<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; منظرنامہ</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/tag/%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Oct 2010 15:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
		<item>
		<title>خرم ابنِ شبیر سے شناسائی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 20 Apr 2010 20:22:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[شناسائی]]></category>
		<category><![CDATA[خرم ابن شبیر]]></category>
		<category><![CDATA[خرم ابنِ شبیر]]></category>
		<category><![CDATA[خرم شہزاد خرم]]></category>
		<category><![CDATA[دیا جلائے رکھنا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ انٹرویو]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ سلسلہ شناسائی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=843</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔ سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #ff0000;">منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے گا اور خاص طور مُسدّسِ حالی جیسے کام سے تو یقینا واضح ہو جاتا ہے۔ </span>اس کے علاوہ آپ کے بلاگ سےصاف اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اردو نثر سے بھی خاص لگاؤ ہے اور اساتذہ کا احترام آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں تو آپ ایک دو بار اپنا نام تبدیل کر چکے ہیں  جیسے خرم شہزاد خرم سے اب <a href="http://nawaiadab.com/khurram/"  target="_blank">خرم ابن شبیر</a> بن چکے ہیں۔لیکن بلاگ کا عنوان تبدیل کرنے میں شاید کچھ زیادہ ہی جلدی دیکھاتے ہیں۔ کئی تبدیلیوں کے بعد آج کل ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان اپنائے ہوئے ہیں۔ آپ نئےبلاگر ہیں نہ بہت پرانے۔ تقریبا تین چار سال سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔ اردو بلاگنگ ویب سائیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے آپ کے پرانے بلاگز سے شروع کی تحاریر کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ آج کل آپ نے اپنی ذاتی ڈومین پر بلاگ بنا رکھا ہے۔ ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کے پرچم تلے آج کل آپ کے ہی بلاگ پر شاہدہ اکرام اور محمد رضوان بھی آپ کے ساتھ مل کر لکھ رہے ہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">یہ تو تھا خرم ابن شبیر کا ایک مختصر تعارف اب مزید جاننے کے لئے ان سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔</span></p>
<p><span id="more-843"></span><br />
<span style="color: #0000ff;">منظر نامہ کے سلسلہ شناسائی میں خوش آمدید خرم ابن شبیر۔</span><br />
السلام علیکم عزت افزائی کا بہت شکریہ<br />
<span style="color: #ff0000;">سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟</span><br />
@ راولپنڈی  کے  علاقہ  ڈھوک حسو  میں ایک محلہ کشمیرہیاں  عالم آباد   میری جائے پیدائش ہے اور اس وقت روزگار کے سلسلے میں ابوظہبی میں ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟</span><br />
@ تعلیم کے بارے میں تو آپ کو اندازہ ہوہی گیا ہو گا  سکول پاس کیا ہوا ہے اور کالج کا منہ دیکھا ہے بس تعلیم اتنی ہی ہے۔ یوں تو خاندانی پس منظر کے بارے میں تو بہت کچھ جانتا ہوں لیکن یہاں صرف دادا جی سے ہی شروع کرتا ہوں دادا جی فوج میں ملازمت کرتے تھے انتہائی شریف اور نیک سیرت انسان تھے علاقے کی مسجد میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے اللہ تعالیٰ  دادی جی کو جنت الفردوس اعلیٰ مقام عطا فرمائے  آمین۔ والد صاحب  راولپنڈی تعلیمی بورڈ میں   انکوائری برانچ آفیسر ہیں ان کا کام کیا ہے وہ آپ<a href="http://www.biserwp.edu.pk/contactus-09.asp"  target="_blank"> یہاں </a>جا کر دیکھ سکتے ہیں سب سے اوپر والد صاحب کا ہی نام ہے۔ خاندانی اعتبار سے ہم راجپوت ہیں لیکن میرے علاوہ سب اپنے نام کے ساتھ راجہ لگاتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟</span><br />
@      زندگی کا مقصد تو ابھی تک سمجھ ہی نہیں آیا  بس جو کام سامنے آتا ہے وہ کرنا شروع کر دیتے ہیں بچپن سے ایک ہی خواہش تھی وہ یہ کہ میں اس قابل ہو جاؤں کے سب کی مدد کروں  اور ابھی تک اس قابل نہیں ہوا شاید زندگی کا مقصد بھی یہی ہے  جس کی تکمیل میں لگا رہتا ہوں ۔کبھی سمجھتا ہوں کے مقصد پورا ہو رہا ہے اور کبھی لگتا ہے میں اپنے مقصد سے بہت دور ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کو لکھنے کا شوق کب سے ہے؟</span><br />
@    شوق ہممم  اصل میں مختلف ادوار میں مختلف شوق رہے مجھے مصوری کا شوق بھی رہا  جو ایک ہی دفعہ والدہ محترمہ کی مہربانی سے ختم ہو گیا <a href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=407"  target="_blank"> پُرانے کاغذ</a> کے نام سے ایک تحریر میں ذکر بھی کیا تھا  اور لکھنے کا شوق تو شاید بچپن سے ہی تھا سکول میں سکول کا ہوم ورک ، چاندنی چوک میں دوکان کا حساب کتاب، نسٹ یونیورسٹی میں فوٹو کاپیز کا ریکارڈ اور اب کمپیوٹر کی دوکان میں روز کی سیل کا ریکارڈ <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' />  ۔ شاید 2000 سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	شاعری کرنے کی شروعات کسی خاص بات کے نتیجہ میں تھی یا بس ویسے ہی دل کیا اور شروع کر دی؟</span><br />
@  کچھ خاص بات تو نہیں تھی سکول دور میں  بیت بازی میں اکثر میں جیت جاتا تھا مجھے بہت سے شعر یاد ہوتے تھے جب میں آٹھوی کلاس میں تھا تب میں نے ایک نعت لکھی تھی  نعت تو سب نے پڑھ کر تعریف کی تھی  لیکن اس کے بعد میں نے ایک شعر لکھا تھا جس پر میری بہت کلاس ہوئی تھی اور ہر پڑھنے والے نے مذاق اڑایا تھا  پھر میں نے شاعری سے توبہ کر لی شعر کچھ یوں تھا<br />
<span style="color: #0000ff;">نا تم روتے نا ہم روتے نا ہمارا بلبل روتا<br />
ہم سب مل جل کر رہتے تو ہمارا یار نا کھوتا</span><br />
دوستوں نے لفظ &#8220;کھوتے&#8221; پر بہت مذاق بنایا کہ کھوتا تم ہوگے ہمیں کیوں کہتے ہو ۔ 2002 میں فارغ تھا  اور بس اسی دور میں شاعری کی شروعات کی جو کے بے وزن تھی اور باوزن شاعری میرے خیال سے 2005 سے شروع کی جس میں میرے اساتذہ کا بہت ہاتھ ہے جن میں سب سے پہلے  پرفیسر عثمان خاور صاحب، ذوالفقار علی زلفی صاحب، محمد وارث صاحب اور اعجاز عبید صاحب سب سے اہم ہیں۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">-	سنا ہے کہ دل ٹوٹے تو انسان شاعری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے یا پھر افواہ ہی سمجھیں؟</span><br />
@ ہا ہاہا   کہا تو یہی جاتا ہے کہ ناکام عاشق ہی شاعری کرتا ہے۔ لیکن یہ بات کسی حد تک غلط ہے اور کسی حد تک درست  دل ٹوٹنے سے مراد کسی بھی کام میں دل ٹوٹ سکتا ہے لازمی نہیں  محبت میں ناکامی سے ہی دل ٹوٹتا ہے۔  شاعر تو حساس ہوتے ہیں اس لیے ان کے دل جلدی ٹوٹ جاتے ہیں   تو کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ دل ٹوٹنے کی وجہ سے شاعری کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے انسان لیکن اس کے اندر قدرتی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔<br />
<span style="color: #0000ff;">-	ایک بات جس کا جواب ہمیں ٹھیک نہیں مل سکا وہ آپ ہی بتا دیں کہ آپ نے بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟</span><br />
@ اس بارے میں تو میں بھی کچھ کنفرم  نہیں بتا سکتا  کیونکہ پہلے میں نے wordpress.pk  پر بلاگ بنایا جو کہ کسی خرابی کی وجہ سے وفات پا گیا پھر میں نے اردو ٹیک پر بلاگ بنایا  وہ بھی  اسی طرح کے حادثے کا شکار ہو گیا پھر اس کے بعد ایک دفعہ دوبارہ بلاگ بنایا وڈپریس میں   اور آخر کار بلال بھائی کی مدد سے اپنی ڈومین پر منتقل ہو گیا  شاید چار سال پہلے بنایا تھا بلاگ  تاریخ یاد نہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگ بناتے ہوئے آپ نے کیا سوچا تھا کہ آپ کو بلاگنگ کیوں کرنی چاہیے یا بلاگ کے آغاز کا بنیادی مقصد کیا تھا؟</span><br />
@  بلاگ بنانے کا  شروع میں تو اپنی ادبی تنظیم نوائے ادب کے بارے میں لکھنا تھا  لیکن نوائے ادب ایک مہینے کے بعد ہی کوئی پروگرام منعقد کرتی تھی جس کی وجہ سے میں نے آگے پیچھے کی مارنی شروع کر دیں  اصل مقصد تنظم کو سامنے لانا تھا جو کہ ٹھیک سے پورا نہیں ہو سکا لیکن اب تو اللہ کے فصل سے بہت سے مقصد لے کر چل رہا ہوں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟</span><br />
@ آغاز میں  تو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایک تو مجھے نیٹ کے بارے میں کچھ زیادہ جانکاری نہیں تھی  اور دوسرا بلاگ کی الف ب سے بھی  واقف  نہیں تھا بس یہی سمجھ لیں کے ایک بچے کو سکول جانے میں جتنی مشکلات ہوتی ہیں  اتنی بلاگنگ کے آغاز میں ہوئی تھیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ بلاگ کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے؟</span><br />
@ پہلے  تو میں کچھ خاص اہمیت نہیں دیتا تھا  لیکن بعد میں اچانک تھوڑی تھوڑی اہمیت دینی شروع کر  دی اور پچھلے ایک سال سے تو بہت ہی اہمت دے رہا  ہوں  اب تو شاہدہ آپی اور رضی  (محمد رضوان )میں ساتھ دیتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	یہ بتائیے کہ اپنے بلاگ پر ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان آپ نے کیوں منتخب کیا؟ کیا یہ کوئی خاص پروجیکٹ ہے؟</span><br />
@ یہ سوال کم از کم میرے لیے رضوان کے لیے اور &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے &#8221; کے لیے بہت اہم ہے۔ اصل میں یہ سب رضی کی وجہ سے ہے رضی ایک مخلص دوست  اور دوسروں کے لیے دل میں درد رکھنے والا بچہ ہے (بچہ اس لیے کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے اور پیار سے بچہ کہتا ہوں) وہ اکثر مجھے اپنی خواہشات  بتاتا رہتا تھا پھر ہم دونوں نے مل کر سوچا اگر ہم دونوں کچھ کر سکتے ہیں تو پھر کچھ کر لیا جائے &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; یہ ایک تنظیم سی بنائی ہے جس میں مرکزی کردار تو میں اور رضی ہی ادا کرتے ہیں لیکن کچھ کردار پسِ پردہ ہیں جو ہمیں تحریک دیتے ہیں ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم باقیوں کی مدد کر سکیں &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; یہ ایک نا ختم ہونے والا پروجیکٹ ہے اور انشاءاللہ اس پر ہم محبت اور محنت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے جب تک اللہ نے ہمت دی اور ویسے بھی میرے والد صاحب کہتے ہیں ایسے کام ہم نہیں  کر سکتے ایسے کام اللہ تعالیٰ خود چلاتا ہے ہم تو بس اس کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ ابھی تو ہم نے &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; کے پروجیکٹ میں ایک سلسلہ  &#8220;ایک بچہ ایک بستہ&#8221; کا سلسلہ شروع کیا ہے جو ہماری سوچ سے بھی بہت زیادہ کامیاب ہو رہا ہے بہت سے احباب اور دوست مدد کر رہے ہیں اور  ہم آگے بچوں کو بستے  پہنچا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ جن جن بچوں کو ہم نے بستے  دیے ہیں ان ن کی تعلیم کی ذمہ داری ہم اٹھا لیں جو کہ ایک مشکل کام ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے۔ اس کام میں محمد رضوان بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے آپ سب سے درخواست ہے آپ ہمارے لیے دعا کریں کے ہم کامیاب ہو جائیں جلد ہی انشاءاللہ اس مقصد کے لیے الگ سے بلاگ بنا لیں گے اور پھر سارا کام اسی پر کیا کریں گے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	اکثر بلاگر اپنا خود کا بلاگ بناتے ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر آپ دو تین لوگ مل کر لکھتے ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟</span><br />
@  شاہدہ  آپی جی  کے بلاگ کے ساتھ کیا ہوا یہ تو آپ سب کو پتہ ہے وہ اپنا بلاگ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اور امید ہے انشاءاللہ ایک ہفتے تک ان کا بلاگ تیار ہو جائے گا  اس دوران وہ فارغ تھیں تو میں نے ان کو دعوت دے دی اپنے بلاگ پر جو انھوں نے خوشی سے قبول کر لیں جو کہ میرے لیے ایک فخر کی بات ہے  اور جہاں تک رضی کی بات ہے تو میرا اور رضی کا مقصد ہی ایک تھا تو پھر ہم نے الگ بلاگ بنانے کا سوچا ہی نہیں اس لیے رضی کو بھی اسی بلاگ پر لکھنے پر مجبور کیا  بڑی جان چھوڑانے کی کوشش کی اس نے لیکن میں نے کان سے پکڑ کر ذبردستی لکھنے پر مجبور کر دیا   ۔ بس یہی وجہ ہے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ بلاگرز کی تعداد زیادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر معیاری بلاگرز پر؟</span><br />
@  معیار کی طرف تو سب توجہ دیتے ہیں لیکن میں بلاگرز کی تعداد کی طرف توجہ دیتا ہوں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی معیاری چیز معیاری ہی پیدا نہیں ہوتی نا کوئی پیدائشی شاعر یا ادیب ہوتا ہے نا کوئی ڈاکٹر یا سائنسدان  جب تعداد  زیادہ ہوگی تو معیار بھی آ ہی جائے گا جب ایک دوسرے سے بہتر لکھنے کی یا بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو خود بخود معیار سامنے آ جائے گا  اب تو اللہ کے کرم سے ہمارے پاس بہت معیاری لکھنے والے ہیں اگر میں صرف معیاری لکھنے والوں کا نام لوں تو  بہت وقت لگ جائے  ۔ معیار تب بنتا ہے جب کچھ کیا جاتا ہے  اس لیے پہلے تعداد اور پھر معیار  (یہ  میری ذاتی رائے ہیں اختلاف تو ہو سکتا ہے )</p>
<p><span style="color: #0000ff;">-	آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟</span><br />
@   پہلے تو یہ سوچنا چاہے کہ اصل میں معیار ہے کیا  اب میں شاعری پسند کرتا ہوں تو میری نظر میں سب سے معیاری بلاگ  محمد وارث صاحب کا ہی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوگا کہ  باقی معیاری نہیں اس لیے پہلے معیار سمجھنا چاہے۔ میرا تو خیال ہے جس فن میں آپ ماہر ہیں جو آپ بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں جس پر آپ کو مکمل  دسترس حاصل ہے  اسی کام میں اسی فن کے مطابق اگر اپنے بلاگ کو تیار کریں گے تو میرے خیال میں وہ معیاری بلاگ ہو گا  میری طرح ہر چیز میں ٹانگ لٹکانے سے معیار قائم نہیں رہتا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نئے بلاگرز کو کس طرف توجہ دینی چاہے۔ بلاگ کی ترتیب پر یا پھر اچھی تحریروں پر؟</span><br />
@  میرے  خیال میں نئے بلاگرز کو بس بلاگ لکھنے کی طرف توجہ دینی چاہے وقت کے ساتھ ساتھ ترتیب اور تحریر میں نکھار  آ ہی جائے گا ۔  نئے بلاگر بسم للہ تو کریں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	نئے اردو بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے ایسا کیا کیا جائے، جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں؟</span><br />
@ میں نے جب بلاگ لکھنا شروع کیا تو مجھے یہ شکایت رہتی تھی کہ سینئیر بلاگر میرا بلاگ نہیں پڑھتے اور نا ہی تبصرہ کرتے ہیں ۔ اس دوران ایک بلاگر نے مجھے کہا تھا &#8220;خرم صاحب تحریر اچھی ہوگی تو تبصرہ خود بخود ہو جائے گا اس لیے آپ  یہ شکایت نا کریں کے کوئی آپ کا بلاگ نہیں پڑھتا پڑھتے سب ہیں &#8221; اس کے بعد میں نے شکایت نہیں کی تھی لیکن میں چاہتا ہوں نئے لکھنے والوں کو  ان کی غلطیوں سے اور خوبیوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان  کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ  بلاگ کی طرف توجہ دیں اس سلسہ میں میں اردو سیارہ سے بھی درخواست کروں گا کہ انھوں نے جو دو ماہ کی قید رکھی ہوئی ہے رجسٹریشن کے لیے  اس کو بھی ختم کر دیں جب نئے لکھنے والوں کا بلاگ اردو سیارہ پر ظاہر نہیں ہوتا تو نئے بلاگ کی طرف  نظر بھی بہت کم پڑتی ہے اگر جسٹریشن کا وقت ختم کر دیا جائے اور جب مرضی اپنا بلاگ رجسٹر کروا لیا جائے تو میرے خیال سے  اچھے اچھے بلاگر سامنے آ سکتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ اردو بلاگرز کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔ اور کیسے؟</span><br />
@  اردو  بلاگرز میں جس طرح معیاری لکھنے والوں کا اضافہ ہو رہا ہے اس سے تو اردو بلاگرز کا مستقبل روشن  ہی نظر آ رہا ہے اور انشاءاللہ روشن ہی ہو گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟</span><br />
@  جی ہاں مجھے بلاگنگ سے بہت فائدہ ہوا ہے میں نے بلاگنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے  اس سے مجھے پہلے تو نہیں لیکن اب &#8220;دیا جلائے رکھنا ہے&#8221; مہم کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے  بلاگنگ کی ذریعہ  ہم اپنی بات آپ سب تک پہنچا سکتے ہیں<br />
<span style="color: #0000ff;">-	اگر آپ کو اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے ؟</span><br />
@  اردو  ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ<br />
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟</span><br />
@  میں تو یونی کوڈ کو سلام کرتا ہوں جس نے اس اردو کی لاج رکھ لی ورنہ بڑے بڑے خود کو شاعر کہنے والوں نے بھی یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کر کے رومن رکھ دیا جائے۔ وہ جو مقام اردو کا تھا یا جو ہونا چاہے تھا یا جس کی وہ مستحق ہے  وہ تو نا مل سکا  لیکن انشاءاللہ امید پر دنیا قائم ہے  مل جائےگا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟</span><br />
@ جس طرح اردو بلاگرز کی تعداد اور معیار سامنے آ رہا ہے انشاءاللہ اردو بلاگنگ جلد اپنا ایک ایسا مقام بنا لے گی جس کا ذکر ہر جگہ ہوا کرے گا  دس سال تو بہت دور ہیں انشاءاللہ جلد ہی ایسا ہو گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ یا آجکل کن پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں؟</span><br />
@  بلاگ کے علاوہ  روزگار سے جان چھوٹے تو کچھ سوچیں۔ پراجیکٹس تو بہت سے چل رہے ہیں لیکن سب سے اہم &#8220;دیا جلائے رکھنا ہی ہے جس میں رضی بہت محنت کر رہا ہے  اس کے علاوہ   ایک دو چھوٹے چھوٹے کام ہے جن کا ذکرنا بھی کیا جائے تو چلے گا<br />
<span style="color: #0000ff;">-	کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟</span><br />
@ پیغام تو نہیں البتہ دعا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو  ان دلوں کو ان ارادوں کو کامیاب کرے جو اردو کی خدمت کے لیے ایک ذرہ برابر بھی کوشش کر رہے ہیں آمین</p>
<p><span style="color: #ff0000;">کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;">پسندیدہ:</span><br />
1۔ کتاب ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کوئی ایک نہیں</span><br />
2۔ شعر ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کوئی ایک شعر منتخب کرنا بہت مشکل ہے   لیکن اعتبار ساجد صاحب کا ایک شعر  جس کی مجھے جلد ہی سمجھ آ گی تھی اور اس پر ہی عمل کرتا ہوں<br />
ہم اتنے شور میں سب سے مخاطب بھی نہیں ساجد<br />
جو سن سکتے ہیں بس ان کو سنائی دے رہے ہیں ہم</span><br />
3۔ رنگ ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">کالا اور سفید</span><br />
4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟<br />
<span style="color: #0000ff;">یوں  تو کریلوں (کریلے کڑوے ہوتے ہیں) کے علاوہ  سب کچھ کھا لیتا ہوں لیکن سرخ لوبیا اور سفید چاول بہت پسند ہیں</span><br />
5۔ موسم<br />
<span style="color: #0000ff;">دل کا موسم</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">غلط/درست:</span><br />
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span><br />
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی نہیں</span><br />
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟<br />
<span style="color: #0000ff;">جی ہاں</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">خرم ابن شبیر اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیےانٹرویو دینے کا بہت بہت شکریہ۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/04/interview-with-khurram/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>27</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>منظر نامہ ایوارڈز 2009 : مشاورت</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2009 00:00:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=537</guid>
		<description><![CDATA[آپ سب کو معلوم ہو گا ہی کہ پچھلے سال سے اردو بلاگرز کے لیے ایوارڈز کا سلسلہ منظر نامہ پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کی تجویزسب سے پہلے اردو بلاگر “میرا پاکستان“ نے دی تھی۔ پچھلے سال صرف تین ایوارڈز جاری کیے گئے تھے۔ ١۔ سال 2008ء کا بہترین بلاگ ٢۔ سال 2008ء [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آپ سب کو معلوم ہو گا ہی کہ پچھلے سال سے اردو بلاگرز کے لیے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/awards/" >ایوارڈز کا سلسلہ </a>منظر نامہ پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کی تجویزسب سے پہلے اردو بلاگر “<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a>“ نے دی تھی۔ پچھلے سال صرف تین ایوارڈز جاری کیے گئے تھے۔<br />
١۔ سال 2008ء کا بہترین بلاگ<br />
٢۔ سال 2008ء کا فعال ترین بلاگ<br />
٣۔ سال 2008ء کا بہترین نیا بلاگ<br />
اب چونکہ 2009 بھی اپنے اختتام کی طرف جا رہا ہے تو ہمیں ابھی سے “ایوارڈز 2009“ کی پلاننگ کرنا ہو گی۔ اس سال بہت سے نئے اردو بلاگرز سامنے آئے۔ اور اسی لحاظ ہم تین ایوارڈز کی تعداد بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ پچھلی بار اردو بلاگرز کی طرف سے ایوارڈز کے سلسلے میں منظر نامہ کو کوئی خاص تعاون حاصل نہیں رہا تھا۔ لیکن اس بار آپ تمام اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ ہماری مدد کر کے اس کام کو آسان بنائیں۔ نہ صرف ایوارڈز بلکہ نامزدگیوں میں بھی آپ سب کی مدد درکار ہو گی۔<br />
ذیل میں کچھ ایوارڈز کے نام دئیے جا رہے ہیں، لیکن ان کو شامل کرنا ضروری نہیں۔ آپ سب کے مشورے اور آراء کے بعد ہی سال 2009 کے ایوارڈز منتخب کیے جائیں گے۔<span id="more-537"></span></p>
<p>١۔  بہترین بلاگ<br />
٢۔  فعال ترین بلاگ<br />
٣۔  نیا بہترین بلاگ<br />
٤۔ بہترین مزاح بلاگ<br />
٥۔ بہترین ٹیکنالوجی بلاگ<br />
٦۔ بہترین گپ شپ بلاگ<br />
٧۔ بہترین سیاسی بلاگ<br />
٨۔ بہترین معلوماتی بلاگ<br />
٩۔ بہترین ادبی بلاگ<br />
١٠۔ بہترین بلاگ ڈئزائین</p>
<p>آپ ان ایوارڈز کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ ایوارڈز زیادہ ہیں؟ ان میں سے کس ایوارڈ کو شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یا پھر کوئی اور ایوارڈز جو آپ شامل کرنا چاہتے ہوں؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>39</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Jul 2009 08:29:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[blogs]]></category>
		<category><![CDATA[comments]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=423</guid>
		<description><![CDATA[اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ بلاگز چننا کچھ مشکل لگا، جن کو منتخب کرکے ان  کا ذکر کیا جائے۔ کچھ تحاریر، تحاریر کم سوال نامہ زیادہ محسوس ہوئیں اور کچھ تحاریر ایسی کہ پڑھتے چلے جاؤ اور طویل تحریر ختم ہونے پر سوچنا پڑے کہ پڑھا کیا ہے؟ (ہوسکتا ہے یہ ہماری ہی نالائقی ہو) کچھ تحاریر ایسی کہ کسی اخبار یا نیوز سائٹ سے خبر کاپی کی   اور کچھ ایسی کہ ایک تصویر یا ویڈیو لگاکر ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ گئے، لو جی، بلاگ پوسٹ ہوگئی۔ ایسا لگا جیسے اس مہینے اردو بلاگنگ کو زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔</p>
<p>مہنگائی، دہشت گردی، ہزارہا مسائل میں مبتلا پاکستانی قوم کی حالت اس وقت افسوس ناک ہے۔ ان سب مسائل کے سبب عوام نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ اخلاقی اقدار  بھی تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ ’<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >تیرا ککھ نہ رہوے</a>‘ کے عنوان سے شاکر عزیز لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔ اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔</span></p>
<p>پاکستانی معاشرہ اس وقت بہت بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے. ایک طرف عوام میں شعور بیدار ہورہا ہے تو دوسری طرف دیوار سے لگانے والے بھی اپنی کوششوں میں پیہم مصروفِ عمل ہیں. عنیقہ ناز اپنی تحریر ’<a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/2009/06/blog-post_19.html" >فتراک کے نخمچیر</a>‘ میں ایسے ہی متضاد رویوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے دعوتِ فکر دیتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ ایف سکسٹین ان سے لیکر اڑانا سیکھ لیں۔ البتہ بناتے وہ اسے رہیں اور اپنی ضرورت کے حساب سے اس میں نئ تبدیلیاں وہ لاتے رہیں۔ پھر ان نئ تبدیلیوں کو آپ ان سے پیسہ دیکر سیکھیں۔ کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ اپنی فوجوں کی صحت کے لئے، جان بچانے والی اشیاءاور دوائیں ان سے خریدیں اور ان کا طریقہ ء استعمال بھی۔ البتہ وہ اس چیز پہ تحقیق کرتے رہیں کہ اسے مزید بہتر اور سستا کیسے بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">چلیں اتنی بڑی باتوں پہ جی کیا جلانا ۔ یہ مجھے کسی نے باہر سے سلائ کی مشین تحفے میں لا کر دی ہے۔ اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت ہلکی اور چھوٹی سی ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لیکر کہیں بھی پھر سکتی ہوں۔ اس کا وزن کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن لانے والا اس کا مینوئل وہیں بھول آیا ۔ باہر سے کوئ سوراخ نظر نہیں آتا اندر سے یہ بالکل بند لگتی ہے۔ اب میں نیٹ پر بیٹھی سرچ کر رہی ہوں کہ اس میں تیل ڈالنےکا کیا طریقہ ہوگا۔ یہ مشین یہاں کسی نے استعمال نہیں کی اور کوئ مجھے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہم سب نے صرف ضرورت کا علم حاصل کیا ہے۔</span></p>
<p>جب دو مخالف باتوں یا اصولوں کے بیچ انتہائی حد تک ٹھن جائے تو معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں طرف سے اِنتہا کا زور لگتا ہے اور یہ انتہا پسندی اُس ماحول میں بسنے والے انسانوں کی زندگی پر بُری طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔ نت نئی ایجادات نے ایک طرف دنیا کو گلوبل ولیج بنادیا ہے تو دوسری طرف دِلوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا کردی ہیں۔ اِس بھری دنیا،  بھری محفل میں ’<a target="_blank" href="http://www.pakiez.com/983/07/06/2009/" >تنہا انسان</a>‘ کا ذکر کررہے ہیں فرخ انور کہ</p>
<p><span style="color: #993366;">انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔<br />
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔<br />
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔<br />
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں۔</span></p>
<p>اُردو بلاگنگ کے دائرے میں نئے اضافے یقیناً خوش آئند ہیں۔ کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جن کا بلاگ لکھنا اردو بلاگنگ پر اُن کا احسان ہے (اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا نہ لکھنا احسان ہوگا)۔ محمد وارث کا تعلق اوّل الذکر صاحبان سے ہے۔ اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >مہربان</a>‘ سے  اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<p><span style="color: #993366;">اس &#8216;دشتِ بلاگران&#8217; میں ہمیں بھی ایک سال ہو گیا ہے، مئی 2008ء میں یہ بلاگ بنایا تھا اور اب الحمدللہ ایک سال مکمل ہوا۔ کیا کھویا کیا پایا کا سوال میرے لیے اہم نہیں ہوتا کہ سفر کرنا ہی اصل شرط ہے لیکن نشیب و فراز تو انسانی زندگی کا حصہ ہیں سو اس بلاگ کے ساتھ بھی شامل رہے۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">اس کے ساتھ ساتھ، یہاں پر یہ بھی &#8216;اعتراف&#8217; کرنا چاہوں گا کہ بلاگ کی دنیا میں وارد ہونے کے بعد بہت اچھے احباب اور دوستوں سے واسطہ پڑا۔ گو ہمارے بلاگ پر تشریف لانے والے زائرین کی تعداد اس ایک سال میں 10 فی یومیہ کے حساب سے تقریباً چار ہزار ہے اور ظاہر ہے اس میں بھی بہت سے اتفاقیہ یا بھولے بھٹکے تشریف لانے والے ہیں اور مستقل قارئین کی تعداد دونوں ہاتھوں کی پوروں پر بآسانی گنی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی میرے لیے مسرت کی بات ہے کہ کم از کم کوئی تو ہے جو جنگل میں اس مور کے ناچ کو دیکھ رہا ہے۔</span></p>
<p>اِس تحریر میں وارث نے بلاگنگ کی طرف آنے، مختلف مسائل کے درپیش ہونے اور اُن سے نمٹنے کا ذکر بھی کیا ہے اور اُس نامعلوم مہربان کا بھی جس نے اُن کے بلاگ کو انتہائی بُرا قرار دے کر اپنے اعلیٰ ذوق کا اظہار کیا۔ محمد وارث کو مستقل مزاجی سے ایک سال اردو بلاگنگ کرنے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ باذوق معیاری تحاریر پیش کرنے پر منظرنامہ کی جانب سے مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اِظہار کہ وہ باقاعدگی سے اِسی طرح لکھ کر ہمارے علم میں اضافہ کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ ماہِ جون میں علمِ شاعری پر وارث کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post_12.html" >بحرِ مُتَقارِب &#8211; ایک تعارف</a>‘ اُن کے علمی ذوق پر دال ہے۔ اگر آپ کے ذہن کے کسی کونے میں کبھی بھی شاعری کرنے کی خواہش نے سر اُبھارا ہو اور آپ نے استاد شعرا کی ڈانٹ کے ڈر سے اپنی خواہش کو تھپک کر سلادیا ہو تو آپ کے لیے وارث کے بلاگ کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا۔ فنِ شاعری پر لکھے گئے بے حد آسان اور عام فہم مضامین سے صرف وارث کی قابلیت سے آگاہی نہیں ملے گی بلکہ یہ مضامین آپ کو باقاعدہ شاعر بننے میں مدد بھی دیں گے۔</p>
<p>نکاح سنتِ رسولﷺ ہے۔ گھر بسنے کے بعد انسان کی حیات کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ نئی ترجیحات، نئی مصروفیات، نئی زندگی۔۔۔ اِس زندگی میں عموماً بہت سی عادتیں اور معمولات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کی زندگی میں ایک نئے مہمان کی آمد ہوجائے (اور آپ شرماتے ہوئے، زیرِ لب مسکراتے ہوئے دو سے تین ہونے کی خوش خبری سنیں) تو جیسے بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود خاتون اردو بلاگر امن ایمان طویل طویل وقفہ کے ساتھ ہی سہی، لیکن اردو بلاگنگ سے ناتا جوڑے ہوئے ہیں (ہمیں امید ہے کہ انہیں خود کو خاتون لکھے جانے پر اعتراض  نہ ہوگا)۔ غیر متوقع طور پر اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=200" >خیر مبارک</a>‘ پڑھنے کو ملی۔ لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">خیر مبارک۔۔۔!<br />
یہ کہنے میں میں نے کافی دن لگا دیے۔۔اس کے لیے بہت بہت معذرت خواہ ہوں۔۔پہلے بتا دوں کہ خیرمبارک کس بارے تھی۔۔آپ سب نے مجھے میری بیٹی کے پیدا ہونے پر جو ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور دعائیں دی ہیں یہ اس کے لیے ہے۔</span></p>
<p>پھر ایک عرصہ غائب رہنے کی وجوہات بیان کرتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ایک تو میں تین چار ماہ کے بعد لاہور ماما کے گھر آئی۔۔سسرال میں نیٹ کی سہولت نہیں۔۔پھر یہاں لاہور میں لائٹ جانے کے بدترین اوقات تھے۔۔اس لیے میرے اور نیٹ کے تعلقات جلدی بحال نہ ہوسکے۔۔۔خیر کسی طرح یہ سب مینیج کیا تو خیر سے سارے پاسورڈز بھول گئے اور پھر پاسورڈز ہاتھ چڑھے تو بلاگ پر پرانی تھیم دیکھ کر لکھنے کا دل نہ چاہا۔۔۔پورا ایک ہفتہ اچھی تھیم ڈھونڈنے میں لگا دیا۔۔۔۔جب اچھی تھیمز ہاتھ لگیں تو کوئی تھیم بھی اردو لباس پہننے کو تیار نہ ہوئی۔</span></p>
<p>یہ تو ان کی عادت ہی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ چند دن ہی کے لیے بلاگ پر حاضری دی لیکن بلاگ کا سانچہ تبدیل کیا، اُس کو اردو میں ڈھالا، جہاں مشکلات پیش آئیں، انہیں بلاگ کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=213" >کوئی تھوڑی سی نقل کروادے پلیز</a>‘ میں بیان کیا اور اُن کا حل کھوجا۔ اُن کی پیاری سی بچی <a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=203" >حبہ</a> کے لیے منظرنامہ کی طرف سے نیک خواہشات اور ڈھیر ساری دعائیں۔</p>
<p>کھانے پینے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ کوئی روایتی دیسی کھانوں کا شوقین ہوتا ہے تو کسی کو فاسٹ فوڈ یا غیر ملکی کھانے کا جنون ہوتا ہے۔ اردو بلاگز میں <a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/category/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%da%a9%d8%a7-%da%a9%da%86%d9%86/" >کہنی سننی</a>، <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/category/%DA%86%D9%B9-%D9%BE%D9%B9%DB%92-%D9%BE%DA%A9%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%94/" >حجاب</a>، <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/category/foodcooking/" >ماوراء</a> وغیرہ کے بلاگ پر کھانے پینے کی مختلف تراکیب پڑھنے کو مِلتی رہی ہیں لیکن <a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/" >ماہ رُخ</a> نے تو اردو بلاگنگ میں باورچی خانہ ہی قائم کرڈالا ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/irani-onion-soup.html" >ایرانی پیاز سوپ</a>‘، ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/lucknavi-qourma.html" >لکھنوی قورمہ</a>‘ وغیرہ سمیت ایسی کئی مزے مزے کی تراکیب ہیں جنہیں پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ماہ رُخ کے کچن کی کیا ہی بات ہے!</p>
<p>اپنی تاریخ سے دوری اور ماضی ناآشنائی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اِسی لیے دوست، دشمن کی پہچان میں اب تک ٹھوکر کھاتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ کے ایسے ہی ایک اہم باب سے پردہ اُٹھایا ہے ابوشامل نے۔ یہ داستان ہے ’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/muslim-holocaust/" >سقوطِ کریمیا</a>‘ کی  جب مسلمانوں کا بڑی تعداد میں خون بہایا گیا۔ ابوشامل رقم طراز ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">وسط ایشیا، قفقاز، وولگا-یورال و کریمیا کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا “تاریخ ملت اسلامیہ” کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً وسط ایشیا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں بخارا و سمرقند جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ سوویت عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں برطانیہ، اٹلی، فرانس و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ سوویت اشتراکی عہد کا ایک کریہہ باب جوزف اسٹالن کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔</span></p>
<p>ابوشامل نے اِسے مسلم ہولوکاسٹ سے تعبیر دی ہے۔ بلاشبہ یہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کی داستان ہے لیکن ایسی ہی کئی داستانیں آج ہمارے گرد افغانستان و عراق میں بکھری پڑی ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اِن سے سبق حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>کہتے ہیں، فارغ نہ بیٹھو کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ لیکن دیکھئے، سعدیہ سحر کے دماغ میں کیا بات آئی ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/06/06/%D8%A2%D9%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D9%88%DA%86%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D8%B1%D8%A7/" >آپ بھی سوچیں ذرا</a>‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">پاکستان میں اتنے عامل پیر فقیر ہیں جن کے قابو میں بڑے بڑے جن ہیں جو بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے ان سے کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے کہیں چلہ کاٹیں۔ جادو کے زور سے ڈرون طیاروں کے رخ دشمنوں کی طرف موڑ دیں اپنے شاگرد جنوں سے کہیں وہ سب ملک دشمن عناصر کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک آئیں۔ جو عامل محبوب کو قدموں میں ڈال سکتا ہے، وہ دہشت گرد کو حکومت کے قدموں میں کیوں نہیں ڈال سکتا؟ جو عامل پتھر دل محبوب کے دل کو موم کر سکتا ہے، وہ راکٹوں کو موم کیوں نہیں کر سکتا؟</span></p>
<p>سعدیہ! آپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا اچھا خیال پیش کیا ہے۔ عامل باباؤں اور نجومیوں سے ڈفر کو بھی کچھ جلن ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=829" >پھر کیڑے</a>‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">نام نہاد پیروں سے دشمنی بلکہ جیلسی (لفظ جلاپا سے زیادہ کھندک ٹپکتی ہے) تو کافی پرانی ہے لیکن اب لگتا ہے نجومیوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔ مسئلہ میرا یہ ہے کہ دہائیوں کی تعلیم کے بعد بھی مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ میں عالم کیوں نا بن سکا۔ بن نا سکا یہ میری نالائقی لیکن یہ نا اہلی مجھ سے ہضم نہیں ہوتی کہ اپنے آپ کو عالم کہلوا بھی نا سکا۔ اتنا تو بزدل نا تھا کہ اندھوں میں کانا راجہ بننے کی ناکام کوشش بھی نا کرتا۔ ویسے بھی جاہلین کا جو اعلٰی و ارفع درجہ اور تعداد ہمارے ہاں موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھے اپنی اس شکست کو تسلیم کرنا چاہئے اور جلد از جلد کسی دو آتشی پیر کے آستانہء عالیہ بلالیہ جلالیہ اور بعد میں ملالیہ پر حاضری دے کر اپنی ناکامیوں کو بخشوانا چاہئے کہ کیا پتا میں دنیا کہ ساتھ ساتھ اپنی آخرت میں بھی تاریکیاں بھرتا رہا ہوں؟</span></p>
<p>ڈالر۔۔۔ اگرچہ بے جان شے ہے لیکن ہے ایسی کہ نام سنتے ہی لوگوں میں جان آجاتی ہے۔ ڈالرز کے عوض لوگوں کی جان ہی نہیں، ایمان بھی خرید لیے جاتے ہیں۔ نعیم صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے مال و دولت کی طلب میں تھرکتے جسموں اور پھڑکتے ضمیروں کا اندازہ کرتے ہوئے ایک نظم ’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >ڈالر! مِرے اِس دیس کو ناپاک نہ کرنا</a>‘ لکھی تھی جسے شعیب صفدر نے پیش کیا ہے۔ کچھ سطور ملاحظہ ہوں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا<br />
تو ظلم کا حاصل<br />
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص<br />
سرمائے کی اولاد<br />
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل<br />
تو سود کا فرزند!<br />
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے<br />
بیواوں کی فریاد!<br />
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش<br />
توضعیف کی اک چیخ<br />
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر</span></p>
<p>کراچی میں حکومتِ سندھ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_10.html" >قومی بلاگرز کانفرنس</a> کیا منعقد ہوئی، دائرۂ بلاگنگ میں کئی اضافے دیکھنے میں آنے لگے۔ پھر کچھ ایسا رنگ نکلا کہ تحریر ایک ہونے لگی، تبصرے پچاس۔ بدتمیز کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/06/14/%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1/" >مہاجر</a>‘ اس کی روشن مثال ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">جب پاکستان بنا تو صرف مہاجرین ’’اردو سپیکنگ‘‘ نہیں تھے۔ آج بین ڈالنے کو صرف اردو سپیکنگ کیوں ہیں؟ بالخصوص ایسے میں جب ان کی تیسری اور چوتھی نسل یہاں پیدا ہوئی ہے یہ لوگ پاکستانی کیوں نہیں بن سکے اور ان کے والدین نے انکے دماغوں میں ’’مہاجر‘‘ زہر کیوں بھر دیا اور یہ آگے اپنی اولادوں میں یہ زہر کیوں منتقل کر رہے ہیں؟</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ان کی ٹرمز بھی دیکھ لیں۔ حق پرست پنجابی۔ اگر ان کی بات من و عن تسلیم کر لی جائے تو اپ کو خطاب دیں گے حق پرست پنجابی۔ تائب کارکنان کو نہ جانے کیا خطاب دیتے ہیں جو اصلیت فاش کرتے رہتے ہیں۔</span></p>
<p>اس تحریر پر ہونے والا مباحثہ ہمارے ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے سیاسی پروگرام سے کسی طور کم نہیں ہے کیوں کہ اس میں ایک دوسرے کے نظریات کے پرخچے بھی اُڑائے گئے ہیں اور ایک دوسرے کی ذات کے بھی۔ یعنی ایک مکمل ٹی وی پروگرام ہے۔</p>
<p>حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے کہ بہت سے لوگ اِس کی آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں اور بہت سے لوگ استطاعت رکھنے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ اردو ادب میں سفرنامے لکھے جانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ بہت سے ادیبوں نے مقدس سفر حج/ عمرہ کی داستان بھی رقم کی۔ چوں کہ یہ سفر مقدس ہے اِس لیے حج کے اکثر سفرنامے محبت و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں لیکن مشہور ادیب ممتاز مفتی کا سفرنامۂ حج ’’لبیک‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد ترین سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے آپ شک اور یقین، دونوں کی منزل سے بیک وقت خود کو گزرتا محسوس کرتے ہیں۔ وہاب اعجاز خان نے ’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/06/blog-post_20.html" >ممتاز مفتی (لبیک)</a>‘ پر ایک تجزیہ پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">لبیک ایک متنازعہ کتاب ہے ۔ یہ تصنع بناوٹ اور ریاکاری کے درمیان ، سچ اور خلوص اور جذبے کی ایک مثال ہے ۔ جس نے اپنی حیثیت و اہمیت کو منوالیا ہے۔ لبیک ایک ایسے فنکار کا شاہکار ہے جو تجزیہ کرتا ہے سوچتا ہے محض جذبے میں لتھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ سوچ سمجھ کر اس راستے پر روانہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مزاج دیگر حج ناموں سے ہٹ کر ہے۔ ممتاز مفتی اس رپورتاژ میں عقیدت نہیں پالتے بلکہ عقیدے کو سینچتے نظرآتے ہیں ۔ وہ ایسی کئی باتوں کو منظر عام پر لانے سے نہیں چونکتے ۔ جو دیگر دنیا دار قسم کے لوگ چھپاتے ہیں۔ وہ اپنی داخلی کیفیات کا بیان کھل کر کرتے ہیں۔</span></p>
<p>وہاب اعجاز خان کے اس تجزیے کے علاوہ پچھلی تحاریر بھی دیکھتے ہوئے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اُمید ہے ان کے ذریعے ہمیں کئی اچھی کتب سے آگاہی ہوگی۔</p>
<p>دنیا میں دن منانے کا رواج چل نکلا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن اِس بار ایک تجویز ہے ہفتہ منانے کی۔ شگفتہ ’<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=483" >ہفتۂ بلاگستان</a>‘ کی تجویز دیتے ہوئے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">میرا دل ہے کہ ہم سب بلاگرز مل کےایک ہفتہ منائیں یعنی کہ ایک ہفتہ منایا جائے بنام ۔ ۔ ۔ ہفتہ بلاگستان ۔ ۔ ۔ ہلکے پھلکے انداز میں اور کچھ سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہوسکے اس تجویز سے پہلے ایک خیال یہاں پیش کیا تھا۔ ۔ ۔ حالیہ تجویز گذشتہ سے پیوستہ ۔ دراصل کچھ اس طرح سوچا کہ یعنی ایسا سلسلہ ہو کہ تمام اردو بلاگرز دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں سب کی ایک ساتھ شرکت ممکن ہو سکے اور اس طرح سب کی ذاتی مصروفیات بھی متاثر نہیں ہوں گی۔</span></p>
<p><strong><em>مختصر مختصر:</em></strong><br />
محمد علی مکی اس بار جو پاکستان آئے ہیں، ہر کچھ دن بعد ایک خوش خبری سناتے ہیں۔ پہلے <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس کا اجراء</a> کیا اور اب <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو اوبنٹو جاری</a> کرکے نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔</p>
<p>ہمارے بہت پرانے بلاگر <a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/466" >نعمان یعقوب کی والدہ محترمہ</a> گذشتہ دنوں انتقال فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون. منظرنامہ اُن سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی والدہ محترمہ کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہے۔</p>
<p>ماہ جون ۲۰۰۹ء میں پاکستانی قوم کو جو ایک بڑی خوشی ملی، وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۰۹ء میں فتح تھی۔ اس موضوع پر کافی سارے بلاگز دیکھنے کو ملے۔<br />
<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/06/21/aur-hum-jeet-gay/" >اور ہم جیت گئے</a>۔ کہنی سننی<br />
<a target="_blank" href="http://yasirimran.wordpress.com/2009/06/21/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%84/" >فائنل جیت لیا</a>۔ یاسر عمران مرزا<br />
<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2731" >جیو تو ایسے</a>۔ میرا پاکستان<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1098" >ہم کسی سے کم نہیں</a>۔ دریچہ<br />
<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-20-%da%a9%25d" >عالمی چیمپئن</a>۔ فرحان دانش<br />
<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/t20-worldcup/" >وہ ایک چھکا، یہ ایک فتح</a>۔ ابوشامل<br />
<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post_22.html" >مبارک باد</a>۔ آوازِ دوست</p>
<p>اس بار ہمارا تبصرہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے لہٰذا باقی باتوں کو اگلی نشست کے لیے مؤخر کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہیں گے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں، خوش رہیں۔ اللہ حافظ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2009 06:06:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[ammar]]></category>
		<category><![CDATA[mawra]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[politics]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، عمار اور ماوراء اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ وہی ہے، <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >مہینے کے منتخب بلاگز</a> پر ایک نظر۔</p>
<p>جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو ہمیں قطعی اندازہ نہ تھا کہ جہاں یہ ہمارے لیے سر کا درد ثابت ہوگا، وہاں قارئین میں بھی مقبولیت حاصل کرے گا۔ قارئین کی طرف سے اگر اس قدر مثبت ردِّ عمل نہ آتا تو شاید ہم اس سلسلہ پر کب کا اللہ اکبر کرچکے ہوتے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' />   ماشاء اللہ، گذشتہ دنوں اُردو بلاگنگ میں مزید کچھ اضافے دیکھنے میں آئے اور کچھ مستقل لکھنے والوں نے اردو بلاگ شروع کیا۔ امید ہے کہ ہمیں مزید معیاری بلاگز پڑھنے کو ملیں گے۔</p>
<p><a href="http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/" >اپریل ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر مختصر تجزیہ</a> پچھلے دنوں پیش کیا جاچکا۔ آئیے، مئی ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/" >امید</a> طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/?p=132" >خود کلامی</a>‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں:</p>
<blockquote><p>’’بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے۔<br />
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خواہش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔‘‘</p></blockquote>
<p>اور اس مختصر تحریر کا اختتام اس فکر انگیز جملے پر ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>’’مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خواہش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>’امید‘ سے ہمیں امید ہے کہ باقاعدگی سے اپنے بلاگ پر نظر آئیں  اور اتنی غیر حاضریاں نہ کریں تاکہ ہمیں اچھی اچھی تحاریر پڑھنے کو مل سکیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان یعقوب</a> اردو میں کم ہی بلاگ کرتے ہیں۔ عموماً ان کی تحریر کراچی کے سیاسی حالات کے حوالے سے متحدہ قومی مومنٹ کی وکالت میں ہوتی ہے۔ ’’<a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/452" >فساداتِ ایم کیو ایم کراچی</a>‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر سے اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<blockquote><p>’’جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘</p></blockquote>
<p>ایم کیو ایم مخالف پروپیگنڈے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نتائج نعمان کی نظر میں یوں نکلتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نعمان علی اپنی ایک مختصر تحریر ’’<a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2009/05/01/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86-%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82.html" >مزدوروں کا دن یا ایک مذاق</a>‘‘ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہوا ایک شعر لکھتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر<br />
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے</p>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>وطنِ عزیز کے سنگین حالات کے سبب  متاثرہ علاقوں کے مہاجرین کی  دوسرے صوبوں میں آمد ایک بڑا ایشو ابھر کے سامنے آئی اور کئی ’’عظیم‘‘ رہنماؤں کے چہرے سے ’’حبّ الوطنی‘‘ کا نقاب اتر گیا۔ فرحان دانش’’<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%259" >سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں</a>‘‘ کے موضوع کے تحت لکھتے  ہیں:</p>
<blockquote><p>’’سندھ میں افغانستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرشاہ لطیف بھٹائی کی دھرتی پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے۔ سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور وہ ایک بار پھر سندھ کو خون میں نہلانے‘ دھرتی پر قبضہ جمانے اور مستقل باشندوں کو غلام بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں‘ اس مقصد کیلئے افغان مہاجرین کی آڑ میں لاکھوں افراد کو لاکر سندھ کے شہروں اور قصبوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس اقتباس سے اگرچہ بہت کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بقیہ تحریر بھی یقینا آپ کو کافی کچھ جاننے اور ’حب الوطنی‘ کے جذبے سے سرشار &#8220;افراد&#8221; کا مؤقف سمجھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>شکاری کراچی کے حالات کا رونا روتے ہوئے اپنی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=239" >ہم کہاں جارہے ہیں</a>‘‘ میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’عجیب افراتفری کا عالم ہے. بدھ 29 اپریل شام چار پانچ بجے سے رات گئے تک چالیس، بیالس افراد سکون کی نیند سو گئے. ان سکون سے سونے والوں میں اکثریت پھٹانوں کی تھی. ایک عرصے سے کراچی میں الطاف بھائی طالبان کا رونا رو رہے تھے کبھی پریشانی میں کھانا پینا چھوڑرہے ہیں تو کبھی نیند نہیں آتی. . . .<br />
اب تک ان کو یا متحدہ کو ہی طالبان دکھائی دیتے رہے اور کسی کو بھی کراچی میں طالبان نظر نہیں آئے. ان طالبان کو منظر پر لانے کے لیے سہراب گوٹھ میں ریڈی میٹ طالبان سامنے لائے گئے جنھوں نے وال چاکنگ کی، چرچ کی انتظامیہ کو دھمکیاں دی اور غائب ہو گئے… لیکن یہ نسخہ بھی کار آمد نہ ہوا تو دوبارہ ایسے طالبان کہیں ظاہر نہ ہوئے. مجھے تو حیرت ہوتی ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو سوات سے صرف ایک چرچ کی انتظامیہ کو دھمکی دینے آئے تو اور پھر دوبارہ سوات واپس چلے گئے.‘‘</p></blockquote>
<p>بات تو خیر سمجھنے کی ہے۔ یہ تو معصوم شکاری ہیں اس لیے شاید حیران ہیں لیکن کوئی اصل شکاریوں کے دامِ فریب کا شکار ہونے والوں سے پوچھے۔</p>
<p>ڈفر کی ایک مختصر مگر اپنے مخصوص دل چسپ انداز میں لکھی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=781" >یہ بچہ کس کا ہے</a>‘‘ سے ایک اقتباس:</p>
<blockquote><p>ڈفر : کیا یہ آپکا بچہ ہے؟<br />
لڑکی : ( شرم نما ہنسی کے ساتھ) نہیں اس کی امی تو اندر وارڈ میں ہیں۔<br />
ڈفر : (ساتھ والے لڑکے سے) دیکھا میں نے کہا تھا نا، ماں کبھی بھی اپنے بچے کو ہینگر کی طرح نہیں لٹکاتی۔</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /><br />
سیاق و سباق جاننے کے لیے ان کے بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کی زحمت تو کرنی ہی پڑے گی۔</p>
<p>محمد وارث کا تعارف کرانا غیر ضروری ہوگا کہ آپ کی قابلیت کے سبھی معترف ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اچھے شاعر ہیں اور علمِ شاعری کا بھرپور مطالعہ رکھتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_07.html" >علمِ عروض اور ہجے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’علمِ عروض دراصل ایک &#8216;ہوا&#8217; ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔<br />
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر &#8216;بناتا&#8217; ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں &#8216;شاعری&#8217; کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس تحریر کے بعد اگلی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_08.html" >علمِ عروض۔ کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید</a>‘‘ کا مطالعہ بھی  شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔</p>
<p>وہاب اعجاز خان نے محمود نظامی کے نظرنامہ پر <a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post.html" >ایک تجزیہ</a> شایع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔<br />
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔<br />
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔<br />
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔</p></blockquote>
<p>وہاب اعجاز خان کی ملکی حالات پر ایک فکر انگیز تحریر ’’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post_10.html" >مبارک ہو</a>‘‘ بھی سامنے ہے:</p>
<blockquote><p>مبارک ہو جناب۔ اب آپ کے لائف سٹائل کو کوئی خطرہ نہیں۔ صبح اٹھیے۔ واک کے لیے پارک میں جائیے۔ رات کو پارکوں میں جائیے۔ ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ کیجیے۔ بچوں کو بڑے بڑے سکولوں میں داخل کیجیے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیجیے۔ مگر میرا کیا ہوگا۔ میں اپنے گھر سے دور ایک خمیے میں پڑا ہوا ہوں۔ نہ کھانا ہے نہ پینے کو پانی۔ میرے بچے بیمار ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے لائف سٹائل کو بچانے کے لیے مجھے قربانی دینا پڑے گی۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>دو مختلف موضوعات پر وہاب اعجاز خان کی پختہ تحاریر پڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جانب سے مزید معیاری اور مختلف موضوعات پر تحاریر سامنے آئیں گی۔ </p>
<p>اردو بلاگرز میں عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج بھی خوب چل نکلا ہے۔ پہلے صرف موصوف <a target="_blank" href="http://badtamiz.com/blog" >بدتمیز</a> ہوتے تھے، پھر <a target="_blank" href="http://dufferistan.com/" >ڈفر</a> آئے جن پر کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ بدتمیز ٹائپ کی کوئی چیز ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر <a target="_blank" href="http://billubilla.com/" >بلو بلا</a>، <a target="_blank" href="http://lafunga.wordpress.com/" >لفنگا</a>، <a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/" >مسٹر کنفیوژ</a> اور <a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/" >بے فضول</a> سامنے آئے۔ ہمارے سامنے اس وقت بے فضول کی چند تحاریر ہیں، اللہ جانے بے فضول سے ان کی مراد واقعی بے فضول ہے یا فضول جیسے یہاں کچھ لوگ ’فالتو‘ کو ’بے فالتو‘ بولتے ہیں۔۔۔ کیوں؟ بس جی، ایسے ہی، بولنے میں مزا آتا ہے۔ بہرحال، بے فضول کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%a7%da%ba/%d9%85%d9%b0%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/" >میں ڈرتا ہوں</a>‘ سے ایک اقتباس پیش ہے:</p>
<blockquote><p>’’تو جی واقعہ یہ ہے کہ ہم تو سدا کے بزدل واقع ہوئے ہیں۔ خوف ہے ناکامی کا، شرمندگی کا اور اذیت کا۔ ظاہر ہے میں تو اکیلا تو نہیں بزدل بیٹھا اس دنیا میں۔ اکثر نام نہاد بہادر جو اپنے سے چھوٹے اور کمزور لوگوں پر منہ زوری کرتے ہیًں، ان کی نسبت تو میں بہادر ہوں ۔ کیونکہ ایک تو ان کو اپنے سے بڑے بندے کی جوتی چاٹتے میں نے دیکھا ہے۔ فلموں میں ہی سہی’ مگر اصل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اور دوسرا یہ کہ میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا’ بس اس سے ڈرتا کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ہی ہی ہی۔ آپ بھی ہنسیے۔</p>
<p>اب ایسا بھی نہیں کہ میں ساری زندگی بزدل رہا ہوں۔ بچپن میں رات کو باغیچے کے اندھیرے کونوں مین جہاں باقی جانے سے ڈرتے تھے، میں کم از کم دھڑکتےدل کے ساتھ ہی سہی، آیۃ الاکرسی پڑھتے ہوئے چلا تو جایا کرتا تھا۔‘‘</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </p>
<p>کراچی میں شدید گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/" >شب</a> کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کا ذمہ دار انہوں نے بات گھما پھرا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کو ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />  آج تک ہم بوتل میں جن سنتے آئے تھے، شب کی زبانی ذرا ’<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2009/05/chai/" >بوتل میں چائے</a>‘ کا قصہ پڑھتے چلیں:</p>
<blockquote><p>آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا ۔ لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>مکمل قصے کے لیے ان کے بلاگ پر جانے کی زحمت فرمائیں۔</p>
<p>شعیب صفدر نے ملک کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے ایک واقعہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/05/blog-post_21.html" >یہ حفاظت کو بنایا ہے</a>‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> کو لکھتے ہوئے چند ہی ماہ گزرے ہیں۔ دل چسپ لکھتے ہیں۔ ’’<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/%da%a9%da%86%da%be-%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%84%da%a9%d8%a7/%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%be%d9%84%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1/" >ویل پلیسڈ بلاگر</a>‘‘ ایک اچھی تحریر ہے:</p>
<blockquote><p>فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>ایک دن اچانک کیا ہوا، اس کے لیے آپ جعفر کے بلاگ پر مکمل تحریر پڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ابوشامل اردو بلاگرز میں معروف نام ہے۔ گذشتہ دنوں ابوشامل نے اپنا ڈومین خریدا اور ویب ہوسٹنگ لے کر اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل ڈاٹ کام</a> پر منتقل کیا۔ اس پر منظرنامہ کی جانب سے انہیں مبارک باد۔ ابوشامل کی اپنی تحاریر تو بلاشبہ لاجواب ہوتی ہی ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/swat-operation-consensus/" >قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو</a>‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> اردو بلاگنگ کی دنیا میں نسبتاً نئی لکھاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی لکھنا شروع کیا۔ آپ کی تحاریر عموماً مختصر لیکن پُر فکر  ہوتی ہیں۔’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/05/27/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D9%85%D8%B2%D9%88%D8%B1-%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DA%BE%DB%92-%D8%9F/" >کیا مسلم عورت کمزور ہوتی ہے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>مغربی ممالک مسلم خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے مسلم عورت پردے میں لپٹی ہوئی ڈری سہمی جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جو شادی سے پہلے باپ اور بھائی کی مرضی سے زندگی بسر کرتی ہے شادی کے بعد شوہر کے اشاروں پہ چلتی ہے مسلم عورت جس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔<br />
کیا مسلم عورت حقیقت میں کمزور ہوتی ہے؟</p></blockquote>
<p>تو کیا مسلم عورت واقعی کمزور ہوتی ہے؟ اس کا جواب سعدیہ سحر نے اپنی تحریر میں خوب دیا ہے۔</p>
<p>ان تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط:<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1053" >کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟</a> (فرحت کیانی)<br />
<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/" >عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام</a> (افتخار اجمل بھوپال)<br />
<a target="_blank" href="http://naatiqa.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html" >یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے</a> (م۔م۔مغل)<br />
<a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/articles/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7-%db%94%db%94%db%94%d8%9f/" >نیکی یا۔۔۔؟</a> (مسٹر کنفیوژ)<br />
<a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/05/10/jabmujhe/" >جب مجھے بور کیا گیا </a>(فہیم اسلم)</p>
<p>بلاگنگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک اہم ترین خوش خبری کے اردو زبان میں، نستعلیق رسم الخط میں پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس</a>‘‘ جاری ہوگیا ہے۔ اس کارنامے پر ہم محمد علی مکی کو بے حد مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اردو سلیکس دراصل لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم ہے، مختصر حجم کا ہے، استعمال میں آسان ہے۔ ونڈوز صارفین اسے اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ امید ہے، مستقبل میں اس حوالہ سے ارتقائی سفر جاری رہے گا۔</p>
<h2>بلاگرز کے لیے گُر کی بات:</h2>
<p>چلتے چلتے نئے بلاگرز کے لیے ہم ایک گُر کی بات پیش کرنامناسب سمجھتے ہیں۔ جب آپ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہیں تو پوسٹ ٹائٹل کے ٹیکسٹ ایڈیٹر کے عین نیچے تحریر کا ربط ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug-300x102.png" alt="slug" title="slug" width="300" height="102" class="alignnone size-medium wp-image-409" /></a><br />
پھر ہوتا یوں ہے کہ تحریر آپ کے بلاگ پر شائع ہو تو جاتی ہے لیکن جب ہم اس کا ربط کاپی کرکے کہیں پیسٹ کرتے ہیں تو وہ بہت عجیب و غریب انداز میں سامنے آتا ہے جیسا کہ کافی بلاگرز کی تحاریر کے ربط اس تجزیے کے دوران ہمارے سامنے آئے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2-300x17.png" alt="slug2" title="slug2" width="300" height="17" class="alignnone size-medium wp-image-411" /></a><br />
کئی بار تو اس طرح کے روابط شیطان کی آنت کی طرح اتنے لمبے ہوجاتے ہیں کہ دو، تین سطور تک پہنچ جاتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ اس ربط کو ایڈیٹ کرکے انگریزی یا رومن میں کرلیا کریں تاکہ آپ کی تحریر کا ربط بالکل واضح رہے جیسے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3-300x28.png" alt="slug3" title="slug3" width="300" height="28" class="alignnone size-medium wp-image-412" /></a><br />
یہاں تک کہ ربط کے درمیان خالی اسپیس بھی نہ دیں۔  امید ہے آپ سب بلاگر حضرات آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ کسی مشکل کی صورت میں سوال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی اپنے میزبانوں کو دیجئے اجازت۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی نئی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اپنا اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا بہت بہت بہت خیال رکھیے گا۔ فی امان اللہ۔ والسلام</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شناسائی۔ نیا مہمان</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/03/interview-duffer/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/03/interview-duffer/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 22 Mar 2009 07:48:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[شناسائی]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈفرستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=324</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم۔۔۔ آداب۔۔۔ تسلیمات! ہمیں امید ہے کہ منظرنامہ کے قارئین بالکل خیریت سے ہوں گے اور سلسلہ ’’شناسائی‘‘ کی اگلی قسط کے منتظر ہوں گے کہ اب قربانی کا بکرا کسے بنایا جاتا ہے۔۔۔ ویسے ہمارے اردو بلاگران میں سے کچھ اس قدر منکسر المزاج ہوں گے، ہمیں ہرگز اندازہ نہ تھا۔ ہم ان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #993366;">السلام علیکم۔۔۔ آداب۔۔۔ تسلیمات!</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ہمیں امید ہے کہ منظرنامہ کے قارئین بالکل خیریت سے ہوں گے اور سلسلہ ’’شناسائی‘‘ کی اگلی قسط کے منتظر ہوں گے کہ اب قربانی کا بکرا کسے بنایا جاتا ہے۔۔۔ ویسے ہمارے اردو بلاگران میں سے کچھ اس قدر منکسر المزاج ہوں گے، ہمیں ہرگز اندازہ نہ تھا۔ ہم ان سے انٹرویو کی اجازت لینا چاہیں اور وہ ایسے انکار کریں جیسے دولہا بوقتِ نکاح منہ پر رومال رکھے شرمائے۔ کچھ صاحبان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی صدر یا وزیر اعظم نہیں جو ان کے انٹرویو لیے جائیں۔ تو جناب! مبارک ہو ان بلاگر خواتین و حضرات کو جن کے ہم نے انٹرویو لیے۔ وہ غور فرمائیں کہ ان کی کرسیِ صدارت یا وزارت کہاں چھپی ہے؟  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </span></p>
<p><span style="color: #993366;">اب ہماری نظرِ انتخاب جہاں جاتی، پلٹ آتی۔ کسی کے نام پر جب ہم دونوں متفق نہ ہوسکے تو ہمارے سامنے ایک نام ابھرا اور ابھرتا ہی چلا گیا۔۔۔ ایسا نام جس کے لیے ہم دونوں کا پہلا جملا یہی تھا، ہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔۔۔ (مطلب سلسلہ شناسائی کے ذریعے اس کا انٹرویو لیتے ہیں)۔ سوچیں، ایسا کون سا نام ہوسکتا ہے؟  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_think.gif' alt=':hmm:' class='wp-smiley' /> </span></p>
<p><span style="color: #993366;">یہ قصہ ہے کوئی برس پہلے کا جب اردو بلاگرز جاگے ہوتے تو تحاریر کے انبار لگادیتے، انبار بھی ایسے کہ پڑھنے والوں کا کال پڑ جاتا اور کبھی سوجاتے تو ایسے خوابِ غفلت میں کہ آنکھیں مسل مسل کر دیکھنا پڑتا، بلاگز زندہ بھی ہیں یا۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کی ضرورت؟  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />   سنجیدہ یا سیاسی تحاریر پڑھتے پڑھتے لوگوں کو جماہیاں آنے لگتیں۔۔۔ ایسے میں ایک بلاگر آیا۔۔۔ بلاگر کیا آیا، اردو بلاگنگ میں بہار آئی۔ دھڑلے سے پوسٹس ہونے لگیں۔ اندازِ تحریر ایسا کہ سیاست پر بھی لکھا ہو تو لگتا، عمر شریف کی نوک جھونک ہے۔ قومی المیے پر بھی لکھا ہو تو لگتا، لطیفے بازی ہورہی ہے۔۔۔ بندہ ہنسی خوشی پڑھتا چلا جائے تو پوری تحریر پڑھ کر اس کو سمجھ لگے کہ اچھا، اس سے مجھے یہ سبق ملتا ہے۔۔۔ ہممم۔۔۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_think.gif' alt=':hmm:' class='wp-smiley' /> </span></p>
<p><span style="color: #993366;">ابتدا میں لگتا تھا کہ کوئی جوشیلا سا بندہ ہے، ٹائم پاس کے لیے آگیا ہے، کچھ عرصہ بعد غبارہ میں سے ہوا نکل جائے گی اور اسے محدب عدسہ لے کر ڈھونڈا جائے گا تو بھی نظر نہیں آئے گا۔۔۔ لیکن بندے کی مستقل مزاجی اور ہر تحریر سے عیاں شگفتگی اور برجستگی نے جلد ہی اپنا نام بنالیا۔ تحاریر سے اندازہ ہوتا تھا کہ بندہ تو اچھا خاصا ہے اگرچہ لبادہ ڈفر نما اوڑھ رکھا۔ جی ہاں، یہ ذکر ہے ’<a target="_blank" href="http://dufferistan.com/" >’ڈفرستان</a>‘‘ کے روحِ رواں جناب والا ڈفر صاحب کا!</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">خوش آمدید!</span><br />
@ خیر خوش آمدید</p>
<p><span style="color: #ff0000;">تعارفی کلمات پڑھ کر اگر آپ کا ارادہ پھول کر غبارہ بننے کا ہو تو ازراہِ کرم اسے اس انٹرویو کے مکمل ہونے تک مؤخر کیے رکھیے گا۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  کیسے مزاج ہیں؟</span><br />
@ مزاج بخیر ہیں اور آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ اور دعا کی جاتی ہے کہ آپ کی جھوٹ تعریف کر نے کی عادت سے خلاصی ہو جاوے۔جہاں تک بات ہے پھول کر غبارہ بننے کی تو امی کی جوتی نے کبھی اتنا موقع ہی نہیں دیا کہ ایسی عادت پڑی ہوتی یا تھوڑی بہت پریکٹس ہی ہوئی ہوتی۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- یہ بلاگنگ کے کنویں کا پتا کیسے چلا اور اس میں دھکا کس  نے دے دیا؟</span><br />
@ دھکا دینے والا تو کوئی نہیں تھا۔سال پہلے دبئی میں ایک لمبے قیام کے دوران جب کچھ کرنے کو نا ہوتا تھا اور بوریت کی بہتات ہوتی تھی تو صرف میں اور انٹرنیٹ ہی ہوتے تھے۔ کسی تلاش میں پاکستانی کے بلاگ کا لنک ملا تھا تو پتا چلا کہ اردو بھی انٹرنیٹ پر بی بی سی کے علاوہ پھِر ٹُر سکتی ہے۔ پھر <a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/" >شاہدہ اکرم</a> کے بلاگ پر گیا پھر <a target="_blank" href="http://urdutech.net/" >اردو ٹیک</a> کے دیگر بلاگز کا بھی پتا چلتا گیا پڑھتا گیا اور تبصرے کرتا گیا اورآخر کار خود بھی اس دنیا کا باسی بن گیااور۔۔۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کیا سوچ کر بلاگنگ کی طرف آئے؟ کیا خاکا تھا ذہن میں؟</span><br />
@ پہلی بات تو یہ کہ مجھے لگتا ہے کہ خاکہ کے ہجے آپ نے غلط لکھے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اپنا بلاگ تو تھا نہیں سو دوسرے بلاگوں پر تبصرے کیا کرتا تھا ،چند جگہ ماڈریشن ہو جاتی تھی۔ جو میں کہنا چاہتا تھا وہ کہہ نہیں سکتا تھا اور کبھی دل کرتا تھا کہ آف ٹاپک کچھ لکھوں تو وہ تبصرے میں تو لکھا نہیں جا سکتا تھا اس کے لئے اپنی سائیٹ کی ضرورت تھی۔ سائیٹ اس لئے لکھاکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بلاگنگ کا بھی نہیں پتا تھا کہ کیا ہوتی ہے؟ بلاگ شروع کرنے سے پہلےہفتوں تک تو میں نے بلاگ اور بلاگنگ پر ریسرچ کی کہ یہ ہوتی کیا چیزیں ہے؟</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- جو وقت اب بلاگنگ میں خرچ ہوتا ہے، بلاگنگ سے پہلے کہاں جاتا تھا؟</span><br />
@ پہلے یہ وقت گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتا تھایا فلمیں دیکھتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں پر سکون زندگی تھی۔ اب تو یہ حال ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ میری ڈیوٹی ہے بلاگنگ کرنا، اور اگر نا کی تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کس قسم کی مشکلات پیش آئیں بلاگنگ کی ابتدا میں؟ تکنیکی امداد کہاں سے ملی؟</span><br />
@ بلاگ شروع کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ <a target="_blank" href="http://urdutech.net/" >اردو ٹیک</a>، <a target="_blank" href="http://wordpress.com/" >ورڈ پریس</a> اور <a target="_blank" href="http://blogspot.com/" >بلاگ سپاٹ</a> پر اکاونٹ بنا لیا تھا سب اچھا تھا خود کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بس یہ نہیں پتا تھا کہ اب اسکو استعمال کیسے کروں لیکن وہ ایک بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ جب ڈفرستان پر بلاگ شروع کیا تو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ لا علمی کی وجہ سے پہلے میں سوچتا رہا کہ مجھے اردو ترجمہ والا ورڈپریس ہی چاہئے ہو گا اردو سپورٹ کے لئے،لیکن وہ کافی پرانا تھا۔ پھر خود سے ہاتھ پیر مار کر ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ پھر ایک مہینہ تو اردو تھیم ڈھونڈنے ( جو مجھے کہیں سے نہیں ملے) اور تھیم کا خود سے ترجمہ کرنے میں لگ گیا۔جہانزیب نے اس میں ہماری کافی مدد کی تھی۔ اس وقت تک تو مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog" >جہانزیب کا بھی اپنا بلاگ</a> ہے۔ بس انٹرنیٹ سے سرچنگ کے دوران ان کا نام کہیں مل گیا تھا تو ہم نے سوچا اس بندے کو پتا ہے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں.</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ایویں ہی بلاگ بنالیا، نہ بناتا تو سکون تھا؟</span><br />
@ کبھی بھی نہیں۔ ہاں یہ ضرور سوچا کہ&#8221;بلاگوہلک&#8221; ہونے کا نقصان ہوا ہے۔ کافی سارا وقت جو گھر والوں کے ساتھ گزرنا چاہئے اب نوٹ بک کے سامنے بیٹھے گزر جاتا ہے۔ پہلے کتابیں پڑھتا تھا لیکن اب کافی کم ہو گئی ہیں۔ بلاگ کی وجہ سے مجھے اپنی یہ بات بری لگتی ہے ۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- بلاگنگ سے کوئی فائدہ ہوا؟ یا مستقبل میں کوئی فائدہ نظر آتا ہے؟</span><br />
@ مجھے نہیں پتا فائدے نقصان کا۔ مجھے یہ پتا ہے کہ مجھے بلاگنگ میں مزہ آتا ہے۔ اگر تو فائدے کا مطلب ہے کہ &#8220;آمدنی&#8221; تو مجھے کوئی فائدہ نہیں بلکہ میرے تو پیسے ہی لگے ہوئے ہیں۔ ہاں فائدہ مجھے یہ ہے کہ لکھنے میں کچھ بہتری آ گئی ہے۔ لفظوں سے کھیلنے میں مزہ آتا ہے۔ دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ جو بات میں کہہ نہیں سکتا وہ میں اچھی طرح سے لکھ سکتا ہوں۔ میری سوچ جب دوسروں کے خیالات سے کشید ہوکر واپس آتی ہے تو کافی بہتر ہو چکی ہوتی ہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- بلاگ کے زمروں کو کافی منفرد نام دیے ہیں۔ مثلاً آلو پیاز، کیفے ڈی بکواس، دارا کا گاؤں، کچھ نہ پچھ، نائی کی دکان، وغیرہ۔ کیا غالب کی طرح ’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں‘‘؟</span><br />
@ ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔ کچھ نہ پچھ، کیوں؟</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- یہ ’’ڈفرستان‘‘ کیوں ڈفرستان ہے؟ کیا سوچ کر یہ نام رکھا؟</span><br />
@ کیوں کا جواب یوں کہ مجھے جاننے والے نے جب بھی ڈفرستان کو وزٹ کیا وہ سمجھ جائے گا کہ یہ کس ڈفر کی سائیٹ ہے۔ جس دن سے مجھے ڈفر کا مطلب پتا چلا تھا کہ کیا ہوتا ہے اس دن سے مجھے یہ لفظ صرف اپنے لئے پسند ہے۔ اسی لئے اسکا نام ڈفرستان بھی ہے۔ اس میں مجھ سے متعلق کافی کچھ ایسا ہے (اور ہو گا) جو مجھے جاننے والے نہیں جانتے۔ جب بلاگ بنانے کا سوچ ہی لیا تو یہ بھی ایک کافی بڑا مسئلہ تھا کہ جس ڈومین کو سوچو وہ پہلے سے بک تھی، نام کچھ ایسا کیچی (catchy) سا ڈھونڈ رہا تھا کہ جو دیکھے ایک دفعہ کلک تو ضرور کرے۔ آگے پھر ہماری ذمہ داری تھی کہ اس کو سائیٹ براوز کرنے پر مجبور کریں۔ دونوں کام مشکل تھے، ایک ہو گیا دوسرا آئینی و قانونی و اخلاقی پابندیوں اور پیچیدگیوں (المعروف سائیبر ایکٹ) کی وجہ سےمتوقع نتائج نا مل سکنے کے باوجودکافی حد تک ہو رہا ہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- ڈفر! ماشاء اللہ آپ بلاگز میں کافی فعال ہیں۔ صرف اردو ہی نہیں، انگریزی بلاگز پر بھی پائے جاتے ہیں، کیسے نکالتے ہیں اتنا وقت؟ کوئی راز یا منتر شنتر ہو تو ہمیں بھی بتاکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔</span><br />
@ وقت تو نکالنا پڑتا ہے۔ میری کام کے علاوہ ایک ہی مصروفیت ہے اور وہ ہے بلاگنگ۔ روز کئی کئی گھنٹے بلاگنگ کرتا ہوں۔ سوشل نیٹورکنگ کے سخت خلاف رہا ہوں لیکن اب خودبلاگوہلک ہوگیا ہوں ۔ پڑھنے کا کافی شوق ہے تو آج کل کتابوں کی جگہ بلاگ پڑھتا ہوں۔ آج کل سنجیدگی سے اس روٹین کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- بلاگنگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟</span><br />
@ نوکری کرنا اور فلمیں دیکھنا۔ یا گھر والوں پر غصہ کرنا۔ دوستوں کے ساتھ ہوں تو انہیں گالیاں دینا اور پھر مل کردانت نکالنا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کیا اردو کے فروغ کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں، وہ تسلی بخش ہیں؟</span><br />
@ ہاں۔ چونکہ جو کرنا ہے عام لوگوں نے کرنا ہے۔ اس حساب سے جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اور جس قدر کام ہو رہا ہے وہ نہایت تسلی بخش ہے۔ اگر سرکار اس کار خیر میں شامل ہو جائے تو ہمیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں اتنا وقت نا لگے جتنا اب لگے گا اور اگر سچ پوچھیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ &#8220;مطلوبہ نتائج&#8221; حاصل کرتے کرتے ہمیں دیر ہی نا ہو جائے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اپنے بلاگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟</span><br />
@ ان شا ءاللہ پاکستان کا مستقبل تو بے حد روشن ہو گا۔ویسے بھی مستقبل کا کس کو پتا ہو سکتا ہے؟ ہم تو تکے مار سکتے ہیں یا امید کر سکتے ہیں۔ میں شائد کسی گشتی عدالت کا شکار ہو چکا ہوں گا اور میرا بلاگ صریر خامہ لا وارث</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کون کون سا شہر اور ملک دیکھا ہوا ہے؟</span><br />
@ پاکستان کے کافی سارے شہر دیکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ مشرق وسطٰی اور ایشیا یپیفک کے چند ممالک کی سیر کر چکا ہوں۔ آجکل پھر سے رخت سفر باندھنے کا سوچ رہا ہوں دعا کریں کہ ایمبیسیوں سے ویزے اور دفتر سے چھٹیاں مل جائیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ نیا منظرنامہ کیسا نظر آتا ہے؟ نئے بلاگرز سے کیسی توقعات وابستہ ہیں؟</span><br />
@ اچھے اردو بلاگرز تو پہلے سے ہی موجود ہیں اور پچھلے کچھ عرصے میں کافی اچھے اردو بلاگرز کا اضافہ ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔ کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن مجھے ایک دو بلاگر ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے مستقل لکھا تو ان کی تحریریں کافی سارے لوگ کافی زیادہ پسند کریں گے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کسی بلاگر سے متاثر ہیں؟ کون سے بلاگز زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں؟</span><br />
@ اچھے بلاگرز تو بہت سارے ہیں جن میں چند ایک ایسے ہیں جن کو میں کافی شوق سے پڑھتا ہوں ۔ <a target="_blank" href="http://khawarking.blogspot.com/" >خاور صاحب</a> کا انداز تحریر مجھے پسند ہے، اتنا کہ شائد مجھے پڑھنے والوں نے غور کیا ہو کہ میں کبھی کبھی ان کا انداز نقل بھی کرنے لگتا ہوں۔ جہاں تک بلاگز شوق سے پڑھنے کی بات ہے تو سارے اردو بلاگز تو پڑھتا ہی پڑھتا ہوں لیکن کاپی پیسٹ بلاگ تحریروں سے بوریت ہوتی ہے۔ وہ تحریر جو بلاگو کی ذاتی ذہنی اختراع ہو مجھے پسند آتی ہے قطع نظر اس کےکہ موضوع کیا ہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- اکثر جگہ آپ وضاحت کرچکے ہیں کہ پڑھائی میں کچھ خاص اچھے نہیں تھے اور پڑھنے لکھنے سے بھاگا کرتے تھے پھر اندازِ تحریر اتنا پختہ اور دلچسپ کیسے؟ کسی خاص مصنف کو پڑھتے ہیں؟</span><br />
@ میں پڑھنے لکھنے سے بھاگا ضرور کرتا تھا لیکن میں پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ پوزیشن ہولڈر ہوتا تھا۔ ثبوت کے طور پر میرے پاس بہت ساری ٹرافیاں اور سرٹیفیکیٹس ہیں جن کا مجھ سے زیادہ میرے امی ابو کو انتظار ہوتا تھا اور ابھی تک انکا خیال بھی وہی رکھتے ہیں۔ ہاں یونیورسٹی لائف میں ، میں نے توجہ پوزیشن کی بجائے مزوں پر رکھی ۔ بلاگنگ سے پہلے میں اخبار بہت ہی زیادہ پڑھتا تھا ۔ انداز تحریر پختہ مجھے تو نہیں لگتا اگر ہے تو شائد اخبار کی وجہ سے ہی ہو گا کہ اس سے زیادہ میں کوئی کتاب نہیں پڑھتا۔ کتاب پڑھنے کے لئے مصنف پر بہت کم نظر کرتا ہوں ۔ ہاں پڑھنے کے بعد مصنف کی یہ ریٹنگ ضرور کرتا ہوں کہ اس کی آئندہ کوئی کتاب لینی بھی ہے کہ نہیں؟ مشتاق احمد یوسفی کو پڑھنے کا شوق ہے لیکن ابھی تک کوشش ہے کہ نا پڑھوں۔ سنا ہے بہت مشکل اردو لکھتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">- کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں کے لیے کوئی پیغام؟</span><br />
@ ہم لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم چند اردو بلاگز سے یہ اندازہ کر رہےہیں کہ اردو کتنی ترقی کر رہی ہے؟ بے شک اردو انٹرنیٹ پر پھل پھول رہی ہے لیکن اس کے قارئین کی تعداد کیا ہے؟ (اب جنگ اور ایکسپریس کی سائیٹ کو اس میں شامل مت کریں)اگر بات اردو بولنے کی ہے تو اردو کو فی الوقت کوئی بہت بڑا خطرہ نہیں لیکن اگر بات اردو ادب کی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اردو بڑھاپے میں داخل ہو نا شروع ہو چکی ہے اور شائد جلد ہی اسے سلاجیت کی ضرورت پڑے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">- ڈفر! نام تو آپ نے ڈفر رکھ لیا، باتوں سے اپنے آپ کو ثابت بھی ڈفر ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کا اصل نام؟ (اگر بتانا چاہیں اور مناسب سمجھیں تو ایک تصویر بھی)</span><br />
@</p>
<div id="attachment_326" class="wp-caption alignnone" style="width: 161px"><a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/03/duffer.jpg" ><img class="size-full wp-image-326" title="duffer" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/03/duffer.jpg" alt="Duffer" width="151" height="166" /></a><p class="wp-caption-text">Duffer</p></div>
<p>ایسا ہی کچھ دکھتا ہوں میں اور بالکل اسم با مسمی ہوں</p>
<p><span style="color: #339966;">اب کچھ سوال ہٹ کر۔</span><br />
<span style="color: #ff0000;">- کچھ اپنے خاندانی، تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟</span><br />
- ایک متوسط گھرانے سے تعلق ہے۔ ابو سرکاری نوکری کرتے تھے اور امی گھر اور بچے ہی سنبھالتی تھیں جنہوں نے اولاد کو تعلیم کھلے دل کے ساتھ دلوائی تا ٓنکہ بچوں کے دماغ بند ہو گئے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">- آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟</span><br />
- راولپنڈی میں پلا بڑھا اور آجکل ادھر ادھر ہوتا ہوں۔ کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">- آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟</span><br />
- میں ایک بے مقصد زندگی گزار رہا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ میں نے کیا کرنا ہے ۔میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ میں نہیں کر سکتا، اتنا حقیقت پسند میں ضرور ہوں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">• پسندیدہ:</span><br />
<span style="color: #339966;">- کتاب؟</span><br />
- ٹائیں ٹائیں فش<br />
<span style="color: #339966;">- گانا</span><br />
- وقت اور موڈ کے حساب سے پسند بدلتی ہے آجکل &#8220;عشق جنوں دیوانگی اپنی اور کہاں لے جاتی۔۔&#8221;<br />
<span style="color: #339966;">- رنگ</span><br />
- سفید اور نیلا<br />
<span style="color: #339966;">- کھانا</span><br />
- دال چاول<br />
<span style="color: #339966;">- موسم</span><br />
- گرمیاں</p>
<p><span style="color: #ff0000;">• غلط یا درست:</span><br />
<span style="color: #339966;">- مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟</span><br />
- درست، عادت نہیں نشہ مناسب لفظ رہے گا<br />
<span style="color: #339966;">- میں بہت شرمیلا ہوں؟</span><br />
- درست<br />
<span style="color: #339966;">- مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟</span><br />
- غلط، کبھی نہیں<br />
<span style="color: #339966;">- مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟</span><br />
- درست، لیکن صرف گھر اوردوستوں میں۔ انجان لوگ یقیناسمجھتے ہیں میں گونگا ہوں۔ جن سے بعد میں شناسائی ہو وہ میسنا کہتے ہیں۔<br />
<span style="color: #339966;">- مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟</span><br />
- بے شک، اور بہت کچھ نہیں سب کچھ<br />
<span style="color: #339966;">- مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟</span><br />
- بہت زیادہ<br />
<span style="color: #339966;">- میں ایک اچھا دوست ہوں؟</span><br />
- میرا خیال ہے درست، لیکن دوست زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں۔ اور مجھے پتا ہے وہ یہ کہیں گے نہیں۔ کیونکہ بڑے کمینے ہیں<br />
<span style="color: #339966;">- مجھے غصہ بہت آتا ہے؟</span><br />
- آہو جی آہو</p>
<p><span style="color: #ff0000;">اس کے علاوہ اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں۔</span><br />
@ آج میں دفتر میں بیٹھ کر اس انٹرویو کو دیتے ہوئے بہت زیادہ کرپشن کا مرتکب ہوا ہوں اور اس کا ذمہ دار ہے منظر نامہ  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p><span style="color: #ff0000;">ڈفر، منظر نامہ کے لیے انٹرویو دینے کا بہت شکریہ۔</span><br />
شکریہ کی کیا بات ہے جی یہ تو میرا فرض تھا۔ پی ایس کا بندہ ہوں تو بتا دوں کہ آپکے ۲۶۵ ڈالر چارجزہو گئے  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </p>
<p><span style="color: #339966;">بہت شکریہ۔ پھر حاضری ہوگی۔ تب تک کے لیے والسلام۔<br />
اللہ حافظ</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/03/interview-duffer/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>29</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

