<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/tag/%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%a7%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88%d8%8c-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d9%86%da%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Jul 2010 09:12:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>مارچ 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 Apr 2009 16:30:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[مارچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=343</guid>
		<description><![CDATA[معاشرہ و سیاست: فیصل اپنی  ایک تحریر “آئی ایم ناٹ شیور” کے آغاز میں اپنے ایک پروفیسر کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ہر بات کا آغاز “آئی ایم ناٹ شیور” سے کرتے تھے۔ اور اسی تحریر میں آپ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h1>معاشرہ و سیاست:</h1>
<p><a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/" >فیصل</a> اپنی  ایک تحریر “<a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/03/28/%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D9%86%D8%A7%D9%B9-%D8%B4%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >آئی ایم ناٹ شیور</a>” کے آغاز میں اپنے ایک پروفیسر کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ہر بات کا آغاز “آئی ایم ناٹ شیور” سے کرتے تھے۔ اور اسی تحریر میں آپ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ہر بات کا علم ہے۔ آپ کچھ اس طرح لکھتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔قصہ کچھ یوں کہ ہم طلبا کے ہر سوال کے جواب کا آغاز وہ “آئی ایم ناٹ شیور بٹ آئی تھنک۔۔۔” سے کرتے تھے، یعنی مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال کچھ یوں ہے۔ جواب دینے کے بعد یا اس سے پہلے وہ کلاس کے باقی طلبا سے بھی انکی رائے طلب کرتے تھے اور ہم اپنی کم علمی کے باوجود پھول پھول کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال پہلے پہل تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ عجیب استاد ہے، کسی بات کا مکمل علم ہی نہیں رکھتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا، مجھے اس بات کی گہرائی کا احساس ہوا۔ اوروں کا تو نہیں پتہ، اپنی بات کرتا ہوں۔ یقین کیجئے مجھے تو یہ کہنا کہ مجھے کسی بات کا علم نہیں یا مکمل علم نہیں، بہت ہی مشکل ہے۔ انا آڑے آ جاتی ہے، اندر کھڑے بت لرزنے لگتے ہیں، پسینہ آ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتی ہے اور پھر میں بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کر دیتا ہوں کہ نو، آئی ایم شیور، مجھے یقین ہے کہ میرا علم کامل ہے، درست ہے۔۔۔م<a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/03/28/%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D9%86%D8%A7%D9%B9-%D8%B4%DB%8C%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >زید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<h1>طنزومزاح:</h1>
<p><span style="font-size: medium;">اردو شاعری پر ایک مزاح کے طور پر لکھی ہوئی </span><a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" ><span style="font-size: medium;">راشد کامران</span></a><span style="font-size: medium;"> کی تحریر “</span><a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=218" ><span style="font-size: medium;">خونی غزل</span></a><span style="font-size: medium;">” ایک بہترین تحریر ہے۔ راشد نے نہایت ہی  بہترین انداز میں اس تحریر کو لکھا ہے۔۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔اہل زبان ہونا بھی بڑا بوجھ ہے چاہے اپنی زبان بولیں یا نہ بولیں اس کی بے توقیری برداشت کرنا اپنے بس سے باہر ہے۔ راستے بھر حلوائی شاعر کے مجوزہ دیوان کے بارے میں سوچ سوچ کر جان ہلکان کرتے رہے پھر طرح طرح کے منصوبے بناتے رہے کہ کس طرح اپنی زبان کو اس میٹھی شاعری سے محفوظ رکھا جائے۔ اردو شاعری کا ہاضمہ پہلے ہی درست نہیں‌اس پر اسطرح کی آزادانہ اور شیریں نظموں سے شوگر لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ زبان سے محبت رکھنے والے زندگی بھر شاعری کو انسولین لگاتے نہیں دیکھ سکتے۔ اور خدانخواستہ کلو قصائی کے جاری عشق کی ناکامی کا خمیازہ بھی اردو شاعری کو بگھتنا پڑ گیا تو قلب و نظر کی شاعری کہیں چانپوں اور کلیجیوں کی نظر نہ ہو جائے۔ ویسے بھی قصائی چھیچھڑے ڈال کر وزن پورا کرتے ہیں اسطرح غزل تو ہوجائے گی لیکن بڑی خونی قسم کی ہوگی۔</span></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;"> </span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" ><span style="font-size: medium;">سارہ پاکستان</span></a><span style="font-size: medium;"> اردو بلاگنگ میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔ آپ اپنی  تحاریر میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ سنجیدہ معاملات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپ کی تحریر “</span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" ><span style="font-size: medium;">قصہ کچھ ہماری  فطرت ثانیہ کا۔۔۔</span></a><span style="font-size: medium;">” میں بھی کچھ مزاح اور کچھ سنجیدہ حالات کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔طبقاتی فرق پر مشتمل ہمارا یہ معاشرہ بھی عجیب ہی ہے پہلے تو اچھے ڈاکٹر کو افورڈ کرنا ہی آپ کی مالی حیثیت کا آئنہ دار تھا پھر جب سے تعلیم کے شعبےپر بھی کر پشن کے شیداءیوں کی نظر عنایت بڑھی تو اب تو حال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا بھی آپ کے اسٹیٹس کو ظاہر کرتا ہے ۔ابھی تک تو ذہن انہی باتوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںتھا کہ کس طرح لوگ دھڑلےسے نقل کرتے سفارش کرواتے ،پیپرز میں نمبر لگواتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اب تویہ سب باتیں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ اب انہیں چھپانے یا ان پر شرمندہ ہونے کی بجائے بڑے فخر سے دوستوں کی محفل میں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔اور سننے والے سب بڑے رشک سے اس شخص کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس کی کرپشن کی داستان جتنی شرمناک ہوگی وہ اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے ۔م</span><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" ><span style="font-size: medium;">زید پڑھیں۔۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;">ہمارے شاعر بلاگر </span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" ><span style="font-size: medium;">محمد وارث</span></a><span style="font-size: medium;"> کے بلاگ پر آپ کو شاعری سے متعلقہ تحاریر پڑھنے کو ملتی ہی رہتی ہوں گی۔ شاعری سے ہی متعلقہ ایک مزاح سے بھر پور تحریر “</span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post_27.html" ><span style="font-size: medium;">سبکسارانِ ساحل</span></a><span style="font-size: medium;">” میں آپ لکھتے ہیں کہ …</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔یقیناً &#8220;ہارٹ اٹیک&#8221; کی کیفیات کو فیض نے اسی نام کی نظم میں بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے لیکن کیا کیجے ان حضرات کا جنہیں بیدل جونپوری کے الفاظ میں اکثر کچھ ایسا درد اٹھتا ہے۔<br />
ہیں یہاں دوشیزگانِ قوم بیدل با ادب<br />
اس جگہ موزوں نہیں ہے فاعلاتن فاعلات<br />
گرلز کالج میں غزل کا وزن ہونا چاہیے<br />
طالباتن طالباتن طالباتن طالبات<br />
لیکن دوشیزگان کے حق میں سب سے محلق وہ درد تھا جو &#8216;مَنّے موچی&#8217; کے پیٹ میں اس وقت اٹھا جب اسکا بیٹا امریکہ سے ڈالر بھیجنے لگ گیا اور اس نے گاؤں کے چوہدری سے اسکی باکرہ بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلیے مانگ لیا، گویا دوشیزہ نہ ہوئی اردو شاعری ہو گئی۔ </span><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post_27.html" ><span style="font-size: medium;">مزید پڑھیں۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><span style="font-size: medium;"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد</a> اپنی ایک تحریر”<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/03/blog-post_10.html" >بھوکا</a>” میں مشہور ہونے کی خواہش رکھنے والوں پر کچھ اس طرح سے طنز کر رہے ہیں۔۔۔</span></p>
<blockquote><p><span style="font-size: medium;">۔۔۔</span>تو خوب سوچا! سر پیٹا، سوچتے اور سو جاتے، پیٹ بھر کر کھانے کو مل جاتا تو ہر نوالے کے ساتھ مشہور ہونے کی (ایک سو ایک) ۱۰۱ ترکیبیں بھی حلق پار کر جاتیں، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جنگل کی جانب نکل کھڑے ہوئے، جائے مخصوصہ جہاں اکثر بیٹھ کر سوچ وچار کیا کرتے، وہاں بیٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔<br />
سوچا خودکشی کر لیں، جیو پر پٹی بھی چل جائے گی اور یہاں کی مقامی اخباروں میں چند روز چٹ پٹی خبر بھی، جان بھی چھوٹے گی اور مشہوری الگ!<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/03/blog-post_10.html" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<h1><span style="font-size: x-large;">معلوماتی تحاریر:</span></h1>
<p>اجمل صاحب نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک معلوماتی تحریر پوسٹ کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور چند حقائق کو سامنے لایا ہیں۔ آپ کے مشاہدے کے مطابق ہم وطنوں کے علم میں نہیں کہ دراصل 23 مارچ کو کیا ہوا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p><span style="font-size: small;">آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا “ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ اسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلافات اتنے بشدید اور تلخ ہیں کہ ان دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ انہوں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں۔ </span><a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%DB%8C%D9%88%D9%85%D9%90-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DB%94-%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%9F/" ><span style="font-size: small;">مزید پڑھیں۔۔۔</span></a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> نے <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=464" >روزویل کا واقعہ</a> سے متعلق ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس کا آغاز آپ کچھ اس طرح کرتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>آخر کار دوسری عالمی جنگ اپنے انجام کو پہنچی اور اپنے پیچھے ایسی تباہ کاریاں چھوڑ گئی جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، خاص طور سے جب کہ ایٹم بم سے دو جاپانی شہر “ہیروشیما” اور “ناگاساکی” پوری طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور دنیا دہل کر رہ گئی..</p>
<p>اور پھر دنیا نے ایک نئے دور کا آغاز کیا..<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=464" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> کی ہی ایک اور تحریر “<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=451" >زمان ومکان میں سفر</a>” جو کہ نہایت ہی معلوماتی تحریر ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>بڑی ہی عجیب اصطلاح ہے یہ..</p>
<p>زمان ومکان..</p>
<p>شاید یہ سطور لکھنے تک بھی ہماری حواسِ خمسہ کبھی اس اصطلاح کی عادی نہ ہوسکی حالانکہ یہ ایک خالصتاً علمی اصطلاح ہے جو 1905ء سے مستعمل ہے..</p>
<p>یقیناً تاریخ پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور نا ہی یہاں طباعت کی غلطیوں کا کوئی امکان ہے، یہ اصطلاح واقعی ایک صدی سے زائد عرصہ سے مستعمل ہے..</p>
<p>اُس سال مشہورِ زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک نیا علمی نظریہ پیش کیا جسے طبیعات اور ریاضی میں انقلابی حیثیت حاصل ہوئی اور جسے “خصوصی نظریہ اضافیت” کا نام دیا گیا.. <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=451" >مزید پڑھیں۔۔</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب</a> نے طالب علموں سے متعلقہ تحریر “<a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2009/03/03/%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%88%d9%82%d8%aa/" >مطالعہ کرنے کے لئے بہترین وقت</a>” لکھی، جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>امریکہ کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ علی الصباح بیدار ہو کر مطالعہ کرنے والے کالج یا یونیورسٹی کے طلبا رات گئے پڑھنے والے طلبا کی نسبت امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔</p></blockquote>
<p>اسی سے متعلقہ تحریر” <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DA%A9%D8%A8-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1/" >پڑھنا کب بہتر</a>” <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/" >اجمل صاحب</a> نے اپنے تجزیے کے مطابق بھی لکھی۔۔جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔امریکی ماہرین نفسیات نے درست کہا ہے لیکن شاید ایک صدی یا زیادہ تاخیر سے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے کئی اساتذہ نے یہ ہدائت ہمیں سکول کے زمانہ میں کی تھی کہ رات کو عشاء کے بعد سو جایا کریں اور صبح سویرے اُٹھ کر تھوڑی سی سیر کریں اور پھر نہا کر پڑھا کریں ۔ دوپہر کے بعد آدھ گھنٹہ آرام کریں پھر بیٹھ کر پڑھیں ۔ میرے اساتذہ کے مطابق رات آرام کرنے کے بعد صبح آدمی تازہ دم ہوتا ہے ۔ دوسرے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دن رات کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ صبح سویرے تازہ ہوا ہوتی ہے جو دماغ کو تازگی بخشتی ہے ۔ اسلئے جو سبق یاد کرنے میں رات کو تین گھنٹے لگتے ہیں وہ صبح ایک گھنٹہ میں یاد ہو جاتا ہے ۔ <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DA%A9%D8%A8-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1/" >مزید پڑھیں</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/" >شگفتہ</a> نے “<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=173" >اردو  کہیں کسے۔۔۔!!”</a> ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں نے انہوں نے اردو میں فارسی، عربی اور انگریزی  کے الفاظ شامل کر کے مکمل اردو کا پیراگراف بنایا ہے۔ جس میں آپ نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p><span style="font-size: small;">۔۔۔اردو کا اپنا ایک رنگ ہے باوجود اس کے کہ اس میں تمام ہی ابتدائی رنگ دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں ۔ اردو کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی وسعت بہت زیادہ ہے یہ ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور یہ مختلف رنگ اردو میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی زرخیزی اس زبان کے قد و قامت اور اس کے ادبی معیار کا پیمانہ بنتی ہے اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں اس کی قیادت کو ثابت کرسکتی ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ اہل زبان اسے کس طرح برتتے ہیں ، ان کی تنقیدی سوچ کی پرواز کتنی بلند ہے اور وہ ایک نظر میں بیک وقت کتنے رنگوں کی پہچان و احاطہ کر سکتے ہیں تاکہ اس زرخیزی سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ پہچان و احاطہ کو رسمی اصطلاح میں تنقید کہیں گے۔ تنقید ضروری عنصر ہے تعمیر کے لیے لیکن اگر نامکمل ہو تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے ۔ ۔ ۔ ؟ ؟۔۔۔</span></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد  وارث</a> کی تحریر “<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/03/blog-post.html" >حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ &#8211; جاوید نامہ از اقبال سے اشعار</a>” بھی ایک معلوماتی تحریرہے۔</p>
<h1>اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</h1>
<p><a target="_blank" href="http://derwesh.com/webserver-on-a-stick/" ><span style="font-size: medium;">یو ایس بی میں لوکل ویب سرور اور ورڈ پریس کی انسٹالیشن</span></a><span style="font-size: medium;"> کے بارے میں </span><a target="_blank" href="http://derwesh.com/" ><span style="font-size: medium;">درویش</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر نہایت ہی معلوماتی تحریر پوسٹ کی۔</span></p>
<h1>نیوز اپڈیٹس:</h1>
<ul>
<li><a target="_blank" href="http://noumanali.com/" ><span style="font-size: medium;">نعمان علی</span></a><span style="font-size: medium;"> نے منظر نامہ پر “</span><a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" ><span style="font-size: medium;">مہم برائے ایک بلاگر، ایک کتاب</span></a><span style="font-size: medium;">” میں حصہ لیتے ہوئے اپنی شاعری کی کتاب“</span><a target="_blank" href="http://noumanali.com/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1/2009/03/25/my-urdu-poetry-book.html" ><span style="font-size: medium;">دستک</span></a><span style="font-size: medium;">” کو پیش کیا۔</span></li>
<li><span style="font-size: medium;"><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> نے بھی &#8220;<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=461" >ہم اضافیت اور کائنات</a>&#8221; کو برقیا اور مہم ایک بلاگر ایک کتاب کے لیے پیش کیا۔<br />
</span></li>
<li><span style="font-size: medium;">مارچ میں کراچی بلاگرز کی ایک ملاقات ہوئی۔ جس کا احوال </span><a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/" ><span style="font-size: medium;">فہیم</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر </span><a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/03/24/karachiblogersmeetup/" ><span style="font-size: medium;">اس پوسٹ</span></a><span style="font-size: medium;"> میں لکھا۔ </span></li>
<li><a target="_blank" href="http://www.nayni.com/" ><span style="font-size: medium;">نینی</span></a><span style="font-size: medium;"> نے اپنے بلاگ پر </span><a target="_blank" href="http://www.nayni.com/2009/03/06/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1/" ><span style="font-size: medium;">پہلی اردو تحریر</span></a><span style="font-size: medium;"> پوسٹ کی۔</span></li>
<li><span style="font-size: medium;">باذوق نے </span>نامور مزاح نگار <span style="color: #000000;">مشتاق احمد یوسفی</span> کی منفرد تحریروں اور اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ شروع کیا۔ جس کو آپ <a target="_blank" href="http://aabegum.blogspot.com/" >یہاں</a> دیکھ سکتے ہیں۔</li>
<li><span style="font-size: medium;">لانگ مارچ کے بارے میں تقریبا سبھی بلاگرز رپورٹنگ کرتے رہے۔</span></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/04/march-2009-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فروری2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 09 Mar 2009 00:01:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=292</guid>
		<description><![CDATA[السلام وعلیکم قارئین، ماہ فروری میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ معاشرہ و سیاست: دوست نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر &#8220;کتبے&#8221; لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے گزرتے ہوئے انھیں جگہ جگہ کتبے دکھائی دیتے ہیں جو  کسی سڑک کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p dir="rtl">السلام وعلیکم قارئین،</p>
<p dir="rtl">ماہ فروری میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">
<h2 dir="rtl">معاشرہ و سیاست:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/" >دوست</a> نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/310" >کتبے</a>&#8221; لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے گزرتے ہوئے انھیں جگہ جگہ کتبے دکھائی دیتے ہیں جو  کسی سڑک کے افتتاح یا  پھر کسی اور چیز کے سنگ بنیاد کے موقع پر لگائے جاتے ہیں۔  آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">آج سے دو سال پہلے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا. اس گلی کی سیوریج لائن خراب تھی، یہی کوئی سو گز کے قریب لمبائی میں. اوراس کو دوبارہ ڈلوانے کا افتتاح اس وقت کے ضلعی ناظم نے کیا تھا. وہ نئی ڈالی ہوئی سیوریج لائن بھی شاید اب خراب ہوگئی ہو لیکن وہ کتبہ اب بھی وہاں لگا ہوگا. جس پر بدست مبارک جناب فلاں فلاں لکھا ہوا تھا</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مجھے لگتا ہے میری قوم کے نصیبوں پر بھی ایسے ہی کتبے لگے ہوئے ہیں. سبز رنگ کے، سنگ مرمر کے پرانے اور نئے کتبے.. میری قوم کے نصیبوں کے مزار پر وڈوں کے نفس متولی بنے بیٹھے ہیں. نہ وہ اُٹھیں اور نہ ہی میری قوم کا نصیب جاگے..</p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/" >شکاری</a> نے اپنی ایک تحریر  &#8220;<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=219" >بھیک مشن</a>&#8221; میں معاشرے میں بھیک مانگنے کے طریقوں پر لکھا ہے، اور بھکاریوں سے آئے دن  آپ کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ  حکومت کے ساتھ ساتھ حکمران اور اب ایدھی سینٹر والوں نے بھی بھیک مشن شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے  بس میں ایک لڑکی کو اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے کے بارے میں بھی لکھا۔  اور آخر میں آپ کہتے ہیں کہ :</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;">اب یہ ہمارا قومی طور پر<strong>&#8220;بھیک مشن&#8221;</strong> کب ختم ہوگا.</p>
</blockquote>
<p dir="rtl">ج<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/" >ہانزیب</a> بھی اسی موضوع پر  اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/first-impression/" >پہلی نظر میں</a>&#8220;میں کچھ  اس طرح کہتے ہیں کہ  پاکستان   ائیر پورٹ پر اترتے ہوئے آپ کو سب سے پہلے بھکاریوں سے واسطہ پڑتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">میرا ایک دوست پاکستان سے امریکہ آیا، اور باہر نکلتے ہی سب سے پہلے جس کالے امریکی کو اُس نے دیکھا، اُس نے گلے میں جوتے لٹکا رکھے تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن سُنی سنائی باتوں کے بعد اُس کا باہر نکلتے ہی ایسا دیکھنے سے اُس نے یہ بات ذہن نشین کر لی کہ کالے امریکی بدتمیز اور بد اخلاق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب انگریزی کہاوت &#8220;First impression is last impression&#8221; کے مطابق اس نے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">لیکن کسی سیاح جو پاکستان آئے، پر &#8220;First Impression&#8221; کس قسم کا پڑے گا ۔۔۔۔ باہر نکلتے ہیں فقیروں کا جم غفیر آپ کے گِرد ہو جاتا ہے،</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">خود ہی سوچیں کہ باہر والے پاکستانیوں کو فقیر کیوں نہیں سمجھیں گے اپنے First Impression کی بنیاد پر؟</p>
</blockquote>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت</a> نے  جعلی پیر، عاملوں کے بارے میں ایک بہترین پوسٹ &#8221; <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=954" >ضعیف الاعتقادی</a> کی، جس میں آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">پاکستان میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ جعلی عامل کبھی <a href="http://www.mypakistan.com/?p=535"  target="_blank">ڈبل شاہ </a>اور کبھی خود ساختہ پیر کے روپ میں لوگوں کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو لُوٹتے ہیں اور پھر بھی <a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/04/printable/070417_doubleshah_followup_si.shtml"  target="_blank">معتبر رہتے ہیں</a>۔ ان کے معتقدین میں عوام و خواص کی کچھ قید نہیں۔ کوئی اقتدار کے لالچ میں ان کی لاٹھیاں کھانے کو اپنے لئے مبارک تصور کرتا ہے    تو کوئی غربت بیماری اور دیگر مصائب کے خاتمے کے لئے انہیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔ نتیجتا آئے روز ایسے لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ اس ضعیف الاعتقادی کے زیرِ اثر لوگ اپنی عزت، جان، مال سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ لیکن دیکھنے والے پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ لوگ اسی طرح بیوقوف بناتے بھی ہیں اور بنتے بھی ہیں۔ <img src="file:///C:/Users/MYDREA%7E1/AppData/Local/Temp/msohtmlclip1/01/clip_image001.gif" border="0" alt=":-(" width="15" height="15" /></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">معلوماتی تحاریر:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد بنگش</a> نے  ڈیرہ اسماعیل  کے بارے میں ایک معلوماتی بلاگ لکھا، &#8220;<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_16.html" >ڈیرہ، پھلاں دا  سہرہ&#8221;</a>جس میں آپ نے  اپنے ڈیرہ اسماعیل جانے کی کہانی بھی سنائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ڈیرہ اسماعیل خان، کی پہلی نشانی رکشے ہیں، جو شہر میں داخل ہونے والی ہر بس کے ساتھ ایسے بھاگنے لگتے ہیں کہ جیسے، کوئی گڑ کی ڈلی پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ دوسری نشانی آبادی میں اضافہ اور چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں، جن کے باہر جلی لکھا ہوتا ہے، &#8221; آ بھرا روٹی دوا&#8221; (آ بھائی، روٹی کھا)۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p align="right">ڈیرہ اسماعیل خان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، گومل یونیورسٹی کے مکین، اسے سِٹی، &#8220;جھوک&#8221; یعنی گاؤں کے لوگ اسے شہر، جبکہ &#8220;کچہ&#8221;یعنی، دریا کے اس طرف کے مکین اسے اپنے حساب سے &#8220;دریا پار&#8221; کہتے ہیں، جبکہ ایک نام، جس سے سارے لوگ اس مانتے ہیں، وہ ہے &#8220;ڈیرہ، پُھلاں دا سہر۱&#8221;۔<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_16.html" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p align="right">
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/02/21/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D8%B2-20-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%DB%8C%D9%88/" >ایڈز 20 سال کی تحقیق کے بعد بھی لاعلاج کیوں</a> ؟  اس موضوع پر  <a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> نے ایک نہایت ہی معلوماتی بلاگ لکھا۔  جس میں انہوں نے ایڈز کے آغاز  کے بارے میں کچھ لکھا اور پھر پاکستان میں  بھی اس مرض کی تشخیص کے بعد کیا ہوا۔۔اس بارے میں بھی انہوں نے لکھا ۔  آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">یواین کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 25 میلین ھے 7۔5 میلین لوگ ایڈز کے مرض کا شکار ھو چکے ھیں پاکستان میں 84000 ایڈز کے مریض ھیں جن میں 70000 مرد اور بچے 14000 عورتیں ھیں پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی وجہ کم علمی اور جہالت بھی کہا جا سکتا ھے استعمال شدہ سرنج کا بار بار استعمال سکین کیے بنا انتقال خون ۔ جب کوئ حادثہ ھوتا ھے یا خون کی ضروت پڑتی ھے جو بھی خون  دستیاب ھو لگا دیا جاتا ھے ایک سال میں پاکستان میں مختلف حادثات اور بیماریوں کی وجہ سے 5۔1 میلین لوگوں کو خون دیا جاتا ھے  جن میں سے 20 % پپشہ ور لوگ ھوتے ھیں جن کا خون چیک نہیں ھوا ھوتا۔۔۔<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/02/21/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D8%B2-20-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%DB%8C%D9%88/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl">اجمل صاحب نے  &#8221; <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/02/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%db%94-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%8f%da%a9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%db%94-%d9%82%d8%b5%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d8%9f/" title="مستقل ربط برائے :  سوات ۔ طالبان اور حُکمران ۔ قصور کس کا ؟" >سوات ۔ طالبان اور حُکمران ۔ قصور کس کا ؟</a>&#8221; کے عنوان سے ایک بہترین معلوماتی تحریر لکھی، جو کہ  سوات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تاریخ سے متعلقہ ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">جب انگریز ہندوستان چھوڑنے پر راضی ہو گئے تو اُنہوں نے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے اندر داخلی طور پر خودمختار ریاستوں کا فیصلہ اُن کے حاکموں پر چھوڑ دیا کہ اپنے عوام کی رائے کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کریں ۔ چالبازی یہ کی گئی کہ پاکستان کو نہ دولت اور اثاثوں کا حصہ دیا گیا اور نہ اسلحہ کا ۔ مسلمان فوجیوں کو پہلے ہی سے مجوزہ پاکستان سے دور علاقوں میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ وہیں اُنہیں غیر مسلحہ کر کے گھروں کو جانے کا حُکم دیا گیا ۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ پاکستان بنا تو نہ اس کے پاس حکومت چلانے کو کچھ تھا اور نہ اپنا دفاع کرنے کا سامان ۔ اس صورتِ حال سے مکمل فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے بھارت کے اندر یا بھارت سے ملحق تمام ریاستوں کو بھارت کے ساتھ الحاق کا حُکم دیا ۔ جن چار ریاستوں [گجرات کاٹھیاواڑ ۔ منادور ۔ حیدآباد دکھن اور جموں کشمیر] نے لیت و لعل کیا اُن پر یکے بعد دیگرے فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ۔ اس کے بر عکس پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے اندر ریاستوں کو داخلی خود مختاری دیئے رکھی جب تک کہ وہ ریاستیں خود ہی پاکستان میں ضم نہ ہوئیں ۔ <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/02/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%AA-%DB%94-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D9%8F%DA%A9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%DB%94-%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D8%9F/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">محب علوی نے ایک نہایت ہی دلچسپ اور معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی ایک پرانی روایت &#8220;<a target="_blank" href="http://mohib.urdutech.com/2009/02/02/groundhog-day/" >گراؤنڈ ہوگ ڈے</a>&#8221; کے بارے میں بتایا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Groundhog_day" >Groundhog Day</a> چھٹی کا تہوار ہے جسے  دو فروری کے دن امریکہ اور کینیڈا میں منایا جاتا ہے۔ لوک روایت کے مطابق اگر دو فروری کو گراؤنڈ ہوگ (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Groundhog_day" >Groundhog</a> ) اپنے بل میں سے نکل کر اپنا سایہ دیکھ لے تو سردیاں مزید چھ ہفتہ تک رہیں گی اور گراؤنڈ ہوگ واپس اپنے بل میں چلا جاتا ہے جہاں وہ سردی سے بچنے کے لیے سو رہا تھا۔اگر بادلوں کی وجہ سے سورج نہ نکل سکے اور وہ اپنا سایہ نہ دیکھ سکے تو سردیاں ختم ہونے کو ہیں اور بہار جلد آ رہی ہے اور گراؤنڈ ہوگ بھی نیند ترک کرکے باہر ہی رہ جاتا ہے۔ <a target="_blank" href="http://mohib.urdutech.com/2009/02/02/groundhog-day/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">طنز و مزاح:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/" >فیصل</a> نے  اردو اور انگریزی بلاگنگ سے متعلقہ ایک  دلچسپ تنقیدی تحریر&#8221; <a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/01/30/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af-%d8%a7%d9%86%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b2%db%8c-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af/" title="Permanent Link: اردو بلاگ انگریزی بلاگ" >اردو بلاگ انگریزی بلاگ</a>&#8221; لکھی۔جس میں  آپ کہتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">خیر  بات ہو رہی ہے اردو بہ مقابلہ انگریزی بلاگز کی۔ چچ چچ حضور کوئی مقابلے کی چیز ہو تو مقابلہ کیجئے، کہاں اردو کہاں انگریزی۔ نہیں ایسا نہیں کہ ایک اعلیٰ و ارفع ہے تو دوسری کم ظرف۔ میرے نزدیک تو ایک زبان ایک طرزِ معاشرت کا نام ہے ایک رویئے ایک سوچ کا نام ہے نہ کہ الفاظ کے ایک مجموعے کا۔ اب  آپ خود ہی بتائیے کہ آج تک کسی انگریزی شاعر کو پان کھا کر کسی مشاعرے  میں داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کرتے دیکھا ہے؟</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">صاحب ہم شرمندہ قوم ہیں۔ ہم اپنی زبان، اپنی سوچ، اپنے طرز معاشرت، اپنے مذہب، اپنے وجود ہر شرمندہ ہیں۔ مجھے اپنی ڈاڑھی پر شرم آتی ہے تو میری بیوی کو اپنے حجاب پر۔ مجھے اپنے باپ پر شرم آتی ہے تو میری اولاد کو مجھ پر۔ ہم  بیحد شرمندہ قوم ہیں صاحب۔</p>
</blockquote>
<blockquote>
<p dir="rtl">ایک قصہ اور بھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا کو بلاگستانِ اردو کا علم ہیں نہیں، یہاں تک کہ وطنِ عزیز کے لوگ بھی نہیں جانتے۔ وجہ شائد گوگل میں اردو نتائج کی کمی بتاتے ہیں۔دیکھو صاحبو پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں۔ جن لوگوں کو اردو کی چاہ ہے وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آپ تک پہنچ ہی جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اردو ویب سائٹس پر زیادہ آمد بیرونِ ملک رہائش پذیر ہموطنوں کی ہوتی ہے۔ <a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2009/01/30/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C-%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF/" >مزید پڑھیں۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت</a> نے ایک دلچسپ تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=927" >نصیب اپنا اپنا&#8221;</a> میں پاکستان کے &#8221; اباؤں&#8221; کی  ورائٹی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">پاکستان میں &#8216;اباؤں&#8221; کی کافی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جن میں سے چند قابلِ ذکر ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر کے اپنے سینوں پر فخر کا تمغہ سجایا کرتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے جرائم کی بدلے میں ونی کے نام پر بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بیٹیاں ہوتی کس لئے ہیں بھلا۔  لیکن اب کچھ عرصے سے انتہائی مشفق قسم کے ابا بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جو انتہائی حساس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بیٹی کی محبت میں مغلوب ہو کر امتحان میں اس کے <a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=328575"  target="_blank">نمبر بڑھواتے</a> ہیں اور دوہ بھی جن کی بیٹی کی سالگرہ پر<a href="http://www.dawn.com/2009/text/local1.htm"  target="_blank"> </a>اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد<a href="http://www.dawn.com/2009/text/local1.htm"  target="_blank"> </a>منظور کی جاتی ہے۔ اب بھی اگر لوگ کہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=927" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://derwesh.com/" >درویش</a> نے  انسان اور ٹیکنالوجی کا  ایک مکالمہ  بہت خوبصورت انداز میں لکھا اور  اپنی تحریر کو &#8221; <a target="_blank" href="http://derwesh.com/human-vs-technology/" title="Permanent Link to انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی....غلام کون؟" >انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی&#8230;.غلام کون؟</a>&#8221; کا نام دیا ہے۔  مکالمے کا آغاز  کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ٹیکنالوجی: تم میرے اخراجات اُٹھاؤ گے؟ صحیح؟<br />
انسان: بالکل۔ میں ایسا کروں گا۔<br />
ٹیکنالوجی: اور تم مجھے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ بھی کرتے رہو گے؟<br />
انسان: ہاں۔ میں ایسا کر سکتا ہوں۔<br />
ٹیکنالوجی: کیا تم میری تاروں کو سنبھالنا پسند کرو گے؟ میرے پاس یہ کافی زیادہ ہیں۔<br />
انسان: تاریں؟ ہم م م ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتی ہو تو یہ بھی کر لوں گا۔<br />
ٹیکنالوجی: اور ہاں میرے جلتے بجھتے بٹنز کا ہر وقت خیال رکھنا۔<br />
انسان: ٹھیک ہے۔ <a target="_blank" href="http://derwesh.com/human-vs-technology/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p></blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" >سارہ پاکستان</a> نے &#8220;<a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/02/blog-post_17.html" >محبت کے سوا</a>&#8220;  تحریر میں محبت پر  بہت دلچسپ انداز میں تنقید کی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">محبت کی دنیا میں‌بڑے بڑے نام گزرے ہیں‌۔۔۔۔مثلآ‌لیلی مجنوں‌،سسی پنوں۔۔۔۔حیرت یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ نام یہ مقام کیسے حاصل کر لیا ۔۔۔۔۔جابجا دیواروںپر نظر آنے والے لازوال کردار ایف اینڈ جے ،یا کے اینڈ کے ۔۔۔آخر ان کے جذبے میں‌کہاں‌کمی ہے جو وہ یہ نام اور مقام نا حاصل کر پائے جو تاریخ‌کے مختلف کرداروں کے حصے میں آئی ۔۔۔۔۔۔تو سمجھ کچھ یہ آتی ہے کہ تاریخ‌کے کردار مثلآ لیلی مجنوں‌۔۔سسی پنوں‌ وغیرہ نے جو محبت کی وہ ان کی اپنی اختراع یا ان کی اپنی انویشن تھی ۔انہیں‌آءیڈیازدینے کے لیے مختلف موبائل کمپنیاں نہیں‌تھیں سو چیز جتنی اوریجنل ہو گی اتنی ہی مقبولیت حاصل کر ے گی۔ <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/02/blog-post_17.html" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a> ایک تنقیدی  تحریر &#8221; <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=690" title="Permanent Link to نئے دور کے نئے تقاضے" >نئے دور کے نئے تقاضے</a>&#8220;  میں لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">ہماری قوم کی مانے جانے والی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وقت کے حساب سے اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ مثلاً موبائل موبائل کا شور مچا تو فقیروں کے پاس بھی &#8220;کیمرے والا موبائل&#8221; نظر آنے لگا۔ فوج کی مخالفت پر آئے تو فوجی بھی اس کو گالیاں دینے لگے۔ عطاءالرحمان صاحب نے آئی ٹی آئی ٹی کی رٹ لگائی تو سارے کے سارے کمپیوٹر سائنس کے پیچھے پڑ گئے۔ <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=690" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/" >تانیہ رحمان</a> نے  اپنی ایک تحریر میں &#8220;<a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/%D8%B7%D9%86%D8%B2-%D9%88-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD/%D8%AF%D9%84-%D9%88-%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/" >دل اور دماغ  کی گفتگو</a>&#8221; کے بارے میں لکھا ہے۔  جو کہ کچھ اس طرح سے ہے۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔۔دل تھوڑی دیر دماغ کی باتیں برداشت کرتا رھا۔اور پھر ہنس کر بولا۔تمیں بس میری یہی خوبی نظر آئی۔میں تو انسانی وجود میں دھڑکتا ھوں۔میرے پر تو غزلیں کہی گہیں۔میرے پر تو پورے پورے دیوان لکھے گے۔ ھر فلمی گانے میں میرا ھونا لازمی ھے۔ اور اگر میں دھڑکنا بند کر دوں تو تمھارا کیا ھوگا ۔ کالیا ۔ میں زرا سا تیز دھڑکنا شروع کر دوں تو لوگوں کو فکر لاحق ھو جاتی ھے ۔کہ میں بند تو نہیں ھونے لگا ۔اور تم کہتے ھو کہ میرے بس چار خانے ھیں ۔ میں دھوکے باز فریبی ، ھوں ۔ جبکہ لوگ یہ جانتے ھوئے بھی میری ھی سنتے ھیں ،اور سب سے بڑ ی بات ۔جب لڑکا اور لڑکی میں محبت ھوتی ھے ۔ اس کی وجہ بھی تو میں ھی ھوں ۔۔۔۔<a target="_blank" href="http://tanyarehman.wordpress.pk/%D8%B7%D9%86%D8%B2-%D9%88-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD/%D8%AF%D9%84-%D9%88-%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">آپ بیتی:</h2>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد بنگش</a> نے  امتحان میں پرچہ دینے حوالے سے اپنی دلچسپ کہانی لکھی، تحریر &#8221; <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post.html" >پرچے کا پرچہ&#8221;</a> میں آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔تو جی، پرچہ دینے بیٹھے توہر درجے کا ہر طالبعلم منہ کھولے بیٹھا تھا، کیوں کہ پرچے میں ایسے موضوعات تھے، جنھیں ہم سب نے نہ آسمانوں میں دیکھا، نہ زمینوں میں ٹٹولا۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ تھی کہ مضمون نیا اور باتیں زیادہ، ہر شخص جو اس مضمون میں دلچسپی رکھتا ہے، اپنی آراء رکھتا ہے، چنانچہ پروفیسر جی کی آراء نزلہ بن کر گری، اور ہم کسی نہ کسی طرح صفحے کالے کر کے شرمندہ نظروں سے، جوابی شیٹ کے مضمون کو چھپاتے ہوئے، لرزتے ہاتھوں پرچہ پروفیسر جی کو تھمایا، اور باہر کو دوڑ لگائی۔۔۔۔ <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post.html" >مزید پڑھیں۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl">اس کے علاوہ <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/" >شاکر عزیز</a> نے بھی  اپنی  اور دوستوں سے متعلقہ کہانی لکھی، &#8221; <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/314" >فکشن</a>&#8221; جو کہ کچھ اس طرح سے ہے:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.<br />
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..<br />
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان &#8220;میں کون ہوں&#8221;۔۔۔۔ <a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/314" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p></blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/" >شاہدہ اکرم</a> نے  اپنی  تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/02/07/pyaray-aboo-jee/" >پیارے ابو جی</a>&#8221; میں باپ کے بارے میں لکھا۔۔۔</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">۔۔۔آج جب ميں ابُو کے مُتعلِق لِکھنے بيٹھی ہُوں تو يادوں کا سِرا اِتنا طويل لگا کہ سمجھ ميں نہيں آرہا شُرُوعات کہاں سےہوں ماں اپنے بچوں کے لِۓ اگر سرمايہ ہوتی ہے تو يُوں کہ وُہ اپنے وقت کا ايک ايک لمحہ اپنے بچوں کو دے کر اُنہيں سينچتی ہے پيدائِش سے پہلے سے لے کر آخِر تک ليکِن باپ کيُونکہ گھر سے باہِر کی دُنيا ميں مشغُو ل ہوتے ہيں تو بچوں کو ويسا وقت نہيں دے پاتے ليکِن وُہ جو کُچھ بھی کرتے ہيں اُس کا چکر اولاد کی خُوشيوں کے گِردہی گُھومتا ہے ابُو کے جانے کے بعد بہت دِنوں تک تو مُجھے سمجھ ميں ہی نہيں آيا کہ يہ ہُوا کيا ہے۔۔۔<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/02/07/pyaray-aboo-jee/" >مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
</blockquote>
<p dir="rtl"><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث </a> &#8221; <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/02/blog-post_18.html" >کرکٹ: جنون سے سکون تک</a>&#8221; میں  لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote>
<p dir="rtl">کرکٹ سے میری شناسائی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی جتنی میری ہوش۔ بچپن ہی سے کرکٹ میرے خون میں رچی بسی تھی بلکہ خون سے باہر بھی ٹپکتی تھی، کبھی ناک پر کرکٹ بال لگنے سے نکسیر پھوٹی تو کبھی ہونٹ کٹے اور منہ خون سے بھر گیا لیکن یہ جنون ختم نہ ہوا۔ میں اپنے محلے کی دو ٹیموں میں کھیلا کرتا تھا وجہ اسکی یہ تھی کہ ہر لڑکا ہی آل راؤنڈر ہوتا تھا سو جس کو بلے بازی میں باری ملتی تھی اس کو گیند بازی نہیں ملتی تھی اور جس کو گیند بازی ملتی تھی اس کی بیٹنگ میں باری نہیں آتی تھی۔۔۔<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/02/blog-post_18.html" >مزید پڑھیں۔۔</a></p>
</blockquote>
<h2 dir="rtl">اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</h2>
<p dir="rtl">علمدار نے &#8221; <a target="_blank" href="http://derwesh.com/build-local-web-server/" >لوکل ویب سرور بنائیے۔ دوسری</a> اور <a target="_blank" href="http://derwesh.com/php-installation/" >آخری قسط</a>&#8221; اپنے بلاگ پر پوسٹ کی۔</p>
<p dir="rtl">
<p dir="rtl">اس کے علاوہ منظر نامہ پر &#8221; <a target="_blank" href="../../../../../2009/02/what-is-blogging/">بلاگنگ کیا ہے؟ </a>&#8221; موضوع کا آغاز کیا گیا، جس پر بلاگرز کو لکھنے کو کہا گیا۔ اس  پر  <a href="http://www.mypakistan.com/?p=2192" title="مستقل ربط برائے: بلاگنگ کیا ہے؟" >میرا پاکستان</a>، <a href="../../../../../2009/02/%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF%D9%86%DA%AF-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%9F%E2%80%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D8%A7%D8%B4%D8%AF-%DA%A9%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86/">راشد کامران</a> اور <a href="../../../../../2009/02/urdubloggingscene/">نبیل نقوی</a> نے نہایت ہی معلوماتی تحاریر پوسٹ کیں۔ جن کا بہت شکریہ۔</p>
<p dir="rtl">
<h2 dir="rtl">نیوز اپڈیٹس:</h2>
<p dir="rtl">-          <a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/" >وارث</a> نے اپنا بلاگ بلاگ سپاٹ پر منتقل کیا۔ نیا ربط: <a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >http://muhammad-waris.blogspot.com/</a></p>
<p dir="rtl">-         &#8220;<a target="_blank" href="http://meridunia.co.cc/" >میری دنیا</a>&#8221; نیا اردو بلاگ۔</p>
<p dir="rtl">-         &#8220;<a target="_blank" href="http://uncletom420.wordpress.com/" >انکل ٹام&#8221;</a>420 نیا اردو بلاگ</p>
<p dir="rtl">-         <a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/" >عمر احمد</a> نے منظر نامہ پر &#8220;<a target="_blank" href="../../../../../muhim-eik-blogger-eik-kitab/">مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب</a>&#8221; میں  حصہ لیتے ہوئے  &#8221; <a href="http://omer-urdu.blogspot.com/2009/02/blog-post_20.html" >کشف المحجوب</a>&#8221; کتاب پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p dir="rtl">-         کراچی کے اردو بلاگرز کی ملاقات: <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/02/blog-post_22.html" >شعیب کی زبانی</a>- <a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/02/22/mulaqat/" >فہیم کی زبانی</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/03/feb-2009-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جنوری 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 18 Feb 2009 21:35:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=258</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ کے میزبان عمار اور ماوراء ماہِ جنوری ۲۰۰۹ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ اگرچہ ماہ فروری کا وسط گزر چکا ہے لیکن کچھ ہماری مصروفیات ایسی بڑھ جاتی ہیں کہ اکثر کاموں کا وقت آگے پیچھے ہو ہی جاتا ہے۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے بلاگرز اچانک ہی اتنے فعال ہوجاتے ہیں کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">منظرنامہ کے میزبان عمار اور ماوراء ماہِ جنوری ۲۰۰۹ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ اگرچہ ماہ فروری کا وسط گزر چکا ہے لیکن کچھ ہماری مصروفیات ایسی بڑھ جاتی ہیں کہ اکثر کاموں کا وقت آگے پیچھے ہو ہی جاتا ہے۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے بلاگرز اچانک ہی اتنے فعال ہوجاتے ہیں کہ ہمارے سامنے تحاریر کے انبار لگ جاتے ہیں اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کس تحریر کو منتخب کریں، کس کو چھوڑیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">بہرحال، اگر ہم اب باتوں میں لگ گئے تو ہماری باتیں ہی بڑھتی چلی جانی ہیں اس لیے موضوع کی طرف آتے ہیں۔</span></p>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">سیاست و معاشرہ:<br />
</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" >سارہ پاکستان</a> کو اردو بلاگنگ کی دنیا میں آئے ہوئے گرچہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن آپ نے اپنی تحاریر کے خاص انداز اور موضوعات میں انفرادیت کے حوالے سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے۔ جنوری میں ان کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2009/01/blog-post.html" >گناہ کا لطف</a>‘‘ پڑھنے کے لائق ہے جس میں سارہ نے ہمارے معاشرے کی طرزِ فکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو گناہ کے نت نئے جواز تراشتی ہے۔ آپ لکھتی ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’دو غلط فہمیاں‌ نہ جانے ہمیں‌کہاں سے کہاں‌لے جائیں ۔۔۔منزل کے بہت قریب ہو تے ہوئے بھی ہم کہیں‌بہت دور ہی نہ ہوجائیں ۔۔۔پہلی خوش فہمی جس میں‌ہم میں‌سے ایک واضح اکثریت مبتلا ہے کہ ہم وہ امت ہیں کہ ہماری بخشش ہو چکی ہم اپنے کردہ گناہوں کے لیے بہت تھوڑے عرصے کےلیے دوزخ میں جائیں‌گے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت ہمارا نصیب ٹھہرے گی۔۔۔۔افسوس ہمارا دھیان کبھی اس امت کی طرف نہیں‌گیا جو ہم سے پہلے ایسے ہی دعوے کی مرتکب ہوئی اور قرآن میں ان سے بیزاری اور عذاب کی وعید کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">پورا مضمون ہی پڑھنے کے لائق ہے اور آخری پیرا گویا حاصل مضمون:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’گناہ کو گناہ سمجھ کر کیجیے۔۔۔ اس کے بارے دلائل اکھٹے کرنے کی کوشش کی بجائے ۔۔۔۔۔۔یہ طرز فکر آپ کو ایک نہ ایک دن گناہ سے بیزاری پر ضرور مائل کر دے گا۔۔۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> اردو بلاگرز میں سب سے زیادہ فعال ترین بلاگر ہیں۔ ہمارے سامنے ان کی دو تحاریر ’<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2070" >رامی حرامی</a>‘ اور ’<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2084" >جسمانی مشقت</a>‘ ہیں۔ موخر الذکر سے ایک اقتباس:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’ہم اپنے دو جوان بیٹوں کیساتھ پرانے گھر کے قالین اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی کام کرتے آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ چھوٹا بیٹا بولا ’’ڈیڈ لگتا ہےمیں اس کام کیلیے پیدا نہیں ہوا‘‘۔ ہم نے کہا اگر یہ سچ ہے تو پھر ہماری طرح خوب پڑھو اور جسمانی مشقت سے جان چھڑا لو۔ بیٹا کہنے لگا پڑھ تو میں رہا ہوں اور پڑھ بھی جاؤں گا مگر یہ کام میرے سے نہیں ہوتا۔ جیسے تیسے ہم تینوں نے تین گھنٹے میں وہ کام ختم کیا اور گھر لوٹ آئے۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اس واقعہ میں پوشیدہ سبق کا اندازہ اس مختصر سی تحریر کو مکمل پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے اور بلاشبہ اس تحریر میں زندگی کا ایک اہم اصول موجود ہے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/" >بلوبلا </a>بھی اردو بلاگنگ کے نئے نئے راہی ہیں۔۔ کبھی کچھ ہلکی پھلکی تحاریر لکھتے ہیں اور کبھی گہرائی رکھتی، غور و فکر کی دعوت دیتی۔۔ مثال کے طور پر <a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/?p=254v" >’بندہ مزدور کو بھی کبھی چھٹیاں ملتی ہیں؟</a>‘ کے عنوان سے اپنی تحریر میں اپنے ہم وطنوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’پچھلے سال 14 اگست کو ہم آؤٹنگ کے لئے نکلے تو دیکھا کہ بے تحاشہ لوگ گاڑیوں موٹر سائکلوں پر سڑکوں پر آ جا رہے تھے اور حسبِ توفیق موج مستی کررہے تھے لیکن سڑک کنارے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی کھدائی جاری تھی اور مزدور اپنے ارد گرد کے ماحول سے بظاہر بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھے۔ 14اگست تو ہمارا قومی دن ہے جس پر زندگی کے ہر شعبے میں چھٹی ہوتی ہے مگر مزدور اگر دیہاڑی نہیں لگائیں گے تو رات کو کھانا کیسے کھائیں گے سو وہ دیہاڑیاں لگاتے لگاتے زندگی تمام کر دیتے ہیں اور ہم جیسے بے حس لوگ اُن کے قریب سےان پر ایک نظر ڈالتے ہوئے گزرجاتے ہیں اور بعد میں دوسروں پر اپنی زبان دانی کا رعب جھاڑنے کے لئے ان کا ذکر انتہائی ہمدردی سے کرتے ہیں۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/" >خاور کھوکھر</a> کو تو سبھی اردو بلاگرز ہی جانتے ہوں گے۔ بات ان کے اندازِ تحریر کی ہو یا اندازِ گفتگو کی، دونوں ہی منفرد ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/2009/01/blog-post_30.html" >عزت دے کر آزمائش</a>‘ میں لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اپ نے کسی کو اس کی اصلیت میں دیکھنا ہے تو اس کو بے جا عزت دے کر دیکھو اگر تو اس بندے کی اصلیت اچھی ہو گی تو وه آپ کا مشکور ہو گا اور آپ کی بھی عزت کرے گا۔ لیکن کم ظرف بندہ تھوڑے ہی دنوں میں آپ کی شائستگی کو آپ کی کمزوری سمجھ کر سوار ہونے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔‘‘</span></p>
</blockquote>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">معلوماتی تحاریر:<br />
</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://urduhyd.blogspot.com/" >حیدرآبادی (دکنی)</a> کے نام سے معروف بلاگر نے ایک نئی اور حیرت انگیز خبر دی ہے، عنوان ہے ’’<a target="_blank" href="http://urduhyd.blogspot.com/2009/01/blog-post.html" >ہندوستان کے دل میں پاکستان</a>‘‘۔ لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ویسے تو ہندوستان کے بعض مخصوص متعصب سیاسی ذہن جب کبھی کسی ہندوستانی مسلم اکثریتی علاقہ پر غصہ اتارتے ہیں تو اسے ایک &#8220;چھوٹا پاکستان&#8221; کا لقب دے ڈالتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">لیکن ۔۔۔۔۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ہندوستانی ریاست بہار میں ایک ایسا گاؤں آج بھی پایا جاتا ہے جس کا نام ہی &#8220;پاکستان&#8221; ہے اور جہاں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے!</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب سعید شوبی</a> اردو کمیونٹی میں فلیش اینی میشن پر مشتمل اپنے کام سے جانے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں بچوں کے لیے دو اینی میٹڈ نظمیں <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/11/29/%D8%B9%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%DA%91%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85/" >عذرا کی گڑیا</a> اور <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/12/31/%DA%86%D9%88%DB%81%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DA%86%DB%81-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85/" >چوہے کا بچہ</a><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2009/01/04/%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D8%AF%D9%88-%D9%85%D9%81%DB%8C%D8%AF-%D9%88%DB%8C%D8%A8-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%B9%D8%B3/" >بچوں کے لیے دو مفید ویب سائٹس</a>‘‘۔</span> پیش بھی کرچکے ہیں۔ اپنے بلاگ پر انہوں نے بچوں کے لیے دو دلچسپ سائٹس کا پتا بتایا ہے۔ دیکھیے، ’’</p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >محمد علی مکی</a> نے ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=384" >مستقبل بین</a>‘‘ کے عنوان سے ایک بے حد طویل لیکن بہت ہی معلوماتی، دلچسپ اور مفید پوسٹ لکھی ہے۔ یہ تحریر ہے نوسٹر ڈومس کے بارے میں جس نے مستقبل کی کئی پیشین گوئیاں بڑے واضح انداز میں بیان کردی تھیں۔ مثلا</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">بھوک کے ڈسے جانور دریا پار کرجائیں گے</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">میدانِ جنگ کا زیادہ تر حصہ ہسلر کے خلاف ہوگا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">قائد کو لوہے کے پنجرے میں گھسیٹا جائے گا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">جب جرمنی کا بیٹا ہر قانون نظر انداز کردے گا</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اور جوبلز اپنے بستر پر سے اچھل پڑا.. وہ رباعی کے الفاظ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا.. اگرچہ رباعی نے ’ہٹلر‘ نام کو ’ہسلر‘ لکھا تھا مگر یہ کچھ زیادہ ہی واضح تھا.. یقیناً اس سے ہٹلر ہی مقصود تھا..</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">تاہم یہ تحریر آپ تبھی پڑھنے بیٹھیں جب آپ کے پاس کچھ وقت ہو تاکہ ایک ہی نشست میں اس دلچسپ تحریر سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اس کے علاوہ ایک اور طویل مگر بے حد معلوماتی تحریر بھی مکی کے بلاگ کی زینت بنی ہے جو مشہور خیالی کردار ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=392" >ٹارزن</a>‘‘ کے بارے میں ہے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت کیانی</a> نے پچھلے دنوں ورڈ پریس کے کافی خوبصورت سانچوں کو اردو میں بہت خوب ڈھالا ہے، ساتھ ہی بلاگ پر باقاعدگی سے اچھی اچھی پوسٹس لکھتی رہی ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=786" >’یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی</a>‘‘ میں برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرنے والے ان پاکستانیوں کا ذکر کرتی ہیں جنہوں نے اپنی پہچان بنائی۔</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔ یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ماضی میں پاکستان آفیسرز اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">آگے چل کر ان چند ناموں کا ذکر کیا ہے جو اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے خاص مقام تک پہنچے۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/" >بلوبلا</a> کی مزاحیہ تحاریر کا ذکر اوپر بھی کیا ہے۔ اس کا ایک ثبوت ان کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.billubilla.com/?p=373" >ہماری زبان اور ہمارا کلچر</a>‘‘ ہے جس میں وہ ہمارے معاشرے کا رونا ہنستے مسکراتے ہوئے روتے ہیں کہ کس طرح ہمارے ہاں کی عورتیں ہندو ڈراموں کے سحر میں گرفتار ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اندر موجود فیملی میں سے ایک بچے نے پوچھا۔”ماما! حسین ہندو ہے نا؟”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">ماما نے جواب دیا۔”نو بیٹا! ہی از مسلم۔” یہ کہہ کر دوسری خاتون کو کہنے لگیں۔ “ایک تو یہ حسین بھی نا بڈھا ہی نہیں ہو رہا۔” دوسری نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پوچھا۔”آٹھواں وچن دیکھا تھا؟”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">پہلی انتہائی کرب آمیز لہجے میں بولی۔”کہاں دیکھ سکی۔ لائٹ نہیں تھی۔” اور یہ کہہ کر ڈرامے کی سٹوری پوچھنے لگی۔ اب جناب دوسری خاتون نے سٹوری سنانی شروع کر دی۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">یہ ہمارے موصوف<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" > بدتمیز</a> کو نہ جانے کیا ہوا، کون سا کلاسیکی ادب پڑھ کر بیٹھے تھے کہ ایک تحریر مختلف طرزِ نگارش کے ساتھ ’’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/02/01/%D9%86%DB%81-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%D9%86%DB%81-%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA/" >نہ صاحب بری بات</a>‘‘ کے عنوان سے لکھ ڈالی۔۔۔ انداز ملاحظہ ہو:</span></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">تو صاحبو انسان کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور بہتر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ “نرگس” کا شکار ہو جائے تو پھر وہ ہمیشہ اپنے سے کمتر کو دیکھ کر “صبر شکر” سے نسلوں کی نسلوں میں وہی سستی بھر دیتا ہے جس کا آجکل ہم شکار ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">نہیں صاحب یہ ممکن ہی نہیں کہ بچہ خوشی خوشی سکول جائے۔ اس کو بہلا پھسلا کر ہی سکول لے جایا جاتا ہے۔ چاہے لاکھ دادا دادی نانا نانی چچی تائی کہیں ہم بچے کو زبردستی سکول بھیج کر ہی چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام رشتہ بصداحترام ہیں پر ہم ان کی چنداں نہیں سنتے۔</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;"><a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/" >جہانزیب</a> نے اپنی ایک تحریر ” <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/virtual-life/" >ورچوئل زندگی</a> ”میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کا ذکر کیا ہے تو وہاں ایک فکر انگیز بات کی طرف بھی اشار ہ کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ:</span></p>
<blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اسی طرح اب دوستی کرنے کے بھی کمپیوٹری ذرائع بن چکے ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس جیسے <a target="_blank" href="http://www.orkut.com/" >آرکٹ</a>، <a target="_blank" href="http://www.facebook.com/" >فیس بک</a> اور <a target="_blank" href="http://www.myspace.com/" >مائی سپیس</a> مقبولیت میں پہلے درجہ میں آتی ہیں ۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ذہنی طور پر ہم جتنا ان سوشل نیٹ ورکس کے مطیع ہوتے جا رہے ہیں، عملی طور پر لوگوں سے اتنا ہی دور ہوتے جا رہے ہیں ۔</span></p>
</blockquote>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">. <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> نے بھی اپنی ایک تحریر” <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=187" >ورچوئل زندگی ۔۔ حصہ اول</a> ” میں نہایت ہی بہترین انداز میں جدید طرز زندگی یا جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:</span></p>
<blockquote>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">جدید دور کے انسان کی زندگی میں‌ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جتنی تبدیلیاں مرتب کی ہیں شاید ہی کسی تبدیلی یا انقلاب نے اتنی خاموشی سے ہمارے سوچنے‌ سمجھنے، رہنے سہنے، کھانے پینے اور معاملات کرنے کے اطوار پر اتنا اثر ڈالا ہے۔  ان ہی ایجادات کا کمال ہے کہ جس انسان نے بیسویں صدی کا آغاز گھوڑے کی پیٹھ پر کیا وہ صدی کے آخر تک اپنی دنیا سے دور دوسرے سیاروں پر کمندیں‌ ڈال رہا تھا۔</span></p>
</blockquote>
</blockquote>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· لوکل ویب سرور کیسے بنایا جائے، <a target="_blank" href="http://derwesh.com/" >درویش کے بلاگ</a> پر آپ کو اس سے متعلق سیکھنے کو ملے گا۔”<a target="_blank" href="http://derwesh.com/%d9%84%d9%88%da%a9%d9%84-%d9%88%db%8c%d8%a8-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%db%92/" >لوکل ویب سرور بنائیے</a> ”</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/" >شکاری</a> نے اپنے بلاگ پر <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=80" >ورڈپریس کی انسٹالیشن</a> سے متعلقہ پوسٹس لکھیں، جو کہ نہایت معلوماتی ہیں، اور آپ کو ان سے مدد مل سکتی ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/" >بلال</a> نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لیے معلومات کا ایک<a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=58" > کتابچہ</a> بنایا ہے۔ جو آپ پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· آپ اپنے بلاگ پر فانٹ سٹائل سوئچر لگانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ<a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/" > اردو ماسٹر</a> پر بتایا گیا ہے۔</span></p>
<h1 style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">منظر نامہ نیوز:</span></h1>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· ورڈ پریس بلاگز کے لیے نبیل نے نئے اردو ایڈیٹر ریلیزکیا۔ آپ اسے<a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/blog/2009/01/190/" > اردو ویب کے بلاگ سے ڈاؤنلوڈ</a> کر سکتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://farhan.urdutech.net/2009/01/21/%D8%A8%D9%84%D8%A7%DA%AF-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%86%D8%AA%D9%82%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DB%81%DB%92/" >فرحان</a> نے اپنا نیا بلاگ بنایا۔ نئے بلاگ کا لنک: <a target="_blank" href="http://farhan.ueuo.com/" >http://farhan.ueuo.com/</a></span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >نعمان علی</a> <a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2008/12/21/%D9%BE%D8%B7%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.html" >پطرس کے مضامین</a> کے بعد اپنی شاعری کی کتاب ”<a target="_blank" href="http://noumanali.com/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1/2009/01/11/%D8%AF%D8%B3%D8%AA%DA%A9-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D9%82%DB%8C-%DA%A9%D8%25" >دستک</a>” <a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" >مہم برائے ایک بلاگر –ایک کتاب</a> کے لیے برقیا رہے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابو شامل</a> نے سید سعادت اللہ حسینی کا مقالہ “<a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/postmodernism-ebook/" >مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام</a>” کو ای بک میں پیش کیا۔</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #000000;">· <a target="_blank" href="http://baloch.urdutech.com/" >شعیب خالق بلوچ</a> نے <a href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" >مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب </a>میں حصہ لیتے ہوئے جاوید اختر کی ”<a target="_blank" href="http://baloch.urdutech.com/?page_id=158" >ترکش”</a> کو برقیا یا۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/02/jan-2009-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دسمبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 18 Jan 2009 00:52:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=152</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم، دسمبر 2008 میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ معاشرہ و سیاست: کراچی کے ناساز حالات کے حوالے سے اجمل صاحب نے اپنی تحریر &#8220;جل کے دل خاک ہوا&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: الطاف حسین [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم،</p>
<p>دسمبر 2008 میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<h1>معاشرہ و سیاست:</h1>
<p>کراچی کے ناساز حالات کے حوالے سے <a href="http://www.theajmals.com/blog/"  target="_blank">اجمل صاحب</a> نے اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1343" >جل کے دل خاک ہوا</a>&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:</p>
<blockquote><p>الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں</p></blockquote>
<blockquote><p>تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟</p></blockquote>
<p><a href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1343"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://javediqbal.ueuo.com/"  target="_blank">جاوید اقبال</a> نے ایک تحریر &#8220;<a href="http://javediqbal.ueuo.com/?p=34"  target="_blank">بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے</a>&#8221; لکھی، جس میں وہ اپنے ساتھ پیش آنے والی روداد سنا رہے ہیں کہ آجکل لوگ کن کن طریقوں سے بھیک مانگ رہے ہیں۔</p>
<p>میرا پاکستان کی تین تحاریر جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کر رہی ہیں۔ پہلی پوسٹ&#8221; <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1883" >امن نایاب ہو گیا</a>&#8221; جس میں آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>جس دور میں ہم تیس سال قبل جوان ہوئے وہ امن کا دور تھا۔ آپ کو راہ چلتے کوئی نہیں لوٹتا تھا ہاں دھوکے، فریب اور چالاکی سے آپ سے رقم ہتھیا لینی دوسری بات تھی مگر کبھی کسی نے اسلحے کے زور پر نہیں لوٹا تھا۔ اس وقت ہتھیار صرف سیاسی لیڈروں یا مقامی بدمعاشوں کے محافظوں کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے۔ آج تو دولہا بھی تب تک سہاگ رات نہیں مناتا جب تک چھت پر چڑھ کر درجن بھر فائر نہ کر لے۔</p>
<p>یہ سب ہوا کیسے؟ دراصل جس تیزی سے پاکستان کی آبادی بڑھی، اسی تیزی کیساتھ ہماری حکومتوں کی نیتیں بدلیں۔ پہلے حکمران آج کے یورپی ممالک کی طرح بڑے بڑے ڈاکے ڈالا کرتے تھے مگر عام پبلک کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ آج کے حکمران ذکوۃ تک ہڑپ کر چاتے ہیں۔ اس افراتفری میں حکمرانوں نے اگلی ٹرم کے انتخابات جیتنے کی فکر چھوڑ رکھی ہے۔ اب وہ موجودہ ٹرم کو ہی غنیمت سمجھ کر لوٹ مار میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ انہیں عوام کی پرواہ رہی ہے اور  نہ آخرت کا خوف۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.mypakistan.com/?p=1883"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>اس کے علاوہ  &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1994" >کیسے کیسے لوگ &#8211; شرافت</a>&#8221; اور &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1898" >کہاوت اور حقیقت</a>&#8221; میں بھی &#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/"  target="_blank">میرا پاکستان</a>&#8221; نے معاشرے میں موجود برائیوں اور خامیوں کا ذکر کیا ہے۔</p>
<h1>طنزومزاح</h1>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/"  target="_blank">راشد کامران</a> نے &#8220;<a href="http://www.urdublogging.com/?p=149#comment-574"  target="_blank">قصہ چہار جرنیل</a>&#8221; میں پہلے جرنیل کی بپتا نہایت ہی دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔آغاز کچھ اس طرح سے کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>اب آغاز قصے کا کرتا ہوں‌ ذرا کان دھر کر سنو۔ سیر میں‌ چہار جرنیل کی یوں‌لکھا ہے اور کہنے والے نے کہا ہے کہ مملکت خداداد کے باشندوں کا تھا یہ کمال۔ بھیجے میں بھرے بھس دھرے عقل ٹخنوں میں یوں جرنیل کو بٹھا کاندھوں‌ پر بنایا مالک کل سیاہ و سفید کا۔ اس کے وقت میں رعیت برباد، جمہوریت بیوہ۔ چور اچکے، صبح خیزیے، بے پیندے کے لوٹے یوں خوش کہ اپنا کوئی مختار کل۔ راہی مسافر کی کیا مجال جو شکر اچھالتے جاتے ہر چوک پر پوچھا جاتا منہ میں دانت کتنے ہیں‌ اور کہاں‌کو جاتے ہو۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/?p=149#comment-574"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>محب علوی نے کافی عرصے بعد بلاگ پر تحریر لکھی،  آپ نے عراقی صحافی کے صدر بش کو جوتا مارنے پر کچھ اس طرح لکھا:</p>
<blockquote><p>بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا</p>
<p>’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘</p>
<p>شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔</p></blockquote>
<p><a href="http://mohib.urdutech.com/2008/12/16/shoe-attack/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://www.billubilla.com/"  target="_blank">بلو بلا</a> نے ایک تحریر لکھی، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ &#8220;راولپنڈی بن گیا وینس&#8221; اب راولپنڈی وینس کیسے بنا۔ ان کی تحریر ملاحظہ کریں:</p>
<blockquote><p>گزشتہ ادوار میں محترم شیخ رشید احمد صاحب سمیت مختلف وزراء اور سیاسی شخصیات اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ راولپنڈی کو پیرس بنا دیں گے۔ کچھ نہ سمجھ میں آنے والی ناگزیر وجوہات کی بناء پر پیرس کی بجائے نگاہِ انتخاب وینس پر جا ٹکی ہے۔ شاید حکمرانوں کے نزدیک وینس پیرس کی نسبت زیادہ رومانٹک شہر ہے۔ اس لئے انہوں نے راولپنڈی شہر کو پیرس کی بجائے وینس بنا دیا ہے۔ تمام سڑکوں اور گلیوں کو کھود کر پانی کھڑا ہونے کی خصوصی گنجائش پیدا کی گئی ہے ۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.billubilla.com/?p=120"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://sarapakistan.blogspot.com/"  target="_blank">سارہ پاکستان</a> نے پاکستان اور بھارت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر لکھی، &#8221; <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/2008/12/blog-post_29.html" >موہن جی آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔</a>&#8221;</p>
<blockquote><p>مگر موہن جی ہمیں آپ سے ایک شکایت ہے ،آپ نے دیکھا نا کہ ہمارے لوگ آپ کے بیانات کی وجہ سے کس قدر جوش میں‌آگئے تھے۔۔۔۔اپنے وطن کی حفاظت کے لیے پرعزم۔۔۔بس آپ کے اعلان جنگ کا انتظار تھا ہم آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتے۔۔۔۔۔مگر موہن جی آپ نے ہمیں تب کیوں نہ للکارا جب آپ کا ملک دنیا میں ایک بڑی اکناماک پاور بننے کے سفر پر نکلا تھا۔۔۔۔ایسے بیانات اور اعلان جنگ کا عندیہ آپ نے تب کیوں نہ دیا جب آپ کے ملک کی ثقافت کو ہم اپنانے جارہے تھے۔۔۔ہمارے گھر گھر میں‌آپ کی ثقا فت کا اہم جز ،رقص پہنچ گیا اور ہم اسے اپنی ہی ثقا فت کہنے پر اصرار کرنے لگے۔۔۔۔</p></blockquote>
<p><a href="http://sarapakistan.blogspot.com/2008/12/blog-post_29.html"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<h1>عید بیتی:</h1>
<p>دسمبر میں چونکہ عید بھی تھی۔ <a href="http://sajid.gumbat.com/tagged/tag-eid-nama/"  target="_blank">ساجد نےبلاگرز کو ٹیگ</a> کیا، جس میں بلاگرز کو اپنے اپنے علاقے کے بارے میں بتانا تھا کہ وہاں عید کیسے منائی جاتی ہے۔</p>
<p>ابو شامل نے &#8220;<a href="http://abushamil.urdutech.com/eid-naama/"  target="_blank">عید نامہ</a>&#8221; میں کافی تفصیل سے لکھا کہ کراچی میں عید کیسے منائی جاتی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا ‘وی آئی پی پویلین’ ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://abushamil.urdutech.com/eid-naama/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>اس کے علاوہ <a href="http://dareecha.urdutech.com/"  target="_blank">فرحت</a> نے برطانیہ میں عید سے متعلق لکھا۔ آپ لکھتی ہیں کہ:</p>
<blockquote><p>چونکہ عید کا دن بھی ورکنگ ڈے ہی ہوتا ہے اس لئے عید منانے کے انداز بھی مختلف ہیں۔</p>
<p>سکولوں میں چھٹی تو نہیں ہوتی لیکن مسلم اکثریت والے علاقوں میں کچھ مقامی سکول (عام طور پر پرائمری) مسلم طلبا کو چھٹی دے دیتے ہیں۔ لیکن سیکنڈری سکولز، کالجز یا یونیورسٹیز میں معمول کی کلاسز ہوتی ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://dareecha.urdutech.com/?p=422"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/"  target="_blank">راشد کامران</a> نے عید کے حوالے سے ایک نہایت ہی دلچسپ تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=159" >قربانی کی کھالیں ہمیں دیں ۔۔۔۔ ورنہ؟</a>&#8220;لکھی۔ جس میں آپ لکھتے ہیں کہ :</p>
<blockquote><p>عید قرباں ویسے تو کئی حوالوں سے منفرد ہے خاص کر شہری لوگ ایک آدھ دن کے لیے جانوروں سے تھوڑا قریب ہوجاتے ہیں‌ اور تازہ گوشت کا مزہ بھی چکھ لیتے ہیں۔ عید پر سب سے بڑا مسئلہ قربانی کے جانور کی خریداری سمجھا جاتا ہے لیکن میرے لیے چرم قربانی اس سے کہیں‌ بڑا مسئلہ ہے۔ سلسلہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ آپ سارا دن کے تھکے ماندے جانور کی خریداری کے بعد گھر پہنچتے ہیں کہ اچانک گھر کے دروازے پر دستکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے غیر منظم کارکنان آپ کی گائے پر بری نظریں ڈالتے آپ کے گھر کا طواف کرنا شروع کردیتے ہیں۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/?p=159"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<h1>معلوماتی تحاریر:</h1>
<p><a href="http://www.pakiez.com/"  target="_blank">پاکستانی</a> نے المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کے مسئلے پر ایک جائزہ لیا۔ جس میں آپ کہتے ہیں کہ :</p>
<blockquote><p>١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.pakiez.com/617/17/12/2008/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p>صدر پاکستان  آصف علی زرداری نے فرانس کے اخبار “لی فیگارو” کو ایک <a target="_blank" href="http://www.lefigaro.fr/international/2008/12/15/01003-20081215ARTFIG00235-asif-ali-zardari-l-inde-n-est-pas-l-ennemi-du-pakistan-.php" >انٹرویو </a>دیتے ہوئے یہ کہا کہ</p>
<p>“پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں”</p>
<p>جس پر ابو شامل نے اپنی تحریر &#8220;<a href="http://abushamil.urdutech.com/sick-man-of-asia/"  target="_blank">ایشیا کا مرد بیمار</a>&#8221; میں لکھا کہ</p>
<blockquote><p>یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔</p></blockquote>
<p>آپ نے اپنی تحریر میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا تاریخی پس منظر بھی پیش کیا۔  <a href="http://abushamil.urdutech.com/sick-man-of-asia/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔۔</a></p>
<p>زین نے &#8220;<a href="http://zain.wordpress.pk/2008/12/29/my-city-quetta/"  target="_blank">میرا شہر</a>&#8221; کوئٹہ پر ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے کوئٹہ کی تاریخ بھی بیان کی ہے۔</p>
<blockquote><p>کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔</p></blockquote>
<p><a href="http://zain.wordpress.pk/2008/12/29/my-city-quetta/"  target="_blank">مزید پڑھیں۔۔۔</a></p>
<p><a href="http://mbilal.paksign.com/"  target="_blank">ایم بلال</a> نے  ایک کلیدی تختہ بنایا۔ جسے آپ <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=32"  target="_blank">یہاں</a> سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلال نے <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=38"  target="_blank">ونڈوز ایکس پی</a> اور <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=48"  target="_blank">ونڈوز وسٹا</a> میں اردو کی تنصیب کا طریقہ بھی پوسٹ کیا۔ جو کہ نئے آنے والوں کے لیے نہایت ہی مفید معلومات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بلال نے ایک کتابچہ بنایا ہے۔ جس میں انہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لئے معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ اسے <a href="http://mbilal.paksign.com/?p=58"  target="_blank">پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ</a> بھی کر سکتے ہیں۔</p>
<h1>منظر نامہ نیوزَ:</h1>
<ul>
<li><a href="http://urdutech.net/"  target="_blank">اردو ٹیک</a> کے ڈاؤن رہنے پر <a href="http://pakfact.com/"  target="_blank">پاک فیکٹ</a> نے اسے <a href="http://pakfact.com/?p=149"  target="_blank">اردو بلاگرز کی نا اہلی</a> قرار دیا۔</li>
</ul>
<ul>
<li>شکاری نے نیا بلاگ شروع کیا: <a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net" >http://shekari.0fees.net</a></li>
</ul>
<ul>
<li><a href="http://noumanali.com/"  target="_blank">نعمان علی</a> نے &#8220;<a href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2008/12/21/%D9%BE%D8%B7%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.html"  target="_blank">پطرس کے مضامین&#8221;</a> مکمل کیے۔</li>
</ul>
<ul>
<li><a href="http://javediqbal.ueuo.com/"  target="_blank">جاوید اقبال</a> نے <a href="http://javediqbal.ueuo.com/?cat=2"  target="_blank">سورۃ الفجر کی تفسیر</a> پوسٹ کی۔</li>
</ul>
<ul>
<li>&#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/"  target="_blank">میرا پاکستان</a>&#8221; کی تحریر &#8220;<a href="http://www.mypakistan.com/?p=1876"  target="_blank">صدر ہماری نظر میں</a>&#8221; اور <a href="http://www.theajmals.com/blog/"  target="_blank">اجمل صاحب</a> کی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1370" >شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی</a>&#8221; زیر بحث رہیں۔</li>
</ul>
<h3>نئے اردو بلاگ:</h3>
<ol>
<li>بلو بلا: <a target="_blank" href="http://www.billubilla.com" >http://www.billubilla.com</a></li>
<li>سارہ پاکستان: <a target="_blank" href="http://sarapakistan.blogspot.com/" title="http://sarapakistan.blogspot.com/" >http://sarapakistan.blogspot.com/</a></li>
<li>نیا بلاگ ایگریگیٹر:<a target="_blank" href="http://blogs.tuzk.net/" title="http://blogs.tuzk.net/" >http://blogs.tuzk.net/</a></li>
</ol>
<ul>
<li>اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر تبصروں سے متعلق ایک مضمون <a href="http://www.jasarat.com/main.php"  target="_blank">روزنامہ جسارت کراچی</a> کے سنڈے میگزین میں شائع کیا گیا۔ اشاعت 30 نومبر 2008ء۔ جس کا ذکر <a href="http://abushamil.urdutech.com/urdu-blogs-great-achievement/"  target="_blank">ابو شامل</a> نے اپنے بلاگ پر کیا۔</li>
</ul>
<ul>
<li>اردو ڈیجیٹل لائبریری: ایک نئی ویب سائٹ :<a target="_blank" href="http://www.urdurasala.com/" >http://www.urdurasala.com/</a></li>
</ul>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/01/dec-2008-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نومبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 03 Dec 2008 00:09:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/2009/01/%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2008-%da%a9%db%92-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af/</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کے لیے نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ معاشرہ و سیاست: عارف انجم نے اپنی ایک عمدہ تحریر &#8221;اس کی تشنگی کا سامان کر&#8220; میں انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس کے ایک مضمون کے بارے میں لکھا ہے، جو کہ مرد اور عورت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کے لیے نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ </p>
<p><b>معاشرہ و سیاست:</b> </p>
<p>عارف انجم نے اپنی ایک عمدہ تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://www.zamima.com/life/give-a-pattern-to-life/" >اس کی تشنگی کا سامان کر</a>&#8220; میں انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس کے ایک مضمون کے بارے میں لکھا ہے، جو کہ مرد اور عورت کے بارے میں ہے۔ </p>
<blockquote><p>انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس اپنے ایک Essay میں کہتے ہیں کہ عورتیں اسی طرز پر زندگی گزارنا چاہتی ہیں جو ان کے مردوں کو پسند ہو لیکن کئی مرد خود کاٹھ کے اُلو ہوتے ہیں اور سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کیسی عورت پسند ہے، کبھی وہ طرح دار خاتون کے دیوانے ہوں گے تو کبھی سادگی پر مر مٹیں گے، اسی الجھن میں وہ بے پیندے کے لوٹے کی طرح ڈگمگاتے پھرتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>آپ لارنس کے مضمون پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد آخر میں آپ مرد اور عورت کے رشتے اور زندگی کو درست انداز میں گزارنے کے لیے آسان حل یہ بتاتے ہیں کہ: </p>
<blockquote><p>اپنے گھر کے لیے وہ طرز زندگی منتخب کیا جائے جس کی ساری گائیڈ لائنز اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رکھ دی ہیں اور جس کے عملی نمونے حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے فراہم کردیئے ہیں۔ یہ پیٹرن صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ خود مرد کے لیے بھی ہے۔ اس طرح وہ نت نئی خواہشات کے پیچھے بھی نہیں بھاگے گا۔ </p>
</blockquote>
<p>بچے گود لینے کا رجحان کہاں کہاں اور کیسا ہے، اس موضوع پر لکھا ہے میرا پاکستان نے۔ تحریر کا عنوان ہے &#8221;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1815" >بچہ گود لینا</a>&#8220;۔ آپ لکھتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>جب تک ہم پاکستان سے باہر نہیں نکلے تھے ہمیں بچہ گود لینے کی افادیت کا اندازہ نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے صرف اپنے عزیزواقارب کو عام پاکستانیوں کی طرح اپنے بہن بھائیوں کے بچے گود لیتے دیکھا تھا مگر کسی کو یتیم بچہ گود لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ </p>
</blockquote>
<p>یعنی پاکستان میں یتیم بچوں کو گود لینے سے لوگ جھجھکتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس دوسرے ممالک میں ایسانہیں ہے۔ </p>
<blockquote><p>لیکن جب ہم نے پاکستان سے باہر قدم رکھا اور گوروں کو کالے، چینی اور میکسیکن بچے گود لیتے اور انہیں اپنی خوشی سے پالتے دیکھا تو پتہ چلا کہ بچہ گود لینا خود ایک عبادت ہے۔ ویسے تو قرآن اور حدیث میں واضح ارشاد ہے کہ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو مگر ہم جس طرح کے مسلمان ہیں اس کی بھی حکم عدولی کر جاتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>شب نے اپنی ایک تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2008/11/25/neki/" >نیکی بھی مشکل</a>&#8220; میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح چوری کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں اور آج کے دور میں نیکی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ </p>
<p>ہمارے ملک میں جسے دیکھو، حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر خود کو تمام ذمہ داریوں سے بری سمجھتا ہے۔ اسی اہم موضوع پر پاکستانی نے ایک تحریر لکھی، جس میں آپ کہہ رہے ہیں کہ &#8221;<a target="_blank" href="http://www.pakiez.com/592/28/11/2008/" >حکمرانوں کو نہیں عوام کو جگائیں</a>&#8220;۔ </p>
<blockquote><p>اس وقت تمام بلاگرز کے قلم موتی بکھیر رہے ہیں مجھے ان کے الفاظ سے مکمل اتفاق ہے۔ ان سے ایک شکایت بھی ہے اور وہ شکایت یہ ہے کہ آپ اکثر حمکران ٹولے کو جھنجھوڑتے نظر آتے ہیں، سارے گلے شکوے بھی اسی سے کرتے ہیں، لیکن افسوس ہمارے حکمران طبقے میں عمل کا فقدان ہے اور ان کے اندر کا انسان مر چکا ہے، یقیناََ مردے کبھی واپس نہیں آتے بلکہ وہ تو جاگنے کے لئے صرف قیامت کے منتظر ہوتے ہیں۔ آپ ان مردوں کو جگانے کے لئے اپنے قلم کی سیاہی کیوں ضائع کر رہے ہیں۔ آپ حکمرانوں کی بجائے عوام کو جھنجھوڑیں، انہیں جگائیں، کیونکہ عوام کے اندر ابھی بیدار ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ صرف ان کے لاغر جسموں میں کرنٹ دوڑانے کی ضرورت ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>امید بہار۔۔۔ نام سے اگرچہ معنی یہ نکلتے ہیں کہ بہار کی امید ہے لیکن اپنی تحریر <a target="_blank" href="http://umeedebahar.blogspot.com/2008/11/blog-post.html" >پاکستانیوں کے لیے پیغامِ نصیحت</a> میں پاکستانیوں کو صاف صاف پیغام دیا ہے کہ </p>
<blockquote><p>اس ملک میں ایماندار اور قابل لوگوں کے لئے ترقی کے تمام رستے ہر عہد حکومت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے بند ہیں۔ پاکستان کو صرف گندے، نااہل، اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے فوجیوں، سیاستدانوں، ججوں، افسروں اور صحافیوں کی ضرورت ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>راشد کامران کا نام دنیائے اردو بلاگنگ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کے خوبصورت اور دلچسپ اندازِ بیان کے سبھی معترف ہیں۔ آپ کی حال ہی میں لکھی جانے والی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=146" >گندا بچہ</a>&#8220; گو کہ سیاسی ہے لیکن بہت ہی لطیف پیرائے میں۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>پرائمری اسکولوں میں کلاس میں کم از کم ایک بچے کے لیے گندا بچہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسکول میں&#8204;ہونے والی ہر شرارت کا الزام اسی گندے بچے پر لگایا جاتا تھا چاہے اس بچے کا اس میں دور کا بھی ہاتھ نہ ہو۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال بالکل ایسے ہی گندے بچے کی ہے جس پر دنیا میں ہونے والی ہر دہشت گردی اور تباہی کا الزام لگا دیا جاتا ہے اور لوگ اس پر بغیر کسی چوں چراں اور تحقیق کے ایمان بھی لے آتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر پاکستان کی سیاسی قیادت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: </p>
<blockquote><p>گندا بچہ بننے کا یہ نقصان تو اٹھانا ہی ہوتا ہے لیکن اس وقت میرا مسئلہ پاکستان میں&#8204;قیادت کا فقدان ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے تو میں زرداری اور گیلانی کی جوڑی کو ایک پرائمری اسکول چلانے کا اہل بھی نہیں&#8204; سمجھتا ملک تو بڑی دور کی بات ہے اور جس طرح&#8204; ہمارے وزیر اعظم بیانات بدلتے ہیں اتنی جلدی تو کوئی گرمی میں&#8204;کپڑے بھی نہیں بدلتا۔ خدانخواستہ بھارت کے سیاستدان کسی مہم جوئی پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور بھارتی فوج اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اجتماع منعقد کرلیتی ہے تو ہمارے صدر آپ کو نیویارک میں اور وزیر اعظم غالبا چین میں&#8204;دستیاب ہوں&#8204;گے۔ </p>
</blockquote>
<p><b>معلومات</b> </p>
<p>مکی نے انٹرنیٹ پر آپ کی تحریر کو چوری سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی معلوماتی پوسٹ کی ہے۔۔ &#8221;<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=292" >انٹرنیٹ کے چور</a>&#8220;۔ </p>
<p>آپ لکھتے ہیں کہ : </p>
<blockquote><p>- مضامین کاپی کرنے سے آپ: </p>
<p>1- جن لوگوں کے آپ نے مضامین چرائے ہیں ان کے ساتھ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں. </p>
<p>2- گوگل کا اعتبار کھودیتے ہیں. </p>
<p>3- دوسروں پر ثابت کرتے ہیں کہ آپ بے وقوف ہیں اور آپ کا دماغ سوچنے اور کچھ ایجاد کرنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہے. </p>
<p>4- یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ سست ہیں اور کوئی محنت کرنے کے قابل نہیں. </p>
<p>- لوگ آپ کا احترام کریں گے اگر: </p>
<p>1- اگر آپ ان سے ان کے مضامین اپنی ویب سائٹ پر نقل کرنے کی اجازت طلب کریں. </p>
<p>2- مضمون کاپی کرنے کی بجائے آپ اس کا ربط اپنی ویب سائٹ پر دے دیں. </p>
<p>3- مباحثہ کی غرض سے مضمون کے کچھ حصے کا مصدر کے ذکر کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اقتباس کر لیں جو آپ کی سنجیدگی کی دلیل ہوگی. </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/" >جہانزیب اشرف</a> معروف اردو بلاگر ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ورڈ پریس کے <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/html-lessons/" >سانچے بنانے کا طریقہ</a> بھی سکھایا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے امریکی جرگے کے حوالے سے ایک بے حد معلوماتی، تفصیلی اور اپنے ذاتی تجربے پر مبنی ایک تحریر بعنوان &#8221;<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/grand-juror/" >امریکی جرگہ</a>&#8220; لکھی ہے۔ تحریر کرتے ہیں کہ </p>
<blockquote><p>فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی انصاف میں کلیدی حثیت ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں لیکن نا مکمل ہے۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر آپ ٹرائل جیوری اور گرینڈ جیوری کے بارے میں تفصیل لکھتے ہیں جو نہ صرف معلوماتی بلکہ بے حد دلچسپ بھی ہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://pakfact.com/" >پاک فیکٹ</a> حال ہی میں سامنے والا ایک معیاری اور اپنی نوعیت کا منفرد ﴿شاید پہلا﴾ بلاگ ہے جس میں میڈیا پر آنے والی خبروں، کالم اور ان سے متعلقہ امور پر تنقید، تبصرے اور معیاری تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں خبریت کا فقدان کس قدر ہے اور کس طرح اشتہارات سے خانہ پری کی جاتی ہے، اس کا اندازہ پاک فیکٹ کی ایک مختصر مگر جامع تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان ہے: <a target="_blank" href="http://pakfact.com/?p=110" >پاکستانی اخبارات میں &#8217;خبریت&#8216; کا فقدان- ایک تنقیدی جائزہ</a>۔ </p>
<p>عادل نے تصاویر کی آن۔لائن ایڈینگ کے لیے کچھ سائٹس اپنے بلاگ کی ایک پوسٹ میں لکھی ہیں۔ عنوان ہے: <a target="_blank" href="http://adil.urdutech.com/?p=208" >اپنی تصویروں سے آن لائن کھیلنے کی کمال سائٹس</a>۔ </p>
<p>وارث نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/2008/11/29/a-request-to-urdu-bloggers/" >اردو بلاگرز سے درخواست</a> کی ہے کہ تمام اردو بلاگرز بلاگ ایگریگیٹرز پر اپنا بلاگ رجسٹر کروائیں۔ تحریر میں انہوں نے مخلتف ایگریگیٹرز کا ذکر بھی کیا ہے۔ </p>
<p><b>آپ بیتیاں</b> </p>
<p>ماں۔۔۔ کس قدر عظیم ہستی ہے شاید ہم اس کا اندازہ ہی نہیں کرپاتے۔ ہاں، تھوڑا بہت اندازہ تب ہوتا ہے، جب یہ عظیم ہستی ہم سے بچھڑ جاتی ہے۔ اپنی ماں کے بارے میں کئی قیمتی یادیں اپنے بلاگ پر ہم سے بیان کیں شاہدہ اکرم نے۔ تحریر کا عنوان تھا &#8221;<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2008/11/05/woh-aik-di/" >وہ ایک دن</a>&#8220;۔ تحریر کا آغاز افسانوی انداز میں کرتی ہیں لیکن ابتدائی پیرا میں جو درد موجود ہے، وہ بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لکھتی ہیں: </p>
<blockquote><p>کہنے کو سب دِن ايک سے ہوتے ہيں ليکِن زِندگی ہے نا تو سب کے لیے سب دِن ايک سے نہيں ہوتے وقت جو ہميشہ سب کو اپنے رنگ دِکھاتا ہے کبھی وہی وقت کسی ايک کے لِۓ اِنتہائ خُوشی کا ہوتا ہے اور وُہی دِن کِسی کے لِۓ دُکھوں کی سوغات اور يادوں کے پٹارے ميں سے عجيب عجيب اور پياری پياری کِن مِن کرتی يادوں کی بُوندوں بھری برساتيں لے کر آتا ہے چارنومبر کا دِن جو ميرے نا چاہنے کے باوجُود ہر سال آتا ہے اور ہميشہ آتا ہی رہے گا ليکِن ناجانے کيُوں ميرادِل چاہتا ہے يہ دِن کيلينڈر سے غائب ہو جاۓ جانتی ہُوں ايسا ہو نہيں سکتا پھر بھی تمنّا کرنے ميں کيا حرج ہے؟ آج چارنومبر نہيں ہے گُزر چُکا ہے وُہ دِن کہ اُس دِن ميں چاہ کر بھی کُچھ نہيں کر پاتی۔ </p>
</blockquote>
<p>آگے چل کر اپنی والدہ اور ان کی انتقال پُرملال سے متعلق اپنی یادیں بیان کرتی ہیں تو نہ صرف قاری کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں بلکہ احساس ہوتا ہے جیسے لکھتے ہوئے شاہدہ صاحبہ کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔ </p>
<p>ہمارے تعلیمی اداروں کا معیار اب کس صاحبِ نظر سے پوشیدہ ہے؟ شاکر کی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/286" >سر جی</a>&#8220; بھی آجکل کے طلبا اور سکولوں کی عکاسی کر رہی ہے۔ جس میں آپ امتحانات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: </p>
<blockquote><p>یہ حقیقت ہے کہ بی اے تک ایسے ٹوٹکے چلتے ہیں۔ ایک خواب نامی مضمون میں ایکسیڈنٹ کو گھسیڑ کر دو مضمون بنا لیے جاتے ہیں۔ میں سڑک کے کنارے جارہا تھا کہ میں نے ایک بس کو آتے دیکھا۔ پھر ایکسیڈنٹ ہوا اور پھر آخر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا پتا چلا یہ تو خواب تھا۔ اب اگر خواب والا آجائےتو سارا لکھ دو ورنہ آخری حصہ نکال دو۔ خط ایک ہوتا ہے، لیکن اس کا مضمون ایسا مبہم ہوتا ہے کہ پندرہ بیس عنوانات تلے آجاتا ہے۔ شاگرد خوش ہوجاتے ہیں، استاد کو پیسے مل جاتے ہیں اور پرچے بھی پاس ہوجاتے ہیں۔ </p>
</blockquote>
<p><b>آپ بیتیاں:</b> </p>
<p>آپ بیتیوں میں ہمارے سامنے جو تحاریر موجود ہیں، ان میں ایک تحریر میرا پاکستان کی ہے جس کا موضوع ہے &#8221;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1770" >قلم، دوات اور تختی</a>&#8220;۔ اس تحریر میں انہوں نے اپنے بچپن کی یادیں بیان کی ہیں جب بال پوائنٹ کا رواج نہیں تھا اور قلم، دوات استعمال کیے جاتے تھے۔ </p>
<p>امن کی تحریر &#8221;<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=188" >یادداشت</a>&#8220; نہ صرف آپ بیتی ہے بلکہ ورڈ پریس کی ایک تھیم کو اردو قالب میں ڈھالنے کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کا اچھا جائزہ پیش کرتی ہے۔ </p>
<p>افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر 6 نومبر 1947ء کو ہونے والے قتل عام سے متعلق تحریر کئی افسوس ناک واقعات اور انکشافات سے پردہ اٹھاتی نظر آئی۔ موضوع تھا: <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1312" >نام نہاد امن کے پجاریوں نے چند گھنٹوں میں ایک لاکھ مسلمان قتل کئے</a></p>
<p><b>شعر و ادب</b> </p>
<p><b></b></p>
<p>وارث نے فیض احمد کی چوبیسویں برسی کے موقع پر فیض احمد فیض کی فارسی نعت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ </p>
<p>آپ لکھتے ہیں کہ : </p>
<blockquote><p>فیض کے کلیات &#8220;نسخہ ھائے وفا&#8221; میں شامل آخری کتاب &#8220;غبار ایام &#8221; کا اختتام فیض کی ایک خوبصورت فارسی نعت پر ہوتا ہے اور شاید کلیات میں یہ واحد نعت ہے۔ بہت دنوں سے ذہن میں تھا کہ اس نعت کو لکھوں اور آج فیض کی برسی کے موقعے پر اس خوبصورت نعت کر مع ترجمہ پوسٹ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ </p>
<p>اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو      <br />آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تو </p>
<p>اے کہ آپ (ص) کا ہر دکھی دل میں ٹھکانہ ہے، میں نے بھی آپ کے لیے ایک اور سرائے بنائی ہے یعنی کہ میرے دکھی دل میں بھی آپ کا گھر ہو جائے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/2008/11/20/naat-faiz-ahmed-faiz/" >مزید پڑھیے۔۔۔</a> </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب</a> نے اپنی ایک عمدہ غزل اور فلیش پوسٹ کیا۔ </p>
<p>غزل کا پہلا شعر کچھ یوں ہے۔۔۔ </p>
<blockquote><p>میرے پیار کے جذبے پر یہ غصے کا اظہار کیوں؟ </p>
<p>مجھ سے ملنے سے اے ہمدم کرتا ہے انکار کیوں؟ </p>
</blockquote>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>بقیہ غزل اور فلیش <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/2008/11/17/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%92-%D9%BE%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94/" >یہاں</a> ملاحظہ کیجیے۔ </p>
<p>&#160;</p>
<p><b></b></p>
<p><b>دانائی کی باتیں</b> </p>
<p><b></b></p>
<h4>اجمل صاحب اپنی پوسٹ <a href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1301"  target="_blank">قانونِ قدرت</a> میں پوچھ رہے ہیں کہ:</h4>
<blockquote><p>سیب یا ناشپاتی میں آٹھ دس تخم یا بِیج ہوتے ہیں اور ایک درخت پر سو سے پانچ سو تک سیب یا ناشپاتیاں لگتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنے زیادہ بیج کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں بہت کم کی ضرورت ہوتی ہے ؟ </p>
</blockquote>
<p>اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی تحریر میں اس کا جواب کچھ یوں دے رہے ہیں </p>
<blockquote><p>دراصل اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی ہمیں بتاتا ہے کہ سب بیج ایک سے نہیں ہوتے ۔ کچھ اُگتے ہی نہیں ۔ کچھ پودے اُگنے کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور کچھ صحیح اُگتے ہیں اور پھل دیتے ہیں ۔ اِس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ۔۔۔<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1301" >مزید پڑھیے۔۔۔</a> </p>
</blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/" >اکرام</a> نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/2008/11/29/%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA/" >اقوال</a> لکھے: </p>
<blockquote><p>جو شخص نگاہ کی التجا نہ سمجھے اس کے سامنے زبان کو شرمندہ مت کر۔ </p>
<p>دینا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح اور سب سے آسان کام نکتہ چینی ہے ۔ </p>
<p>انسان خود نہیں اسکا کردار عظیم ہوتا ہے۔ </p>
<p>خاموش انسان پہاڑ کی مانند رعب دار ہوتا ہے ۔ </p>
</blockquote>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p>&#160;</p>
<p><a target="_blank" href="http://ikram.urdutech.net/2008/11/29/%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA/" >م</a>زید پڑھیے۔۔۔ </p>
<p><b></b></p>
<p><b></b></p>
<p><b>چلتے چلتے</b> </p>
<p>آخر میں کچھ بلاگز پر نظر ڈالتے چلیں۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >نعمان علی</a> باقاعدگی سے معروف مزاح نگار پطرس بخاری کے فن پارے پیش کرتے رہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> ماہ نومبر کے سب سے زیادہ فعال بلاگر رہے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.myurdujoke.com/" >اردو لطائف</a> پر مسلسل اچھے اور دلچسپ اردو لطائف پڑھنے کو ملے۔ </p>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/" >اردو ماسٹر</a> قدرے سست رفتاری سے مگر باقاعدگی سے جاری رہا اور کئی مفید اور معلوماتی اسباق سامنے آئے۔ </p>
<p>یہ تھے ماہ نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کا مختصر سا جائزہ۔ امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا۔ اگر کوئی بلاگر سمجھتا ہے کہ اس کی تحریر بھی ہمیں شامل کرنی چاہیے تھی اور نہیں کی تو وہ ہم سے شکایت کرسکتا ہے۔ :﴾ اگرچہ تمام بلاگز کی فہرست مہیا کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جتنے اہم اور اچھے بلاگز ہماری نظر سے گزریں، ہم انہیں اپنی تحریر میں لے آئیں۔ </p>
<p>اجازت دیجیے اس دعا کے ساتھ کہ جہاں رہیں، خوش رہیں اور منظرنامہ کے تمام قارئین کو عید الاضحٰی بہت بہت مبارک ہو۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/12/nov-2008-urdu-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اکتوبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/11/october-2008-urdu-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/11/october-2008-urdu-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 31 Oct 2008 23:43:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=93</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم! ماہ اکتوبر میں اردو بلاگنگ میں کافی سرگرمی نظر آئی، کئی نئے بلاگرز اردو بلاگنگ کی طرف آئے اور کچھ نئی سائٹس کا اجرا ہوا۔ مزید کیا کیا ہوا۔ آئیے اس پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔ معاشرہ و سیاست: ستمبر کے آخر میں خورشید آزاد نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم!</p>
<p>ماہ اکتوبر میں اردو بلاگنگ میں کافی سرگرمی نظر آئی، کئی نئے بلاگرز اردو بلاگنگ کی طرف آئے اور کچھ نئی سائٹس کا اجرا ہوا۔ مزید کیا کیا ہوا۔ آئیے اس پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<h6>معاشرہ و سیاست:</h6>
<p>ستمبر کے آخر میں <a href="http://bolo.urdutech.net/"  target="_blank">خورشید آزاد</a> نے مئیریٹ ہوٹل پر ہونے والے دھماکے پر &#8220;<a target="_blank" href="http://bolo.urdutech.net/?p=59" >ہماری غلط فہمی و خوش فہمی</a>&#8221; سلسلے کا آغاز کیا۔ اور بیس اکتوبر تک اس کی سات قسطیں سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسط میں خورشید اردو بلاگرز پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;آج کل اردو بلاگ کی دنیا اور انٹرنیٹ پر ایک بحث ہورہی ہے جس میں اپنی اپنی دور کی کوڑیاں لا کر یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میرئیٹ ہوٹل بم دھماکہ دراصل پاکستان کے خلاف کوئی سازش تھی۔&#8221;</p>
<p>ان کے خیال میں ایسی باتیں کر کے ہم غیر منطقی قسم کی افوائیں پھیلائیں رہے ہیں۔</p></blockquote>
<p>پھر وہ ہماری غلط فہمی یا خوش فہمیوں کے بارے میں کچھ ایسے کہتے ہیں۔</p>
<blockquote><p>جہاں تک میرئیٹ ہوٹل بم دھماکے کاسوال ہے میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میریٹ ہوٹل بم دھماکہ امریکی سازش ہے یا یہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے یہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں یہ ہماری عادت بن چکی ہےکہ ہمیشہ اپنی کوتائیوں اور اپنے قومی فرائض سے چشم پوشی کرکےہر معاملے میں “دال میں کچھ کالا” ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان غیرمنطقی نام نہادحقائق کو ایک عذر کے طورپرپیش کرتے ہیں اپنی ناکامیوں اور کوتائیوں کا۔</p>
<p><strong>ہماری غلط فہمی و خوش فہمی</strong><br />
بھائیو آج کل انٹرنیٹ کےعلاوہ پاکستانی ٹی وی پروگراموں میں بھی پاکستان کی حالت پر زبردست بحث مباحثہ ہوتا ہے جسنے مجھے پریشان کردیا ہے اورسوچنے پرمجبور کردیاہے کہ۔۔۔۔۔</p>
<p>ہم کیا ہیں؟ ؟<br />
پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟<br />
اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟<br />
اقوامِ عالم میں ہمارا رتبہ کیا ہے؟؟<br />
ہماری مالی و فوجی طاقت کیا ہے؟؟</p></blockquote>
<p>اسی طرح خورشید نے اپنی ان <a href="http://bolo.urdutech.net/?cat=59"  target="_blank">سات قسطوں پر مشتمل سلسلے</a> میں مختلف موضوعات کو زیر بحث لایا ہے۔</p>
<p><a href="http://mbilal.paksign.com/"  target="_blank">ایم بلال</a> نے ایک تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=17" >اسلامی جمہوریہ پاکستان سے آباؤاجدادی جمہوریہ اقتدارستان (تبدیلی نام)</a>&#8221; کے نام سے لکھی۔ جس میں وہ حکومت پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;ہمارے معاشرے میں اتنی خرابی پیدا ہوگئی ہے کہ ہم کوئی کام خود سے کرتے تونہیں لیکن اپنی بات دوسروں پر ٹھونستے ضرور ہیں۔ جیسے بچے کا نام اُس کے رشتہ دار ٹھونستے ہیں اسی طرح ہماری حکومت خود سے کچھ کرنے کی بجائے عوام کی محنت یا گذشتہ حکومت کے اچھے کاموں پر اپنا نام ٹھونستی ہے بلکہ حکومت تو اس سے بھی ایک قدم آگے نکل گئی ہے۔ وہ تو پہلے سے بنی ہوئی چیزوں اور اُن کے رکھے ہوئے ناموں کو تبدیل کر کے اپنی مرضی کے نئے نام ٹھونس رہی ہے۔ نوا ب شاہ کا نام تبدیل کر کے بینظیر بھٹو شہید رکھ دیا ہے۔ سیدنواب شاہ کی روح کے ساتھ عجیب مذاق کیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سید نواب شاہ کی طرح زرداری صاحب خود سے ساڑھے چھ سو ایکڑ زمین غریبوں کو شہر بسانے کے لئے دیتے پھر اُس شہر کا جو چاہے نام رکھتے۔ چاہے بینظیر بھٹو شہید رکھتے یا زرداری ٹا ؤن رکھتے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا بلکہ خوشی ہوتی۔ ایک اور نام ٹھونس دیا گیا ہے۔ اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا نام بینظیر بھٹو شہید کر دیا گیا ہے۔ ویسے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک نئا ایئر پورٹ بنایا جاتا پھر اُس کا نام بینظیر بھٹو شہید رکھا جاتا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;سنا ہے اس میدان میں وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ اب تو صوبہ سرحد کی حکومت بھی اتر چکی ہے اور پشاور ایئر پورٹ کا نام بھی تبدیلی کے مراحل میں ہے۔ نئانام باچا خان(غفار خان) کے نام پر رکھا جا رہا ہے۔&#8221;</p></blockquote>
<p>اور آخر میں آپ اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;اگر ایسے ہی نام تبدیل ہوتے رہے اور ہر اقتدار میں آنے والے نام ہی تبدیل کرتے رہے تو لگتا ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب مزارِ قائد اور علامہ اقبال کے مقبرے تک کا نام اپنے آبا ؤاجداد کے نام سے تبدیل کر دیا جائے گا بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام آبا ؤاجدادی جمہوریہ اقتدارستان ہو جائے گا۔&#8221;</p></blockquote>
<p><a href="http://www.theajmals.com/blog/"  target="_blank">افتخار اجمل</a> نے &#8220;<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/?p=1290" >ثقافت اور کامیابی</a>&#8221; تحریر لکھی، جس میں انہوں نے ہمارے معاشرے کی چند برائیوں کو سامنے لایا ہے، جسے ہمارے معاشرے میں ثقافت کا نام دیا جانے لگا ہے۔  آپ لکھتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;ثقافت کا غوغا تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی کہ ثقافت ہوتا کیا ہے اور نہ کسی کو معلوم ہے کہ ہماری قدیم تو بہت دُور کی بات ہے ایک صدی قبل کیا تھی ۔ ثقافت [culture] کہتے ہیں ۔ ۔ ۔</p>
<p>1 ۔ خوائص یا خصوصیات جو کسی شخص میں اس فکر یا تاسف سے پیدا ہوتی ہے کہ بہترین سلوک ۔ علم و ادب ۔ ہُنر ۔ فَن ۔ محققانہ سعی کیا ہیں<br />
2 ۔ وہ جو علم و ادب اور سلوک میں بہترین ہے<br />
3 ۔ ایک قوم یا دور کے تمدن ۔ تہذیب یا شائستگی کی شکل<br />
4 ۔ دماغ کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ترقی ۔ نشو و نما ۔ تکمیل یا اصلاح<br />
5 ۔ کسی گروہ کا ساختہ رہن سہن کا طریقہ جو نسل در نسل چلا ہو<br />
6 ۔ طور طریقہ اور عقائد جو کسی نظریاتی گروہ یا صحبت کی نمایاں صفت ہو&#8221;</p></blockquote>
<p>اس کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>&#8220;پچھلی چند دہائیوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ثقافت شاید ناچ گانے اور بے حیائی کا نام ہے ۔ اس میں پتگ بازی اور ہندوآنہ رسوم کو بھی ہموطنوں نے شامل کر لیا ہے ۔ شادیاں ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں ہوتی ہیں ۔ شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کا قابلِ اعتراض بلکہ فحش گانوں کی دھنوں پر ناچنا شادیوں کا جزوِ لاینفک بن چکا ہے جو کہ کھُلے عام ہوتا ہے ۔&#8221;</p></blockquote>
<p><a href="http://dost.urducoder.com/"  target="_blank">شاکر عزیز</a> نے ایک بہترین تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://dost.urducoder.com/archives/277" >جرم</a>&#8221; لکھی، جو ہمارے معاشرے کی بے بسی کی عکاسی کر رہی ہے۔</p>
<h6>معلومات:</h6>
<p>راشد کامران نے لینکس سے متعلق ایک نہایت ہی بہترین اور معلوماتی مضمون لکھا۔ جس کا عنوان ہے &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=103" >لینکس کا انتخاب کیسے کریں؟</a>&#8221;</p>
<p>بدتمیز نے گوگل ایڈسینس سے متعلق ایک معلوماتی تحریر&#8221;<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/10/23/%d8%ac%d8%a7%da%af%d9%88-%d8%ac%da%af%d8%a7%d8%a4/" >جاگو جگاؤ</a>&#8221; لکھی، جو بہت سوں کے لیے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اور اسی سے متعلقہ دوسری تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/10/24/%d8%a7%db%8c%da%88-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3/" >ایڈ سینس سینس</a>&#8220;۔</p>
<p>جہانزیب نے اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/government-of-pakistan/" >حکومتِ پاکستان</a>&#8221; میں حکومت پاکستان کی ویب سائٹ اور صوبوں کی سائٹس پر انگریزی یا اردو زبان کے اختلاف کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;کچھ معلومات کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل مجھے <a target="_blank" href="http://www.pakistan.gov.pk/" >حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ</a> پر جانے کا اتفاق ہوا، ایک تو وہی گِھسا پٹا اعتراض جو میرے جیسے عوام اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ویب سائٹ مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے، اردو میں حکومت ،حکومتی اداروں یا سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;حکومتِ پاکستان کی <a target="_blank" href="http://geotool.servehttp.com/?ip=74.86.146.128&amp;host=www.pakistan.gov.pk" >ویب سائٹ کے سرور امریکہ</a> میں ہیں جو کہ میرے لئے حیران کن بات ہے ۔ پھر فرداً فرداً ہر صوبے کی ویب سائٹ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ سوا <a target="_blank" href="http://geotool.servehttp.com/?ip=203.215.175.4&amp;host=pportal.punjab.gov.pk" >صوبہ پنجاب</a> کے باقی تمام صوبوں کے سرور بھی امریکہ میں موجود ہیں ۔ البتہ <a target="_blank" href="http://www.balochistan.gov.pk/" >صوبہ بلوچستان</a> کی ویب سائٹ میں کچھ حد تک تصویری اردو میں تھوڑا بہت مواد بھی موجود ہے ۔&#8221;</p></blockquote>
<h6>شاعری:</h6>
<p><a href="http://noumanali.com/"  target="_blank">نعمان علی</a> نے ایک غزل لکھی تو نہایت ہی خوبصورت انداز میں کہی گئی ہے۔</p>
<p>&#8220;<a target="_blank" href="http://noumanali.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d8%ae%d9%88%d9%86-%d9%90-%d8%ac%da%af%d8%b1/2008/10/20/%d8%b1%d9%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%af%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%da%be%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1.html" >روز ارادہ کرتا ھوں پر کبھی پورا نہیں کرتا</a>&#8221;</p>
<blockquote><p>روز ارادہ کرتا ھوں پر کبھی پورا نہیں کرتا<br />
عجیب آدمی ھوں خود پر بھروسا نہیں کرتا</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>نشے میں آکر تو گوہر،سبھی لڑکھڑاتے ھیں<br />
مین اُس جام کا قائل ھوں جو بہکایا نہیں کرتا</p></blockquote>
<p><a href="http://merajahan.wordpress.com"  target="_blank">میرا جہاں</a> نے ایک نظم پوسٹ کی۔</p>
<h4>&#8220;<a target="_blank" href="http://merajahan.wordpress.com/2008/10/28/an-evening-the-reply%d8%a7%da%a9-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%da%88%da%be%d9%84%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8/" >An Evening &#8211; The reply…اک شام ڈھلے &#8211; جواب</a>&#8220;</h4>
<p>ہاں یاد مجھے ہے مینہ کا زور<br />
وہ کالی گھٹا ، بادل گھنگور<br />
اس جیون کی سب پیاس لئے<br />
تیرے دو نینوں کی آس لئے<br />
تیرے دروازے دستک دی تھی<br />
اک شام ڈھلے</p>
<p><a href="http://merajahan.wordpress.com/2008/10/28/an-evening-the-reply%D8%A7%DA%A9-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%DA%88%DA%BE%D9%84%DB%92-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8/"  target="_blank">مزید پڑھئیے۔۔۔</a></p>
<h6>آپ بیتی:</h6>
<p>میرا پاکستان نے اپنے گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے تحریر لکھی، &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1650" >کاش وہ وقت پھر لوٹ آئے</a>&#8221; آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;اب جب ہم پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی روٹین کیساتھ کام کر کر کے اکتا جاتے ہیں تو ہمیں وہ دن بہت یاد آتے ہیں اور معلوم ہونے کے باوجود کہ وہ دن لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر بھی ان دنوں کے لوٹ آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ کیونکہ تب نہ بم دھماکے ہوتے تھے، نہ راہ چلتے کوئی لوٹ لیا کرتا تھا، نہ گاڑیوں کی بھرمار تھی، نہ سکول بنجر تھے اور نہ سیل فون اور کمپیوٹر تھے۔ ہر کسی کے پاس وقت ہی وقت تھا اور اتنا وقت تھا کہ یار دوست بہت سارا وقت اکٹھے گزارا کرتے تھے۔&#8221;</p></blockquote>
<p>اور آپ اپنی ایک اور تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1586" >ناکامی کے اسباب</a>&#8221; میں لکھتے ہیں ہوئے آخر میں چند اچھے مشورے دئیے ہیں</p>
<ul>
<li>
<ul>
<li>&#8220;کبھی شارٹ پلاننگ مت کرو اور ہمیشہ دور کی سوچو۔</li>
<li>پہلی نوکری تبھی چھوڑو جب دوسری جوائن کرنے کا سو فیصد ارادہ بن جائے۔</li>
<li>ہو سکے تو سب سے پہلے اپنی منزل کا تعین کر لو اور پھر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کرو۔</li>
<li>اوائل عمری میں ہی کڑی محنت کر لو تا کہ عمر کے آخری حصے میں اس کا پھل کھا سکو۔&#8221;</li>
</ul>
</li>
</ul>
<p>شگفتہ نے اپنی ایک استاد کے بارے میں ایک تحریر لکھی، جس کا نام &#8220;<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=117" >مسز حاج</a>&#8221; ہے۔ آپ آخر میں لکھتی ہیں</p>
<blockquote><p>&#8220;بچپن میں پتہ نہیں کہاں پڑھا یا سن لیا تھا کہ اچھے استاد بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں تب فورا دعا مانگ لی تھی کہ اچھے استاد ہمیں بھی ملیں ، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کتنی بڑی غلطی کی تھی یہ دعا کر کے۔ اچھے استاد اچھے بے شک ہوں پر ظالم بھی ہوتے ہیں ، یہ تعلیم دیتے ہیں تربیت بھی کرتے ہیں لیکن ہماری سوچ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بس چلے تو ہمارے دل میں بھی قبضہ کر لیں ۔&#8221;</p></blockquote>
<p>اسی طرح <a href="http://ibnezia.com/blog/"  target="_blank">عمار</a> نے بھی اپے بچپن کا ایک قصہ لکھا، جس میں وہ راستہ بھول جاتے ہیں۔ &#8220;<a href="http://ibnezia.com/blog/2008/10/raah-bhatakna/"  target="_blank">قصہ راہ بھٹکنے کا</a>&#8221; آپ آخر میں لکھتے ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;والدین کو چاہیے کہ کبھی اس طرح اپنے بچے کو ایک دفعہ راستہ بتاکر نہ چھوڑیں اور نہ ہی بچپن سے اس کے دل میں زیادہ خوف بٹھائیں کہ باہر کی دنیا اتنی خطرناک ہے، کوئی بھی تمہیں پکڑ کر لے جائے گا۔ بلکہ بہتر ہوگا اگر اسے حفاظتی اقدامات اور تدابیر ذہن نشین کرائی جائیں۔ ورنہ کل کو کسی اور بلاگ پر بھی ایسی ہی کہانی پڑھنے کو مل سکتی ہے۔&#8221;</p></blockquote>
<h6>اردو بلاگنگ اور تکنیکی معلومات:</h6>
<p><a href="http://abushamil.urdutech.com"  target="_blank">ابو شامل</a> نے اپنی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/plugins-new-bloggers/" >بلاگرز کے لیے اہم پلگ انز</a>&#8221; میں چند ضروری پلگ انز کے بارے میں لکھا ہے، جس سے نئے آنے والے مستفید ہو سکتے ہیں۔</p>
<h6>نیوز اپڈیٹس:</h6>
<ol>
<li><a href="http://sajid.gumbat.com/"  target="_blank">ساجد</a> اور <a href="http://ibnezia.com/blog/"  target="_blank">عمار</a> نے مل کر <a href="http://urdumaster.com/"  target="_blank">اردو ماسٹر</a> کا آغاز کیا۔ جہاں آپ تکنیکی مسائل کا حل جان سکیں گے۔</li>
<li><a href="http://numanaly.urdutech.net/"  target="_blank">نعمان علی</a> نے اپنا بلاگ اردو ٹیک سے منتقل کیا۔ نیا ایڈریس ہے: <a href="http://noumanali.com "  target="_blank">http://noumanali.com</a> -  آجکل آپ پطرس کے مضامین اپنے بلاگ پر پوسٹ کر رہے ہیں۔</li>
<li>رومی نے بلاگنگ میں قدم رکھا اور ان کے بلاگ کا پتہ ہے:<span style="text-decoration: underline;"><a target="_blank" href="http://moashrah.blogspot.com/" >http://moashrah.blogspot.com/</a></span> &#8211; بلاگ سپاٹ سے پہلے انہوں نے ورڈ پریس پر بھی بلاگ بنایا تھا: <span style="text-decoration: underline;"><a target="_blank" href="http://moashrah.wordpress.com/" >http://moashrah.wordpress.com/</a> </span></li>
<li>خواجہ بھی اردو بلاگنگ میں آئے۔ ان کے بلاگ &#8220;شاہین کی پرواز&#8221; کا پتہ:<a target="_blank" href="http://khawaja.urdutech.net" >http://khawaja.urdutech.net</a></li>
<li>عبدالقدوس کا نیا بلاگ: <a target="_blank" href="http://abdulqudoos.info/" title="http://abdulqudoos.info/" >http://abdulqudoos.info/</a></li>
<li>والڈ لائف سے متعلق ایک منفرد بلاگ سامنے آیا، اگر عزیز امین اسے جاری رکھ سکے تو۔ پتہ درج ذیل ہے:<a target="_blank" href="http://wildlifelovers.urdutech.net/" title="http://wildlifelovers.urdutech.net/" >http://wildlifelovers.urdutech.net/</a></li>
<li>عمار نے اردو ٹیک سے اپنا بلاگ منتقل کیا۔ نیا ایڈریس ہے: <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog" >http://ibnezia.com/blog</a> &#8211; اس کے ساتھ ساتھ عمار نے &#8220;<a href="http://focus.urdutech.net/2008/10/21/eik-bloger-eik-kitab/"  target="_blank">مہم ایک بلاگر &#8211; ایک کتاب</a>&#8221; میں حصہ لیتے ہوئے &#8220;<a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/2008/10/monte-cristo/" >مونٹی کرسٹو کا نواب</a>&#8221; ناول پیش کیا۔</li>
<li>مکی نے کتاب &#8220;<a href="http://makki.urducoder.com/?p=265"  target="_blank">وقت کا سفر</a>&#8221; پیش کی۔</li>
<li>ڈفر نے <a href="http://www.dufferistan.com/"  target="_blank">ڈفرستان</a> میں ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جس کا نام ہے &#8221; <a href="http://www.dufferistan.com/?p=200"  target="_blank">آج کا سوال</a>&#8220;۔ جس میں وہ بلاگرز سے ایک سوال پوچھا کریں گے۔</li>
</ol>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/11/october-2008-urdu-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اگست 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/09/august-2008-urdu-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/09/august-2008-urdu-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 01 Sep 2008 22:13:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=87</guid>
		<description><![CDATA[حصہ اول: &#8220;اس ہفتہ کے بلاگ&#8221; کے سلسلہ کی پہلی قسط کے ساتھ حاضر ہے عمار اور میرے ساتھ ہیں ماوراء۔ کیا حال ہیں ماوراء؟ ٹھیک ہوں۔۔۔ تم سناؤ عمار! میں بھی ٹھیک، الحمد للہ۔ سو، تمہارے پاس کون سی تحریر ہے پہلے؟ میں نے جو پہلی تحریر منتخب کی ہے، وہ ابوشامل کی تحقیق [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4><strong>حصہ اول:</strong></h4>
<p>&#8220;اس ہفتہ کے بلاگ&#8221; کے سلسلہ کی پہلی قسط کے ساتھ حاضر ہے عمار اور میرے ساتھ ہیں ماوراء۔</p>
<p>کیا حال ہیں ماوراء؟</p>
<p>ٹھیک ہوں۔۔۔ تم سناؤ عمار!</p>
<p>میں بھی ٹھیک، الحمد للہ۔ سو، تمہارے پاس کون سی تحریر ہے پہلے؟</p>
<p>میں نے جو پہلی تحریر منتخب کی ہے، وہ <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابوشامل</a> کی تحقیق ہے جو انہوں نے کولا وار کے خاتمے کے موضوع پر کی ہے اور اس کا عنوان ہے &#8220;<a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/cola-war-ends/" >کولا وار خاتمے کی جانب گامزن</a>&#8220;۔ ابوشامل نسبتا نئے بلاگر ہیں لیکن بہت ہی پختہ لکھاری ہیں۔ صحافت کے شعبہ سے ان کے تعلق اور تجربے کا اندازہ ان کی کئی تحاریر سے ہوتا ہے اور یہ تحریر بھی اس کا ایک ثبوت ہے۔ اس میں ابوشامل نے اعداد و شمار اور رپورٹس کی مدد سے بتایا ہے کہ سوفٹ ڈرنکس کے مضر اثرات کے باعث اب یہ صنعت کافی متاثر ہوئی ہے اور کمپنیز اب متبادل کی طرف راغب ہورہی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ <a target="_blank" href="http://www.beverage-digest.com/" >Beverage Digest</a> کے مطابق امریکہ میں کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔&#8221;</p></blockquote>
<p>آگے چل کر سافٹ ڈرنکس بنانے والے اداروں کے حوالہ سے لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>&#8220;انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے “<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Aquafina" >Aquafina</a>” نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kinley" >Kinley</a>” لے آیا۔ آخر الذکر <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Minute%20Maid" >Minute maid</a> کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Tropicana%20Twister" >Tropicana Twister</a> متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kurkure" >Kurkure</a> جیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔&#8221;</p></blockquote>
<p>تمہارے پاس کون سی تحریر ہے عمار؟</p>
<p>میرے پاس تحریر ہے <a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان</a> کی: &#8220;<a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/396" >کراچی کی طالبانائزیشن</a>&#8220;۔ یہ پاکستان اور خاص کر کراچی کی سیاسی اور علاقائی صورتحال کے حوالہ سے ایک اہم تحریر ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے ایم۔کیو۔ایم کی جانب سے کراچی میں طالبان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مسلسل آواز اٹھائی جارہی ہے۔ نعمان نے اس پر کافی طویل اور سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ نعمان لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8221; ایم کیو ایم کو پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد پر سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ سراسر ان کے ووٹ بینک کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ دوسرا انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔</p></blockquote>
<p>آگے چل کر لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>دوسرا ایشو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹر مذہبی رویہ رکھنے والے لوگوں کی شہر میں آمد سے سنگین امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے جب وہ پہلے ہی غربت، احساس محرومی اور ناانصافی کا شکار ہوں۔ اس وقت کراچی میں یہی ہورہا ہے۔&#8221;</p></blockquote>
<p>مسئلہ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد نعمان اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;میرا خیال ہے کہ آنے والے قبائلی و دیگر پختونوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنا چاہئے۔ اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے۔ پختونوں کی مرضی سے کراچی کے پہلے سے قائم معیاری مدارس کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں کو ہی ان کے محلوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہے۔ حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔ شہری حکومت کو لینڈ مافیا سے لڑنے کا مکمل اختیار ہونا چاہئے۔جرگوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ اور پختون ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔ جو بھی شہر کو قبائلی علاقہ سمجھنے کی حماقت کرے اور اسے صوبے سے باہر نکال دیا جائے۔&#8221;</p></blockquote>
<p>یہ تحریر جس قدر اہم ہے، اسی قدر متنازعہ بھی۔ اس پر افتخار اجمل، میرا پاکستان اور فیصل کے طویل تبصرے پڑھنا بھی معلومات میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔ جی ماوراء!</p>
<p>بالکل ٹھیک۔ میرے پاس اگلی تحریر اردو بلاگنگ میں نووارد بلاگر <a target="_blank" href="http://aarim.urdutech.net/" >عارم پاکستانی</a> کی ہے۔ انہوں نے پچھلے دنوں ہی بلاگ لکھنا شروع کیا ہے اور اس وقت میرے پیش نظر ان کی تحریر &#8220;<a target="_blank" href="http://aarim.urdutech.net/2008/08/06/bheek/" >بھیک</a>&#8221; ہے۔ اس سے پہلے عارم نے ایک تحریر &#8220;افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر&#8221; بھی بہت خوبصورت لکھی تھی۔ حالیہ تحریر میں انہوں نے اپنے اردگرد کی صورتحال بیان کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک، بھکاریوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔</p>
<p>تحریر کے شروع میں عارم لکھتے ہیں کہ پہلے انہیں محلے کی ایک بچی نے تنگ کیا جو ٹماٹر مانگنے آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں ایک ٹیکسٹ موصول ہوا جس میں کسی نے اپنی مجبوری بتاکر کچھ رقم موبائل میں منتقل کرنے کا کہا تھا۔ پھر عارم نے سفر کے دوران نظر آنے والے بھکاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آخر میں اپنی آپ بیتی یوں بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک معاشرہ میں کس قدر مختلف مزاج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ تربیت، ماحول اور صحبت کا کتنا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے لیے کسی سے کچھ مانگنا ہمیشہ سے انتہائی مشکل کام رہا ہے، چاہے اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ دوستوں کے مانگنے پر انہیں اپنی چیزیں دے تو دیتا تھا لیکن ان چیزوں کی واپسی کا سوال مجھے شرمندگی کا احساس دلاتا اور نتیجہ یہ نکلتا کہ اگر دوست واپس نہ کرتے تو میں بھی مانگ نہ پاتا اور وہ چیزیں انہی کے پاس رہ جاتیں۔ اور ہاں۔۔۔ لفٹ مانگنا۔۔۔ اکثر لوگ راہ چلتے کسی گاڑی والے سے کچھ راستہ کے لیے لفٹ لے لیتے ہیں لیکن مجھ سے یہ کام کبھی نہیں ہوسکا۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔ کبھی ضرورت پڑتی بھی تو میں بس سوچتا ہی رہتا کہ ہاں، اب جو گاڑی آئے گی، اس کو اشارہ کروں گا لفٹ کے لیے لیکن نہ کرپاتا۔۔۔ ایک، دو بار نہیں، بیسیوں بار یہ تجربہ کرکے دیکھا۔ کسی سے کچھ مانگنا۔۔۔ کسی اپنے جیسے سے کچھ مانگنا بہت برا لگتا ہے نا! اور ہے بھی غلط۔۔۔ شاید لفٹ لینے کی حد تک تو چل ہی جاتا ہو لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں سے مانگنا، دوسروں کی چیزوں پر انحصار کرنا، یہ بالکل بھی اچھی عادت نہیں۔&#8221;</p></blockquote>
<p>ہممم۔۔۔۔ میرے پاس آخری تحریر <a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/" >فیصل</a> کی ہے، موضوع ہے: &#8220;<a target="_blank" href="http://shahfaisal.wordpress.com/2008/08/07/%d9%87%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%d9%88%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%a1/" >ہمارا نیا نوکیا</a>&#8220;۔ یہ ایک بے حد معلوماتی تحریر ہے جس میں فیصل نے اپنے لیے ایک فون خریدنے کے تجربے کو بیان کیا ہے۔ یہ اس سلسلہ کی پہلی تحریر ہے جس میں فیصل بتاتے ہیں کہ فون لینے سے پہلے ان کے پیش نظر کیا کیا چیزیں تھے اور کن کن فیچرز کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے فون کا انتخاب کیا۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;میرے زیر نظر کچھ یہ عوامل تھے:</p>
<p>بطور فون عمومی خصوصیات مثلا آواز کی کوالٹی وغیرہ</p>
<p>ای میل خصوصاً <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Push_e-mail" >پُش ای میل</a></p>
<p>انٹرنیٹ بذریعہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Wi-Fi" >وائرلیس لین یا وائی فائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Personal_information_manager" >پرسنل انفارمیشن مینیجمنٹ</a> کی اعلی خصوصیات یعنی کیلنڈر، نوٹس، فون ڈائری، وغیرہ</p>
<p>ذاتی کمپییوٹر/ پی سی میں موجود پم مثلاً مائکروسوفٹ آوٹ لک کے ساتھ معلومات یا ڈیٹا کی ترسیل یعنی س<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/ActiveSync" >نکرونائزیشن</a></p>
<p>دفتری فائلوں مثلا ایم ایس ورڈ، ایکسل، ایڈوبی پی ڈی ایف، وغیرہ کو پڑھنے، لکھنے اور ترمیم کرنے کی صلاحیت</p>
<p>مکمل کی بورڈ یعنی ایسا کی بورڈ جیسا آپکے کمپیوٹر میں ہے، <a target="_blank" href="http://www.ciblant.com/products.php?featureValueId=134" >کچھ مثالیں یہاں دیکھ لیں</a></p>
<p>سکرین کا سائز اور کوالٹی، دھوپ میں نظر آنے کی صلاحیت</p>
<p>فون کا حجم ، وزن، ظاہری شکل، ٹھوس پن وغیرہ</p>
<p>بعد از فروخت سروس اور برانڈ کا عمومی تاثر، استعمال شدہ فون کی مارکیٹ میں قدر وغیرہ</p>
<p>ڈیٹا ٹرانسفر کے متفرق طریقے مثلاً تار یا بلیو ٹوتھ</p>
<p>قیمت (یقینا یہ ایک اہم نکتہ ہے)</p>
<p>یاداشت/ میموری میں اضافے کی صلاحیت</p>
<p>فون کے استعمال کی آسانی (آئی فون غالبًا سب سے نمبر لے گیا ہے لیکن سمبیان پر چلنے والے فون عموما ونڈوز والوں سے آسان اور سہل خیال کیے جاتے ہیں)</p>
<p>متفرق خصوصیات مثلا کیمرہ، موسیقی، جی پی ایس کی موجودگی</p>
<p>مارکیٹ میں دستیاب سوفٹویر اپلیکیشنز/ اطلاقیوں کی تعداد اور انکی قیمت۔ یہ آپکے فون میں اضافی خصوصیات پیدا کرتے ہیں۔&#8221;</p></blockquote>
<p>ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصل نے کون سا موبائل فون لیا، اس کے لیے ان کی اگلی تحریر کا انتظار کیجئے۔</p>
<p>جی قارئین! یہ تھی اس سلسلہ کی پہلی قسط۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ اس میں بہتری کے لیے آپ کی تجاویز اور مشوروں کا ہم کھلے دل سے خیر مقدم کریں گے۔</p>
<p>والسلام۔</p>
<h4><strong>حصہ دوم:</strong></h4>
<p>منظر نامہ کے تمام قارئین کو ماورا اور عمار کی طرف سے السلام علیکم !</p>
<p>سلسلہ ”اس ہفتے کے بلاگ” کی دوسری قسط کے ساتھ ہم حاضر ہیں، پچھلی قسط پر قارئین کے تبصرات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اس قسط میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں لیکن آپ کی مزید آرا کا ہمیں انتظار رہے گا۔ تبھی ہم اس سلسلے کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔</p>
<p>پچھلا ہفتہ چونکہ پاکستان کا جشن آزادی مناتے ہوئے گزرا ہے، اور اس موقع پر ہر اردو بلاگرز نے اپنے خیالات کا اظہار مختلف انداز میں کیا ہے۔ جہاں بہت سے بلاگرز نے آزادی کے دن کو پرجوش انداز میں منایا تو وہاں کچھ نے پاکستان کے موجودہ حالات پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔</p>
<p>تو میری پہلی تحریر بھی اس حوالے سے <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> کی ہے، جس کا عنوان ہے۔ ” <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=48" >مبینہ یوم آزادی</a> ” آپ کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔</p>
<blockquote><p>”لعن طعن سننا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں خاص طور پر جب میں “مبینہ یوم آزادی“ کا فقرہ استعمال کرتا ہوں تو کئی لوگوں کو پتنگے لگ جاتے ہیں لیکن جو بات ہے سو ہے اس میں کیا ہوسکتا ہے۔ پہلے تو میری یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ تقسیم دراصل ہوئی کب تھی۔ 3 جون 1947، 14 اگست 1947 یا 15 اگست 1947 ؟‌ دو ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے اور یوم آزادی میں فرق کیوں؟‌ درمیانی شب تھی تو 15 اگست ہوا نا ۔۔ دن کا وقت تھا تو بھارتی جھوٹے۔”</p></blockquote>
<p>اس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>” نہ رہنے کی آزادی۔ نہ مذہبی عقائد پر اپنی مرضی سے عمل کرنے کی آزادی۔ نہ الیکشن لڑنے کی آزادی ، نہ نمائندے منتخب کرنے کی آزادی، نہ صدر بنانے کی آزادی، نہ وزیر اعظم بنانے کی آزادی پھر یوم آزادی تو نہ ہوا یہ۔ پہلے آزادی مل تو جائے پھر منائیں یوم آزادی۔۔ جب تک “مبینہ یوم آزادی“۔</p></blockquote>
<p>راشد کی ہی تحریر پر <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=48#comment-322" >تبصرات میں</a> کچھ بلاگرز نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=48#comment-327" >شعیب صفدر</a> نے مختصر</p>
<p>الفاظ میں نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p>جی عمار، آپ کس تحریر کے بارے میں ہمارے قارئین کو بتانا چاہیں گے</p>
<p>ماورا، میرے پاس بھی اگلی تحریر جشن آزادی سے ہی متعلق ہے۔ <a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/" >خاور کھوکھر</a> کی تحریر ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، آپ نے اپنی تحریر کا نام ہی ”<a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/2008/08/blog-post_15.html" >جشن غلامی</a>” دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>جشن آزادی پر ہر کوئی لکھ رہا ہے اور لوگ بھالے اس دن کو ایک رسم کی طرح منا رہے ہیں<br />
لیکن<br />
ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ مجھے آزدای کا احساس ہی نہیں ہوتا<br />
کیا ہم واقعی ازاد ہیں ؟؟</p></blockquote>
<p>پھر آپ نے ہمارے سامنے بہت سے سوال رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج جو کچھ ہم کر رہے ہیں کیا آزاد قوموں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے ۔ سوال کچھ اس طرح سے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک پاکستان میں کیا اسلام آزاد ہے؟؟<br />
کیا مسلمان ازادی سے مسجدوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں جیسے کہ مسلمان جاپان میں پڑھ سکتے ہیں؟؟<br />
کیا اس ملک پاکستان میں پاکستانیوں کو روزگار کے ذرائع میسر ہیں ؟؟<br />
کیا ہمیں تحفظ حاصل ہے ؟؟<br />
کیا ہمیں تعلیم کے مواقع میسرہیں ؟؟<br />
کیا ہم اپنی مرضی کے نمائندے چن سکتے ہیں ؟؟<br />
کیا ہمیں اپنے معاشرے کے انتظام میں کوئی کردار حاصل ہے؟؟<br />
کیا ہمارے لیڈر اپنے اپ کو ہم میں سے سمجھتے ہیں ؟؟<br />
کیا ہماری مبینہ حکومتیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں ؟؟<br />
یارو آزادی ہے کیا ؟؟<br />
اور کیا ہم آزادہیں ؟؟</p></blockquote>
<p>اور پھر آپ خود ہی لکھتے ہیں کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>غلام کی خُو میں اتنے پکے ہو چکے ہیں کہ غلامی کو ہی آزادی کا نام دے دیا ہے ـ<br />
ہم ابھی ازاد ہوئے ہی نہیں ہیں۔<br />
ہمیں ایک اور تحریک آزادی کی ضرورت ہے<br />
مگر<br />
ہمیں احساس تو ہو کہ<br />
ہماری حثیت کیا ہے<br />
قوموں کی برادری میں</p></blockquote>
<p>اسی تحریر پر راشد کامران کچھ اس طرح کہتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>ہمارے یہاں جھوٹ بولنے کی آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں رشوت کے لین دین کی کھلی آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں سڑک کے کنارے رفع حاجت کی بھرپور آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں لال بتی کراس کرنے کی مکمل آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں غیرت اور بے غیرتی کے نام پر انسان قتل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں جمہوری پارٹیوں میں نامزدگیوں کی آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں فوج کو کاروبار کرنے کی آزادی ہے۔<br />
ہمارے یہاں ذخیرہ اندوزی اور دہشت گردی کی پوری آزادی ہے۔۔<br />
ہمارے یہاں غیر ملکیوں کو اتنی آزادی ہے کہ ہم نے ان علاقوں کو آزاد علاقے ہی کہنا شروع کردیا ہے۔<br />
شاید اتنی زیادہ آزادی کا جشن مناتے ہیں ہم لوگ ؟</p></blockquote>
<p>عمار، میرے پاس اگلی تحریر بلکہ نظم کہوں گی، <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a> کی ہے۔ میرا پاکستان نے آزادی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار ایک <a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=1319" >نظم</a> لکھ کر کیا۔ جس میں وہ پاکستان کے حکمرانوں سے درخواست کچھ اس طرح کر رہے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>آئیں حکمرانوں سے درخواست کریں کہ وہ آج سے</p>
<p>بکنا چھوڑ دیں گے</p>
<p>بیچنا چھوڑ دیں گے</p>
<p>صرف پیارے وطن کی خاطر</p>
<p>کمیشن لینا چھوڑ دیں گے</p>
<p>صدا بن کے رہیں گے خادم</p>
<p>اپنے گناہوں پہ ہوں گے نادم</p>
<p>جو کچھ اس سے پہلے</p>
<p>غیروں کو بیچا</p>
<p>جو کچھ اس سے پہلے</p>
<p>غیروں سےلیا</p>
<p>سب قومی خزانے میں جمع ہو گا</p>
<p>سفید اس طرح کالا دھن ہو گا</p>
<p>توبہ کریں گے</p>
<p>شکر کریں گے</p>
<p>خدا نے انہیں سیدھی راہ پر چلا دیا</p>
<p>اندھیری رات میں چراغ راہ بنا دیا</p>
<p>ملک ان کی توبہ کے بعد خوشحال ہو گا</p>
<p>عوام کا اعتماد ان پر بحال ہو گا</p>
<p>پھر حقیقت میں ملک آزاد ہو گا</p>
<p>پاکستان کا ہر بچہ تب شاد ہو گا</p></blockquote>
<p>کاش کے ان سب باتوں کا احساس ہمارے حکمرانوں کو بھی ہو سکے۔</p>
<p>ماورا، اگلی تحریر میرے پاس <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >دریچہ</a> کی ہے، انہوں نے نہایت ہی دلچسپ انداز میں سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو ایک <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=82" >خط</a> لکھا، جس میں انہوں نے مشرف صاحب کو سالگرہ کی مبارک باد سے لے کر ان کو صدارت کا عہدہ چھوڑنے تک اس خط میں کہا ہے۔</p>
<p>آپ لکھتی ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p>مشرف انکل!<br />
پہلے تو سالگرہ کی مبارک قبول کیجئے۔ میں نے آپ کو گیارہ اگست کو ہی مبارکباد دینی تھی لیکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی آپکی سالگرہ کے موقع پر تیاریاں دیکھنے میں اتنی محو ہوگئی کہ موقع ہی نہیں ملا۔</p>
<p>خیر ۔ آج آپ کو ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں دیکھا تو خیال آیا کہ میں نے تو آپکو ہیپی برتھ ڈے کہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپکو صحت اور لمبی عمر عطا کرے تاکہ آپ ملک و قوم کے مفاد میں کیے گئے اپنے فیصلوں کے دوررس اثرات دیکھ کر اپنے آپ کو ‘شاباش‘ دے سکیں۔ آمین</p></blockquote>
<p>پھر سابق صدر کو عہدہ چھوڑنے کے لیے کچھ اس طرح سے کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔</p>
<blockquote><p>ویسے انکل جی آپ نے کتنا عرصہ پاکستان کے لیے اتنے بڑے بڑے کام کیے۔ دو دو عہدوں کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپ کو کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالنا چاہئیے۔ لیکن جب تک آپ اس ایوانِ صدر میں رکے رہیں گے آپ کہاں اپنے آپ کے لئے وقت نکال سکیں گے۔ آپ ایسا کریں کسی پُرفضا مقام پر شفٹ ہو جائیں۔ رہی پاکستان اور عوام کی فکر تو انہیں خود بھی کچھ کرنے دیں۔ سب کچھ آپ کی ذمہ داری تو نہیں ہے۔ ویسے جب آپ تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو مجھے کسی نے کہا کہ ہو سکتا ہے صبح 14 اگست کی مناسبت سے یا ایک دو دن بعد آپ قوم کو کوئی تحفہ دیں کیونکہ آپ کی باڈی لینگوئج اور ٹون کچھ بتا رہی تھی۔ میں نے کہا آپ تو بذاتِ خود ہمارے لیے ایک ‘تحفہ‘ ہیں۔۔مزید کی کیا ضرورت۔ ویسے اگر آپ نے کوئی تحفہ دینا ہوا تو اس کا اعلان کرتے ہوئے اپنا مُکا ہوا میں ضرور لہرائیے گا۔ بہت اچھے لگتے ہیں ایسا کرتے ہوئے۔</p></blockquote>
<p>ماورا، آپ کے پاس اس ہفتے کی آخری تحریر کون سی ہے۔</p>
<p>عمار، اس ہفتے کا اختتام ایک نہایت ہی خوبصورت نظم، ایک امید اور ایک پیغام سے کرنا چاہوں گی، یہ پیغام <a target="_blank" href="http://ultaseedha.com.pk/" >سعادت</a> کچھ اس طرح سے دے رہے ہیں۔۔۔</p>
<blockquote><p><a target="_blank" href="http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/" >پیغام</a></p>
<p>اب کے سورج سے ملو تو اُسے یہ کہنا<br />
اپنی کرنوں میں نئی تاب ذرا لیتا آئے<br />
یہ زمیں ڈھونڈتی ہے اک نئی صبحِ روشن<br />
یاس کی چپ لیے ویران ہیں اِس کے گلشن<br />
اِس میں اتری ہے جو ظلمات کی یہ لمبی رات<br />
اپنے ہی اعمال کی ہے شاید مُکافات<br />
پر ہوا جو بھی ہوا، اب نہیں دوہرانا<br />
اب کسی شام کو راتوں میں نہیں بھٹکانا<br />
اب نہیں رات کی تاریکی میں ہم کو رہنا<br />
اب کے سورج سے ملو، تو اُسے یہ کہنا</p></blockquote>
<h4>اردو بلاگنگ نیوز :</h4>
<p>ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پچھلے ہفتے اردو بلاگنگ میں ایک اور اردو بلاگر کا اضافہ ہوا۔ ہم اپنے ساتھی <a target="_blank" href="http://abukashan.blogspot.com/" >ابو کاشان</a> کو اردو بلاگنگ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ ابو کاشان بلاگنگ میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے۔ آپ نے اردو ٹیک پر بھی <a target="_blank" href="http://abukashan.urdutech.net/" >بلاگ</a> بنایا ہے.</p>
<p>گزرے ہوئے ہفتے میں ہی اردو بلاگر <a target="_blank" href="http://duffer.urdutech.net/" >ڈفر</a> نے اپنا <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >نیا بلاگ</a> ترتیب دیا ہے۔ ہم انہیں نیا بلاگ بنانے پر مبارکبار دیتے ہوئے اور امید رکھتے ہیں کہ ڈفر کے بلاگ پر اچھی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔</p>
<h4><strong>حصہ سوم:</strong></h4>
<p>اس ہفتہ کے منتخب بلاگ پر تبصرہ کے ساتھ منظرنامہ پر آپ کے میزبان حاضر ہیں۔</p>
<p>اس ہفتہ اردو بلاگنگ میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملی ہیں جو بلاشبہ اپنے اندر معلومات اور افادیت رکھتی ہیں۔ کیا خیال ہے ماوراء؟</p>
<p>ہاں عمار، اس ہفتہ اردو بلاگز واقعی کافی فعال رہے ہیں۔ تو کون سی تحریر سب سے پہلے ہے؟</p>
<p>شروع کرتے ہیں <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com" >دریچہ</a> کے بلاگ سے۔ ان کے بلاگ پر دو نئی تحاریر سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=91" >ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر</a>۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے بارے میں عام رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دریچہ نے لکھا ہے کہ کیسے وقت بے وقت مسڈ کالز اور بے معنی ایس ایم ایس بھیج کر تنگ کیا جاتا ہے۔ پھر اسی حوالہ سے اپنی زندگی کے ایک خطرناک تجربہ کا ذکر کیا ہے کہ کیسے اسی مسئلہ کی وجہ سے ان کے ابو کو سخت تکلیف میں طویل وقت گزارنا پڑا۔ درحقیقت یہ انتہائی سبق آموز تحریر ہے۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com" >دریچہ</a> ہی کے بلاگ پر ایک اور دلچسپ تحریر ہے <a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=92" >کیسے کیسے لوگ</a>۔ یہ بلاگ پاکستان اور بیرون پاکستان ٹھگوں اور ناٹک کرکے فراڈ کرنے والوں کے چند واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے ایک فقیر سے لے کر برطانیہ کے ایک انکل تک کے قصے لکھنے کے بعد لکھتی ہیں کہ</p>
<blockquote><p>&#8220;سوچتی ہوں ہم پاکستانی تو فراڈ میں بھی ابھی تک پرانے طریقوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔&#8221;</p></blockquote>
<p>جی ماوراء۔۔۔!</p>
<p>جیسا کہ ماہ رمضان المبارک شروع ہوچکا ہے۔ تو قارئین کو ہماری جانب سے ماہ رمضان کی آمد بہت مبارک ہو اور اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے میں ڈھیر ساری عبادت اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔</p>
<p>آمین!</p>
<p>ماہ رمضان کے حوالہ سے کافی بلاگز پر مبارکباد کی تحاریر سامنے آئی ہیں لیکن <a target="_blank" href="http://hakimkhalid.blogsome.com" >حکیم خالد</a> کے بلاگ پر ایک مفید اور معلوماتی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے جس کا عنوان ہے <a target="_blank" href="http://hakimkhalid.blogsome.com/2008/08/31/p129/" >روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے</a>۔ اس میں حکیم خالد نے روزہ کے جسمانی فوائد بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی غذا متوازن رکھنے کے لیے بھی چند باتیں بیان کی ہیں جنہیں ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>ہاں ماوراء! بالکل۔ اور رمضان کے حوالہ سے تمہارے بلاگ پر بھی اچھی تحریر ہے <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/2008/08/30/ramzan-mubarak/" >رمضان مبارک</a> جس میں تم نے ناروے میں موجود مسلمانوں کی رمضان اور روزے کے حوالہ سے سوچ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابوشامل</a> کے بلاگ پر بھی ایک تحریر <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/ramzan-mubarak/" >رمضان مبارک</a> ہے جس میں رمضان کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ آرٹ کا ایک شاہکار بھی موجود ہے۔</p>
<p>عمار! <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog" >شگفتہ</a> کے بلاگ کا ذکر بھی کرتے چلیں کہ اب کے ان کا بلاگ بھی فعال نظر آیا اور دو دلچسپ تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ پہلی تحریر تھی <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=102" >کوئی ہے</a> جو کہ پکوڑوں سے اپنی رغبت کے اظہار میں تھی جس کے آخر میں شگفتہ لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے <a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/01/clip-image001-thumb1.gif" ><img style="border-top-width: 0px; border-left-width: 0px; border-bottom-width: 0px; border-right-width: 0px" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/01/clip-image001-thumb1-thumb.gif" border="0" alt="clip_image001_thumb1" width="32" height="26" /></a></p>
<p>چاہے مجھے ایمیل کر دیں ، چاہے اپنے بلاگ پر لکھیں<br />
اگر اپنے اپنے بلاگ پر ترکیب لکھیں تو میں پکوڑوں کی خاطر مقابلہ کروانے کو بھی تیار ہوں مقابلہ کا انعام میں<a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/" > منظر نامہ</a> کی جیب سے نکلوانا ہے ان شآءاللہ&#8221;</p></blockquote>
<p>اچھا۔ تو زور کس پر ہوا ماوراء؟ پکوڑوں کی ترکیب پر یا منظرنامہ پر؟ <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /><br />
اس پر تو شگفتہ ہی کچھ روشنی ڈال سکیں۔</p>
<p>شگفتہ کے بلاگ پر حالیہ تحریر <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=105" >جہیز</a> لکھی گئی ہے جو بیش قیمت جہیز دینے، جہیز کی طلب کرنے اور اس قبیح رسم کے خلاف ہے۔ اس پوسٹ میں شگفتہ ایک شادی کا دلچسپ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب دولہا نے عین نکاح سے پہلے اچانک لڑکی والوں سے ایک گاڑی کا مطالبہ کردیا تو نکاح خواں مولانا صاحب نے کیسے اس لڑکے کی درگت بنائی اور اسے اسٹیج سے چلتا کرکے ایک مخلص اور باعتماد لڑکے سے لڑکی کا نکاح کروادیا۔</p>
<p>عمار،تمہارے پاس اگلی تحریر کون سی ہے؟</p>
<p>میرے پاس بدتمیز! یعنی موصوف <a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=105" >بدتمیز</a> کی کچھ تحاریر۔ <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> ان دنوں ان کے لکھنے کا زیادہ تر رجحان امریکہ میں جاری صدارتی الیکشن کی مہم پر رہا ہے۔ جیسے ایک تحریر <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/08/24/joe-biden/" >Joe Biden</a> ہے جو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اوباما کے وائس پریزیڈنٹ منتخب کرنے پر ہے۔ اس پوسٹ میں بدتمیز نے سینیٹر جو بائیڈن کے بارے میں لکھا ہے اور اوباما کے فیصلہ کا جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/08/28/%d8%b3%d9%86%d9%88%d8%8c-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%88%d8%8c-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%da%be%d9%88/" >سنو، دیکھو، سمجھو اور سیکھو</a>۔ اس میں اوباما اور ہیلری کے مابین پیدا ہونے والی تلخی اور اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے اوباما پر کیے جانے والے حملوں اور ان کے جواب میں اوباما کے پر وقار انداز کے سبب اپنی سوچ بدلنے کا ذکر ہے۔ اسی حوالہ سے ایک اور پوسٹ <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/08/31/gustav/" >Gustav</a> بھی لکھی ہے جو جان مکین کے وائس پریزیڈنٹ کے اعلان پر ہے۔ بدتمیز نے جان مکین کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ آغاز ہی میں لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>&#8220;بالآخر جان مکین نے اپنی وائس پریزیڈنٹ کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ الاسکا کی گورنر سارا پیلن ہیں۔ میں نے اوبامہ کے متوقع امیدواروں کی کوالیفیکیشن لکھی تھی۔ خاتون کی کوالیفیکشن صرف اتنی ہے کہ یہ خاتون ہیں۔ کیا سارا کو منتخب کرنا جان مکین کی شکست خوردگی کا اعتراف ہے کہ وہ اوبامہ سے لڑے بغیر ہی شکست خوردہ محسوس کر رہے ہیں جو ان کو ہیلری کے 18 ملین کی فکر پڑ گئی؟&#8221;</p></blockquote>
<p>جی ماوراء، آپ کے پاس اگلی تحریر کون سی ہے۔</p>
<p>عمار، <a target="_blank" href="http://abukashan.blogspot.com/" >ابوکاشان</a> ان دنوں اپنے بلاگ پر عمرانیات کے عنوان سے آپ بیتی لکھ رہے ہیں جس کی ابھی <a target="_blank" href="http://abukashan.blogspot.com/2008/08/3.html" >تیسری قسط</a> سامنے آئی ہے تاہم یہ اقساط کافی مختصر مختصر ہیں۔ لکھنے کا انداز متاثر کن اور دلچسپ ہے۔ اس کے علاوہ <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> کا بلاگ بھی ان دنوں خاصا فعال نظر آرہا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ مکی اپنے بلاگ پر آزاد مصدر پروگرامز کے بارے میں لکھ رہے ہیں جیسے یہ تحریر ہے کہ <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=213" >VIA کا Xorg ڈرائیور آزاد مصدر</a>۔ ایسے ہی ایک <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=211" >Sun نے Java UI Toolkit آزاد مصدر کردی</a>۔ اسی طرح کی مزید تحاریر بھی مکی کے بلاگ پر پڑھنے کو ملی ہیں جن کا مقصد یقینا صارفین کو آزاد مصدر پروگرامز کی طرف راغب کرنا اور چوری شدہ سافٹ وئیر کے استعمال سے روکنے کا ذہن بنانا ہے۔</p>
<p>جی عمار۔۔۔</p>
<p>میرے پاس ایک آخری چیز ہے ، اور وہ ہے <a target="_blank" href="http://www.salambazar.com/community" >عمیر سلام کی سلام بازار کمیونٹی</a> جس کا ذکر انہوں نے <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/26/shansai-umair-salam/" >ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو</a> میں بھی کیا تھا۔ ان دنوں یہاں حساس کا سفرنامہ امریکہ کے موضوع پر تحاریر سامنے آرہی ہیں جن کی حال ہی میں <a target="_blank" href="http://www.salambazar.com/community/node/13" >تیسری قسط</a> لکھی گئی ہے۔ سلام بازار کمیونٹی فری بلاگ بنانے کی سہولت فراہم کررہی ہے جو کہ خوش آئند ہے تاہم انہیں اردو فونٹس استعمال کرنے چاہئیں یا کم از کم تاہوما تاکہ اردو بلاگز کی تحاریر آسانی سے پڑھی جاسکیں۔</p>
<p>یہ تھیں اگست کے آخری ہفتے کی کچھ منتخب تحاریر۔ اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے ان شاء اللہ۔</p>
<p>خدا حافظ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/09/august-2008-urdu-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اس ہفتے کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/08/hafty-k-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2008/08/hafty-k-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Aug 2008 18:17:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[اعلانات/ متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=197</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ کے قارئین کو میزبان عمار اور ماوراء کی جانب سے السلام علیکم! ہم منظرنامہ پر ایک نئے سلسلہ کا آغاز کرنے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ ہے “اس ہفتے کے اردو بلاگ”۔ اس سلسلہ کے تحت ہم ہر ہفتہ ایک تحریر شائع کریں گے جس میں اس ہفتہ اردو بلاگز پر شائع ہونے والی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="content" lang="en">
<p>منظرنامہ کے قارئین کو<br />
میزبان عمار اور ماوراء کی جانب سے السلام علیکم!</p>
<p>ہم منظرنامہ پر ایک نئے سلسلہ کا آغاز کرنے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ ہے “اس ہفتے کے اردو بلاگ”۔ اس سلسلہ کے تحت ہم ہر ہفتہ ایک تحریر شائع کریں گے جس میں اس ہفتہ اردو بلاگز پر شائع ہونے والی تحاریر کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے ایک طرف خاص اور اہم تحاریر ایک جگہ جمع ہوتی جائیں گی، دوسری طرف بلاگز کے قارئین میں بھی اضافہ ہوگا اور یہ ایک قسم کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی بنے گا۔</p>
<p>ہمیں امید ہے کہ دیگر سلسلوں کی طرح اس سلسلہ کو بھی قارئین میں پذیرائی حاصل ہوگی۔ دعا کریں کہ ہمارا یہ سفر اسی طرح کامیابی سے گامزن رہے اور ہماری مصروفیات میں سے منظرنامہ کے لیے وقت بچتا رہے۔</p>
<p>نیک تمناؤں کے ساتھ</p></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2008/08/hafty-k-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
