<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Oct 2010 15:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
		<item>
		<title>اردو بلاگز، بلاگ ایگریگیٹر</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/07/urdu-blogz-com/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/07/urdu-blogz-com/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Jul 2010 09:12:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگ ایگریگیٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=868</guid>
		<description><![CDATA[اردو بلاگستان کی ترویج میں بلاگ ایگریگیٹرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انگریزی اور دوسری زبانوں کے لیے ٹیکنوراٹی اور اور بلاگ کیٹلاگ جیسے بڑے ایگریگیٹر دستیاب ہیں وہاں اردو بلاگستان کی ترویج کے لیے بلاگ ایگریگیٹر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ماورائی فیڈر اور اردو سیارہ جیسے بلاگ ایگریگیٹر بھی موجود ہیں۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اردو بلاگستان کی ترویج میں بلاگ ایگریگیٹرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انگریزی اور دوسری زبانوں کے لیے ٹیکنوراٹی اور  اور بلاگ کیٹلاگ جیسے بڑے ایگریگیٹر دستیاب ہیں وہاں اردو بلاگستان کی ترویج کے لیے بلاگ ایگریگیٹر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے <a target="_blank" href="http://feed.urdulog.com/" >ماورائی فیڈر</a> اور <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/planet/" >اردو سیارہ</a> جیسے بلاگ ایگریگیٹر بھی موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی چند ایک نئے بلاگ ایگریگیٹر کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی تھی کہ پہلے سے موجود بلاگ ایگریگیٹر کی اپنی ایک خاص پالیسی ہے۔ کوئی بلاگر کوئی پالیسی پسند کرتا ہے تو کوئی کچھ اور اس لئے اگر اس میدان میں مزید بلاگ ایگریگیٹر شامل ہو جائیں تو جس کو جس بلاگ ایگریگیٹر کی پالیسی پسند ہو وہ اپنی پسند کا بلاگ ایگریگیٹر استعمال کرے اور اردو  بلاگستان کی رونق برقرار رہے۔  اس کمی کو پورا کرنے کے لیے <a target="_blank" href="http://www.urdublogz.com/" >اردو بلاگز</a> ایگریگیٹر کی تشکیل کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔<span id="more-868"></span></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdublogz.com/" >اردو بلاگز</a> ایک بلاگ ایگریگیٹر یا <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88_%D9%85%D8%AF%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%AA" >جمیع بلاگ</a> ہے ۔جس کا مقصد اردو بلاگستان کی تازہ ترین تحاریر کوایک صفحہ پر اکٹھا کرنا، اردو بلاگستان کے صارفین میں اضافہ کرنا اور اردو بلاگنگ کو فروغ دینا ہے۔ بیشتر انٹرنیٹ صارفین ہر بلاگ پر جانے کی بجائے فقط بلاگ ایگریگیٹر پر آتے ہیں اگر انہیں کوئی تحریر پسند آئے تو مکمل تحریر پڑھنے کے لیے وہ اس بلاگ پر چلے جاتے ہیں، یوں اردو بلاگران کو روزانہ کی بنیاد پر کئی وزٹر بذریعہ ایگریگیٹر حاصل ہوتے ہیں۔ ایگریگیٹر کے مرکزی صفحہ پر چونکہ آپ کی تحریر کا ربط بھی ہوتا ہے یوں آپ کے بلاگ کی سرچ انجن رینکنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔اردو بلاگز کی ایک خصوصیت جو اسے دوسرے بلاگ ایگریگیٹر زسے  ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں اردو بلاگنگ کمیونٹی کی نہ صرف تازہ تحاریر بلکہ ماضی کی تحاریر بھی آرکائیو کی صورت میں موجود رہتی ہیں۔<br />
<span style="color: #0000ff;"> گراویٹر سپورٹ کیا ہے۔</span><br />
گراویٹر کو اردو میں گریویٹر بھی پڑھ سکتے ہیں، اسکا مطلب ہے گلوبلی ریکگنائزڈ ایویٹر Globally recognized avatar۔ اگر کسی بلاگ میں گریویٹر کی سہولت ہو تو جب آپ اس بلاگ پر  تبصرہ کرتے ہیں تو آپ کا گریویٹر بھی آپ کے نام کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اردو بلاگز میں گریویٹر کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ جیسے ہی آپ کے بلاگ سے کوئی تحریر اردو بلاگز پر ظاہر ہوگی تو ساتھ میں آپ کا گریویٹر بھی ظاہر ہو گا۔ چونکہ اردو پڑھنے والے تمام بلاگرز کو ان کے ناموں سے نہیں جانتے۔کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرتے وقت تمام بلاگران کے گریویٹر ظاہر ہوتے ہیں یوں ہر بلاگر کی ایک الگ پہچان قائم ہو جاتی ہے اسی پہچان کا فائدہ اٹھاتے ہوے  اردو بلاگز پر تمام فیڈز کو گراویٹر سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہو گا کہ پڑھنے والوں کو فوری طور پر کسی بھی بلاگر کو پہچاننے میں مسئلہ نہیں ہو گا۔<br />
<span style="color: #0000ff;"> موبائل کے لیے مخصوص سانچہ</span><br />
آج کل موبائل ڈیوائسز کا دور ہے ، اچھی سے اچھی موبائل ڈیوائسز اور سمارٹ فونز مارکیٹ میں آرہے ہیں جن میں ویب کی زیادہ سے زیادہ سپورٹ شامل ہے، اردو اور عربی زبان میں بلاگ اور اخبارات پڑھے جا سکتے ہیں، اور تو اور فیس بک، یو ٹیوب ٹویٹر وغیرہ کی ایپلیکیشنز بھی دستیاب ہیں جن سے برائوزر کھولے بغیر آپ اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں، تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔چونکہ موبائل پر یہ سب کرنے کے لیے تھری جی یا وائرلیس سے ڈیٹا درامد کروانا پڑتا ہے جو بعض صورتوں میں کافی مہنگا ہوتا ہے اور موبائل کی ننھی سی مشین کو مد نظر رکھتے ہوے ویب پیجز کا سائز چھوٹا ہونا ضروری ہے۔ موبائل تھیم ہمارا یہ مقصد باآسانی پورا کرتی ہے۔ اردو بلاگز پر موبائل تھیم بھی انسٹا ہے۔ تاہم موبائل تھیم میں مکمل تحاریر کی بجائے صرف تحاریرکے عنوان ظاہر ہوتے ہں اور نیچے مصنف کا نام، تحریر کے شائع ہونے کی تاریخ اور وقت۔ یہ تھیم نوکیا فورمز کی تیار کردہ ہے اوربیشتر نوکیا سیٹس پر باآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ دیگر سیٹ جیسے آئی فون اور وینڈوز موبائل پر بھی یہی تھیم ظاہر ہو گی۔<br />
<span style="color: #0000ff;"> شماریات</span><br />
•	اس وقت اردو بلاگز پر لگ بھگ اٹھانوے اردو  بلاگ موجود ہیں۔<br />
•	ہر بلاگ کو ڈیڑھ گھنٹہ بعد پیش رفت کے لیے جانچا جاتا ہے، آیا نئی تحریر موجود ہے کہ نہیں۔<br />
•	اس وقت اردو بلاگز پر  اٹھارہ سو1800 سے زائد اردو تحاریر ہیں جو  متعلقہ اردو بلاگران کی ملکیت ہیں۔<br />
•	یہ شماریات  مستقبل کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔<br />
اردو بلاگز ایگریگیٹر  کےلیے تکنیکی کام بلاگر یاسر عمران نے کیا اور سپانسرشپ پاک نیٹ کی انتظامیہ نے فراہم کی۔ اردو بلاگز پر <a target="_blank" href="http://www.urdublogz.com/submit/" >شمولیت کا صفحہ</a> یہ رہا۔<br />
امید کرتے ہیں کہ اردو بلاگز دن بدن ترقی کرے گا اور اردو بلاگزکی انتظامیہ تکنیکی اور دیگر معاملات میں اردو بلاگز کی بہتر دیکھ بھال کر سکےگی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/07/urdu-blogz-com/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>23</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>میرے اور آپ کے بیچ ہم آہنگی کی ضرورت</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 22 May 2010 06:54:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[نقطہ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<category><![CDATA[ہم آہنگی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=860</guid>
		<description><![CDATA[میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا ہے، چاہے مجھے اور آپ کو محسوس ہو یا نہیں، چاہے میں اور آپ چاہیں یا نہیں۔</p>
<p>ذرا ٹھہریں، انٹرنیٹ کی دنیا سے ہٹ کر اپنے اردگرد کی دنیا کا جائزہ لیں۔ آپ کے آس پاس لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو آپ سے مماثلت رکھتے ہوں گے، کچھ بہت زیادہ اور کچھ بے حد معمولی سی۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کی شخصیت کے بالکل برعکس ہوں گے۔ اور کیوں نہ ہوں کہ ہر ایک کی شخصیت، ہر ایک کا خاندان، ہر ایک کا گھریلو ماحول، ہر ایک کا پس منظر، سبھی کچھ مختلف ہے۔ تو کیا آپ اپنے مخالفوں کو جینے کا بھی حق نہیں دیتے؟ کیا اُن کی جائز بات بھی نہیں سنتے؟ کیا ہر وقت اُن سے جھگڑتے رہتے ہیں؟</p>
<p>اچھا، یہ تو ابھی کی بات ہے جب آپ گھر سے باہر کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور جہاں مختلف پس منظر کے حامل لوگوں سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔ ذرا ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں جب آپ کی زندگی کا دائرہ صرف گھر اور خاندان والوں کے گرد گھومتا تھا۔ مشترکہ روایات، مشترکہ پس منظر، مشترکہ ماحول، لیکن کیا اس کے باوجود کہیں آپ کا اپنے خاندان یا اپنے ہی گھر میں کسی بات پر اختلاف نہیں ہوا؟ کسی نکتے پر عدم اتفاق نہیں پایا گیا؟ تو کیا آپ نے قطع تعلق کرلیا؟ ناطے توڑ لیے؟ یقیناً نہیں۔</p>
<p>ہم جس ماحول میں بھی رہیں، جیسے حالات میں بھی گزر بسر کریں، بحیثیت انسان ہم میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو سمجھ سکتے ہیں، بدلتے ماحول میں خود کو ڈھال سکتے ہیں، مختلف الخیال لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔ اور جس طرح یہ اصول آپ کی حقیقی زندگی پر منطبق ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت اور ضرورت ہے۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">منظرنامہ کی جانب سے ایک سلسلہ ’’<a href="http://www.manzarnamah.com/category/point-of-views/" >نقطۂ نظر</a>‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت کسی ایک موضوع پر بلاگرز اظہارِ خیال کرتے تھے۔ یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے بیچ ہم آہنگی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور اس کو کتنا اہم سمجھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کیا ہم آہنگی کسی قدر پائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ ہمیں کہاں اور کیا تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس پر آپ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #008000;"><strong>تحریر کی اشاعت کا طریقہ:</strong></span><br />
فی الحال منظرنامہ پر مصنفین کو رجسٹر نہیں کیا جارہا لہٰذا آپ اس موضوع پر اپنی تحریر اپنے ہی بلاگ پر شائع کریں۔ آپ کے بلاگ پر پوسٹ ایڈیٹر کے نیچے ایک ٹیکسٹ فیلڈ Send Trackbacks کے نام سے ہوگی، وہاں آپ منظرنامہ کی اس تحریر کا ربط ڈال دیں گے تاکہ اس موضوع پر آنے والی تمام تحاریر کا ربط اس تحریر کے تبصروں میں ظاہر ہوتا رہے اور قاری اس سلسلے کی ہر کڑی سے باخبر رہے۔ شکریہ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">ازراہِ کرم ذاتیات سے گریز کریں۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/05/main-aap-hamahangi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 May 2010 12:06:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[April 2010]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=852</guid>
		<description><![CDATA[تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔ الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔<br />
الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور  امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی، اس مہینے اختلافات اور احتجاج (جمع احتجاجات؟) کے باوجود پاکستان کے صوبۂ سرحد کا نام بدل کر صوبۂ <a target="_blank" href="http://urdu.inspire.org.pk/?p=313" >خیبر پختونخواہ</a> رکھ دیا گیا اور اسی مہینے ایک سنسنی خیز داستان کا انجام شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی میں صورت میں ہوا۔ تاہم اس مہینے اردو بلاگنگ کے دائرے میں کیا ہلچل رہی، اس کا کچھ ذکر ہے فی الوقت ہمارا موضوعِ سخن۔<br />
<span id="more-852"></span><br />
<a target="_blank" href="http://urdutech.net/" >اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ</a> ایک بار پھر غائب ہوچکا ہے۔ بے چارے پریشان حال بلاگرز ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ اُن کی دادرسی کون فرمائے گا۔ اکثر احباب شکایت کرتے پائے گئے کہ یہ <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" >عالی جناب</a> ہمارے پیغامات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے۔ بہرحال، ایسے بلاگرز کے دکھ کا کچھ حد تک مداوا کرنے کی قابلِ صد تحسین کوشش خرم ابنِ شبیر نے <a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/" >نوائے ادب</a> پر کی کہ بلاگ سے محروم ہونے والے  بلاگرز کو اپنے بلاگ پر لکھنے کی سہولت دے دی یوں شاہدہ اکرم کا بلاگ کچھ عرصہ نوائے ادب پر پڑھا گیا۔ اس کے علاوہ محمد رضوان بھی نوائے ادب پر ہی بلاگ کرتے نظر آئے۔تاہم اب شاہدہ اکرم کا بلاگ <a target="_blank" href="http://shahi.urdunama.org/" >اردو نامہ</a> پر پڑھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اس بار بلاگز کا تجزیہ خرم ہی سے شروع کرتے ہیں۔ ’’انسانیت ری انسٹال پر ایک تبصرہ‘‘ کے نام سے خرم کی تحریر نے اُن کی ایک پُرانی تحریر ’’انسانیت ری انسٹال‘‘ کی یاد دلادی جو واقعی خوب لکھی گئی تھی۔ لکھا تھا:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں نے کہا  انسان نے بہت کچھ بنا تو لیا ہے لیکن خود انسان نہیں بن سکا۔ سردار جی کو میری یہ بات بہت پسند آئی۔ میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہنے لگے یار کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان کو فارمیٹ  کر کے اس میں انسانیت ری انسٹال کی جائے، پھر شاید وہ انسان بن سکے۔ میں نے کہا ان کے ساتھ سی ڈی نہیں آتی نا۔ رات ان کا کام ختم ہوا تو وہ چلے گئے لیکن بعد میں جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میری ذہن میں پھر وہی بات آگئی۔ کاش انسانیت ری انسٹال ہو سکتی۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=554" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس پر بدرالزمان کا تبصرہ بھی فکر انگیز ہے جسے خرم نے الگ تحریر کی صورت میں بھی شائع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔خوش قسمتی سے انسانیت کی سی ڈی اور User’s Manual نہ صرف موجود بلکہ Scratch &#038; Errors Free ہے۔ یہ 2 in 1 پیکج قرآن کہلاتا ہے۔ جب آپ اس کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کے اندر کی ونڈو ریپئر ہونے لگ پڑتی ہے۔اسکے ا یررز ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1065" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی پچھلے مہینے کا گرما گرم موضوع رہا۔ جس کو دیکھیں، اسی کی گفتگو کرتا دکھائی دے۔ جس محفل میں بیٹھیں، یہی موضوع زیرِ بحث رہے۔ خرم نے اس موضوع پر ایک ہندوستانی ساتھی سے دلچسپ مکالمے کا حال بیان کیا۔ ’’ملک، مرزا اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>میں نے کہا: ’’اچھا یار آئی پی ایل کو چھوڑو، بتاؤ! شادی کب ہو رہی ہے؟‘‘<br />
وہ سمجھا، اس کی شادی۔ کہتا ہے: ’’جب انڈیا جاؤں گا تو شادی ہو جائے گی۔‘‘<br />
میں نے کہا: ’’نہیں یار تمہاری نہیں، ثانیہ مرزا کی۔‘‘<br />
اس پر اس کا منہ سرخ ہو گیا اور میں ہنسنے لگا۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1063" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>سعدیہ سحر بھی اسی موضوع پر خامہ فرسائی کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’بہوِ پاکستانی‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری ایک دوست کہہ رہی تھی ثانیہ مرزا پاکستان کی بہو بننے جا رہی ہے۔ پتا نہیں‌کیوں سب اتنے خوش ہو رہے ہیں ایک ایسی لڑکی کے لیے جیسے کپڑے پہننے کا ڈھنگ بھی نہیں‌ آتا۔ میں نے کہا، اسی بے ڈھنگے پن کی تو عوام دیوانی ہے، یہی کوئی پھوپھی اماں ٹائپ کی کوئی باپردہ خاتون ٹائپ لڑکی ہوتی تو کیا پاکستان کے منچلوں نے ایسے مچل مچل کر بھنگڑے ڈالنے تھے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/09/%D8%A8%DB%81%D9%88-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی تحریر ’’شعیب اور ثانیہ: دامادِ ہندوستان اور بہوِ پاکستان‘‘ اس حوالے سے میڈیا کے کردار پر  بحث کرتی ہے۔ جیساکہ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ  ’’ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں‘‘۔۔۔ ’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔۔۔ ’’ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔‘‘ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی ایک اور تحریر ’’اصل وجہ؛ مولوی یا جہالت‘‘ کو نظر انداز کرنا قطعاً مناسب نہ ہوگا جو ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے پر کچھ حد تک روشنی ڈالتی ہے۔ لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>آج نوجوانوں کی اکثریت اگر دینی حلقوں کے مکمل خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہے اور اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔ مولوی اصل مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو.۔مولوی طبقہ زیادہ بدنام اسلئےہے کہ وہ اپنے جائز و نا جائز تبصروں، ذاتی چپقلشوں اور دشمنیوں ، سیاست یا باقی تمام معاملات میں دین کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ ہمارے چاروں طرف یہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس جو بھی علم ہے اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرو،تو پھر ہم میں سے ہی نکلنے والے مولوی ہم سے مختلف کیونکر ہوں گے؟ میں علما کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post_12.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>سفرناموں کو ہر زبان کے ادب میں خاص مقام حاصل ہے لیکن اردو بلاگرز میں ابھی اس صنفِ ادب پر کم ہی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ قدیر احمد کی تحریر Seven Days in the Capital کو سات دنوں کا ایک مختصر ترین سفرنامہ کہا جاسکتا ہے جس کے ایک دن کی کہانی باقی چھ دنوں کی کہانی پر بھاری ہے۔ یعنی چھ پیرا میں اسلام آباد آمد اور پہلی رات اور دن گزارنے کا قصہ ہے جبکہ آخری پیرا باقی چھ دنوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس سفر کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔3 اپریل بروز ہفتہ میرے mid exam ختم ہوئے۔ پیپرز کے دوران سو سو کے تھک گیا تھا چنانچہ سوچا کہ اب کچھ تفریح ہو جائے۔ حارث نے مجھے دعوت دی لاہور آنے کی تو میں نے لگے ہاتھوں اسلام آباد کا چکر بھی لگا لیا؛ واضح رہے کہ یہ چکر سات دِنوں پر محیط تھا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://i042986.blogspot.com/2010/04/seven-days-in-capital.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس سفرنامے میں خاصی تشنگی پائی جاتی ہے۔ گمان ہے کہ قدیر کے ساتھ یا تو وقت نے ساتھ نہیں دیا یا مزاج نے یاری نہیں کی ورنہ وہ اس حوالے سے خاصا تفصیل سے بھی لکھ سکتے تھے۔</p>
<p>عمر احمد بنگش کا شمار ایسے اردو بلاگرز میں کیا جاسکتا ہے جو اپنی منفرد پہچان حاصل کرنے کی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ صوبۂ سرحد کا نام کیے جانے کے حوالے سے ان کی تحریر کا عنوان ’’لپے کا نیا نام، خیبر پختونخوا‘‘ ہے تاہم اس کی تمہید سے نام بگاڑنے کی عادت اور اس کے اثرات کے حوالے سے فکر کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔یہ نام بگاڑنے کا قضیہ بھی دلچسپ ہوتا تھا۔ دلچسپ ایسے کہ کسی سے آپ کی خار ہے، آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں یا پھر کسی بھی شکل میں اگلے کو تھلے لگانا چاہتے ہیں، اس کا نام بگاڑ دیجیے۔ متعلقہ شخص کی جسمانی یا پھر ذہنی کمزوری اس میں نہایت مددگار ہوسکتے ہیں۔ کسی کو اس حوالے سے مجروح کرنے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہیں ورنہ اگر آپ کچھ ’’زیادہ ہوشیار‘‘ ہیں تو اس کی زات، مذہب، عادت یا پھر والدین میں سے کسی کے حوالے سے نفسیاتی مات دے دیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2010/04/blog-post_04.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>تانیہ رحمان اپنا بلاگ عین الیقین کے نام سے لکھتی ہیں اور انہیں اردو بلاگنگ کے دائرے میں شامل ہوئے سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ تحاریر کی سادگی، دلچسپ اور متنوع موضوعات ہونا تانیہ کے بلاگ کی ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو اپنے پن کا احساس دلاتی ہیں۔ اکثر موضوعات ہمارے ارد گرد سے ربط رکھتے ہیں۔ ’’اچھی اور بری یادیں‘‘ کے عنوان سے اپنی زندگی میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے ماضی کی کچھ یادیں اور تجربات قسط وار بیان کیے ہیں۔ پہلی قسط میں لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کہ نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاؤں۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو، آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=989" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس کے علاوہ بزرگ ساتھی عبدالرحمٰن سیّد کی تحریر کردہ ایک سچی کہانی ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=981" >دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ</a>‘‘ بھی دو اقساط میں تانیہ کے بلاگ کی زینت بنی۔ کہانی اچھی ہے لیکن اسے شائع کرتے وقت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ تحریر کا ایک حصہ پہلی قسط میں موجود ہے تو کچھ حصہ پہلی قسط کے تبصروں میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کرکے لکھا گیا ہے اور بقیہ کہانی دوسری قسط میں موجود ہے۔ بہرحال محبت کی یہ داستان ہے خاصی متاثر کن۔</p>
<p>اگلے بلاگر کی طرف بڑھنے سے پہلے تانیہ کی ایک تحریر ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=975" >آؤ کہانی لکھتے ہیں</a>‘‘ کا ذکر نہ کرنا قطعاً مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ تانیہ کی تجویز تھی کہ ایک مشترکہ کہانی لکھی جائے اور انہوں نے اس کہانی کا آغاز بھی فراہم کیا لیکن اس کے بعد تبصرہ نگاروں نے اس کہانی کی جو درگت بنائی، وہ بے حد دلچسپ اور ہر ایک کے زاویۂ نگاہ، تصورات و خیالات اور اندازِ فکر کی بہت حد تک عکاس ہے۔</p>
<p>تانیہ رحمان کا ذکر ہوا ہے تو ایک اور خاتون بلاگر کا ذکر کرتے چلیں جن کی ایک تحریر اوپر پیش کی جاچکی (امید ہے کہ انہیں اپنے لیے ’’خاتون‘‘ کا لفظ استعمال کیا جانا گراں نہ گزرے گا)۔ سعدیہ سحر بڑی سادگی سے اپنی بات کہنا جانتی ہیں۔ اِن کی تحاریر مثلاً ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/12/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%86/" >میرے نانا جان</a>‘‘، ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/16/%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%86-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%af%d8%b2%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%a7/" >محبت کا دن بھی گزر گیا</a>‘‘، <a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/23/%da%be%d9%85-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c-%da%be%db%8c%da%ba/" >ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں</a>‘‘ ہمیں ایک عام خاتون کے اندازِ فکر، گہرائی اور اظہارِ خیال کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اپنی زندگی میں موسیقی کے عمل دخل کے حوالے سے مختصر سی تحریر  ’’میوزک اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری عادت ہے میں جب پڑھتی ہوں یا لکھتی ہوں ساتھ ساتھ میوزک سنتی ہوں۔ یہ اس وقت کے موڈ پہ منحصر ہے، کبھی غزلیں، کبھی قوالی، کبھی نئے کبھی پرانے اور کبھی صوفیانہ کلام اور کبھی فاسٹ اور ری مکس۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/13/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%b2%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>موسیقی کی بات ہے تو ریاض شاہد کی تحریر کا بھی تذکرہ ہوچلے۔ قوالی اور عزیز میاں کے حوالے سے ایک تحریر ’’خدا سے مکالمہ‘‘ میں کچھ بچپن کی یادیں، شریعت اور طریقت کے متبعین کا انداز اور پھر قوالی، سبھی کچھ مختصر مختصر مگر دلچسپ انداز میں سمودیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں جہاں والد صاحب کی اور کرم فرمائیوں کا  شکر گذار ہوں وہاں اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے موسیقی سے متعارف کروایا یہ وہ جادوئی منتر ہے جو  آج بھی زندگی کے بعض نازک مقامات پر پلک جھپکتے میں جادوئی قالین پر بٹھا کر مجھے تصورخیال کی رنگین اور خوبصورت وادیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔آج بھی پتہ نہیں دل کا کیا عالم ہے کہ یہ قوالی کوئی تیس دفعہ سن چکا ہوں مگر پھر بھی سنے جا رہا ہوں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/13/%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ریاض شاہد نے اپنی جامع تحاریر کے باعث اردو بلاگنگ کے دائرے میں بہت جلد اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ قدرے طویل تحریر ’’ترقی کے گھوڑے‘‘ قاری کو غور و فکر پر راغب کرتی ہے کہ معاشرے میں کس قدر تیز ی سے تبدیلیاں رونما ہوتی جارہی ہیں اور ہم کس طرف جارہے ہیں۔ آخر میں رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں اس ماچے پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اپنی مٹی سے ناطہ دوبارہ استوار کروں یا پھر اس سے دامن چھڑا کر اجنبی سرزمینوں اور ترقی کی شاداب چراگاہوں کی طرف نکل جاؤں جہاں مزید ترقی میرا انتظار کر رہی ہے۔ رہی بات روح اور فلاح کی تو اسے کون پوچھتا ہے۔ ویسے بھی ترقی  فلاح کی دشمن ہے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/15/%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%da%be%d9%88%da%91%db%92/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسٹ انڈیز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010ء کا آغاز ہوچکا ہے۔ اپنے تبصرے کا اختتام  اسی حوالے سے محمد اسد کی ایک تحریر پر کرتے ہیں۔ ’’تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیال کا اظہار یوں کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔سابقہ خراب کارکردگی اور موجودہ مشکلات کے باوجود پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کے دفع کے لیے مکمل تیار ہونے کا دعوی کررہے ہیں. اس کے علاوہ بھارتی ٹیم بھی IPL کے اختتام کے بعد نئے اور پرانے تجربیکار کھلاڑیوں کے ساتھ میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. اکثر مبصرین کی رائے میں اس بار آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیم بھی مقابلہ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دی جاسکتی ہیں. جبکہ کچھ لوگوں کا ووٹ ساوتھ افریقہ کی ٹیم کے حق میں ہے۔ (<a target="_blank" href="http://blog.bilaunwan.co.cc/2010/sports/3rd-t20-world-cup/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسے محمد اسد کے بلاگ کی ترتیب اور تزئین و آرائش خاصی دلکش ہے۔ اچھا کام کیا ہے۔</p>
<p>بہرحال، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیں گے۔ والسلام۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خرم ابنِ شبیر سے شناسائی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 20 Apr 2010 20:22:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[شناسائی]]></category>
		<category><![CDATA[خرم ابن شبیر]]></category>
		<category><![CDATA[خرم ابنِ شبیر]]></category>
		<category><![CDATA[خرم شہزاد خرم]]></category>
		<category><![CDATA[دیا جلائے رکھنا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ انٹرویو]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ سلسلہ شناسائی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=843</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔ سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #ff0000;">منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے گا اور خاص طور مُسدّسِ حالی جیسے کام سے تو یقینا واضح ہو جاتا ہے۔ </span>اس کے علاوہ آپ کے بلاگ سےصاف اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اردو نثر سے بھی خاص لگاؤ ہے اور اساتذہ کا احترام آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں تو آپ ایک دو بار اپنا نام تبدیل کر چکے ہیں  جیسے خرم شہزاد خرم سے اب <a href="http://nawaiadab.com/khurram/"  target="_blank">خرم ابن شبیر</a> بن چکے ہیں۔لیکن بلاگ کا عنوان تبدیل کرنے میں شاید کچھ زیادہ ہی جلدی دیکھاتے ہیں۔ کئی تبدیلیوں کے بعد آج کل ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان اپنائے ہوئے ہیں۔ آپ نئےبلاگر ہیں نہ بہت پرانے۔ تقریبا تین چار سال سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔ اردو بلاگنگ ویب سائیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے آپ کے پرانے بلاگز سے شروع کی تحاریر کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ آج کل آپ نے اپنی ذاتی ڈومین پر بلاگ بنا رکھا ہے۔ ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کے پرچم تلے آج کل آپ کے ہی بلاگ پر شاہدہ اکرام اور محمد رضوان بھی آپ کے ساتھ مل کر لکھ رہے ہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">یہ تو تھا خرم ابن شبیر کا ایک مختصر تعارف اب مزید جاننے کے لئے ان سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔</span></p>
<p><span id="more-843"></span><br />
<span style="color: #0000ff;">منظر نامہ کے سلسلہ شناسائی میں خوش آمدید خرم ابن شبیر۔</span><br />
السلام علیکم عزت افزائی کا بہت شکریہ<br />
<span style="color: #ff0000;">سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟</span><br />
@ راولپنڈی  کے  علاقہ  ڈھوک حسو  میں ایک محلہ کشمیرہیاں  عالم آباد   میری جائے پیدائش ہے اور اس وقت روزگار کے سلسلے میں ابوظہبی میں ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟</span><br />
@ تعلیم کے بارے میں تو آپ کو اندازہ ہوہی گیا ہو گا  سکول پاس کیا ہوا ہے اور کالج کا منہ دیکھا ہے بس تعلیم اتنی ہی ہے۔ یوں تو خاندانی پس منظر کے بارے میں تو بہت کچھ جانتا ہوں لیکن یہاں صرف دادا جی سے ہی شروع کرتا ہوں دادا جی فوج میں ملازمت کرتے تھے انتہائی شریف اور نیک سیرت انسان تھے علاقے کی مسجد میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے اللہ تعالیٰ  دادی جی کو جنت الفردوس اعلیٰ مقام عطا فرمائے  آمین۔ والد صاحب  راولپنڈی تعلیمی بورڈ میں   انکوائری برانچ آفیسر ہیں ان کا کام کیا ہے وہ آپ<a href="http://www.biserwp.edu.pk/contactus-09.asp"  target="_blank"> یہاں </a>جا کر دیکھ سکتے ہیں سب سے اوپر والد صاحب کا ہی نام ہے۔ خاندانی اعتبار سے ہم راجپوت ہیں لیکن میرے علاوہ سب اپنے نام کے ساتھ راجہ لگاتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟</span><br />
@      زندگی کا مقصد تو ابھی تک سمجھ ہی نہیں آیا  بس جو کام سامنے آتا ہے وہ کرنا شروع کر دیتے ہیں بچپن سے ایک ہی خواہش تھی وہ یہ کہ میں اس قابل ہو جاؤں کے سب کی مدد کروں  اور ابھی تک اس قابل نہیں ہوا شاید زندگی کا مقصد بھی یہی ہے  جس کی تکمیل میں لگا رہتا ہوں ۔کبھی سمجھتا ہوں کے مقصد پورا ہو رہا ہے اور کبھی لگتا ہے میں اپنے مقصد سے بہت دور ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کو لکھنے کا شوق کب سے ہے؟</span><br />
@    شوق ہممم  اصل میں مختلف ادوار میں مختلف شوق رہے مجھے مصوری کا شوق بھی رہا  جو ایک ہی دفعہ والدہ محترمہ کی مہربانی سے ختم ہو گیا <a href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=407"  target="_blank"> پُرانے کاغذ</a> کے نام سے ایک تحریر میں ذکر بھی کیا تھا  اور لکھنے کا شوق تو شاید بچپن سے ہی تھا سکول میں سکول کا ہوم ورک ، چاندنی چوک میں دوکان کا حساب کتاب، نسٹ یونیورسٹی میں فوٹو کاپیز کا ریکارڈ اور اب کمپیوٹر کی دوکان میں روز کی سیل کا ریکارڈ <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' />  ۔ شاید 2000 سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	شاعری کرنے کی شروعات کسی خاص بات کے نتیجہ میں تھی یا بس ویسے ہی دل کیا اور شروع کر دی؟</span><br />
@  کچھ خاص بات تو نہیں تھی سکول دور میں  بیت بازی میں اکثر میں جیت جاتا تھا مجھے بہت سے شعر یاد ہوتے تھے جب میں آٹھوی کلاس میں تھا تب میں نے ایک نعت لکھی تھی  نعت تو سب نے پڑھ کر تعریف کی تھی  لیکن اس کے بعد میں نے ایک شعر لکھا تھا جس پر میری بہت کلاس ہوئی تھی اور ہر پڑھنے والے نے مذاق اڑایا تھا  پھر میں نے شاعری سے توبہ کر لی شعر کچھ یوں تھا<br />
<span style="color: #0000ff;">نا تم روتے نا ہم روتے نا ہمارا بلبل روتا<br />
ہم سب مل جل کر رہتے تو ہمارا یار نا کھوتا</span><br />
دوستوں نے لفظ &#8220;کھوتے&#8221; پر بہت مذاق بنایا کہ کھوتا تم ہوگے ہمیں کیوں کہتے ہو ۔ 2002 میں فارغ تھا  اور بس اسی دور میں شاعری کی شروعات کی جو کے بے وزن تھی اور باوزن شاعری میرے خیال سے 2005 سے شروع کی جس میں میرے اساتذہ کا بہت ہاتھ ہے جن میں سب سے پہلے  پرفیسر عثمان خاور صاحب، ذوالفقار علی زلفی صاحب، محمد وارث صاحب اور اعجاز عبید صاحب سب سے اہم ہیں۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">-	سنا ہے کہ دل ٹوٹے تو انسان شاعری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے یا پھر افواہ ہی سمجھیں؟</span><br />
@ ہا ہاہا   کہا تو یہی جاتا ہے کہ ناکام عاشق ہی شاعری کرتا ہے۔ لیکن یہ بات کسی حد تک غلط ہے اور کسی حد تک درست  دل ٹوٹنے سے مراد کسی بھی کام میں دل ٹوٹ سکتا ہے لازمی نہیں  محبت میں ناکامی سے ہی دل ٹوٹتا ہے۔  شاعر تو حساس ہوتے ہیں اس لیے ان کے دل جلدی ٹوٹ جاتے ہیں   تو کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ دل ٹوٹنے کی وجہ سے شاعری کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے انسان لیکن اس کے اندر قدرتی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔<br />
<span style="color: #0000ff;">-	ایک بات جس کا جواب ہمیں ٹھیک نہیں مل سکا وہ آپ ہی بتا دیں کہ آپ نے بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟</span><br />
@ اس بارے میں تو میں بھی کچھ کنفرم  نہیں بتا سکتا  کیونکہ پہلے میں نے wordpress.pk  پر بلاگ بنایا جو کہ کسی خرابی کی وجہ سے وفات پا گیا پھر میں نے اردو ٹیک پر بلاگ بنایا  وہ بھی  اسی طرح کے حادثے کا شکار ہو گیا پھر اس کے بعد ایک دفعہ دوبارہ بلاگ بنایا وڈپریس میں   اور آخر کار بلال بھائی کی مدد سے اپنی ڈومین پر منتقل ہو گیا  شاید چار سال پہلے بنایا تھا بلاگ  تاریخ یاد نہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگ بناتے ہوئے آپ نے کیا سوچا تھا کہ آپ کو بلاگنگ کیوں کرنی چاہیے یا بلاگ کے آغاز کا بنیادی مقصد کیا تھا؟</span><br />
@  بلاگ بنانے کا  شروع میں تو اپنی ادبی تنظیم نوائے ادب کے بارے میں لکھنا تھا  لیکن نوائے ادب ایک مہینے کے بعد ہی کوئی پروگرام منعقد کرتی تھی جس کی وجہ سے میں نے آگے پیچھے کی مارنی شروع کر دیں  اصل مقصد تنظم کو سامنے لانا تھا جو کہ ٹھیک سے پورا نہیں ہو سکا لیکن اب تو اللہ کے فصل سے بہت سے مقصد لے کر چل رہا ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟</span><br />
@ آغاز میں  تو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایک تو مجھے نیٹ کے بارے میں کچھ زیادہ جانکاری نہیں تھی  اور دوسرا بلاگ کی الف ب سے بھی  واقف  نہیں تھا بس یہی سمجھ لیں کے ایک بچے کو سکول جانے میں جتنی مشکلات ہوتی ہیں  اتنی بلاگنگ کے آغاز میں ہوئی تھیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ بلاگ کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے؟</span><br />
@ پہلے  تو میں کچھ خاص اہمیت نہیں دیتا تھا  لیکن بعد میں اچانک تھوڑی تھوڑی اہمیت دینی شروع کر  دی اور پچھلے ایک سال سے تو بہت ہی اہمت دے رہا  ہوں  اب تو شاہدہ آپی اور رضی  (محمد رضوان )میں ساتھ دیتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	یہ بتائیے کہ اپنے بلاگ پر ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان آپ نے کیوں منتخب کیا؟ کیا یہ کوئی خاص پروجیکٹ ہے؟</span><br />
@ یہ سوال کم از کم میرے لیے رضوان کے لیے اور &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے &#8221; کے لیے بہت اہم ہے۔ اصل میں یہ سب رضی کی وجہ سے ہے رضی ایک مخلص دوست  اور دوسروں کے لیے دل میں درد رکھنے والا بچہ ہے (بچہ اس لیے کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے اور پیار سے بچہ کہتا ہوں) وہ اکثر مجھے اپنی خواہشات  بتاتا رہتا تھا پھر ہم دونوں نے مل کر سوچا اگر ہم دونوں کچھ کر سکتے ہیں تو پھر کچھ کر لیا جائے &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; یہ ایک تنظیم سی بنائی ہے جس میں مرکزی کردار تو میں اور رضی ہی ادا کرتے ہیں لیکن کچھ کردار پسِ پردہ ہیں جو ہمیں تحریک دیتے ہیں ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم باقیوں کی مدد کر سکیں &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; یہ ایک نا ختم ہونے والا پروجیکٹ ہے اور انشاءاللہ اس پر ہم محبت اور محنت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے جب تک اللہ نے ہمت دی اور ویسے بھی میرے والد صاحب کہتے ہیں ایسے کام ہم نہیں  کر سکتے ایسے کام اللہ تعالیٰ خود چلاتا ہے ہم تو بس اس کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ ابھی تو ہم نے &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; کے پروجیکٹ میں ایک سلسلہ  &#8220;ایک بچہ ایک بستہ&#8221; کا سلسلہ شروع کیا ہے جو ہماری سوچ سے بھی بہت زیادہ کامیاب ہو رہا ہے بہت سے احباب اور دوست مدد کر رہے ہیں اور  ہم آگے بچوں کو بستے  پہنچا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ جن جن بچوں کو ہم نے بستے  دیے ہیں ان ن کی تعلیم کی ذمہ داری ہم اٹھا لیں جو کہ ایک مشکل کام ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے۔ اس کام میں محمد رضوان بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے آپ سب سے درخواست ہے آپ ہمارے لیے دعا کریں کے ہم کامیاب ہو جائیں جلد ہی انشاءاللہ اس مقصد کے لیے الگ سے بلاگ بنا لیں گے اور پھر سارا کام اسی پر کیا کریں گے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	اکثر بلاگر اپنا خود کا بلاگ بناتے ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر آپ دو تین لوگ مل کر لکھتے ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟</span><br />
@  شاہدہ  آپی جی  کے بلاگ کے ساتھ کیا ہوا یہ تو آپ سب کو پتہ ہے وہ اپنا بلاگ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اور امید ہے انشاءاللہ ایک ہفتے تک ان کا بلاگ تیار ہو جائے گا  اس دوران وہ فارغ تھیں تو میں نے ان کو دعوت دے دی اپنے بلاگ پر جو انھوں نے خوشی سے قبول کر لیں جو کہ میرے لیے ایک فخر کی بات ہے  اور جہاں تک رضی کی بات ہے تو میرا اور رضی کا مقصد ہی ایک تھا تو پھر ہم نے الگ بلاگ بنانے کا سوچا ہی نہیں اس لیے رضی کو بھی اسی بلاگ پر لکھنے پر مجبور کیا  بڑی جان چھوڑانے کی کوشش کی اس نے لیکن میں نے کان سے پکڑ کر ذبردستی لکھنے پر مجبور کر دیا   ۔ بس یہی وجہ ہے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ بلاگرز کی تعداد زیادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر معیاری بلاگرز پر؟</span><br />
@  معیار کی طرف تو سب توجہ دیتے ہیں لیکن میں بلاگرز کی تعداد کی طرف توجہ دیتا ہوں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی معیاری چیز معیاری ہی پیدا نہیں ہوتی نا کوئی پیدائشی شاعر یا ادیب ہوتا ہے نا کوئی ڈاکٹر یا سائنسدان  جب تعداد  زیادہ ہوگی تو معیار بھی آ ہی جائے گا جب ایک دوسرے سے بہتر لکھنے کی یا بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو خود بخود معیار سامنے آ جائے گا  اب تو اللہ کے کرم سے ہمارے پاس بہت معیاری لکھنے والے ہیں اگر میں صرف معیاری لکھنے والوں کا نام لوں تو  بہت وقت لگ جائے  ۔ معیار تب بنتا ہے جب کچھ کیا جاتا ہے  اس لیے پہلے تعداد اور پھر معیار  (یہ  میری ذاتی رائے ہیں اختلاف تو ہو سکتا ہے )</p>
<p><span style="color: #0000ff;">-	آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟</span><br />
@   پہلے تو یہ سوچنا چاہے کہ اصل میں معیار ہے کیا  اب میں شاعری پسند کرتا ہوں تو میری نظر میں سب سے معیاری بلاگ  محمد وارث صاحب کا ہی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوگا کہ  باقی معیاری نہیں اس لیے پہلے معیار سمجھنا چاہے۔ میرا تو خیال ہے جس فن میں آپ ماہر ہیں جو آپ بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں جس پر آپ کو مکمل  دسترس حاصل ہے  اسی کام میں اسی فن کے مطابق اگر اپنے بلاگ کو تیار کریں گے تو میرے خیال میں وہ معیاری بلاگ ہو گا  میری طرح ہر چیز میں ٹانگ لٹکانے سے معیار قائم نہیں رہتا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نئے بلاگرز کو کس طرف توجہ دینی چاہے۔ بلاگ کی ترتیب پر یا پھر اچھی تحریروں پر؟</span><br />
@  میرے  خیال میں نئے بلاگرز کو بس بلاگ لکھنے کی طرف توجہ دینی چاہے وقت کے ساتھ ساتھ ترتیب اور تحریر میں نکھار  آ ہی جائے گا ۔  نئے بلاگر بسم للہ تو کریں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	نئے اردو بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے ایسا کیا کیا جائے، جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں؟</span><br />
@ میں نے جب بلاگ لکھنا شروع کیا تو مجھے یہ شکایت رہتی تھی کہ سینئیر بلاگر میرا بلاگ نہیں پڑھتے اور نا ہی تبصرہ کرتے ہیں ۔ اس دوران ایک بلاگر نے مجھے کہا تھا &#8220;خرم صاحب تحریر اچھی ہوگی تو تبصرہ خود بخود ہو جائے گا اس لیے آپ  یہ شکایت نا کریں کے کوئی آپ کا بلاگ نہیں پڑھتا پڑھتے سب ہیں &#8221; اس کے بعد میں نے شکایت نہیں کی تھی لیکن میں چاہتا ہوں نئے لکھنے والوں کو  ان کی غلطیوں سے اور خوبیوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان  کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ  بلاگ کی طرف توجہ دیں اس سلسہ میں میں اردو سیارہ سے بھی درخواست کروں گا کہ انھوں نے جو دو ماہ کی قید رکھی ہوئی ہے رجسٹریشن کے لیے  اس کو بھی ختم کر دیں جب نئے لکھنے والوں کا بلاگ اردو سیارہ پر ظاہر نہیں ہوتا تو نئے بلاگ کی طرف  نظر بھی بہت کم پڑتی ہے اگر جسٹریشن کا وقت ختم کر دیا جائے اور جب مرضی اپنا بلاگ رجسٹر کروا لیا جائے تو میرے خیال سے  اچھے اچھے بلاگر سامنے آ سکتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ اردو بلاگرز کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔ اور کیسے؟</span><br />
@  اردو  بلاگرز میں جس طرح معیاری لکھنے والوں کا اضافہ ہو رہا ہے اس سے تو اردو بلاگرز کا مستقبل روشن  ہی نظر آ رہا ہے اور انشاءاللہ روشن ہی ہو گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟</span><br />
@  جی ہاں مجھے بلاگنگ سے بہت فائدہ ہوا ہے میں نے بلاگنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے  اس سے مجھے پہلے تو نہیں لیکن اب &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; مہم کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے  بلاگنگ کی ذریعہ  ہم اپنی بات آپ سب تک پہنچا سکتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	اگر آپ کو اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے ؟</span><br />
@  اردو  ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ<br />
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟</span><br />
@  میں تو یونی کوڈ کو سلام کرتا ہوں جس نے اس اردو کی لاج رکھ لی ورنہ بڑے بڑے خود کو شاعر کہنے والوں نے بھی یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کر کے رومن رکھ دیا جائے۔ وہ جو مقام اردو کا تھا یا جو ہونا چاہے تھا یا جس کی وہ مستحق ہے  وہ تو نا مل سکا  لیکن انشاءاللہ امید پر دنیا قائم ہے  مل جائےگا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟</span><br />
@ جس طرح اردو بلاگرز کی تعداد اور معیار سامنے آ رہا ہے انشاءاللہ اردو بلاگنگ جلد اپنا ایک ایسا مقام بنا لے گی جس کا ذکر ہر جگہ ہوا کرے گا  دس سال تو بہت دور ہیں انشاءاللہ جلد ہی ایسا ہو گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ یا آجکل کن پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں؟</span><br />
@  بلاگ کے علاوہ  روزگار سے جان چھوٹے تو کچھ سوچیں۔ پراجیکٹس تو بہت سے چل رہے ہیں لیکن سب سے اہم &#8220;دیا جلائے رکھنا ہی ہے جس میں رضی بہت محنت کر رہا ہے  اس کے علاوہ   ایک دو چھوٹے چھوٹے کام ہے جن کا ذکرنا بھی کیا جائے تو چلے گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟</span><br />
@ پیغام تو نہیں البتہ دعا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو  ان دلوں کو ان ارادوں کو کامیاب کرے جو اردو کی خدمت کے لیے ایک ذرہ برابر بھی کوشش کر رہے ہیں آمین</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">پسندیدہ:</span><br />
1۔ کتاب ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کوئی ایک نہیں</span><br />
2۔ شعر ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کوئی ایک شعر منتخب کرنا بہت مشکل ہے   لیکن اعتبار ساجد صاحب کا ایک شعر  جس کی مجھے جلد ہی سمجھ آ گی تھی اور اس پر ہی عمل کرتا ہوں<br />
ہم اتنے شور میں سب سے مخاطب بھی نہیں ساجد<br />
جو سن سکتے ہیں بس ان کو سنائی دے رہے ہیں ہم</span><br />
3۔ رنگ ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کالا اور سفید</span><br />
4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">یوں  تو کریلوں (کریلے کڑوے ہوتے ہیں) کے علاوہ  سب کچھ کھا لیتا ہوں لیکن سرخ لوبیا اور سفید چاول بہت پسند ہیں</span><br />
5۔ موسم<br />
<span style="color: #0000ff;">دل کا موسم</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">غلط/درست:</span><br />
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی نہیں</span><br />
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">خرم ابن شبیر اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیےانٹرویو دینے کا بہت بہت شکریہ۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>27</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 11 Apr 2010 18:00:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=840</guid>
		<description><![CDATA[nاپریل 2008ء میں جب منظرنامہ کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (عمار اور ماوراء کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے انٹرویوز لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو مشترکہ موضوعات دیے جائیں گے۔ بعد [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>nاپریل 2008ء میں جب <a href="http://www.manzarnamah.com/2008/04/welcome/"  target="_blank">منظرنامہ</a> کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (<a target="_blank" href="http://www.ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://www.mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/interviews/" >انٹرویوز</a> لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو <a href="http://www.manzarnamah.com/category/point-of-views/" >مشترکہ موضوعات</a> دیے جائیں گے۔ بعد ازاں ایک اور سلسلے کا اضافہ ہوا جس کے تحت پہلے ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >منتخب بلاگز</a> پر تبصرے شائع کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ توقع سے زیادہ پسند کیا گیا لیکن ہم دونوں میزبانوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اسے قارئین کے اصرار اور ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری نہ رکھا جاسکا۔</p>
<p>تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے بھلادیا ہے۔۔۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ منظرنامہ کو بیدار رکھا جائے۔ مزید باتوں میں الجھے بغیر آئیے ماہِ مارچ 2010ء کے اردو بلاگز میں سے کچھ منتخب تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p>کیوں نہ <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> سے شروع کریں۔ یہ اُن اردو بلاگرز میں سے ہیں جو باقاعدگی سے بلاگ کرتے ہیں اور ان کی تحاریر پسند کی جاتی ہیں، اُن پر ہونے والے تبصروں کا تو پوچھئے ہی نہیں۔ جعفر کی ایک تحریر ’’میرا پسندیدہ شاعر‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ علامہ اقبال کی ہمہ جہتی شاعری کی منفرد خصوصیت اجاگر کرتے ہوئے جعفر رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے &#8220;اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو&#8221; گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے &#8220;نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر&#8221; کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے &#8220;ذرا نم ہو تویہ مٹی&#8221; کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے &#8220;بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے&#8221; کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے &#8220;سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ&#8221; گاتے رہے۔ فوج والے &#8220;شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن&#8221; کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔۔۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=828" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>محبت کا کھوتا جعفر ۔۔۔ مطلب جعفر کی لکھی تحریر ’’محبت کا کھوتا‘‘ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کے طرزِ نگارش کی خوب صورت اور پُرمزاح نقل ہے۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی، چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور آنکھوں کے گوشے انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے یوں گویا ہوا: اس محبت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سکول میں پڑھتا تھا تو ہمسایوں کی لڑکی سے محبت ہوئی۔ پر وہ کٹھور ہمیشہ بھائی جان ہی کہتی رہی۔ کالج گیا تو شاعری کا شوق ہوگیا۔ فراز سے فیض تک سب کو گھول کے پی لیا۔ لیکن محبت ہونی تھی نہ ہوئی۔ جس لڑکی کی طرف بھی محبت کی نظر ڈالی، اس نے یا تو دھتکار دیا یا پھر ’’بھائی جان‘‘  کہہ کے کاری وار کیا۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=832" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اردو بلاگستان کے منظرنامے کا ذکر ہو اور <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفرستان</a> کی ڈفریاں رہ جائیں، ایسا کیسے ممکن ہے۔ ’’ڈیل کرلیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں پردیس میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمان افروز گفتگو کا دلچسپ ذکر کرنے کے بعد فکر انگیز اختتام یوں ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں۔“</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=1044" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل</a> اردو بلاگنگ میں ایک سنجیدہ اور علمی لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخ کے موضوعات پر اکثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی ایک شخصیت ابنِ فرناس ثانی کے حوالے سے اپنی تحقیقی تحریر میں بیان کرتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>مسلم تاریخ کے روشن ابواب میں سے ایک عباس ابن فرناس بھی ہے جو اندلس کی اُن سینکڑوں نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھا جنہوں نے ’’دورِ ظلمت‘‘ (Dark Age) میں یورپ میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایسے محیر العقول کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے ان کا نام آج بھی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/ahmet-celebi/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اس کے علاوہ ہندوستان کی ایک معروف تجارتی کمپنی کی چائے کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام میں فکر و شعور بیدار کرنے کی کوشش پر بھی ایک تحریر میں ابوشامل نے اُن تمام اشتہارات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو: <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/jaago-re/" >اُٹھو نہیں، جاگو</a>!</p>
<p>کزن میرج ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں ایک خاص سوچ گھر کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" >بدتمیز</a> کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2010/03/09/ibn-e-safi-k-deewanay/" >ابنِ صفی کے دیوانے</a>‘‘ میں برسبیلِ تذکرہ ایک بات یوں آگئی کہ</p>
<blockquote><p>امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔ کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔</p></blockquote>
<p>اس پر <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/" >افتخار جمل بھوپال</a> کی دو تحاریر ’’<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%a9%d8%b2%d9%86-%d9%85%d9%8a%d8%b1%d8%ac-%db%94-marriage-between-cousins/" >کزن میرج</a>‘‘ اور ’’<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%a9%d8%b2%d9%86-%d9%85%d9%8a%d8%b1%d8%ac-%db%94-%d8%a7%d9%8a%da%a9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%81/" >کزن میرج۔ایک ڈاکٹر کا تبصرہ</a>‘‘ معلوماتی ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>گذشتہ عرصے میں امریکہ اور چند دیگر یورپی ممالک میں حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اسکریننگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے بے شمار خدشات کا اظہار کیا گیا اور یہ نظام اعتراض کا نشانہ بنا۔ سینئر بلاگرز میں سے ایک، <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/" >شعیب صفدر</a> ایڈووکیٹ نے اپنی تحریر ’’تحفظ و برہنگی‘‘ میں اس موضوع پر کچھ گفتگو کی ہے۔ روابط سے مزین ہونے کے باعث یہ تحریر خاصی معلوماتی ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں!</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2010/03/blog-post_08.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>اب اپنا رُخ کرتے ہیں شعر و سخن کی طرف۔ <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث</a> اپنے بلاگ کے ذریعے سخن شناسوں کی تشنگی بجھانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ دیگر شاعرانہ کلام کے ساتھ ساتھ ممتاز شاعر جگر مراد آبادی کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ پیش کی۔ رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>جگر مُرادآبادی کا شمار غزل کے آئمہ میں سے ہوتا ہے، فقر و فاقہ و مستی میں زندگی بسر کی اور یہی کچھ شاعری میں بھی ہے۔ کسی زمانے میں ان کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا اور ہر طرف جگر کی غزل کی دھوم تھی۔ انکے کلیات میں انکا کچھ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ انکے مجموعے ’’شعلۂ طور‘‘ سے ایک فارسی غزل کے کچھ اشعار ترجمے کے ساتھ &#8220;’’تبرک‘‘ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔</p></blockquote>
<p>(<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2010/03/blog-post_13.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p>
<p>شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر جب سے سننے میں آئی ہے، ہر محفل میں یہ موضوع ضرور زیرِ بحث آتا ہے۔ بلاگرز نے بھی اس پر دلچسپ تحاریر کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا۔ مختصراً اس پر بھی ایک نظر:<br />
جعفر: <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=847" >ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال)</a><br />
شعیب صفدر: <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2010/03/blog-post_30.html" >بڑا کھلاڑی کون؟</a><br />
عنیقہ ناز: <a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/2010/03/blog-post_31.html" >واہ شعیب ملک، آہ ثانیہ مرزا</a></p>
<p>گذشتہ کچھ عرصے میں اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ نئے آنے والے بلاگز میں سے ایک ’’<a target="_blank" href="http://asma.nawaiadab.com/" >پھپھے کٹنی</a>‘‘ کافی منفرد رہا اور اردو بلاگنگ میں پہلی بار ان موضوعات پر کھل کر لکھا گیا جن سے اب تک چند وجوہات کی بِنا پر گریز کیا جاتا رہا۔</p>
<p>فی الوقت اس مختصر جائزے کے ساتھ اجازت۔ امید ہے کہ اگلی بار کچھ تفصیل سے لکھا جاسکے گا ان شاء اللہ۔  اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/04/march10-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>33</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہفتہ بلاگستان ایوارڈز نتائج</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/03/blogweek-awards-result/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/03/blogweek-awards-result/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 11:16:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>شگفتہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[ہفتہ بلاگستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=829</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم ہفتہ بلاگستان ای بک کے بعد ہفتہ بلاگستان ایوارڈز نتائج ۔ اللہ تعالی کی مدد سے ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے سلسلہ کو شکل دینا ممکن ہو سکا ۔ اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں ووٹنگ کے نتائج دلچسپ رہے اور دو عنوانات &#8220;بچپن&#8221; اور &#8220;مزاح&#8221; پر ٹائی آ جانے کی وجہ سے ٹائی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم</p>
<p><a href="http://www.manzarnamah.com/2010/02/blog-week-ebook-released/" >ہفتہ بلاگستان ای بک</a> کے بعد ہفتہ بلاگستان ایوارڈز نتائج ۔ اللہ تعالی کی مدد سے ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے سلسلہ کو شکل دینا ممکن ہو سکا ۔ اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں ووٹنگ کے نتائج  دلچسپ رہے اور دو  عنوانات  &#8220;بچپن&#8221; اور &#8220;مزاح&#8221;  پر ٹائی آ جانے کی وجہ سے ٹائی بریک  مرحلہ کے لیے <a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/blog-week-last-stage//" >ووٹنگ</a> ہوئی ۔<br />
ہفتہ بلاگستان ایوارڈز ووٹنگ کے مراحل میں آپ سب کا تعاون حاصل رہا علاوہ ازیں ووٹنگ کے دو مراحل کی انجام دہی میں بالترتیب <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> اور <a target="_blank" href="http://www.ibnesayeed.com/" >سعود ابن سعید</a> کی محنت پس پردہ موجود ہے ، ہفتہ بلاگستان ایوارڈز گرافکس <a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/" >فہیم اسلم</a> نے ڈیزائن کیے ہیں اور ایوارڈز گرافکس کی تیاری میں سعود ابن سعید کا اہم تعاون حاصل رہا۔ ہفتہ بلاگستان ایوارڈز پہلے مرحلہ کے اور ٹائی بریک مرحلہ کے نتائج بالترتیب اس طرح رہے .</p>
<p>پہلا مرحلہ :<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/11/hafta-blogistan.png" >پہلے مرحلہ میں رزلٹ اسکرین شاٹ</a></p>
<p>اردو بلاگنگ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=917" >ڈفر اعظم کے بائیس نکات</a> ( ۴ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPBtx-eBI/AAAAAAAAAJ4/sNQ2LEzb-DY/blogging_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-810" title="blogging_week_2009" src="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPBtx-eBI/AAAAAAAAAJ4/sNQ2LEzb-DY/blogging_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>باورچی خانہ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=527" >یوم باورچی خانہ </a> ( ۵ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPCP954jI/AAAAAAAAAKE/YhZfJIGwags/kitchen_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-813" title="kitchen_week_2009" src="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPCP954jI/AAAAAAAAAKE/YhZfJIGwags/kitchen_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>بچپن : (کل ووٹ : ۲۳)<br />
ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=604" >ایک دلدوز واقعہ از جعفر</a> ( ۳ ووٹ)<br />
ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/08/blog-post_16.html" >بچپن ہی پچپن از عمر احمد بنگش</a> ( ۳ ووٹ)</p>
<p>تعلیم : (کل ووٹ : ۲۳) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=574" >تعلیمی نظام اور شگفتہ</a> ( ۵ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPB6JiAKI/AAAAAAAAAKA/OUTZ2wAqKYQ/education_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-812" title="education_week_2009" src="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPB6JiAKI/AAAAAAAAAKA/OUTZ2wAqKYQ/education_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>ٹیگ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=638" >ٹیگو ٹیگ از جعفر</a> ( ۵ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPQ3zqQzI/AAAAAAAAAKQ/qcn0Ivi576Q/tag_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-816" title="tag_week_2009" src="http://lh4.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPQ3zqQzI/AAAAAAAAAKQ/qcn0Ivi576Q/tag_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>ٹیکنالوجی : (کل ووٹ : ۲۰) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=442" >سائبر احتیاط از راشد کامران</a> ( ۱۰ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPRDeawuI/AAAAAAAAAKU/iaHnc6tqnzI/technology_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-817" title="technology_week_2009" src="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPRDeawuI/AAAAAAAAAKU/iaHnc6tqnzI/technology_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>فوٹو گرافی : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/2009/08/28/photography/" >فوٹو گرافی از ماوراء</a> ( ۵ ووٹ)<br />
<a target="_blank" href="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPQ7f_fAI/AAAAAAAAAKM/Wmg1eNVdJTY/photography_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-815" title="photography_week_2009" src="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPQ7f_fAI/AAAAAAAAAKM/Wmg1eNVdJTY/photography_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>مزاح : (کل ووٹ : ۲۳)<br />
ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/?p=624" >کھلا خط بنام سہراب مرزا از جعفر</a> ( ۴ ووٹ)</p>
<p>ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=557" >انا للہ و انا الیہ راجعون</a> از سیدہ شگفتہ ( ۴ ووٹ)</p>
<p>ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=419" >اچانک بوڑھا</a> از راشد کامران ( ۴ ووٹ)</p>
<p>ٹائی تحریر : <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=383" >لیلی کی ٹویٹ اور مجنوں کا بلاگ</a> از راشد کامران ( ۴ ووٹ)</p>
<p>ٹائی بریک مرحلہ :</p>
<p>ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے ٹائی بریک مرحلہ کے لیے ریٹنگ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا  اس مرحلہ میں کل انتیس افراد نے ووٹ کاسٹ کیے اور نتائج درج ذیل رہے ۔<br />
<a target="_blank" href="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPRL_47uI/AAAAAAAAAKY/LiknaPwofys/voting_summery.png" ><img class="aligncenter size-medium wp-image-833" title="voting_summery" src="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPRL_47uI/AAAAAAAAAKY/LiknaPwofys/voting_summery.png" alt="" width="233" height="300" /></a></p>
<p>نتائج</p>
<p>بچپن :<br />
منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/08/blog-post_16.html" >بچپن ہی پچپن از عمر احمد بنگش</a> ( ۹۵ ستارے)<br />
<a target="_blank" href="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPB9gpiBI/AAAAAAAAAJ8/QyeEmFiSlAI/childhood_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-811" title="childhood_week_2009" src="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPB9gpiBI/AAAAAAAAAJ8/QyeEmFiSlAI/childhood_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>مزاح :<br />
منتخب تحریر : <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=557" >انا للہ و انا الیہ راجعون</a> از سیدہ شگفتہ ( ۹۲ ستارے)<br />
<a target="_blank" href="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPCCtcFWI/AAAAAAAAAKI/vSrtBn03LTM/laughter_week_2009.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-814" title="laughter_week_2009" src="http://lh3.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/S7YPCCtcFWI/AAAAAAAAAKI/vSrtBn03LTM/laughter_week_2009.jpg" alt="" width="250" height="279" /></a></p>
<p>ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے سلسلہ کا یہ آغاز تھا ، اس سلسلے میں آپ سب کا تعاون حاصل ہوا اس کے لیے آپ سب کا بہت شکریہ امید ہے کہ آئندہ اس سلسلہ کو بہتر بنانے میں آپ سب کا تعاون حاصل رہے گا. منظرنامہ ٹیم کی جانب سے آپ تمام ایوارڈز یافتگان کو آپ کی تحاریر منتخب کیے جانے پر بہت بہت مبارک ہو۔</p>
<p><span style="color: #ff6600;">اپڈیٹ: تمام ایوارڈز گرافکس دوسرے سرور پر اپلوڈ کردی گئی ہیں۔ ایوارڈ یافتگان یہ گرافکس اپنے بلاگ پر ظاہر کرسکتے ہیں۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/03/blogweek-awards-result/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہفتہ بلاگستان ای بک : اجراء</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/02/blog-week-ebook-released/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/02/blog-week-ebook-released/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Feb 2010 02:20:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>شگفتہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[اعلانات/ متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ہفتہ بلاگستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=818</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم &#8220;خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اچھا لگتا ہے جب اس خواب کو تعبیر کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ تعبیر حاصل ہو جائے ، ہفتہ بلاگستان بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس کی تعبیر اس وقت اس ای بک کی صورت ہمارے سامنے ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم</p>
<p>&#8220;خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اچھا لگتا ہے جب اس خواب کو تعبیر کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ تعبیر حاصل ہو جائے ، ہفتہ بلاگستان بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس کی تعبیر اس وقت اس ای بک کی صورت ہمارے سامنے ہے ۔ مجھے یہ ای بک پیش کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے ، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ہفتہ بلاگستان کے کامیاب انعقاد میں تمام اہم بلاگرز کے حصہ لیا اور بہت سے نام اس کامیابی میں شامل رہے ۔ ہفتہ بلاگستان کی تجویز پیش کرنے کے بعد ہفتہ بلاگستان کے انعقاد کےحوالے سے آرا و گفتگو سے لے کر اس ای بک کی تیاری اور پیش کرنے کے مرحلہ تک بہت سے ناموں کی رہنمائی اور مدد شامل رہی ، میں آپ سب کا فردا فردا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ &#8221;</p>
<p>==============================<br />
.</p>
<p>السلام علیکم</p>
<p>اچھا جناب بالآخر اپنی ذمہ داری سے سرخرو ہونے کا لمحہ آن پہنچا ہے اور آج ہفتہ بلاگستان کی ای بک کا اجرا ہو رہا ہے ۔  درج بالا اقتباس اس &#8220;دیباچہ&#8221; سے لیا گیا ہے جو ای بک میں شامل ہے ۔ ای بک میں ان تمام تحاریر کو شامل کیا گیا ہے جو &#8220;ہفتہ بلاگستان&#8221; میں پیش کی گئیں ۔ ان تمام تحاریر کو اب آپ  یکجا مطالعہ کر سکیں گے ۔ علاوہ ازیں  ای بک میں کچھ نیا بھی پڑھنے کو ملے گا :</p>
<p>مقدمہ از زیک<br />
دیباچہ  از سیدہ شگفتہ<br />
ایک تاثراتی تحریر &#8220;جملہ معترضہ&#8221;  از نایاب<br />
ای بک سرورق :  ریحان علی<br />
ای بک تشکیل : نایاب<br />
ہفتہ بلاگستان ای بک خطاطی : عمار ابن ضیا کے والد محترم<br />
واٹر مارک  : حمزہ ، نایاب<br />
گراف (ہفتہ بلاگستان میں بلاگرز کی شرکت) : نایاب<br />
جدول (ہفتہ بلاگستان میں بلاگرز کی شرکت) : نایاب</p>
<p>ہفتہ بلاگستان ای بک کی تیاری میں کئی ماہ کی مسلسل محنت ، رات رات بھر جاگنا ، کئی کئی گھنٹوں پر محیط  طویل ڈسکشنز ، متعدد ڈرافٹس اور فائنل ڈرافٹ کا انتظار  پسِ پردہ شامل ہیں ۔ اس تمام سلسلہ میں علمی و اخلاقی لحاظ سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو موقع ملا ۔  ای بک تشکیل میں بہت سے ناموں کو متعدد و مختلف مواقع پر زحمت دینے کی ضرورت پیش آئی ۔ آپ سب کا مثبت ریسپانس تمام عرصہ میں ہمت و حوصلہ  قائم رکھنے کا سبب بنا ۔ ہفتہ بلاگستان انعقاد اور ای بک تشکیل محض ایک ایونٹ ہی نہیں بلکہ ایک آغاز ہے ، اس آغاز کا پس منظر مختصر طور پر ای بک میں بھی ذکر کیا گیا ہے تاہم نکات کا احاطہ نہیں کیا گیا تاکہ آغاز کے بعد یہ سفر آگے کی جانب طے کیا جا سکے ۔  ہفتہ بلاگستان ای بک اجرا کے بعد ۔ ہفتہ بلاگستان ایوارڈز اجرا کا مرحلہ ہونا ہے اس حوالے سے جن محترم ناموں کی مدد اور رہنمائی حاصل رہی ان کا ذکر ایوارڈ اجرا کے موقع پر ۔  ایوارڈز اجرا کے بعد ایک سرپرائز مرحلہ بھی ہے اس مرحلہ کی تفصیل بعد میں ذکر کرنا ہے سرپرائز مرحلہ میں بھی کچھ محترم ناموں کی مدد اور رہنمائی حاصل رہے گی وہ نام کون سے ہوں گے ان کا ذکر بھی ابھی سرپرائز رہنے دیتے ہیں اور اس سے پہلے ایک نظر&#8221;ہفتہ بلاگستان ای بک&#8221;  دیکھتے ہیں ۔ </p>
<p>ای بک کی تشکیل کی ذمہ داری بنیادی طور پر جن دو ناموں نے اٹھائی دونوں ہی اس میدان سے  متعلق نہیں ہیں لہذا ای بک میں اغلاط خارج از امکان نہیں ہیں ۔ ای بک کے حوالے سے آپ سب اپنی آرا و نظر پیش کر سکتے ہیں ، خوش آمدید ۔</p>
<p>اللہ تعالی کا احسان ہے کہ اس ذمہ داری کو انجام دینا ممکن ہو سکا .<br />
آپ سب کا شکریہ  </p>
<p><a target="_blank" href="http://scans.urdulibrary.org/Shagufta/Hafta-e-Blogistan_ebook/Hafta-e-Blogistan-2009-ftp.pdf" >ای بک اس ربط سے ڈاؤنلوڈ کیجیے</a> ۔<br />
فائل سائز : KB 5882 </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/02/blog-week-ebook-released/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>34</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہفتہ بلاگستان ایوارڈز : آخری مرحلہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/01/blog-week-last-stage/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/01/blog-week-last-stage/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 24 Jan 2010 20:18:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>شگفتہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[اعلانات/ متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[ہفتہ بلاگستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=806</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم اچھا جناب اللہ تعالی کا شکر ہے کہ انتظار ختم ہوا اور ہفتہ بلاگستان ای بک کا فائنل ڈرافٹ تیار ہو چکا ہے ۔ منظرنامہ ایوارڈز یافتگان کو ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور ہفتہ بلاگستان ای بک کے اجرا کے موقع پر &#8220;ہفتہ بلاگستان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم</p>
<p>اچھا جناب اللہ تعالی کا شکر ہے کہ انتظار ختم ہوا اور ہفتہ بلاگستان ای بک کا فائنل ڈرافٹ تیار ہو چکا ہے ۔ <a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/" >منظرنامہ ایوارڈز یافتگان</a> کو ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور ہفتہ بلاگستان ای بک کے اجرا کے موقع پر &#8220;ہفتہ بلاگستان ایوارڈز&#8221; کا مرحلہ بھی اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ </p>
<p>&#8220;ہفتہ بلاگستان ایوارڈز&#8221;  کی <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/11/hafta-blogistan-award-nominations/" >ووٹنگ</a> کا اہم مرحلہ طے کیا جا چکا ہے  تاہم اس مرحلہ میں <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/11/hafta-blogistan-nominations/" >نتائج </a>کے مطابق دو کٹیگریز میں ووٹنگ ٹائی پر آ کر رکی تھی اور اب وقت ہے کہ اس ٹائی کا فیصلہ کر لیا جائے ۔ اس سلسلے میں ایک ٹائی بریکر فارم تشکیل دیا گیا ہے ۔ اس فارم میں دو کٹیگریز شامل ہیں۔ پہلی کٹیگری بعنوان &#8220;یوم بچپن&#8221; میں دو بلاگرز کی تحاریر پر ٹائی ہے جبکہ دوسری کٹیگری بعنوان &#8220;یوم مزاح&#8221;  میں  بلاگرز کی چار تحاریر پر ٹائی ہے ۔ آپ سب کو اس سلسلے میں دعوت ہے کہ آپ اپنے ووٹ سے ان دونوں کٹیگریز میں جداگانہ طور پر تمام تحاریر میں سے کسی ایک تحریر کو منتخب ہونے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ یہ ووٹ فارم  ریٹنگ طریقہ کار پر مشتمل ہے اور آپ سب کسی بھی کٹیگری میں موجود تمام تحاریر کو ریٹ کر سکتے ہیں ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آپ کو رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایمیل لکھنا ضروری ہے ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کی آخری تاریخ ماہ جنوری ۲۰۱۰ کے آخر تک ہے ۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://spreadsheets.google.com/viewform?hl=en&amp;formkey=dGxiSGJJNU9xQmRBbU15Q0Z1VHpRbUE6MA" >اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اس ربط پر کلک کیجیے ۔ </a></p>
<p>آپ سب کا شکریہ </p>
<p>اپڈیٹ :</p>
<p>ووٹ کے دورانیہ کو بڑھا دیا گیا ہے .</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/01/blog-week-last-stage/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>منظرنامہ ایوارڈ 2009: نتائج اور اجراء</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Jan 2010 08:14:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ایوارڈز 2009 اجراء]]></category>
		<category><![CDATA[ایوارڈز 2009 نتائج]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ ایوارڈز 2009]]></category>
		<category><![CDATA[نتائج]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=750</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ کے قارئین کو سلام اللہ کے فضل و کرم سے منظرنامہ ایوارڈز 2009کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس سلسلے کو ایوارڈز کے چناؤ سے لے کر نامزدگیوں اور پھر ووٹنگ تک کے مراحل سے گزارا گیا۔ تین ایوارڈز کا فیصلہ آپ سب کی مشاورت کے بعد کیا گیا اور پھر آپ سب کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظرنامہ کے قارئین کو سلام<br />
اللہ کے فضل و کرم سے منظرنامہ ایوارڈز 2009کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس سلسلے کو <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/" >ایوارڈز کے چناؤ</a> سے لے کر <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/11/awards-nominations2/" >نامزدگیوں</a> اور پھر <a href="http://www.manzarnamah.com/2009/12/awards-voter-list-voting/" >ووٹنگ</a> تک کے مراحل سے گزارا گیا۔ تین ایوارڈز کا فیصلہ آپ سب کی مشاورت کے بعد کیا گیا اور پھر آپ سب کے تعاون سے ہی نامزدگیوں کا مرحلہ بھی بہت اچھے طریقے سے اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ اس کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ آپ سب کے تعاون سے شروع ہوا تھا اور اب بخیروعافیت اپنے انجام تک پہنچا گیا ہے۔ منظرنامہ کو آپ سب کے تعاون کے علاوہ ایوارڈز گرافکس کی تیاری کے لئے <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابو شامل صاحب</a> اور خاور بلال صاحب کا تعاون حاصل رہا اس کے علاوہ ووٹنگ کے لئے <a target="_blank" href="http://www.urdulog.com/" >اردو لاگ</a> اور اردو لاگ کے ایڈمن <a target="_blank" href="http://www.ibnesayeed.com/" >ابن سعید صاحب</a> کا تعاون رہا۔<br />
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اس بار ووٹنگ کے لئے ریٹنگ کا طریقہ رکھا گیا تھا اس لئے جس نے سب سے زیادہ ستارے حاصل کئے ہیں وہی ایوارڈ کا حق دار ہے۔</p>
<p><strong><span style="color: #ff0000;">منظرنامہ ایوارڈ 2009 کے نتائج کچھ یوں رہے</span></strong></p>
<p>ٹوٹل 71 لوگ اردو لاگ پر رجسٹرڈ ہوئے. لیکن 60لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">بہترین بلاگ کے لئے</span></strong><br />
<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a> کو 195 ستارے، <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابو شامل</a> کو 178 ستارے اور <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> کو 164 ستارے ملے۔<br />
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا <span style="color: #ff0000;"> <strong>&#8220;بہترین بلاگ&#8221; ایوارڈ ڈفر کو جاتا ہے</strong></span>۔۔۔</p>
<p><center><a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-blog.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-747" title="ManzarNamah Awards 2009 (Best Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-blog.jpg" alt="" width="150" height="216" /></a></center><br />
ڈفر صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔<br />
<code>&lt;a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"&gt;&lt;img title="ManzarNamah Awards 2009 (Best Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-blog.jpg" alt="" /&gt;&lt;/a&gt;</code><br />
<br />
<strong><span style="color: #0000ff;">فعال ترین بلاگ کے لئے</span></strong><br />
<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/" >افتخار اجمل</a> کو 165 ستارے، <a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/" >عنیقہ ناز</a> کو 112 ستارے اور <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> کو 157 ستارے ملے۔<br />
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا <span style="color: #ff0000;"> <strong>&#8220;فعال ترین بلاگ&#8221; ایوارڈ افتخار اجمل کو جاتا ہے</strong></span>۔۔۔</p>
<p><center><a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-active-blog.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-748" title="ManzarNamah Awards 2009 (Active Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-active-blog.jpg" alt="" width="150" height="216" /></a></center><br />
افتخار اجمل صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔<br />
<code>&lt;a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"&gt;&lt;img title="ManzarNamah Awards 2009 (Active Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-active-blog.jpg" alt="" /&gt;&lt;/a&gt;</code><br />
<br />
<strong><span style="color: #0000ff;">2009 کا بہترین نیا بلاگ کے لئے</span></strong><br />
<a target="_blank" href="http://letsbuildpakistan.org/blog/" >خرم بشیر بھٹی</a> کو 125 ستارے، <a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر </a>کو 182 ستارے اور <a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/" >عنیقہ ناز</a> کو 142 ستارے ملے۔<br />
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا  <span style="color: #ff0000;">&#8220;<strong>بہترین نیا بلاگ&#8221; ایوارڈ جعفر کو جاتا ہے</strong></span>۔۔۔</p>
<p><center><a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-new-blog.jpg" ><img class="aligncenter size-full wp-image-749" title="ManzarNamah Awards 2009 (Best New Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-new-blog.jpg" alt="" width="150" height="216" /></a></center><br />
جعفر صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔<br />
<code>&lt;a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"&gt;&lt;img title="ManzarNamah Awards 2009 (Best New Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-new-blog.jpg" alt="" /&gt;&lt;/a&gt;</code><br />
<br />
منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے منظرنامہ ٹیم آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔<br />
<strong><span style="color: #ff0000;"> تمام ایوارڈز حاصل کرنے والوں کو منظرنامہ ٹیم کی طرف سے بہت بہت مبارک ہو۔</span></strong><br />
ہم یعنی منظرنامہ کی پوری ٹیم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی  منظرنامہ کو آپ سب کا تعاون یونہی حاصل رہے گا اور آپ سب اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے کوشاں رہیں گے۔<br />
شکریہ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>44</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سال 2010</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/01/%d8%b3%d8%a7%d9%84-2010/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/01/%d8%b3%d8%a7%d9%84-2010/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 01 Jan 2010 05:22:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>شگفتہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=744</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم آج سے نئے عیسوی سال کا آغآز ہو رہا ہے ، تمام منظرنامہ ٹیم کی جانب سے ہم سب نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ نئے سال میں ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس قوت ، ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کر سکیں گے جس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>
السلام علیکم</p>
<p>آج سے نئے عیسوی سال کا آغآز ہو رہا ہے ، تمام منظرنامہ ٹیم کی جانب سے ہم سب نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ نئے سال میں ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس قوت ، ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کر سکیں گے جس کی ہمیں کما حقہ ضرورت ہے اورنہ صرف عمومی زندگی میں بلکہ انٹرنیٹ دنیا میں بھی رواداری و ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ علمی و تحقیقی سطح پر کچھ نئے افق تلاش کر سکیں گے ۔  آئیے ہم سب مل کر نئے سال کو خوش آمدید کہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/01/%d8%b3%d8%a7%d9%84-2010/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

