔۔جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔امریکی ماہرین نفسیات نے درست کہا ہے لیکن شاید ایک صدی یا زیادہ تاخیر سے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے کئی اساتذہ نے یہ ہدائت ہمیں سکول کے زمانہ میں کی تھی کہ رات کو عشاء کے بعد سو جایا کریں اور صبح سویرے اُٹھ کر تھوڑی سی سیر کریں اور پھر نہا کر پڑھا کریں ۔ دوپہر کے بعد آدھ گھنٹہ آرام کریں پھر بیٹھ کر پڑھیں ۔ میرے اساتذہ کے مطابق رات آرام کرنے کے بعد صبح آدمی تازہ دم ہوتا ہے ۔ دوسرے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دن رات کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ صبح سویرے تازہ ہوا ہوتی ہے جو دماغ کو تازگی بخشتی ہے ۔ اسلئے جو سبق یاد کرنے میں رات کو تین گھنٹے لگتے ہیں وہ صبح ایک گھنٹہ میں یاد ہو جاتا ہے ۔ <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DA%A9%D8%A8-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1/" >مزید پڑھیں</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/" >شگفتہ</a> نے “<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=173" >اردو  کہیں کسے۔۔۔!!”</a> ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں نے انہوں نے اردو میں فارسی، عربی اور انگریزی  کے الفاظ شامل کر کے مکمل اردو کا پیراگراف بنایا ہے۔ جس میں آپ نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p><span style="font-size: small;">۔۔۔اردو کا اپنا ایک رنگ ہے باوجود اس کے کہ اس میں تمام ہی ابتدائی رنگ دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں ۔ اردو کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی وسعت بہت زیادہ ہے یہ ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور یہ مختلف رنگ اردو میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی زرخیزی اس زبان کے قد و قامت اور اس کے ادبی معیار کا پیمانہ بنتی ہے اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں اس کی قیادت کو ثابت کرسکتی ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ اہل زبان اسے کس طرح برتتے ہیں ، ان کی تنقیدی سوچ کی پرواز کتنی بلند ہے اور وہ ایک نظر میں بیک وقت کتنے رنگوں کی پہچان و احاطہ کر سکتے ہیں تاکہ اس زرخیزی سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ پہچان و احاطہ کو رسمی اصطلاح میں تنقید کہیں گے۔ تنقید ضروری عنصر ہے تعمیر کے لیے لیکن اگر نامکمل ہو تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے ۔ ۔ ۔ ؟ ؟۔۔۔</span></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد  وارث</a> کی تحریر “<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" >حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ &#8211; جاوید نامہ از اقبال سے اشعار</a>” بھی ایک معلوماتی تحریرہے۔</p>
<h1>اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</h1>
<p><a target="_blank" href="http://derwesh.com/webserver-on-a-stick/" ><span style="font-size: medium;">یو ایس بی میں لوکل ویب سرور اور ورڈ پریس کی انسٹالیشن</span></a><span style="font-size: medium;"> کے بارے میں </span><a target="_blank" href="http://derwesh.com/" ><span style="font-size: medium;">درویش</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر نہایت ہی معلوماتی تحریر پوسٹ کی۔</span></p>
<h1>نیوز اپڈیٹس:</h1>
<ul>
<li><a target="_blank" href="http://noumanali.com/" ><span style="font-size: medium;">نعمان علی</span></a><span style="font-size: medium;"> نے منظر نامہ پر “</span><a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" ><span style="font-size: medium;">مہم برائے ایک بلاگر، ایک کتاب</span></a><span style="font-size: medium;">” میں حصہ لیتے ہوئے اپنی شاعری کی کتاب“</span><a target="_blank" href="http://noumanali.com/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1/2009/03/25/my-urdu-poetry-book.html" ><span style="font-size: medium;">دستک</span></a><span style="font-size: medium;">” کو پیش کیا۔</span></li>
<li><span style="font-size: medium;"><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> نے بھی &#8220;<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=461" >ہم اضافیت اور کائنات</a>&#8221; کو برقیا اور مہم ایک بلاگر ایک کتاب کے لیے پیش کیا۔<br />
</span></li>
<li><span style="font-size: medium;">مارچ میں کراچی بلاگرز کی ایک ملاقات ہوئی۔ جس کا احوال </span><a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/" ><span style="font-size: medium;">فہیم</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر </span><a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/03/24/karachiblogersmeetup/" ><span style="font-size: medium;">اس پوسٹ</span></a><span style="font-size: medium;"> میں لکھا۔ </span></li>
<li><a target="_blank" href="http://www.nayni.com/" ><span style="font-size: medium;">نینی</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر </span><a target="_blank" href="http://www.nayni.com/2009/03/06/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1/" ><span style="font-size: medium;">پہلی اردو تحریر</span></a><span style="font-size: medium;"> پوسٹ کی۔</span></li>
<li><span style="font-size: medium;">باذوق نے </span>نامور مزاح نگار <span style="color: #000000;">مشتاق احمد یوسفی</span> کی منفرد تحریروں اور اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ شروع کیا۔ جس کو آپ <a target="_blank" href="http://aabegum.blogspot.com/" >یہاں</a> دیکھ سکتے ہیں۔</li>
<li><span style="font-size: medium;">لانگ مارچ کے بارے میں تقریبا سبھی بلاگرز رپورٹنگ کرتے رہے۔</span></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فروری2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 09 Mar 2009 00:01:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=292</guid>
		<description><![CDATA[السلام وعلیکم قارئین، ماہ فروری میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ معاشرہ و سیاست: دوست نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر &#8220;کتبے&#8221; لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے گزرتے ہوئے انھیں جگہ جگہ کتبے دکھائی دیتے ہیں جو  کسی سڑک کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">السلام وعلیکم قارئین،</p>
<p dir="rtl">ماہ فروری میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">
<h2 dir="rtl">معاشرہ و سیاست:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/" >دوست</a> نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/310" >کتبے</a>&#8221; لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے گزرتے ہوئے انھیں جگہ جگہ کتبے دکھائی دیتے ہیں جو  کسی سڑک کے افتتاح یا  پھر کسی اور چیز کے سنگ بنیاد کے موقع پر لگائے جاتے ہیں۔  آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">آج سے دو سال پہلے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا. اس گلی کی سیوریج لائن خراب تھی، یہی کوئی سو گز کے قریب لمبائی میں. اوراس کو دوبارہ ڈلوانے کا افتتاح اس وقت کے ضلعی ناظم نے کیا تھا. وہ نئی ڈالی ہوئی سیوریج لائن بھی شاید اب خراب ہوگئی ہو لیکن وہ کتبہ اب بھی وہاں لگا ہوگا. جس پر بدست مبارک جناب فلاں فلاں لکھا ہوا تھا</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مجھے لگتا ہے میری قوم کے نصیبوں پر بھی ایسے ہی کتبے لگے ہوئے ہیں. سبز رنگ کے، سنگ مرمر کے پرانے اور نئے کتبے.. میری قوم کے نصیبوں کے مزار پر وڈوں کے نفس متولی بنے بیٹھے ہیں. نہ وہ اُٹھیں اور نہ ہی میری قوم کا نصیب جاگے..</p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/" >شکاری</a> نے اپنی ایک تحریر  &#8220;<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=219" >بھیک مشن</a>&#8221; میں معاشرے میں بھیک مانگنے کے طریقوں پر لکھا ہے، اور بھکاریوں سے آئے دن  آپ کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ  حکومت کے ساتھ ساتھ حکمران اور اب ایدھی سینٹر والوں نے بھی بھیک مشن شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے  بس میں ایک لڑکی کو اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے کے بارے میں بھی لکھا۔  اور آخر میں آپ کہتے ہیں کہ :</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;">اب یہ ہمارا قومی طور پر<strong>&#8220;بھیک مشن&#8221;</strong> کب ختم ہوگا.</p>
</blockquote>
<p dir="rtl">ج<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/" >ہانزیب</a> بھی اسی موضوع پر  اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/first-impression/" >پہلی نظر میں</a>&#8220;میں کچھ  اس طرح کہتے ہیں کہ  پاکستان   ائیر پورٹ پر اترتے ہوئے آپ کو سب سے پہلے بھکاریوں سے واسطہ پڑتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">میرا ایک دوست پاکستان سے امریکہ آیا، اور باہر نکلتے ہی سب سے پہلے جس کالے امریکی کو اُس نے دیکھا، اُس نے گلے میں جوتے لٹکا رکھے تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن سُنی سنائی باتوں کے بعد اُس کا باہر نکلتے ہی ایسا دیکھنے سے اُس نے یہ بات ذہن نشین کر لی کہ کالے امریکی بدتمیز اور بد اخلاق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب انگریزی کہاوت &#8220;First impression is last impression&#8221; کے مطابق اس نے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">لیکن کسی سیاح جو پاکستان آئے، پر &#8220;First Impression&#8221; کس قسم کا پڑے گا ۔۔۔۔ باہر نکلتے ہیں فقیروں کا جم غفیر آپ کے گِرد ہو جاتا ہے،</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">خود ہی سوچیں کہ باہر والے پاکستانیوں کو فقیر کیوں نہیں سمجھیں گے اپنے First Impression کی بنیاد پر؟</p>
</blockquote>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت</a> نے  جعلی پیر، عاملوں کے بارے میں ایک بہترین پوسٹ &#8221; <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=954" >ضعیف الاعتقادی</a> کی، جس میں آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">پاکستان میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ جعلی عامل کبھی <a href="http://www.mypakistan.com/?p=535"  target="_blank">ڈبل شاہ </a>اور کبھی خود ساختہ پیر کے روپ میں لوگوں کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو لُوٹتے ہیں اور پھر بھی <a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/04/printable/070417_doubleshah_followup_si.shtml"  target="_blank">معتبر رہتے ہیں</a>۔ ان کے معتقدین میں عوام و خواص کی کچھ قید نہیں۔ کوئی اقتدار کے لالچ میں ان کی لاٹھیاں کھانے کو اپنے لئے مبارک تصور کرتا ہے    تو کوئی غربت بیماری اور دیگر مصائب کے خاتمے کے لئے انہیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔ نتیجتا آئے روز ایسے لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ اس ضعیف الاعتقادی کے زیرِ اثر لوگ اپنی عزت، جان، مال سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ لیکن دیکھنے والے پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ لوگ اسی طرح بیوقوف بناتے بھی ہیں اور بنتے بھی ہیں۔ <img src="file:///C:/Users/MYDREA%7E1/AppData/Local/Temp/msohtmlclip1/01/clip_image001.gif" border="0" alt=":-(" width="15" height="15" /></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">معلوماتی تحاریر:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد بنگش</a> نے  ڈیرہ اسماعیل  کے بارے میں ایک معلوماتی بلاگ لکھا، &#8220;<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_16.html" >ڈیرہ، پھلاں دا  سہرہ&#8221;</a>جس میں آپ نے  اپنے ڈیرہ اسماعیل جانے کی کہانی بھی سنائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ڈیرہ اسماعیل خان، کی پہلی نشانی رکشے ہیں، جو شہر میں داخل ہونے والی ہر بس کے ساتھ ایسے بھاگنے لگتے ہیں کہ جیسے، کوئی گڑ کی ڈلی پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ دوسری نشانی آبادی میں اضافہ اور چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں، جن کے باہر جلی لکھا ہوتا ہے، &#8221; آ بھرا روٹی دوا&#8221; (آ بھائی، روٹی کھا)۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p align="right">ڈیرہ اسماعیل خان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، گومل یونیورسٹی کے مکین، اسے سِٹی، &#8220;جھوک&#8221; یعنی گاؤں کے لوگ اسے شہر، جبکہ &#8220;کچہ&#8221;یعنی، دریا کے اس طرف کے مکین اسے اپنے حساب سے &#8220;دریا پار&#8221; کہتے ہیں، جبکہ ایک نام، جس سے سارے لوگ اس مانتے ہیں، وہ ہے &#8220;ڈیرہ، پُھلاں دا سہر۱&#8221;۔<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_16.html" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p align="right">
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/02/21/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D8%B2-20-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%DB%8C%D9%88/" >ایڈز 20 سال کی تحقیق کے بعد بھی لاعلاج کیوں</a> ؟  اس موضوع پر  <a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> نے ایک نہایت ہی معلوماتی بلاگ لکھا۔  جس میں انہوں نے ایڈز کے آغاز  کے بارے میں کچھ لکھا اور پھر پاکستان میں  بھی اس مرض کی تشخیص کے بعد کیا ہوا۔۔اس بارے میں بھی انہوں نے لکھا ۔  آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">یواین کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 25 میلین ھے 7۔5 میلین لوگ ایڈز کے مرض کا شکار ھو چکے ھیں پاکستان میں 84000 ایڈز کے مریض ھیں جن میں 70000 مرد اور بچے 14000 عورتیں ھیں پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی وجہ کم علمی اور جہالت بھی کہا جا سکتا ھے استعمال شدہ سرنج کا بار بار استعمال سکین کیے بنا انتقال خون ۔ جب کوئ حادثہ ھوتا ھے یا خون کی ضروت پڑتی ھے جو بھی خون  دستیاب ھو لگا دیا جاتا ھے ایک سال میں پاکستان میں مختلف حادثات اور بیماریوں کی وجہ سے 5۔1 میلین لوگوں کو خون دیا جاتا ھے  جن میں سے 20 % پپشہ ور لوگ ھوتے ھیں جن کا خون چیک نہیں ھوا ھوتا۔۔۔<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/02/21/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D8%B2-20-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%DB%8C%D9%88/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl">اجمل صاحب نے  &#8221; <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/02/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%db%94-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%8f%da%a9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%db%94-%d9%82%d8%b5%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d8%9f/" title="مستقل ربط برائے :  سوات ۔ طالبان اور حُکمران ۔ قصور کس کا ؟" >سوات ۔ طالبان اور حُکمران ۔ قصور کس کا ؟</a>&#8221; کے عنوان سے ایک بہترین معلوماتی تحریر لکھی، جو کہ  سوات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تاریخ سے متعلقہ ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">جب انگریز ہندوستان چھوڑنے پر راضی ہو گئے تو اُنہوں نے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے اندر داخلی طور پر خودمختار ریاستوں کا فیصلہ اُن کے حاکموں پر چھوڑ دیا کہ اپنے عوام کی رائے کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کریں ۔ چالبازی یہ کی گئی کہ پاکستان کو نہ دولت اور اثاثوں کا حصہ دیا گیا اور نہ اسلحہ کا ۔ مسلمان فوجیوں کو پہلے ہی سے مجوزہ پاکستان سے دور علاقوں میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ وہیں اُنہیں غیر مسلحہ کر کے گھروں کو جانے کا حُکم دیا گیا ۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ پاکستان بنا تو نہ اس کے پاس حکومت چلانے کو کچھ تھا اور نہ اپنا دفاع کرنے کا سامان ۔ اس صورتِ حال سے مکمل فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے بھارت کے اندر یا بھارت سے ملحق تمام ریاستوں کو بھارت کے ساتھ الحاق کا حُکم دیا ۔ جن چار ریاستوں [گجرات کاٹھیاواڑ ۔ منادور ۔ حیدآباد دکھن اور جموں کشمیر] نے لیت و لعل کیا اُن پر یکے بعد دیگرے فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ۔ اس کے بر عکس پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے اندر ریاستوں کو داخلی خود مختاری دیئے رکھی جب تک کہ وہ ریاستیں خود ہی پاکستان میں ضم نہ ہوئیں ۔ <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/02/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%AA-%DB%94-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D9%8F%DA%A9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%DB%94-%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D8%9F/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">محب علوی نے ایک نہایت ہی دلچسپ اور معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی ایک پرانی روایت &#8220;<a target="_blank" href="http://mohib.urdutech.com/2009/02/02/groundhog-day/" >گراؤنڈ ہوگ ڈے</a>&#8221; کے بارے میں بتایا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Groundhog_day" >Groundhog Day</a> چھٹی کا تہوار ہے جسے  دو فروری کے دن امریکہ اور کینیڈا میں منایا جاتا ہے۔ لوک روایت کے مطابق اگر دو فروری کو گراؤنڈ ہوگ (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Groundhog_day" >Groundhog</a> ) اپنے بل میں سے نکل کر اپنا سایہ دیکھ لے تو سردیاں مزید چھ ہفتہ تک رہیں گی اور گراؤنڈ ہوگ واپس اپنے بل میں چلا جاتا ہے جہاں وہ سردی سے بچنے کے لیے سو رہا تھا۔اگر بادلوں کی وجہ سے سورج نہ نکل سکے اور وہ اپنا سایہ نہ دیکھ سکے تو سردیاں ختم ہونے کو ہیں اور بہار جلد آ رہی ہے اور گراؤنڈ ہوگ بھی نیند ترک کرکے باہر ہی رہ جاتا ہے۔ <a target="_blank" href="http://mohib.urdutech.com/2009/02/02/groundhog-day/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">طنز و مزاح:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/" >فیصل</a> نے  اردو اور انگریزی بلاگنگ سے متعلقہ ایک  دلچسپ تنقیدی تحریر&#8221; <a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/01/30/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af-%d8%a7%d9%86%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af/" title="Permanent Link: اردو بلاگ انگریزی بلاگ" >اردو بلاگ انگریزی بلاگ</a>&#8221; لکھی۔جس میں  آپ کہتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">خیر  بات ہو رہی ہے اردو بہ مقابلہ انگریزی بلاگز کی۔ چچ چچ حضور کوئی مقابلے کی چیز ہو تو مقابلہ کیجئے، کہاں اردو کہاں انگریزی۔ نہیں ایسا نہیں کہ ایک اعلیٰ و ارفع ہے تو دوسری کم ظرف۔ میرے نزدیک تو ایک زبان ایک طرزِ معاشرت کا نام ہے ایک رویئے ایک سوچ کا نام ہے نہ کہ الفاظ کے ایک مجموعے کا۔ اب  آپ خود ہی بتائیے کہ آج تک کسی انگریزی شاعر کو پان کھا کر کسی مشاعرے  میں داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کرتے دیکھا ہے؟</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">صاحب ہم شرمندہ قوم ہیں۔ ہم اپنی زبان، اپنی سوچ، اپنے طرز معاشرت، اپنے مذہب، اپنے وجود ہر شرمندہ ہیں۔ مجھے اپنی ڈاڑھی پر شرم آتی ہے تو میری بیوی کو اپنے حجاب پر۔ مجھے اپنے باپ پر شرم آتی ہے تو میری اولاد کو مجھ پر۔ ہم  بیحد شرمندہ قوم ہیں صاحب۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">ایک قصہ اور بھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا کو بلاگستانِ اردو کا علم ہیں نہیں، یہاں تک کہ وطنِ عزیز کے لوگ بھی نہیں جانتے۔ وجہ شائد گوگل میں اردو نتائج کی کمی بتاتے ہیں۔دیکھو صاحبو پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں۔ جن لوگوں کو اردو کی چاہ ہے وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آپ تک پہنچ ہی جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اردو ویب سائٹس پر زیادہ آمد بیرونِ ملک رہائش پذیر ہموطنوں کی ہوتی ہے۔ <a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/01/30/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C-%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF/" >مزید پڑھیں۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت</a> نے ایک دلچسپ تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=927" >نصیب اپنا اپنا&#8221;</a> میں پاکستان کے &#8221; اباؤں&#8221; کی  ورائٹی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">پاکستان میں &#8216;اباؤں&#8221; کی کافی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جن میں سے چند قابلِ ذکر ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر کے اپنے سینوں پر فخر کا تمغہ سجایا کرتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے جرائم کی بدلے میں ونی کے نام پر بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بیٹیاں ہوتی کس لئے ہیں بھلا۔  لیکن اب کچھ عرصے سے انتہائی مشفق قسم کے ابا بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جو انتہائی حساس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بیٹی کی محبت میں مغلوب ہو کر امتحان میں اس کے <a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=328575"  target="_blank">نمبر بڑھواتے</a> ہیں اور دوہ بھی جن کی بیٹی کی سالگرہ پر<a href="http://www.dawn.com/2009/text/local1.htm"  target="_blank"> </a>اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد<a href="http://www.dawn.com/2009/text/local1.htm"  target="_blank"> </a>منظور کی جاتی ہے۔ اب بھی اگر لوگ کہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=927" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://derwesh.com/" >درویش</a> نے  انسان اور ٹیکنالوجی کا  ایک مکالمہ  بہت خوبصورت انداز میں لکھا اور  اپنی تحریر کو &#8221; <a target="_blank" href="http://derwesh.com/human-vs-technology/" title="Permanent Link to انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی....غلام کون؟" >انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی&#8230;.غلام کون؟</a>&#8221; کا نام دیا ہے۔  مکالمے کا آغاز  کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ٹیکنالوجی: تم میرے اخراجات اُٹھاؤ گے؟ صحیح؟<br />
انسان: بالکل۔ میں ایسا کروں گا۔<br />
ٹیکنالوجی: اور تم مجھے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ بھی کرتے رہو گے؟<br />
انسان: ہاں۔ میں ایسا کر سکتا ہوں۔<br />
ٹیکنالوجی: کیا تم میری تاروں کو سنبھالنا پسند کرو گے؟ میرے پاس یہ کافی زیادہ ہیں۔<br />
انسان: تاریں؟ ہم م م ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتی ہو تو یہ بھی کر لوں گا۔<br />
ٹیکنالوجی: اور ہاں میرے جلتے بجھتے بٹنز کا ہر وقت خیال رکھنا۔<br />
انسان: ٹھیک ہے۔ <a target="_blank" href="http://derwesh.com/human-vs-technology/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p></blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" >سارہ پاکستان</a> نے &#8220;<a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/02/blog-post_17.html" >محبت کے سوا</a>&#8220;  تحریر میں محبت پر  بہت دلچسپ انداز میں تنقید کی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">محبت کی دنیا میں‌بڑے بڑے نام گزرے ہیں‌۔۔۔۔مثلآ‌لیلی مجنوں‌،سسی پنوں۔۔۔۔حیرت یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ نام یہ مقام کیسے حاصل کر لیا ۔۔۔۔۔جابجا دیواروںپر نظر آنے والے لازوال کردار ایف اینڈ جے ،یا کے اینڈ کے ۔۔۔آخر ان کے جذبے میں‌کہاں‌کمی ہے جو وہ یہ نام اور مقام نا حاصل کر پائے جو تاریخ‌کے مختلف کرداروں کے حصے میں آئی ۔۔۔۔۔۔تو سمجھ کچھ یہ آتی ہے کہ تاریخ‌کے کردار مثلآ لیلی مجنوں‌۔۔سسی پنوں‌ وغیرہ نے جو محبت کی وہ ان کی اپنی اختراع یا ان کی اپنی انویشن تھی ۔انہیں‌آءیڈیازدینے کے لیے مختلف موبائل کمپنیاں نہیں‌تھیں سو چیز جتنی اوریجنل ہو گی اتنی ہی مقبولیت حاصل کر ے گی۔ <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/02/blog-post_17.html" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a> ایک تنقیدی  تحریر &#8221; <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=690" title="Permanent Link to نئے دور کے نئے تقاضے" >نئے دور کے نئے تقاضے</a>&#8220;  میں لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ہماری قوم کی مانے جانے والی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وقت کے حساب سے اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ مثلاً موبائل موبائل کا شور مچا تو فقیروں کے پاس بھی &#8220;کیمرے والا موبائل&#8221; نظر آنے لگا۔ فوج کی مخالفت پر آئے تو فوجی بھی اس کو گالیاں دینے لگے۔ عطاءالرحمان صاحب نے آئی ٹی آئی ٹی کی رٹ لگائی تو سارے کے سارے کمپیوٹر سائنس کے پیچھے پڑ گئے۔ <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=690" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/" >تانیہ رحمان</a> نے  اپنی ایک تحریر میں &#8220;<a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/%D8%B7%D9%86%D8%B2-%D9%88-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD/%D8%AF%D9%84-%D9%88-%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/" >دل اور دماغ  کی گفتگو</a>&#8221; کے بارے میں لکھا ہے۔  جو کہ کچھ اس طرح سے ہے۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔۔دل تھوڑی دیر دماغ کی باتیں برداشت کرتا رھا۔اور پھر ہنس کر بولا۔تمیں بس میری یہی خوبی نظر آئی۔میں تو انسانی وجود میں دھڑکتا ھوں۔میرے پر تو غزلیں کہی گہیں۔میرے پر تو پورے پورے دیوان لکھے گے۔ ھر فلمی گانے میں میرا ھونا لازمی ھے۔ اور اگر میں دھڑکنا بند کر دوں تو تمھارا کیا ھوگا ۔ کالیا ۔ میں زرا سا تیز دھڑکنا شروع کر دوں تو لوگوں کو فکر لاحق ھو جاتی ھے ۔کہ میں بند تو نہیں ھونے لگا ۔اور تم کہتے ھو کہ میرے بس چار خانے ھیں ۔ میں دھوکے باز فریبی ، ھوں ۔ جبکہ لوگ یہ جانتے ھوئے بھی میری ھی سنتے ھیں ،اور سب سے بڑ ی بات ۔جب لڑکا اور لڑکی میں محبت ھوتی ھے ۔ اس کی وجہ بھی تو میں ھی ھوں ۔۔۔۔<a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/%D8%B7%D9%86%D8%B2-%D9%88-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD/%D8%AF%D9%84-%D9%88-%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">آپ بیتی:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد بنگش</a> نے  امتحان میں پرچہ دینے حوالے سے اپنی دلچسپ کہانی لکھی، تحریر &#8221; <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post.html" >پرچے کا پرچہ&#8221;</a> میں آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔تو جی، پرچہ دینے بیٹھے توہر درجے کا ہر طالبعلم منہ کھولے بیٹھا تھا، کیوں کہ پرچے میں ایسے موضوعات تھے، جنھیں ہم سب نے نہ آسمانوں میں دیکھا، نہ زمینوں میں ٹٹولا۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ تھی کہ مضمون نیا اور باتیں زیادہ، ہر شخص جو اس مضمون میں دلچسپی رکھتا ہے، اپنی آراء رکھتا ہے، چنانچہ پروفیسر جی کی آراء نزلہ بن کر گری، اور ہم کسی نہ کسی طرح صفحے کالے کر کے شرمندہ نظروں سے، جوابی شیٹ کے مضمون کو چھپاتے ہوئے، لرزتے ہاتھوں پرچہ پروفیسر جی کو تھمایا، اور باہر کو دوڑ لگائی۔۔۔۔ <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post.html" >مزید پڑھیں۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">اس کے علاوہ <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/" >شاکر عزیز</a> نے بھی  اپنی  اور دوستوں سے متعلقہ کہانی لکھی، &#8221; <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/314" >فکشن</a>&#8221; جو کہ کچھ اس طرح سے ہے:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.<br />
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..<br />
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان &#8220;میں کون ہوں&#8221;۔۔۔۔ <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/314" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p></blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/" >شاہدہ اکرم</a> نے  اپنی  تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/02/07/pyaray-aboo-jee/" >پیارے ابو جی</a>&#8221; میں باپ کے بارے میں لکھا۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔آج جب ميں ابُو کے مُتعلِق لِکھنے بيٹھی ہُوں تو يادوں کا سِرا اِتنا طويل لگا کہ سمجھ ميں نہيں آرہا شُرُوعات کہاں سےہوں ماں اپنے بچوں کے لِۓ اگر سرمايہ ہوتی ہے تو يُوں کہ وُہ اپنے وقت کا ايک ايک لمحہ اپنے بچوں کو دے کر اُنہيں سينچتی ہے پيدائِش سے پہلے سے لے کر آخِر تک ليکِن باپ کيُونکہ گھر سے باہِر کی دُنيا ميں مشغُو ل ہوتے ہيں تو بچوں کو ويسا وقت نہيں دے پاتے ليکِن وُہ جو کُچھ بھی کرتے ہيں اُس کا چکر اولاد کی خُوشيوں کے گِردہی گُھومتا ہے ابُو کے جانے کے بعد بہت دِنوں تک تو مُجھے سمجھ ميں ہی نہيں آيا کہ يہ ہُوا کيا ہے۔۔۔<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/02/07/pyaray-aboo-jee/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث </a> &#8221; <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/02/blog-post_18.html" >کرکٹ: جنون سے سکون تک</a>&#8221; میں  لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">کرکٹ سے میری شناسائی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی جتنی میری ہوش۔ بچپن ہی سے کرکٹ میرے خون میں رچی بسی تھی بلکہ خون سے باہر بھی ٹپکتی تھی، کبھی ناک پر کرکٹ بال لگنے سے نکسیر پھوٹی تو کبھی ہونٹ کٹے اور منہ خون سے بھر گیا لیکن یہ جنون ختم نہ ہوا۔ میں اپنے محلے کی دو ٹیموں میں کھیلا کرتا تھا وجہ اسکی یہ تھی کہ ہر لڑکا ہی آل راؤنڈر ہوتا تھا سو جس کو بلے بازی میں باری ملتی تھی اس کو گیند بازی نہیں ملتی تھی اور جس کو گیند بازی ملتی تھی اس کی بیٹنگ میں باری نہیں آتی تھی۔۔۔<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/02/blog-post_18.html" >مزید پڑھیں۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</h2>
<p dir="rtl">علمدار نے &#8221; <a target="_blank" href="http://derwesh.com/build-local-web-server/" >لوکل ویب سرور بنائیے۔ دوسری</a> اور <a target="_blank" href="http://derwesh.com/php-installation/" >آخری قسط</a>&#8221; اپنے بلاگ پر پوسٹ کی۔</p>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl">اس کے علاوہ منظر نامہ پر &#8221; <a target="_blank" href="../../../../../2009/02/what-is-blogging/">بلاگنگ کیا ہے؟ </a>&#8221; موضوع کا آغاز کیا گیا، جس پر بلاگرز کو لکھنے کو کہا گیا۔ اس  پر  <a href="http://www.mypakistan.com/?p=2192" title="مستقل ربط برائے: بلاگنگ کیا ہے؟" >میرا پاکستان</a>، <a href="../../../../../2009/02/%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF%D9%86%DA%AF-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%9F%E2%80%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D8%A7%D8%B4%D8%AF-%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86/">راشد کامران</a> اور <a href="../../../../../2009/02/urdubloggingscene/">نبیل نقوی</a> نے نہایت ہی معلوماتی تحاریر پوسٹ کیں۔ جن کا بہت شکریہ۔</p>
<p dir="rtl">
<h2 dir="rtl">نیوز اپڈیٹس:</h2>
<p dir="rtl">-          <a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/" >وارث</a> نے اپنا بلاگ بلاگ سپاٹ پر منتقل کیا۔ نیا ربط: <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >http://muhammad-waris.blogspot.com/</a></p>
<p dir="rtl">-         &#8220;<a target="_blank" href="http://meridunia.co.cc/" >میری دنیا</a>&#8221; نیا اردو بلاگ۔</p>
<p dir="rtl">-         &#8220;<a target="_blank" href="http://uncletom420.wordpress.com/" >انکل ٹام&#8221;</a>420 نیا اردو بلاگ</p>
<p dir="rtl">-         <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد</a> نے منظر نامہ پر &#8220;<a target="_blank" href="../../../../../muhim-eik-blogger-eik-kitab/">مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب</a>&#8221; میں  حصہ لیتے ہوئے  &#8221; <a href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_20.html" >کشف المحجوب</a>&#8221; کتاب پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">-         کراچی کے اردو بلاگرز کی ملاقات: <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/02/blog-post_22.html" >شعیب کی زبانی</a>- <a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/02/22/mulaqat/" >فہیم کی زبانی</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جنوری 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 18 Feb 2009 21:35:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=258</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ کے میزبان عمار اور ماوراء ماہِ جنوری ۲۰۰۹ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ اگرچہ ماہ فروری کا وسط گزر چکا ہے لیکن کچھ ہماری مصروفیات ایسی بڑھ جاتی ہیں کہ اکثر کاموں کا وقت آگے پیچھے ہو ہی جاتا ہے۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے بلاگرز اچانک ہی اتنے فعال ہوجاتے ہیں کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">منظرنامہ کے میزبان عمار اور ماوراء ماہِ جنوری ۲۰۰۹ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ اگرچہ ماہ فروری کا وسط گزر چکا ہے لیکن کچھ ہماری مصروفیات ایسی بڑھ جاتی ہیں کہ اکثر کاموں کا وقت آگے پیچھے ہو ہی جاتا ہے۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے بلاگرز اچانک ہی اتنے فعال ہوجاتے ہیں کہ ہمارے سامنے تحاریر کے انبار لگ جاتے ہیں اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کس تحریر کو منتخب کریں، کس کو چھوڑیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">بہرحال، اگر ہم اب باتوں میں لگ گئے تو ہماری باتیں ہی بڑھتی چلی جانی ہیں اس لیے موضوع کی طرف آتے ہیں۔</span></p>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">سیاست و معاشرہ:<br />
</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" >سارہ پاکستان</a> کو اردو بلاگنگ کی دنیا میں آئے ہوئے گرچہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن آپ نے اپنی تحاریر کے خاص انداز اور موضوعات میں انفرادیت کے حوالے سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے۔ جنوری میں ان کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/01/blog-post.html" >گناہ کا لطف</a>‘‘ پڑھنے کے لائق ہے جس میں سارہ نے ہمارے معاشرے کی طرزِ فکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو گناہ کے نت نئے جواز تراشتی ہے۔ آپ لکھتی ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’دو غلط فہمیاں‌ نہ جانے ہمیں‌کہاں سے کہاں‌لے جائیں ۔۔۔منزل کے بہت قریب ہو تے ہوئے بھی ہم کہیں‌بہت دور ہی نہ ہوجائیں ۔۔۔پہلی خوش فہمی جس میں‌ہم میں‌سے ایک واضح اکثریت مبتلا ہے کہ ہم وہ امت ہیں کہ ہماری بخشش ہو چکی ہم اپنے کردہ گناہوں کے لیے بہت تھوڑے عرصے کےلیے دوزخ میں جائیں‌گے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت ہمارا نصیب ٹھہرے گی۔۔۔۔افسوس ہمارا دھیان کبھی اس امت کی طرف نہیں‌گیا جو ہم سے پہلے ایسے ہی دعوے کی مرتکب ہوئی اور قرآن میں ان سے بیزاری اور عذاب کی وعید کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">پورا مضمون ہی پڑھنے کے لائق ہے اور آخری پیرا گویا حاصل مضمون:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’گناہ کو گناہ سمجھ کر کیجیے۔۔۔ اس کے بارے دلائل اکھٹے کرنے کی کوشش کی بجائے ۔۔۔۔۔۔یہ طرز فکر آپ کو ایک نہ ایک دن گناہ سے بیزاری پر ضرور مائل کر دے گا۔۔۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> اردو بلاگرز میں سب سے زیادہ فعال ترین بلاگر ہیں۔ ہمارے سامنے ان کی دو تحاریر ’<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2070" >رامی حرامی</a>‘ اور ’<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2084" >جسمانی مشقت</a>‘ ہیں۔ موخر الذکر سے ایک اقتباس:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’ہم اپنے دو جوان بیٹوں کیساتھ پرانے گھر کے قالین اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی کام کرتے آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ چھوٹا بیٹا بولا ’’ڈیڈ لگتا ہےمیں اس کام کیلیے پیدا نہیں ہوا‘‘۔ ہم نے کہا اگر یہ سچ ہے تو پھر ہماری طرح خوب پڑھو اور جسمانی مشقت سے جان چھڑا لو۔ بیٹا کہنے لگا پڑھ تو میں رہا ہوں اور پڑھ بھی جاؤں گا مگر یہ کام میرے سے نہیں ہوتا۔ جیسے تیسے ہم تینوں نے تین گھنٹے میں وہ کام ختم کیا اور گھر لوٹ آئے۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اس واقعہ میں پوشیدہ سبق کا اندازہ اس مختصر سی تحریر کو مکمل پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے اور بلاشبہ اس تحریر میں زندگی کا ایک اہم اصول موجود ہے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/" >بلوبلا </a>بھی اردو بلاگنگ کے نئے نئے راہی ہیں۔۔ کبھی کچھ ہلکی پھلکی تحاریر لکھتے ہیں اور کبھی گہرائی رکھتی، غور و فکر کی دعوت دیتی۔۔ مثال کے طور پر <a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/?p=254v" >’بندہ مزدور کو بھی کبھی چھٹیاں ملتی ہیں؟</a>‘ کے عنوان سے اپنی تحریر میں اپنے ہم وطنوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’پچھلے سال 14 اگست کو ہم آؤٹنگ کے لئے نکلے تو دیکھا کہ بے تحاشہ لوگ گاڑیوں موٹر سائکلوں پر سڑکوں پر آ جا رہے تھے اور حسبِ توفیق موج مستی کررہے تھے لیکن سڑک کنارے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی کھدائی جاری تھی اور مزدور اپنے ارد گرد کے ماحول سے بظاہر بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھے۔ 14اگست تو ہمارا قومی دن ہے جس پر زندگی کے ہر شعبے میں چھٹی ہوتی ہے مگر مزدور اگر دیہاڑی نہیں لگائیں گے تو رات کو کھانا کیسے کھائیں گے سو وہ دیہاڑیاں لگاتے لگاتے زندگی تمام کر دیتے ہیں اور ہم جیسے بے حس لوگ اُن کے قریب سےان پر ایک نظر ڈالتے ہوئے گزرجاتے ہیں اور بعد میں دوسروں پر اپنی زبان دانی کا رعب جھاڑنے کے لئے ان کا ذکر انتہائی ہمدردی سے کرتے ہیں۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/" >خاور کھوکھر</a> کو تو سبھی اردو بلاگرز ہی جانتے ہوں گے۔ بات ان کے اندازِ تحریر کی ہو یا اندازِ گفتگو کی، دونوں ہی منفرد ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/2009/01/blog-post_30.html" >عزت دے کر آزمائش</a>‘ میں لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اپ نے کسی کو اس کی اصلیت میں دیکھنا ہے تو اس کو بے جا عزت دے کر دیکھو اگر تو اس بندے کی اصلیت اچھی ہو گی تو وه آپ کا مشکور ہو گا اور آپ کی بھی عزت کرے گا۔ لیکن کم ظرف بندہ تھوڑے ہی دنوں میں آپ کی شائستگی کو آپ کی کمزوری سمجھ کر سوار ہونے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">معلوماتی تحاریر:<br />
</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://urduhyd.blogspot.com/" >حیدرآبادی (دکنی)</a> کے نام سے معروف بلاگر نے ایک نئی اور حیرت انگیز خبر دی ہے، عنوان ہے ’’<a target="_blank" href="http://urduhyd.blogspot.com/2009/01/blog-post.html" >ہندوستان کے دل میں پاکستان</a>‘‘۔ لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ویسے تو ہندوستان کے بعض مخصوص متعصب سیاسی ذہن جب کبھی کسی ہندوستانی مسلم اکثریتی علاقہ پر غصہ اتارتے ہیں تو اسے ایک &#8220;چھوٹا پاکستان&#8221; کا لقب دے ڈالتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">لیکن ۔۔۔۔۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ہندوستانی ریاست بہار میں ایک ایسا گاؤں آج بھی پایا جاتا ہے جس کا نام ہی &#8220;پاکستان&#8221; ہے اور جہاں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے!</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب سعید شوبی</a> اردو کمیونٹی میں فلیش اینی میشن پر مشتمل اپنے کام سے جانے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں بچوں کے لیے دو اینی میٹڈ نظمیں <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/11/29/%D8%B9%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%DA%91%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85/" >عذرا کی گڑیا</a> اور <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/12/31/%DA%86%D9%88%DB%81%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DA%86%DB%81-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85/" >چوہے کا بچہ</a><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2009/01/04/%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D8%AF%D9%88-%D9%85%D9%81%DB%8C%D8%AF-%D9%88%DB%8C%D8%A8-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%B9%D8%B3/" >بچوں کے لیے دو مفید ویب سائٹس</a>‘‘۔</span> پیش بھی کرچکے ہیں۔ اپنے بلاگ پر انہوں نے بچوں کے لیے دو دلچسپ سائٹس کا پتا بتایا ہے۔ دیکھیے، ’’</p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >محمد علی مکی</a> نے ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=384" >مستقبل بین</a>‘‘ کے عنوان سے ایک بے حد طویل لیکن بہت ہی معلوماتی، دلچسپ اور مفید پوسٹ لکھی ہے۔ یہ تحریر ہے نوسٹر ڈومس کے بارے میں جس نے مستقبل کی کئی پیشین گوئیاں بڑے واضح انداز میں بیان کردی تھیں۔ مثلا</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">بھوک کے ڈسے جانور دریا پار کرجائیں گے</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">میدانِ جنگ کا زیادہ تر حصہ ہسلر کے خلاف ہوگا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">قائد کو لوہے کے پنجرے میں گھسیٹا جائے گا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">جب جرمنی کا بیٹا ہر قانون نظر انداز کردے گا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اور جوبلز اپنے بستر پر سے اچھل پڑا.. وہ رباعی کے الفاظ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا.. اگرچہ رباعی نے ’ہٹلر‘ نام کو ’ہسلر‘ لکھا تھا مگر یہ کچھ زیادہ ہی واضح تھا.. یقیناً اس سے ہٹلر ہی مقصود تھا..</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">تاہم یہ تحریر آپ تبھی پڑھنے بیٹھیں جب آپ کے پاس کچھ وقت ہو تاکہ ایک ہی نشست میں اس دلچسپ تحریر سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اس کے علاوہ ایک اور طویل مگر بے حد معلوماتی تحریر بھی مکی کے بلاگ کی زینت بنی ہے جو مشہور خیالی کردار ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=392" >ٹارزن</a>‘‘ کے بارے میں ہے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت کیانی</a> نے پچھلے دنوں ورڈ پریس کے کافی خوبصورت سانچوں کو اردو میں بہت خوب ڈھالا ہے، ساتھ ہی بلاگ پر باقاعدگی سے اچھی اچھی پوسٹس لکھتی رہی ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=786" >’یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی</a>‘‘ میں برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرنے والے ان پاکستانیوں کا ذکر کرتی ہیں جنہوں نے اپنی پہچان بنائی۔</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔ یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ماضی میں پاکستان آفیسرز اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">آگے چل کر ان چند ناموں کا ذکر کیا ہے جو اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے خاص مقام تک پہنچے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/" >بلوبلا</a> کی مزاحیہ تحاریر کا ذکر اوپر بھی کیا ہے۔ اس کا ایک ثبوت ان کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/?p=373" >ہماری زبان اور ہمارا کلچر</a>‘‘ ہے جس میں وہ ہمارے معاشرے کا رونا ہنستے مسکراتے ہوئے روتے ہیں کہ کس طرح ہمارے ہاں کی عورتیں ہندو ڈراموں کے سحر میں گرفتار ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اندر موجود فیملی میں سے ایک بچے نے پوچھا۔”ماما! حسین ہندو ہے نا؟”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ماما نے جواب دیا۔”نو بیٹا! ہی از مسلم۔” یہ کہہ کر دوسری خاتون کو کہنے لگیں۔ “ایک تو یہ حسین بھی نا بڈھا ہی نہیں ہو رہا۔” دوسری نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پوچھا۔”آٹھواں وچن دیکھا تھا؟”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">پہلی انتہائی کرب آمیز لہجے میں بولی۔”کہاں دیکھ سکی۔ لائٹ نہیں تھی۔” اور یہ کہہ کر ڈرامے کی سٹوری پوچھنے لگی۔ اب جناب دوسری خاتون نے سٹوری سنانی شروع کر دی۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">یہ ہمارے موصوف<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" > بدتمیز</a> کو نہ جانے کیا ہوا، کون سا کلاسیکی ادب پڑھ کر بیٹھے تھے کہ ایک تحریر مختلف طرزِ نگارش کے ساتھ ’’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/02/01/%D9%86%DB%81-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%D9%86%DB%81-%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA/" >نہ صاحب بری بات</a>‘‘ کے عنوان سے لکھ ڈالی۔۔۔ انداز ملاحظہ ہو:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">تو صاحبو انسان کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور بہتر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ “نرگس” کا شکار ہو جائے تو پھر وہ ہمیشہ اپنے سے کمتر کو دیکھ کر “صبر شکر” سے نسلوں کی نسلوں میں وہی سستی بھر دیتا ہے جس کا آجکل ہم شکار ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">نہیں صاحب یہ ممکن ہی نہیں کہ بچہ خوشی خوشی سکول جائے۔ اس کو بہلا پھسلا کر ہی سکول لے جایا جاتا ہے۔ چاہے لاکھ دادا دادی نانا نانی چچی تائی کہیں ہم بچے کو زبردستی سکول بھیج کر ہی چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام رشتہ بصداحترام ہیں پر ہم ان کی چنداں نہیں سنتے۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/" >جہانزیب</a> نے اپنی ایک تحریر ” <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/virtual-life/" >ورچوئل زندگی</a> ”میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کا ذکر کیا ہے تو وہاں ایک فکر انگیز بات کی طرف بھی اشار ہ کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ:</span></p>
<blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اسی طرح اب دوستی کرنے کے بھی کمپیوٹری ذرائع بن چکے ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس جیسے <a target="_blank" href="http://www.orkut.com/" >آرکٹ</a>، <a target="_blank" href="http://www.facebook.com/" >فیس بک</a> اور <a target="_blank" href="http://www.myspace.com/" >مائی سپیس</a> مقبولیت میں پہلے درجہ میں آتی ہیں ۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ذہنی طور پر ہم جتنا ان سوشل نیٹ ورکس کے مطیع ہوتے جا رہے ہیں، عملی طور پر لوگوں سے اتنا ہی دور ہوتے جا رہے ہیں ۔</span></p>
</blockquote>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">. <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> نے بھی اپنی ایک تحریر” <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=187" >ورچوئل زندگی ۔۔ حصہ اول</a> ” میں نہایت ہی بہترین انداز میں جدید طرز زندگی یا جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:</span></p>
<blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">جدید دور کے انسان کی زندگی میں‌ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جتنی تبدیلیاں مرتب کی ہیں شاید ہی کسی تبدیلی یا انقلاب نے اتنی خاموشی سے ہمارے سوچنے‌ سمجھنے، رہنے سہنے، کھانے پینے اور معاملات کرنے کے اطوار پر اتنا اثر ڈالا ہے۔  ان ہی ایجادات کا کمال ہے کہ جس انسان نے بیسویں صدی کا آغاز گھوڑے کی پیٹھ پر کیا وہ صدی کے آخر تک اپنی دنیا سے دور دوسرے سیاروں پر کمندیں‌ ڈال رہا تھا۔</span></p>
</blockquote>
</blockquote>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· لوکل ویب سرور کیسے بنایا جائے، <a target="_blank" href="http://derwesh.com/" >درویش کے بلاگ</a> پر آپ کو اس سے متعلق سیکھنے کو ملے گا۔”<a target="_blank" href="http://derwesh.com/%d9%84%d9%88%da%a9%d9%84-%d9%88%db%8c%d8%a8-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%db%92/" >لوکل ویب سرور بنائیے</a> ”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/" >شکاری</a> نے اپنے بلاگ پر <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=80" >ورڈپریس کی انسٹالیشن</a> سے متعلقہ پوسٹس لکھیں، جو کہ نہایت معلوماتی ہیں، اور آپ کو ان سے مدد مل سکتی ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/" >بلال</a> نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لیے معلومات کا ایک<a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=58" > کتابچہ</a> بنایا ہے۔ جو آپ پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· آپ اپنے بلاگ پر فانٹ سٹائل سوئچر لگانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ<a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/" > اردو ماسٹر</a> پر بتایا گیا ہے۔</span></p>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">منظر نامہ نیوز:</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· ورڈ پریس بلاگز کے لیے نبیل نے نئے اردو ایڈیٹر ریلیزکیا۔ آپ اسے<a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/blog/2009/01/190/" > اردو ویب کے بلاگ سے ڈاؤنلوڈ</a> کر سکتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://farhan.urdutech.net/2009/01/21/%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%86%D8%AA%D9%82%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DB%81%DB%92/" >فرحان</a> نے اپنا نیا بلاگ بنایا۔ نئے بلاگ کا لنک: <a target="_blank" href="http://farhan.ueuo.com/" >http://farhan.ueuo.com/</a></span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >نعمان علی</a> <a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2008/12/21/%D9%BE%D8%B7%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.html" >پطرس کے مضامین</a> کے بعد اپنی شاعری کی کتاب ”<a target="_blank" href="http://noumanali.com/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1/2009/01/11/%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DA%A9-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D9%82%DB%8C-%DA%A9%D8%25" >دستک</a>” <a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" >مہم برائے ایک بلاگر –ایک کتاب</a> کے لیے برقیا رہے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابو شامل</a> نے سید سعادت اللہ حسینی کا مقالہ “<a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/postmodernism-ebook/" >مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام</a>” کو ای بک میں پیش کیا۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://baloch.urdutech.com/" >شعیب خالق بلوچ</a> نے <a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" >مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب </a>میں حصہ لیتے ہوئے جاوید اختر کی ”<a target="_blank" href="http://baloch.urdutech.com/?page_id=158" >ترکش”</a> کو برقیا یا۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دسمبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 18 Jan 2009 00:52:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=152</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم، دسمبر 2008 میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ معاشرہ و سیاست: کراچی کے ناساز حالات کے حوالے سے اجمل صاحب نے اپنی تحریر &#8220;جل کے دل خاک ہوا&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: الطاف حسین [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم،</p>
<p>دسمبر 2008 میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<h1>معاشرہ و سیاست:</h1>
<p>کراچی کے ناساز حالات کے حوالے سے <a href="http://www.theajmals.com/blog/"  target="_blank">اجمل صاحب</a> نے اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1343" >جل کے دل خاک ہوا</a>&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:</p>
<blockquote><p>الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں</p></blockquote>
<blockquote><p>تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟</p></blockquote>
<p><a href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1343"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://javediqbal.ueuo.com/"  target="_blank">جاوید اقبال</a> نے ایک تحریر &#8220;<a href="http://javediqbal.ueuo.com/?p=34"  target="_blank">بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے</a>&#8221; لکھی، جس میں وہ اپنے ساتھ پیش آنے والی روداد سنا رہے ہیں کہ آجکل لوگ کن کن طریقوں سے بھیک مانگ رہے ہیں۔</p>
<p>میرا پاکستان کی تین تحاریر جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کر رہی ہیں۔ پہلی پوسٹ&#8221; <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1883" >امن نایاب ہو گیا</a>&#8221; جس میں آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>جس دور میں ہم تیس سال قبل جوان ہوئے وہ امن کا دور تھا۔ آپ کو راہ چلتے کوئی نہیں لوٹتا تھا ہاں دھوکے، فریب اور چالاکی سے آپ سے رقم ہتھیا لینی دوسری بات تھی مگر کبھی کسی نے اسلحے کے زور پر نہیں لوٹا تھا۔ اس وقت ہتھیار صرف سیاسی لیڈروں یا مقامی بدمعاشوں کے محافظوں کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے۔ آج تو دولہا بھی تب تک سہاگ رات نہیں مناتا جب تک چھت پر چڑھ کر درجن بھر فائر نہ کر لے۔</p>
<p>یہ سب ہوا کیسے؟ دراصل جس تیزی سے پاکستان کی آبادی بڑھی، اسی تیزی کیساتھ ہماری حکومتوں کی نیتیں بدلیں۔ پہلے حکمران آج کے یورپی ممالک کی طرح بڑے بڑے ڈاکے ڈالا کرتے تھے مگر عام پبلک کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ آج کے حکمران ذکوۃ تک ہڑپ کر چاتے ہیں۔ اس افراتفری میں حکمرانوں نے اگلی ٹرم کے انتخابات جیتنے کی فکر چھوڑ رکھی ہے۔ اب وہ موجودہ ٹرم کو ہی غنیمت سمجھ کر لوٹ مار میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ انہیں عوام کی پرواہ رہی ہے اور  نہ آخرت کا خوف۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.mypakistan.com/?p=1883"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>اس کے علاوہ  &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1994" >کیسے کیسے لوگ &#8211; شرافت</a>&#8221; اور &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1898" >کہاوت اور حقیقت</a>&#8221; میں بھی &#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/"  target="_blank">میرا پاکستان</a>&#8221; نے معاشرے میں موجود برائیوں اور خامیوں کا ذکر کیا ہے۔</p>
<h1>طنزومزاح</h1>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/"  target="_blank">راشد کامران</a> نے &#8220;<a href="http://www.urdublogging.com/?p=149#comment-574"  target="_blank">قصہ چہار جرنیل</a>&#8221; میں پہلے جرنیل کی بپتا نہایت ہی دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔آغاز کچھ اس طرح سے کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>اب آغاز قصے کا کرتا ہوں‌ ذرا کان دھر کر سنو۔ سیر میں‌ چہار جرنیل کی یوں‌لکھا ہے اور کہنے والے نے کہا ہے کہ مملکت خداداد کے باشندوں کا تھا یہ کمال۔ بھیجے میں بھرے بھس دھرے عقل ٹخنوں میں یوں جرنیل کو بٹھا کاندھوں‌ پر بنایا مالک کل سیاہ و سفید کا۔ اس کے وقت میں رعیت برباد، جمہوریت بیوہ۔ چور اچکے، صبح خیزیے، بے پیندے کے لوٹے یوں خوش کہ اپنا کوئی مختار کل۔ راہی مسافر کی کیا مجال جو شکر اچھالتے جاتے ہر چوک پر پوچھا جاتا منہ میں دانت کتنے ہیں‌ اور کہاں‌کو جاتے ہو۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/?p=149#comment-574"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>محب علوی نے کافی عرصے بعد بلاگ پر تحریر لکھی،  آپ نے عراقی صحافی کے صدر بش کو جوتا مارنے پر کچھ اس طرح لکھا:</p>
<blockquote><p>بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا</p>
<p>’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘</p>
<p>شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔</p></blockquote>
<p><a href="http://mohib.urdutech.com/2008/12/16/shoe-attack/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://www.billubilla.com/"  target="_blank">بلو بلا</a> نے ایک تحریر لکھی، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ &#8220;راولپنڈی بن گیا وینس&#8221; اب راولپنڈی وینس کیسے بنا۔ ان کی تحریر ملاحظہ کریں:</p>
<blockquote><p>گزشتہ ادوار میں محترم شیخ رشید احمد صاحب سمیت مختلف وزراء اور سیاسی شخصیات اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ راولپنڈی کو پیرس بنا دیں گے۔ کچھ نہ سمجھ میں آنے والی ناگزیر وجوہات کی بناء پر پیرس کی بجائے نگاہِ انتخاب وینس پر جا ٹکی ہے۔ شاید حکمرانوں کے نزدیک وینس پیرس کی نسبت زیادہ رومانٹک شہر ہے۔ اس لئے انہوں نے راولپنڈی شہر کو پیرس کی بجائے وینس بنا دیا ہے۔ تمام سڑکوں اور گلیوں کو کھود کر پانی کھڑا ہونے کی خصوصی گنجائش پیدا کی گئی ہے ۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.billubilla.com/?p=120"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://sarapakistan.blogspot.com/"  target="_blank">سارہ پاکستان</a> نے پاکستان اور بھارت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر لکھی، &#8221; <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2008/12/blog-post_29.html" >موہن جی آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔</a>&#8221;</p>
<blockquote><p>مگر موہن جی ہمیں آپ سے ایک شکایت ہے ،آپ نے دیکھا نا کہ ہمارے لوگ آپ کے بیانات کی وجہ سے کس قدر جوش میں‌آگئے تھے۔۔۔۔اپنے وطن کی حفاظت کے لیے پرعزم۔۔۔بس آپ کے اعلان جنگ کا انتظار تھا ہم آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتے۔۔۔۔۔مگر موہن جی آپ نے ہمیں تب کیوں نہ للکارا جب آپ کا ملک دنیا میں ایک بڑی اکناماک پاور بننے کے سفر پر نکلا تھا۔۔۔۔ایسے بیانات اور اعلان جنگ کا عندیہ آپ نے تب کیوں نہ دیا جب آپ کے ملک کی ثقافت کو ہم اپنانے جارہے تھے۔۔۔ہمارے گھر گھر میں‌آپ کی ثقا فت کا اہم جز ،رقص پہنچ گیا اور ہم اسے اپنی ہی ثقا فت کہنے پر اصرار کرنے لگے۔۔۔۔</p></blockquote>
<p><a href="http://sarapakistan.blogspot.com/2008/12/blog-post_29.html"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<h1>عید بیتی:</h1>
<p>دسمبر میں چونکہ عید بھی تھی۔ <a href="http://sajid.gumbat.com/tagged/tag-eid-nama/"  target="_blank">ساجد نےبلاگرز کو ٹیگ</a> کیا، جس میں بلاگرز کو اپنے اپنے علاقے کے بارے میں بتانا تھا کہ وہاں عید کیسے منائی جاتی ہے۔</p>
<p>ابو شامل نے &#8220;<a href="http://abushamil.urdutech.com/eid-naama/"  target="_blank">عید نامہ</a>&#8221; میں کافی تفصیل سے لکھا کہ کراچی میں عید کیسے منائی جاتی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا ‘وی آئی پی پویلین’ ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://abushamil.urdutech.com/eid-naama/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>اس کے علاوہ <a href="http://dareecha.urdutech.com/"  target="_blank">فرحت</a> نے برطانیہ میں عید سے متعلق لکھا۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>چونکہ عید کا دن بھی ورکنگ ڈے ہی ہوتا ہے اس لئے عید منانے کے انداز بھی مختلف ہیں۔</p>
<p>سکولوں میں چھٹی تو نہیں ہوتی لیکن مسلم اکثریت والے علاقوں میں کچھ مقامی سکول (عام طور پر پرائمری) مسلم طلبا کو چھٹی دے دیتے ہیں۔ لیکن سیکنڈری سکولز، کالجز یا یونیورسٹیز میں معمول کی کلاسز ہوتی ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://dareecha.urdutech.com/?p=422"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/"  target="_blank">راشد کامران</a> نے عید کے حوالے سے ایک نہایت ہی دلچسپ تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=159" >قربانی کی کھالیں ہمیں دیں ۔۔۔۔ ورنہ؟</a>&#8220;لکھی۔ جس میں آپ لکھتے ہیں کہ :</p>
<blockquote><p>عید قرباں ویسے تو کئی حوالوں سے منفرد ہے خاص کر شہری لوگ ایک آدھ دن کے لیے جانوروں سے تھوڑا قریب ہوجاتے ہیں‌ اور تازہ گوشت کا مزہ بھی چکھ لیتے ہیں۔ عید پر سب سے بڑا مسئلہ قربانی کے جانور کی خریداری سمجھا جاتا ہے لیکن میرے لیے چرم قربانی اس سے کہیں‌ بڑا مسئلہ ہے۔ سلسلہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ آپ سارا دن کے تھکے ماندے جانور کی خریداری کے بعد گھر پہنچتے ہیں کہ اچانک گھر کے دروازے پر دستکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے غیر منظم کارکنان آپ کی گائے پر بری نظریں ڈالتے آپ کے گھر کا طواف کرنا شروع کردیتے ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/?p=159"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<h1>معلوماتی تحاریر:</h1>
<p><a href="http://www.pakiez.com/"  target="_blank">پاکستانی</a> نے المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کے مسئلے پر ایک جائزہ لیا۔ جس میں آپ کہتے ہیں کہ :</p>
<blockquote><p>١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.pakiez.com/617/17/12/2008/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>صدر پاکستان  آصف علی زرداری نے فرانس کے اخبار “لی فیگارو” کو ایک <a target="_blank" href="http://www.lefigaro.fr/international/2008/12/15/01003-20081215ARTFIG00235-asif-ali-zardari-l-inde-n-est-pas-l-ennemi-du-pakistan-.php" >انٹرویو </a>دیتے ہوئے یہ کہا کہ</p>
<p>“پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں”</p>
<p>جس پر ابو شامل نے اپنی تحریر &#8220;<a href="http://abushamil.urdutech.com/sick-man-of-asia/"  target="_blank">ایشیا کا مرد بیمار</a>&#8221; میں لکھا کہ</p>
<blockquote><p>یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔</p></blockquote>
<p>آپ نے اپنی تحریر میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا تاریخی پس منظر بھی پیش کیا۔  <a href="http://abushamil.urdutech.com/sick-man-of-asia/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔۔</a></p>
<p>زین نے &#8220;<a href="http://zain.wordpress.pk/2008/12/29/my-city-quetta/"  target="_blank">میرا شہر</a>&#8221; کوئٹہ پر ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے کوئٹہ کی تاریخ بھی بیان کی ہے۔</p>
<blockquote><p>کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔</p></blockquote>
<p><a href="http://zain.wordpress.pk/2008/12/29/my-city-quetta/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://mbilal.paksign.com/"  target="_blank">ایم بلال</a> نے  ایک کلیدی تختہ بنایا۔ جسے آپ <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=32"  target="_blank">یہاں</a> سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلال نے <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=38"  target="_blank">ونڈوز ایکس پی</a> اور <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=48"  target="_blank">ونڈوز وسٹا</a> میں اردو کی تنصیب کا طریقہ بھی پوسٹ کیا۔ جو کہ نئے آنے والوں کے لیے نہایت ہی مفید معلومات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بلال نے ایک کتابچہ بنایا ہے۔ جس میں انہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لئے معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ اسے <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=58"  target="_blank">پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ</a> بھی کر سکتے ہیں۔</p>
<h1>منظر نامہ نیوزَ:</h1>
<ul>
<li><a href="http://urdutech.net/"  target="_blank">اردو ٹیک</a> کے ڈاؤن رہنے پر <a href="http://pakfact.com/"  target="_blank">پاک فیکٹ</a> نے اسے <a href="http://pakfact.com/?p=149"  target="_blank">اردو بلاگرز کی نا اہلی</a> قرار دیا۔</li>
</ul>
<ul>
<li>شکاری نے نیا بلاگ شروع کیا: <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net" >http://shekari.0fees.net</a></li>
</ul>
<ul>
<li><a href="http://noumanali.com/"  target="_blank">نعمان علی</a> نے &#8220;<a href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2008/12/21/%D9%BE%D8%B7%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.html"  target="_blank">پطرس کے مضامین&#8221;</a> مکمل کیے۔</li>
</ul>
<ul>
<li><a href="http://javediqbal.ueuo.com/"  target="_blank">جاوید اقبال</a> نے <a href="http://javediqbal.ueuo.com/?cat=2"  target="_blank">سورۃ الفجر کی تفسیر</a> پوسٹ کی۔</li>
</ul>
<ul>
<li>&#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/"  target="_blank">میرا پاکستان</a>&#8221; کی تحریر &#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/?p=1876"  target="_blank">صدر ہماری نظر میں</a>&#8221; اور <a href="http://www.theajmals.com/blog/"  target="_blank">اجمل صاحب</a> کی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1370" >شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی</a>&#8221; زیر بحث رہیں۔</li>
</ul>
<h3>نئے اردو بلاگ:</h3>
<ol>
<li>بلو بلا: <a target="_blank" href="http://www.billubilla.com" >http://www.billubilla.com</a></li>
<li>سارہ پاکستان: <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" title="http://sarapakistan.blogspot.com/" >http://sarapakistan.blogspot.com/</a></li>
<li>نیا بلاگ ایگریگیٹر:<a target="_blank" href="http://blogs.tuzk.net/" title="http://blogs.tuzk.net/" >http://blogs.tuzk.net/</a></li>
</ol>
<ul>
<li>اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر تبصروں سے متعلق ایک مضمون <a href="http://www.jasarat.com/main.php"  target="_blank">روزنامہ جسارت کراچی</a> کے سنڈے میگزین میں شائع کیا گیا۔ اشاعت 30 نومبر 2008ء۔ جس کا ذکر <a href="http://abushamil.urdutech.com/urdu-blogs-great-achievement/"  target="_blank">ابو شامل</a> نے اپنے بلاگ پر کیا۔</li>
</ul>
<ul>
<li>اردو ڈیجیٹل لائبریری: ایک نئی ویب سائٹ :<a target="_blank" href="http://www.urdurasala.com/" >http://www.urdurasala.com/</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نومبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 03 Dec 2008 00:09:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/2009/01/%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2008-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af/</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کے لیے نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ معاشرہ و سیاست: عارف انجم نے اپنی ایک عمدہ تحریر &#8221;اس کی تشنگی کا سامان کر&#8220; میں انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس کے ایک مضمون کے بارے میں لکھا ہے، جو کہ مرد اور عورت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کے لیے نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ </p>
<p><b>معاشرہ و سیاست:</b> </p>
<p>عارف انجم نے اپنی ایک عمدہ تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://www.zamima.com/life/give-a-pattern-to-life/" >اس کی تشنگی کا سامان کر</a>&#8220; میں انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس کے ایک مضمون کے بارے میں لکھا ہے، جو کہ مرد اور عورت کے بارے میں ہے۔ </p>
<blockquote><p>انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس اپنے ایک Essay میں کہتے ہیں کہ عورتیں اسی طرز پر زندگی گزارنا چاہتی ہیں جو ان کے مردوں کو پسند ہو لیکن کئی مرد خود کاٹھ کے اُلو ہوتے ہیں اور سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کیسی عورت پسند ہے، کبھی وہ طرح دار خاتون کے دیوانے ہوں گے تو کبھی سادگی پر مر مٹیں گے، اسی الجھن میں وہ بے پیندے کے لوٹے کی طرح ڈگمگاتے پھرتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>آپ لارنس کے مضمون پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد آخر میں آپ مرد اور عورت کے رشتے اور زندگی کو درست انداز میں گزارنے کے لیے آسان حل یہ بتاتے ہیں کہ: </p>
<blockquote><p>اپنے گھر کے لیے وہ طرز زندگی منتخب کیا جائے جس کی ساری گائیڈ لائنز اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رکھ دی ہیں اور جس کے عملی نمونے حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے فراہم کردیئے ہیں۔ یہ پیٹرن صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ خود مرد کے لیے بھی ہے۔ اس طرح وہ نت نئی خواہشات کے پیچھے بھی نہیں بھاگے گا۔ </p>
</blockquote>
<p>بچے گود لینے کا رجحان کہاں کہاں اور کیسا ہے، اس موضوع پر لکھا ہے میرا پاکستان نے۔ تحریر کا عنوان ہے &#8221;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1815" >بچہ گود لینا</a>&#8220;۔ آپ لکھتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>جب تک ہم پاکستان سے باہر نہیں نکلے تھے ہمیں بچہ گود لینے کی افادیت کا اندازہ نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے صرف اپنے عزیزواقارب کو عام پاکستانیوں کی طرح اپنے بہن بھائیوں کے بچے گود لیتے دیکھا تھا مگر کسی کو یتیم بچہ گود لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ </p>
</blockquote>
<p>یعنی پاکستان میں یتیم بچوں کو گود لینے سے لوگ جھجھکتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس دوسرے ممالک میں ایسانہیں ہے۔ </p>
<blockquote><p>لیکن جب ہم نے پاکستان سے باہر قدم رکھا اور گوروں کو کالے، چینی اور میکسیکن بچے گود لیتے اور انہیں اپنی خوشی سے پالتے دیکھا تو پتہ چلا کہ بچہ گود لینا خود ایک عبادت ہے۔ ویسے تو قرآن اور حدیث میں واضح ارشاد ہے کہ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو مگر ہم جس طرح کے مسلمان ہیں اس کی بھی حکم عدولی کر جاتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>شب نے اپنی ایک تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2008/11/25/neki/" >نیکی بھی مشکل</a>&#8220; میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح چوری کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں اور آج کے دور میں نیکی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ </p>
<p>ہمارے ملک میں جسے دیکھو، حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر خود کو تمام ذمہ داریوں سے بری سمجھتا ہے۔ اسی اہم موضوع پر پاکستانی نے ایک تحریر لکھی، جس میں آپ کہہ رہے ہیں کہ &#8221;<a target="_blank" href="http://www.pakiez.com/592/28/11/2008/" >حکمرانوں کو نہیں عوام کو جگائیں</a>&#8220;۔ </p>
<blockquote><p>اس وقت تمام بلاگرز کے قلم موتی بکھیر رہے ہیں مجھے ان کے الفاظ سے مکمل اتفاق ہے۔ ان سے ایک شکایت بھی ہے اور وہ شکایت یہ ہے کہ آپ اکثر حمکران ٹولے کو جھنجھوڑتے نظر آتے ہیں، سارے گلے شکوے بھی اسی سے کرتے ہیں، لیکن افسوس ہمارے حکمران طبقے میں عمل کا فقدان ہے اور ان کے اندر کا انسان مر چکا ہے، یقیناََ مردے کبھی واپس نہیں آتے بلکہ وہ تو جاگنے کے لئے صرف قیامت کے منتظر ہوتے ہیں۔ آپ ان مردوں کو جگانے کے لئے اپنے قلم کی سیاہی کیوں ضائع کر رہے ہیں۔ آپ حکمرانوں کی بجائے عوام کو جھنجھوڑیں، انہیں جگائیں، کیونکہ عوام کے اندر ابھی بیدار ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ صرف ان کے لاغر جسموں میں کرنٹ دوڑانے کی ضرورت ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>امید بہار۔۔۔ نام سے اگرچہ معنی یہ نکلتے ہیں کہ بہار کی امید ہے لیکن اپنی تحریر <a target="_blank" href="http://umeedebahar.blogspot.com/2008/11/blog-post.html" >پاکستانیوں کے لیے پیغامِ نصیحت</a> میں پاکستانیوں کو صاف صاف پیغام دیا ہے کہ </p>
<blockquote><p>اس ملک میں ایماندار اور قابل لوگوں کے لئے ترقی کے تمام رستے ہر عہد حکومت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے بند ہیں۔ پاکستان کو صرف گندے، نااہل، اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے فوجیوں، سیاستدانوں، ججوں، افسروں اور صحافیوں کی ضرورت ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>راشد کامران کا نام دنیائے اردو بلاگنگ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کے خوبصورت اور دلچسپ اندازِ بیان کے سبھی معترف ہیں۔ آپ کی حال ہی میں لکھی جانے والی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=146" >گندا بچہ</a>&#8220; گو کہ سیاسی ہے لیکن بہت ہی لطیف پیرائے میں۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>پرائمری اسکولوں میں کلاس میں کم از کم ایک بچے کے لیے گندا بچہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسکول میں&#8204;ہونے والی ہر شرارت کا الزام اسی گندے بچے پر لگایا جاتا تھا چاہے اس بچے کا اس میں دور کا بھی ہاتھ نہ ہو۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال بالکل ایسے ہی گندے بچے کی ہے جس پر دنیا میں ہونے والی ہر دہشت گردی اور تباہی کا الزام لگا دیا جاتا ہے اور لوگ اس پر بغیر کسی چوں چراں اور تحقیق کے ایمان بھی لے آتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر پاکستان کی سیاسی قیادت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: </p>
<blockquote><p>گندا بچہ بننے کا یہ نقصان تو اٹھانا ہی ہوتا ہے لیکن اس وقت میرا مسئلہ پاکستان میں&#8204;قیادت کا فقدان ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے تو میں زرداری اور گیلانی کی جوڑی کو ایک پرائمری اسکول چلانے کا اہل بھی نہیں&#8204; سمجھتا ملک تو بڑی دور کی بات ہے اور جس طرح&#8204; ہمارے وزیر اعظم بیانات بدلتے ہیں اتنی جلدی تو کوئی گرمی میں&#8204;کپڑے بھی نہیں بدلتا۔ خدانخواستہ بھارت کے سیاستدان کسی مہم جوئی پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور بھارتی فوج اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اجتماع منعقد کرلیتی ہے تو ہمارے صدر آپ کو نیویارک میں اور وزیر اعظم غالبا چین میں&#8204;دستیاب ہوں&#8204;گے۔ </p>
</blockquote>
<p><b>معلومات</b> </p>
<p>مکی نے انٹرنیٹ پر آپ کی تحریر کو چوری سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی معلوماتی پوسٹ کی ہے۔۔ &#8221;<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=292" >انٹرنیٹ کے چور</a>&#8220;۔ </p>
<p>آپ لکھتے ہیں کہ : </p>
<blockquote><p>- مضامین کاپی کرنے سے آپ: </p>
<p>1- جن لوگوں کے آپ نے مضامین چرائے ہیں ان کے ساتھ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں. </p>
<p>2- گوگل کا اعتبار کھودیتے ہیں. </p>
<p>3- دوسروں پر ثابت کرتے ہیں کہ آپ بے وقوف ہیں اور آپ کا دماغ سوچنے اور کچھ ایجاد کرنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہے. </p>
<p>4- یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ سست ہیں اور کوئی محنت کرنے کے قابل نہیں. </p>
<p>- لوگ آپ کا احترام کریں گے اگر: </p>
<p>1- اگر آپ ان سے ان کے مضامین اپنی ویب سائٹ پر نقل کرنے کی اجازت طلب کریں. </p>
<p>2- مضمون کاپی کرنے کی بجائے آپ اس کا ربط اپنی ویب سائٹ پر دے دیں. </p>
<p>3- مباحثہ کی غرض سے مضمون کے کچھ حصے کا مصدر کے ذکر کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اقتباس کر لیں جو آپ کی سنجیدگی کی دلیل ہوگی. </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/" >جہانزیب اشرف</a> معروف اردو بلاگر ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ورڈ پریس کے <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/html-lessons/" >سانچے بنانے کا طریقہ</a> بھی سکھایا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے امریکی جرگے کے حوالے سے ایک بے حد معلوماتی، تفصیلی اور اپنے ذاتی تجربے پر مبنی ایک تحریر بعنوان &#8221;<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/grand-juror/" >امریکی جرگہ</a>&#8220; لکھی ہے۔ تحریر کرتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی انصاف میں کلیدی حثیت ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں لیکن نا مکمل ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر آپ ٹرائل جیوری اور گرینڈ جیوری کے بارے میں تفصیل لکھتے ہیں جو نہ صرف معلوماتی بلکہ بے حد دلچسپ بھی ہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://pakfact.com/" >پاک فیکٹ</a> حال ہی میں سامنے والا ایک معیاری اور اپنی نوعیت کا منفرد ﴿شاید پہلا﴾ بلاگ ہے جس میں میڈیا پر آنے والی خبروں، کالم اور ان سے متعلقہ امور پر تنقید، تبصرے اور معیاری تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں خبریت کا فقدان کس قدر ہے اور کس طرح اشتہارات سے خانہ پری کی جاتی ہے، اس کا اندازہ پاک فیکٹ کی ایک مختصر مگر جامع تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان ہے: <a target="_blank" href="http://pakfact.com/?p=110" >پاکستانی اخبارات میں &#8217;خبریت&#8216; کا فقدان- ایک تنقیدی جائزہ</a>۔ </p>
<p>عادل نے تصاویر کی آن۔لائن ایڈینگ کے لیے کچھ سائٹس اپنے بلاگ کی ایک پوسٹ میں لکھی ہیں۔ عنوان ہے: <a target="_blank" href="http://adil.urdutech.com/?p=208" >اپنی تصویروں سے آن لائن کھیلنے کی کمال سائٹس</a>۔ </p>
<p>وارث نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/2008/11/29/a-request-to-urdu-bloggers/" >اردو بلاگرز سے درخواست</a> کی ہے کہ تمام اردو بلاگرز بلاگ ایگریگیٹرز پر اپنا بلاگ رجسٹر کروائیں۔ تحریر میں انہوں نے مخلتف ایگریگیٹرز کا ذکر بھی کیا ہے۔ </p>
<p><b>آپ بیتیاں</b> </p>
<p>ماں۔۔۔ کس قدر عظیم ہستی ہے شاید ہم اس کا اندازہ ہی نہیں کرپاتے۔ ہاں، تھوڑا بہت اندازہ تب ہوتا ہے، جب یہ عظیم ہستی ہم سے بچھڑ جاتی ہے۔ اپنی ماں کے بارے میں کئی قیمتی یادیں اپنے بلاگ پر ہم سے بیان کیں شاہدہ اکرم نے۔ تحریر کا عنوان تھا &#8221;<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2008/11/05/woh-aik-di/" >وہ ایک دن</a>&#8220;۔ تحریر کا آغاز افسانوی انداز میں کرتی ہیں لیکن ابتدائی پیرا میں جو درد موجود ہے، وہ بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لکھتی ہیں: </p>
<blockquote><p>کہنے کو سب دِن ايک سے ہوتے ہيں ليکِن زِندگی ہے نا تو سب کے لیے سب دِن ايک سے نہيں ہوتے وقت جو ہميشہ سب کو اپنے رنگ دِکھاتا ہے کبھی وہی وقت کسی ايک کے لِۓ اِنتہائ خُوشی کا ہوتا ہے اور وُہی دِن کِسی کے لِۓ دُکھوں کی سوغات اور يادوں کے پٹارے ميں سے عجيب عجيب اور پياری پياری کِن مِن کرتی يادوں کی بُوندوں بھری برساتيں لے کر آتا ہے چارنومبر کا دِن جو ميرے نا چاہنے کے باوجُود ہر سال آتا ہے اور ہميشہ آتا ہی رہے گا ليکِن ناجانے کيُوں ميرادِل چاہتا ہے يہ دِن کيلينڈر سے غائب ہو جاۓ جانتی ہُوں ايسا ہو نہيں سکتا پھر بھی تمنّا کرنے ميں کيا حرج ہے؟ آج چارنومبر نہيں ہے گُزر چُکا ہے وُہ دِن کہ اُس دِن ميں چاہ کر بھی کُچھ نہيں کر پاتی۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر اپنی والدہ اور ان کی انتقال پُرملال سے متعلق اپنی یادیں بیان کرتی ہیں تو نہ صرف قاری کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں بلکہ احساس ہوتا ہے جیسے لکھتے ہوئے شاہدہ صاحبہ کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔ </p>
<p>ہمارے تعلیمی اداروں کا معیار اب کس صاحبِ نظر سے پوشیدہ ہے؟ شاکر کی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/286" >سر جی</a>&#8220; بھی آجکل کے طلبا اور سکولوں کی عکاسی کر رہی ہے۔ جس میں آپ امتحانات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: </p>
<blockquote><p>یہ حقیقت ہے کہ بی اے تک ایسے ٹوٹکے چلتے ہیں۔ ایک خواب نامی مضمون میں ایکسیڈنٹ کو گھسیڑ کر دو مضمون بنا لیے جاتے ہیں۔ میں سڑک کے کنارے جارہا تھا کہ میں نے ایک بس کو آتے دیکھا۔ پھر ایکسیڈنٹ ہوا اور پھر آخر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا پتا چلا یہ تو خواب تھا۔ اب اگر خواب والا آجائےتو سارا لکھ دو ورنہ آخری حصہ نکال دو۔ خط ایک ہوتا ہے، لیکن اس کا مضمون ایسا مبہم ہوتا ہے کہ پندرہ بیس عنوانات تلے آجاتا ہے۔ شاگرد خوش ہوجاتے ہیں، استاد کو پیسے مل جاتے ہیں اور پرچے بھی پاس ہوجاتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p><b>آپ بیتیاں:</b> </p>
<p>آپ بیتیوں میں ہمارے سامنے جو تحاریر موجود ہیں، ان میں ایک تحریر میرا پاکستان کی ہے جس کا موضوع ہے &#8221;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1770" >قلم، دوات اور تختی</a>&#8220;۔ اس تحریر میں انہوں نے اپنے بچپن کی یادیں بیان کی ہیں جب بال پوائنٹ کا رواج نہیں تھا اور قلم، دوات استعمال کیے جاتے تھے۔ </p>
<p>امن کی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=188" >یادداشت</a>&#8220; نہ صرف آپ بیتی ہے بلکہ ورڈ پریس کی ایک تھیم کو اردو قالب میں ڈھالنے کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کا اچھا جائزہ پیش کرتی ہے۔ </p>
<p>افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر 6 نومبر 1947ء کو ہونے والے قتل عام سے متعلق تحریر کئی افسوس ناک واقعات اور انکشافات سے پردہ اٹھاتی نظر آئی۔ موضوع تھا: <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1312" >نام نہاد امن کے پجاریوں نے چند گھنٹوں میں ایک لاکھ مسلمان قتل کئے</a></p>
<p><b>شعر و ادب</b> </p>
<p><b></b></p>
<p>وارث نے فیض احمد کی چوبیسویں برسی کے موقع پر فیض احمد فیض کی فارسی نعت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ </p>
<p>آپ لکھتے ہیں کہ : </p>
<blockquote><p>فیض کے کلیات &#8220;نسخہ ھائے وفا&#8221; میں شامل آخری کتاب &#8220;غبار ایام &#8221; کا اختتام فیض کی ایک خوبصورت فارسی نعت پر ہوتا ہے اور شاید کلیات میں یہ واحد نعت ہے۔ بہت دنوں سے ذہن میں تھا کہ اس نعت کو لکھوں اور آج فیض کی برسی کے موقعے پر اس خوبصورت نعت کر مع ترجمہ پوسٹ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ </p>
<p>اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو      <br />آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تو </p>
<p>اے کہ آپ (ص) کا ہر دکھی دل میں ٹھکانہ ہے، میں نے بھی آپ کے لیے ایک اور سرائے بنائی ہے یعنی کہ میرے دکھی دل میں بھی آپ کا گھر ہو جائے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/2008/11/20/naat-faiz-ahmed-faiz/" >مزید پڑھیے۔۔۔</a> </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب</a> نے اپنی ایک عمدہ غزل اور فلیش پوسٹ کیا۔ </p>
<p>غزل کا پہلا شعر کچھ یوں ہے۔۔۔ </p>
<blockquote><p>میرے پیار کے جذبے پر یہ غصے کا اظہار کیوں؟ </p>
<p>مجھ سے ملنے سے اے ہمدم کرتا ہے انکار کیوں؟ </p>
</blockquote>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>بقیہ غزل اور فلیش <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/11/17/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%92-%D9%BE%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >یہاں</a> ملاحظہ کیجیے۔ </p>
<p>&#160;</p>
<p><b></b></p>
<p><b>دانائی کی باتیں</b> </p>
<p><b></b></p>
<h4>اجمل صاحب اپنی پوسٹ <a href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1301"  target="_blank">قانونِ قدرت</a> میں پوچھ رہے ہیں کہ:</h4>
<blockquote><p>سیب یا ناشپاتی میں آٹھ دس تخم یا بِیج ہوتے ہیں اور ایک درخت پر سو سے پانچ سو تک سیب یا ناشپاتیاں لگتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنے زیادہ بیج کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں بہت کم کی ضرورت ہوتی ہے ؟ </p>
</blockquote>
<p>اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی تحریر میں اس کا جواب کچھ یوں دے رہے ہیں </p>
<blockquote><p>دراصل اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی ہمیں بتاتا ہے کہ سب بیج ایک سے نہیں ہوتے ۔ کچھ اُگتے ہی نہیں ۔ کچھ پودے اُگنے کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور کچھ صحیح اُگتے ہیں اور پھل دیتے ہیں ۔ اِس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ۔۔۔<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1301" >مزید پڑھیے۔۔۔</a> </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/" >اکرام</a> نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/2008/11/29/%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA/" >اقوال</a> لکھے: </p>
<blockquote><p>جو شخص نگاہ کی التجا نہ سمجھے اس کے سامنے زبان کو شرمندہ مت کر۔ </p>
<p>دینا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح اور سب سے آسان کام نکتہ چینی ہے ۔ </p>
<p>انسان خود نہیں اسکا کردار عظیم ہوتا ہے۔ </p>
<p>خاموش انسان پہاڑ کی مانند رعب دار ہوتا ہے ۔ </p>
</blockquote>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p><a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/2008/11/29/%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA/" >م</a>زید پڑھیے۔۔۔ </p>
<p><b></b></p>
<p><b></b></p>
<p><b>چلتے چلتے</b> </p>
<p>آخر میں کچھ بلاگز پر نظر ڈالتے چلیں۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >نعمان علی</a> باقاعدگی سے معروف مزاح نگار پطرس بخاری کے فن پارے پیش کرتے رہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> ماہ نومبر کے سب سے زیادہ فعال بلاگر رہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.myurdujoke.com/" >اردو لطائف</a> پر مسلسل اچھے اور دلچسپ اردو لطائف پڑھنے کو ملے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/" >اردو ماسٹر</a> قدرے سست رفتاری سے مگر باقاعدگی سے جاری رہا اور کئی مفید اور معلوماتی اسباق سامنے آئے۔ </p>
<p>یہ تھے ماہ نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کا مختصر سا جائزہ۔ امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا۔ اگر کوئی بلاگر سمجھتا ہے کہ اس کی تحریر بھی ہمیں شامل کرنی چاہیے تھی اور نہیں کی تو وہ ہم سے شکایت کرسکتا ہے۔ :﴾ اگرچہ تمام بلاگز کی فہرست مہیا کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جتنے اہم اور اچھے بلاگز ہماری نظر سے گزریں، ہم انہیں اپنی تحریر میں لے آئیں۔ </p>
<p>اجازت دیجیے اس دعا کے ساتھ کہ جہاں رہیں، خوش رہیں اور منظرنامہ کے تمام قارئین کو عید الاضحٰی بہت بہت مبارک ہو۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

