<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; تجزیہ</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/tag/review/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Oct 2010 15:33:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
		<item>
		<title>اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 May 2010 12:06:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[April 2010]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=852</guid>
		<description><![CDATA[تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔ الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔<br />
الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور  امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی، اس مہینے اختلافات اور احتجاج (جمع احتجاجات؟) کے باوجود پاکستان کے صوبۂ سرحد کا نام بدل کر صوبۂ <a target="_blank" href="http://urdu.inspire.org.pk/?p=313" >خیبر پختونخواہ</a> رکھ دیا گیا اور اسی مہینے ایک سنسنی خیز داستان کا انجام شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی میں صورت میں ہوا۔ تاہم اس مہینے اردو بلاگنگ کے دائرے میں کیا ہلچل رہی، اس کا کچھ ذکر ہے فی الوقت ہمارا موضوعِ سخن۔<br />
<span id="more-852"></span><br />
<a target="_blank" href="http://urdutech.net/" >اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ</a> ایک بار پھر غائب ہوچکا ہے۔ بے چارے پریشان حال بلاگرز ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ اُن کی دادرسی کون فرمائے گا۔ اکثر احباب شکایت کرتے پائے گئے کہ یہ <a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/" >عالی جناب</a> ہمارے پیغامات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے۔ بہرحال، ایسے بلاگرز کے دکھ کا کچھ حد تک مداوا کرنے کی قابلِ صد تحسین کوشش خرم ابنِ شبیر نے <a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/" >نوائے ادب</a> پر کی کہ بلاگ سے محروم ہونے والے  بلاگرز کو اپنے بلاگ پر لکھنے کی سہولت دے دی یوں شاہدہ اکرم کا بلاگ کچھ عرصہ نوائے ادب پر پڑھا گیا۔ اس کے علاوہ محمد رضوان بھی نوائے ادب پر ہی بلاگ کرتے نظر آئے۔تاہم اب شاہدہ اکرم کا بلاگ <a target="_blank" href="http://shahi.urdunama.org/" >اردو نامہ</a> پر پڑھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اس بار بلاگز کا تجزیہ خرم ہی سے شروع کرتے ہیں۔ ’’انسانیت ری انسٹال پر ایک تبصرہ‘‘ کے نام سے خرم کی تحریر نے اُن کی ایک پُرانی تحریر ’’انسانیت ری انسٹال‘‘ کی یاد دلادی جو واقعی خوب لکھی گئی تھی۔ لکھا تھا:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں نے کہا  انسان نے بہت کچھ بنا تو لیا ہے لیکن خود انسان نہیں بن سکا۔ سردار جی کو میری یہ بات بہت پسند آئی۔ میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہنے لگے یار کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان کو فارمیٹ  کر کے اس میں انسانیت ری انسٹال کی جائے، پھر شاید وہ انسان بن سکے۔ میں نے کہا ان کے ساتھ سی ڈی نہیں آتی نا۔ رات ان کا کام ختم ہوا تو وہ چلے گئے لیکن بعد میں جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میری ذہن میں پھر وہی بات آگئی۔ کاش انسانیت ری انسٹال ہو سکتی۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=554" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس پر بدرالزمان کا تبصرہ بھی فکر انگیز ہے جسے خرم نے الگ تحریر کی صورت میں بھی شائع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔خوش قسمتی سے انسانیت کی سی ڈی اور User’s Manual نہ صرف موجود بلکہ Scratch &#038; Errors Free ہے۔ یہ 2 in 1 پیکج قرآن کہلاتا ہے۔ جب آپ اس کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کے اندر کی ونڈو ریپئر ہونے لگ پڑتی ہے۔اسکے ا یررز ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1065" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی پچھلے مہینے کا گرما گرم موضوع رہا۔ جس کو دیکھیں، اسی کی گفتگو کرتا دکھائی دے۔ جس محفل میں بیٹھیں، یہی موضوع زیرِ بحث رہے۔ خرم نے اس موضوع پر ایک ہندوستانی ساتھی سے دلچسپ مکالمے کا حال بیان کیا۔ ’’ملک، مرزا اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>میں نے کہا: ’’اچھا یار آئی پی ایل کو چھوڑو، بتاؤ! شادی کب ہو رہی ہے؟‘‘<br />
وہ سمجھا، اس کی شادی۔ کہتا ہے: ’’جب انڈیا جاؤں گا تو شادی ہو جائے گی۔‘‘<br />
میں نے کہا: ’’نہیں یار تمہاری نہیں، ثانیہ مرزا کی۔‘‘<br />
اس پر اس کا منہ سرخ ہو گیا اور میں ہنسنے لگا۔ (<a target="_blank" href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1063" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>سعدیہ سحر بھی اسی موضوع پر خامہ فرسائی کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’بہوِ پاکستانی‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری ایک دوست کہہ رہی تھی ثانیہ مرزا پاکستان کی بہو بننے جا رہی ہے۔ پتا نہیں‌کیوں سب اتنے خوش ہو رہے ہیں ایک ایسی لڑکی کے لیے جیسے کپڑے پہننے کا ڈھنگ بھی نہیں‌ آتا۔ میں نے کہا، اسی بے ڈھنگے پن کی تو عوام دیوانی ہے، یہی کوئی پھوپھی اماں ٹائپ کی کوئی باپردہ خاتون ٹائپ لڑکی ہوتی تو کیا پاکستان کے منچلوں نے ایسے مچل مچل کر بھنگڑے ڈالنے تھے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/09/%D8%A8%DB%81%D9%88-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی تحریر ’’شعیب اور ثانیہ: دامادِ ہندوستان اور بہوِ پاکستان‘‘ اس حوالے سے میڈیا کے کردار پر  بحث کرتی ہے۔ جیساکہ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ  ’’ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں‘‘۔۔۔ ’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔۔۔ ’’ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔‘‘ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>عمیر ملک کی ایک اور تحریر ’’اصل وجہ؛ مولوی یا جہالت‘‘ کو نظر انداز کرنا قطعاً مناسب نہ ہوگا جو ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے پر کچھ حد تک روشنی ڈالتی ہے۔ لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>آج نوجوانوں کی اکثریت اگر دینی حلقوں کے مکمل خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہے اور اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔ مولوی اصل مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو.۔مولوی طبقہ زیادہ بدنام اسلئےہے کہ وہ اپنے جائز و نا جائز تبصروں، ذاتی چپقلشوں اور دشمنیوں ، سیاست یا باقی تمام معاملات میں دین کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ ہمارے چاروں طرف یہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس جو بھی علم ہے اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرو،تو پھر ہم میں سے ہی نکلنے والے مولوی ہم سے مختلف کیونکر ہوں گے؟ میں علما کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://ain-laam-meem.blogspot.com/2010/04/blog-post_12.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>سفرناموں کو ہر زبان کے ادب میں خاص مقام حاصل ہے لیکن اردو بلاگرز میں ابھی اس صنفِ ادب پر کم ہی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ قدیر احمد کی تحریر Seven Days in the Capital کو سات دنوں کا ایک مختصر ترین سفرنامہ کہا جاسکتا ہے جس کے ایک دن کی کہانی باقی چھ دنوں کی کہانی پر بھاری ہے۔ یعنی چھ پیرا میں اسلام آباد آمد اور پہلی رات اور دن گزارنے کا قصہ ہے جبکہ آخری پیرا باقی چھ دنوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس سفر کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>۔۔۔3 اپریل بروز ہفتہ میرے mid exam ختم ہوئے۔ پیپرز کے دوران سو سو کے تھک گیا تھا چنانچہ سوچا کہ اب کچھ تفریح ہو جائے۔ حارث نے مجھے دعوت دی لاہور آنے کی تو میں نے لگے ہاتھوں اسلام آباد کا چکر بھی لگا لیا؛ واضح رہے کہ یہ چکر سات دِنوں پر محیط تھا۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://i042986.blogspot.com/2010/04/seven-days-in-capital.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس سفرنامے میں خاصی تشنگی پائی جاتی ہے۔ گمان ہے کہ قدیر کے ساتھ یا تو وقت نے ساتھ نہیں دیا یا مزاج نے یاری نہیں کی ورنہ وہ اس حوالے سے خاصا تفصیل سے بھی لکھ سکتے تھے۔</p>
<p>عمر احمد بنگش کا شمار ایسے اردو بلاگرز میں کیا جاسکتا ہے جو اپنی منفرد پہچان حاصل کرنے کی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ صوبۂ سرحد کا نام کیے جانے کے حوالے سے ان کی تحریر کا عنوان ’’لپے کا نیا نام، خیبر پختونخوا‘‘ ہے تاہم اس کی تمہید سے نام بگاڑنے کی عادت اور اس کے اثرات کے حوالے سے فکر کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔یہ نام بگاڑنے کا قضیہ بھی دلچسپ ہوتا تھا۔ دلچسپ ایسے کہ کسی سے آپ کی خار ہے، آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں یا پھر کسی بھی شکل میں اگلے کو تھلے لگانا چاہتے ہیں، اس کا نام بگاڑ دیجیے۔ متعلقہ شخص کی جسمانی یا پھر ذہنی کمزوری اس میں نہایت مددگار ہوسکتے ہیں۔ کسی کو اس حوالے سے مجروح کرنے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہیں ورنہ اگر آپ کچھ ’’زیادہ ہوشیار‘‘ ہیں تو اس کی زات، مذہب، عادت یا پھر والدین میں سے کسی کے حوالے سے نفسیاتی مات دے دیں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://omer-urdu.blogspot.com/2010/04/blog-post_04.html" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)
</p></blockquote>
<p>تانیہ رحمان اپنا بلاگ عین الیقین کے نام سے لکھتی ہیں اور انہیں اردو بلاگنگ کے دائرے میں شامل ہوئے سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ تحاریر کی سادگی، دلچسپ اور متنوع موضوعات ہونا تانیہ کے بلاگ کی ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو اپنے پن کا احساس دلاتی ہیں۔ اکثر موضوعات ہمارے ارد گرد سے ربط رکھتے ہیں۔ ’’اچھی اور بری یادیں‘‘ کے عنوان سے اپنی زندگی میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے ماضی کی کچھ یادیں اور تجربات قسط وار بیان کیے ہیں۔ پہلی قسط میں لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کہ نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاؤں۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو، آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=989" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>اس کے علاوہ بزرگ ساتھی عبدالرحمٰن سیّد کی تحریر کردہ ایک سچی کہانی ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=981" >دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ</a>‘‘ بھی دو اقساط میں تانیہ کے بلاگ کی زینت بنی۔ کہانی اچھی ہے لیکن اسے شائع کرتے وقت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ تحریر کا ایک حصہ پہلی قسط میں موجود ہے تو کچھ حصہ پہلی قسط کے تبصروں میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کرکے لکھا گیا ہے اور بقیہ کہانی دوسری قسط میں موجود ہے۔ بہرحال محبت کی یہ داستان ہے خاصی متاثر کن۔</p>
<p>اگلے بلاگر کی طرف بڑھنے سے پہلے تانیہ کی ایک تحریر ’’<a target="_blank" href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=975" >آؤ کہانی لکھتے ہیں</a>‘‘ کا ذکر نہ کرنا قطعاً مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ تانیہ کی تجویز تھی کہ ایک مشترکہ کہانی لکھی جائے اور انہوں نے اس کہانی کا آغاز بھی فراہم کیا لیکن اس کے بعد تبصرہ نگاروں نے اس کہانی کی جو درگت بنائی، وہ بے حد دلچسپ اور ہر ایک کے زاویۂ نگاہ، تصورات و خیالات اور اندازِ فکر کی بہت حد تک عکاس ہے۔</p>
<p>تانیہ رحمان کا ذکر ہوا ہے تو ایک اور خاتون بلاگر کا ذکر کرتے چلیں جن کی ایک تحریر اوپر پیش کی جاچکی (امید ہے کہ انہیں اپنے لیے ’’خاتون‘‘ کا لفظ استعمال کیا جانا گراں نہ گزرے گا)۔ سعدیہ سحر بڑی سادگی سے اپنی بات کہنا جانتی ہیں۔ اِن کی تحاریر مثلاً ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/12/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%86/" >میرے نانا جان</a>‘‘، ’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/16/%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%86-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%af%d8%b2%d8%b1-%da%af%db%8c%d8%a7/" >محبت کا دن بھی گزر گیا</a>‘‘، <a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/23/%da%be%d9%85-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d9%85%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c-%da%be%db%8c%da%ba/" >ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں</a>‘‘ ہمیں ایک عام خاتون کے اندازِ فکر، گہرائی اور اظہارِ خیال کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اپنی زندگی میں موسیقی کے عمل دخل کے حوالے سے مختصر سی تحریر  ’’میوزک اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میری عادت ہے میں جب پڑھتی ہوں یا لکھتی ہوں ساتھ ساتھ میوزک سنتی ہوں۔ یہ اس وقت کے موڈ پہ منحصر ہے، کبھی غزلیں، کبھی قوالی، کبھی نئے کبھی پرانے اور کبھی صوفیانہ کلام اور کبھی فاسٹ اور ری مکس۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/04/13/%d9%85%db%8c%d9%88%d8%b2%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>موسیقی کی بات ہے تو ریاض شاہد کی تحریر کا بھی تذکرہ ہوچلے۔ قوالی اور عزیز میاں کے حوالے سے ایک تحریر ’’خدا سے مکالمہ‘‘ میں کچھ بچپن کی یادیں، شریعت اور طریقت کے متبعین کا انداز اور پھر قوالی، سبھی کچھ مختصر مختصر مگر دلچسپ انداز میں سمودیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں جہاں والد صاحب کی اور کرم فرمائیوں کا  شکر گذار ہوں وہاں اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے موسیقی سے متعارف کروایا یہ وہ جادوئی منتر ہے جو  آج بھی زندگی کے بعض نازک مقامات پر پلک جھپکتے میں جادوئی قالین پر بٹھا کر مجھے تصورخیال کی رنگین اور خوبصورت وادیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔آج بھی پتہ نہیں دل کا کیا عالم ہے کہ یہ قوالی کوئی تیس دفعہ سن چکا ہوں مگر پھر بھی سنے جا رہا ہوں۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/13/%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ریاض شاہد نے اپنی جامع تحاریر کے باعث اردو بلاگنگ کے دائرے میں بہت جلد اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ قدرے طویل تحریر ’’ترقی کے گھوڑے‘‘ قاری کو غور و فکر پر راغب کرتی ہے کہ معاشرے میں کس قدر تیز ی سے تبدیلیاں رونما ہوتی جارہی ہیں اور ہم کس طرف جارہے ہیں۔ آخر میں رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔میں اس ماچے پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اپنی مٹی سے ناطہ دوبارہ استوار کروں یا پھر اس سے دامن چھڑا کر اجنبی سرزمینوں اور ترقی کی شاداب چراگاہوں کی طرف نکل جاؤں جہاں مزید ترقی میرا انتظار کر رہی ہے۔ رہی بات روح اور فلاح کی تو اسے کون پوچھتا ہے۔ ویسے بھی ترقی  فلاح کی دشمن ہے۔۔۔ (<a target="_blank" href="http://jaridah.wordpress.com/2010/04/15/%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%da%be%d9%88%da%91%db%92/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسٹ انڈیز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010ء کا آغاز ہوچکا ہے۔ اپنے تبصرے کا اختتام  اسی حوالے سے محمد اسد کی ایک تحریر پر کرتے ہیں۔ ’’تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیال کا اظہار یوں کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>۔۔۔سابقہ خراب کارکردگی اور موجودہ مشکلات کے باوجود پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کے دفع کے لیے مکمل تیار ہونے کا دعوی کررہے ہیں. اس کے علاوہ بھارتی ٹیم بھی IPL کے اختتام کے بعد نئے اور پرانے تجربیکار کھلاڑیوں کے ساتھ میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. اکثر مبصرین کی رائے میں اس بار آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیم بھی مقابلہ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دی جاسکتی ہیں. جبکہ کچھ لوگوں کا ووٹ ساوتھ افریقہ کی ٹیم کے حق میں ہے۔ (<a target="_blank" href="http://blog.bilaunwan.co.cc/2010/sports/3rd-t20-world-cup/" >مکمل تحریر پڑھیں</a>)</p></blockquote>
<p>ویسے محمد اسد کے بلاگ کی ترتیب اور تزئین و آرائش خاصی دلکش ہے۔ اچھا کام کیا ہے۔</p>
<p>بہرحال، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیں گے۔ والسلام۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2010/05/april10-blogs-review/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Jul 2009 08:29:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[blogs]]></category>
		<category><![CDATA[comments]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=423</guid>
		<description><![CDATA[اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ بلاگز چننا کچھ مشکل لگا، جن کو منتخب کرکے ان  کا ذکر کیا جائے۔ کچھ تحاریر، تحاریر کم سوال نامہ زیادہ محسوس ہوئیں اور کچھ تحاریر ایسی کہ پڑھتے چلے جاؤ اور طویل تحریر ختم ہونے پر سوچنا پڑے کہ پڑھا کیا ہے؟ (ہوسکتا ہے یہ ہماری ہی نالائقی ہو) کچھ تحاریر ایسی کہ کسی اخبار یا نیوز سائٹ سے خبر کاپی کی   اور کچھ ایسی کہ ایک تصویر یا ویڈیو لگاکر ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ گئے، لو جی، بلاگ پوسٹ ہوگئی۔ ایسا لگا جیسے اس مہینے اردو بلاگنگ کو زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔</p>
<p>مہنگائی، دہشت گردی، ہزارہا مسائل میں مبتلا پاکستانی قوم کی حالت اس وقت افسوس ناک ہے۔ ان سب مسائل کے سبب عوام نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ اخلاقی اقدار  بھی تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ ’<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >تیرا ککھ نہ رہوے</a>‘ کے عنوان سے شاکر عزیز لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔ اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔</span></p>
<p>پاکستانی معاشرہ اس وقت بہت بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے. ایک طرف عوام میں شعور بیدار ہورہا ہے تو دوسری طرف دیوار سے لگانے والے بھی اپنی کوششوں میں پیہم مصروفِ عمل ہیں. عنیقہ ناز اپنی تحریر ’<a target="_blank" href="http://anqasha.blogspot.com/2009/06/blog-post_19.html" >فتراک کے نخمچیر</a>‘ میں ایسے ہی متضاد رویوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے دعوتِ فکر دیتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ ایف سکسٹین ان سے لیکر اڑانا سیکھ لیں۔ البتہ بناتے وہ اسے رہیں اور اپنی ضرورت کے حساب سے اس میں نئ تبدیلیاں وہ لاتے رہیں۔ پھر ان نئ تبدیلیوں کو آپ ان سے پیسہ دیکر سیکھیں۔ کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ اپنی فوجوں کی صحت کے لئے، جان بچانے والی اشیاءاور دوائیں ان سے خریدیں اور ان کا طریقہ ء استعمال بھی۔ البتہ وہ اس چیز پہ تحقیق کرتے رہیں کہ اسے مزید بہتر اور سستا کیسے بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">چلیں اتنی بڑی باتوں پہ جی کیا جلانا ۔ یہ مجھے کسی نے باہر سے سلائ کی مشین تحفے میں لا کر دی ہے۔ اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت ہلکی اور چھوٹی سی ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لیکر کہیں بھی پھر سکتی ہوں۔ اس کا وزن کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن لانے والا اس کا مینوئل وہیں بھول آیا ۔ باہر سے کوئ سوراخ نظر نہیں آتا اندر سے یہ بالکل بند لگتی ہے۔ اب میں نیٹ پر بیٹھی سرچ کر رہی ہوں کہ اس میں تیل ڈالنےکا کیا طریقہ ہوگا۔ یہ مشین یہاں کسی نے استعمال نہیں کی اور کوئ مجھے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہم سب نے صرف ضرورت کا علم حاصل کیا ہے۔</span></p>
<p>جب دو مخالف باتوں یا اصولوں کے بیچ انتہائی حد تک ٹھن جائے تو معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں طرف سے اِنتہا کا زور لگتا ہے اور یہ انتہا پسندی اُس ماحول میں بسنے والے انسانوں کی زندگی پر بُری طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔ نت نئی ایجادات نے ایک طرف دنیا کو گلوبل ولیج بنادیا ہے تو دوسری طرف دِلوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا کردی ہیں۔ اِس بھری دنیا،  بھری محفل میں ’<a target="_blank" href="http://www.pakiez.com/983/07/06/2009/" >تنہا انسان</a>‘ کا ذکر کررہے ہیں فرخ انور کہ</p>
<p><span style="color: #993366;">انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔<br />
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔<br />
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔<br />
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں۔</span></p>
<p>اُردو بلاگنگ کے دائرے میں نئے اضافے یقیناً خوش آئند ہیں۔ کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جن کا بلاگ لکھنا اردو بلاگنگ پر اُن کا احسان ہے (اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا نہ لکھنا احسان ہوگا)۔ محمد وارث کا تعلق اوّل الذکر صاحبان سے ہے۔ اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >مہربان</a>‘ سے  اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<p><span style="color: #993366;">اس &#8216;دشتِ بلاگران&#8217; میں ہمیں بھی ایک سال ہو گیا ہے، مئی 2008ء میں یہ بلاگ بنایا تھا اور اب الحمدللہ ایک سال مکمل ہوا۔ کیا کھویا کیا پایا کا سوال میرے لیے اہم نہیں ہوتا کہ سفر کرنا ہی اصل شرط ہے لیکن نشیب و فراز تو انسانی زندگی کا حصہ ہیں سو اس بلاگ کے ساتھ بھی شامل رہے۔۔۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">اس کے ساتھ ساتھ، یہاں پر یہ بھی &#8216;اعتراف&#8217; کرنا چاہوں گا کہ بلاگ کی دنیا میں وارد ہونے کے بعد بہت اچھے احباب اور دوستوں سے واسطہ پڑا۔ گو ہمارے بلاگ پر تشریف لانے والے زائرین کی تعداد اس ایک سال میں 10 فی یومیہ کے حساب سے تقریباً چار ہزار ہے اور ظاہر ہے اس میں بھی بہت سے اتفاقیہ یا بھولے بھٹکے تشریف لانے والے ہیں اور مستقل قارئین کی تعداد دونوں ہاتھوں کی پوروں پر بآسانی گنی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی میرے لیے مسرت کی بات ہے کہ کم از کم کوئی تو ہے جو جنگل میں اس مور کے ناچ کو دیکھ رہا ہے۔</span></p>
<p>اِس تحریر میں وارث نے بلاگنگ کی طرف آنے، مختلف مسائل کے درپیش ہونے اور اُن سے نمٹنے کا ذکر بھی کیا ہے اور اُس نامعلوم مہربان کا بھی جس نے اُن کے بلاگ کو انتہائی بُرا قرار دے کر اپنے اعلیٰ ذوق کا اظہار کیا۔ محمد وارث کو مستقل مزاجی سے ایک سال اردو بلاگنگ کرنے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ باذوق معیاری تحاریر پیش کرنے پر منظرنامہ کی جانب سے مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اِظہار کہ وہ باقاعدگی سے اِسی طرح لکھ کر ہمارے علم میں اضافہ کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ ماہِ جون میں علمِ شاعری پر وارث کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/06/blog-post_12.html" >بحرِ مُتَقارِب &#8211; ایک تعارف</a>‘ اُن کے علمی ذوق پر دال ہے۔ اگر آپ کے ذہن کے کسی کونے میں کبھی بھی شاعری کرنے کی خواہش نے سر اُبھارا ہو اور آپ نے استاد شعرا کی ڈانٹ کے ڈر سے اپنی خواہش کو تھپک کر سلادیا ہو تو آپ کے لیے وارث کے بلاگ کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا۔ فنِ شاعری پر لکھے گئے بے حد آسان اور عام فہم مضامین سے صرف وارث کی قابلیت سے آگاہی نہیں ملے گی بلکہ یہ مضامین آپ کو باقاعدہ شاعر بننے میں مدد بھی دیں گے۔</p>
<p>نکاح سنتِ رسولﷺ ہے۔ گھر بسنے کے بعد انسان کی حیات کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ نئی ترجیحات، نئی مصروفیات، نئی زندگی۔۔۔ اِس زندگی میں عموماً بہت سی عادتیں اور معمولات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کی زندگی میں ایک نئے مہمان کی آمد ہوجائے (اور آپ شرماتے ہوئے، زیرِ لب مسکراتے ہوئے دو سے تین ہونے کی خوش خبری سنیں) تو جیسے بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود خاتون اردو بلاگر امن ایمان طویل طویل وقفہ کے ساتھ ہی سہی، لیکن اردو بلاگنگ سے ناتا جوڑے ہوئے ہیں (ہمیں امید ہے کہ انہیں خود کو خاتون لکھے جانے پر اعتراض  نہ ہوگا)۔ غیر متوقع طور پر اُن کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=200" >خیر مبارک</a>‘ پڑھنے کو ملی۔ لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">خیر مبارک۔۔۔!<br />
یہ کہنے میں میں نے کافی دن لگا دیے۔۔اس کے لیے بہت بہت معذرت خواہ ہوں۔۔پہلے بتا دوں کہ خیرمبارک کس بارے تھی۔۔آپ سب نے مجھے میری بیٹی کے پیدا ہونے پر جو ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور دعائیں دی ہیں یہ اس کے لیے ہے۔</span></p>
<p>پھر ایک عرصہ غائب رہنے کی وجوہات بیان کرتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ایک تو میں تین چار ماہ کے بعد لاہور ماما کے گھر آئی۔۔سسرال میں نیٹ کی سہولت نہیں۔۔پھر یہاں لاہور میں لائٹ جانے کے بدترین اوقات تھے۔۔اس لیے میرے اور نیٹ کے تعلقات جلدی بحال نہ ہوسکے۔۔۔خیر کسی طرح یہ سب مینیج کیا تو خیر سے سارے پاسورڈز بھول گئے اور پھر پاسورڈز ہاتھ چڑھے تو بلاگ پر پرانی تھیم دیکھ کر لکھنے کا دل نہ چاہا۔۔۔پورا ایک ہفتہ اچھی تھیم ڈھونڈنے میں لگا دیا۔۔۔۔جب اچھی تھیمز ہاتھ لگیں تو کوئی تھیم بھی اردو لباس پہننے کو تیار نہ ہوئی۔</span></p>
<p>یہ تو ان کی عادت ہی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ چند دن ہی کے لیے بلاگ پر حاضری دی لیکن بلاگ کا سانچہ تبدیل کیا، اُس کو اردو میں ڈھالا، جہاں مشکلات پیش آئیں، انہیں بلاگ کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=213" >کوئی تھوڑی سی نقل کروادے پلیز</a>‘ میں بیان کیا اور اُن کا حل کھوجا۔ اُن کی پیاری سی بچی <a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/?p=203" >حبہ</a> کے لیے منظرنامہ کی طرف سے نیک خواہشات اور ڈھیر ساری دعائیں۔</p>
<p>کھانے پینے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ کوئی روایتی دیسی کھانوں کا شوقین ہوتا ہے تو کسی کو فاسٹ فوڈ یا غیر ملکی کھانے کا جنون ہوتا ہے۔ اردو بلاگز میں <a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/category/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%da%a9%d8%a7-%da%a9%da%86%d9%86/" >کہنی سننی</a>، <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/category/%DA%86%D9%B9-%D9%BE%D9%B9%DB%92-%D9%BE%DA%A9%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%94/" >حجاب</a>، <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/category/foodcooking/" >ماوراء</a> وغیرہ کے بلاگ پر کھانے پینے کی مختلف تراکیب پڑھنے کو مِلتی رہی ہیں لیکن <a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/" >ماہ رُخ</a> نے تو اردو بلاگنگ میں باورچی خانہ ہی قائم کرڈالا ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/irani-onion-soup.html" >ایرانی پیاز سوپ</a>‘، ’<a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/2009/06/lucknavi-qourma.html" >لکھنوی قورمہ</a>‘ وغیرہ سمیت ایسی کئی مزے مزے کی تراکیب ہیں جنہیں پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ماہ رُخ کے کچن کی کیا ہی بات ہے!</p>
<p>اپنی تاریخ سے دوری اور ماضی ناآشنائی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اِسی لیے دوست، دشمن کی پہچان میں اب تک ٹھوکر کھاتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ کے ایسے ہی ایک اہم باب سے پردہ اُٹھایا ہے ابوشامل نے۔ یہ داستان ہے ’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/muslim-holocaust/" >سقوطِ کریمیا</a>‘ کی  جب مسلمانوں کا بڑی تعداد میں خون بہایا گیا۔ ابوشامل رقم طراز ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">وسط ایشیا، قفقاز، وولگا-یورال و کریمیا کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا “تاریخ ملت اسلامیہ” کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً وسط ایشیا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں بخارا و سمرقند جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ سوویت عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں برطانیہ، اٹلی، فرانس و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ سوویت اشتراکی عہد کا ایک کریہہ باب جوزف اسٹالن کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔</span></p>
<p>ابوشامل نے اِسے مسلم ہولوکاسٹ سے تعبیر دی ہے۔ بلاشبہ یہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کی داستان ہے لیکن ایسی ہی کئی داستانیں آج ہمارے گرد افغانستان و عراق میں بکھری پڑی ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اِن سے سبق حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>کہتے ہیں، فارغ نہ بیٹھو کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ لیکن دیکھئے، سعدیہ سحر کے دماغ میں کیا بات آئی ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/06/06/%D8%A2%D9%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D9%88%DA%86%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D8%B1%D8%A7/" >آپ بھی سوچیں ذرا</a>‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">پاکستان میں اتنے عامل پیر فقیر ہیں جن کے قابو میں بڑے بڑے جن ہیں جو بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے ان سے کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے کہیں چلہ کاٹیں۔ جادو کے زور سے ڈرون طیاروں کے رخ دشمنوں کی طرف موڑ دیں اپنے شاگرد جنوں سے کہیں وہ سب ملک دشمن عناصر کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک آئیں۔ جو عامل محبوب کو قدموں میں ڈال سکتا ہے، وہ دہشت گرد کو حکومت کے قدموں میں کیوں نہیں ڈال سکتا؟ جو عامل پتھر دل محبوب کے دل کو موم کر سکتا ہے، وہ راکٹوں کو موم کیوں نہیں کر سکتا؟</span></p>
<p>سعدیہ! آپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا اچھا خیال پیش کیا ہے۔ عامل باباؤں اور نجومیوں سے ڈفر کو بھی کچھ جلن ہے۔ ’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=829" >پھر کیڑے</a>‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">نام نہاد پیروں سے دشمنی بلکہ جیلسی (لفظ جلاپا سے زیادہ کھندک ٹپکتی ہے) تو کافی پرانی ہے لیکن اب لگتا ہے نجومیوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔ مسئلہ میرا یہ ہے کہ دہائیوں کی تعلیم کے بعد بھی مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ میں عالم کیوں نا بن سکا۔ بن نا سکا یہ میری نالائقی لیکن یہ نا اہلی مجھ سے ہضم نہیں ہوتی کہ اپنے آپ کو عالم کہلوا بھی نا سکا۔ اتنا تو بزدل نا تھا کہ اندھوں میں کانا راجہ بننے کی ناکام کوشش بھی نا کرتا۔ ویسے بھی جاہلین کا جو اعلٰی و ارفع درجہ اور تعداد ہمارے ہاں موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھے اپنی اس شکست کو تسلیم کرنا چاہئے اور جلد از جلد کسی دو آتشی پیر کے آستانہء عالیہ بلالیہ جلالیہ اور بعد میں ملالیہ پر حاضری دے کر اپنی ناکامیوں کو بخشوانا چاہئے کہ کیا پتا میں دنیا کہ ساتھ ساتھ اپنی آخرت میں بھی تاریکیاں بھرتا رہا ہوں؟</span></p>
<p>ڈالر۔۔۔ اگرچہ بے جان شے ہے لیکن ہے ایسی کہ نام سنتے ہی لوگوں میں جان آجاتی ہے۔ ڈالرز کے عوض لوگوں کی جان ہی نہیں، ایمان بھی خرید لیے جاتے ہیں۔ نعیم صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے مال و دولت کی طلب میں تھرکتے جسموں اور پھڑکتے ضمیروں کا اندازہ کرتے ہوئے ایک نظم ’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/06/blog-post.html" >ڈالر! مِرے اِس دیس کو ناپاک نہ کرنا</a>‘ لکھی تھی جسے شعیب صفدر نے پیش کیا ہے۔ کچھ سطور ملاحظہ ہوں:</p>
<p><span style="color: #993366;">ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا<br />
تو ظلم کا حاصل<br />
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص<br />
سرمائے کی اولاد<br />
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل<br />
تو سود کا فرزند!<br />
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے<br />
بیواوں کی فریاد!<br />
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش<br />
توضعیف کی اک چیخ<br />
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر</span></p>
<p>کراچی میں حکومتِ سندھ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_10.html" >قومی بلاگرز کانفرنس</a> کیا منعقد ہوئی، دائرۂ بلاگنگ میں کئی اضافے دیکھنے میں آنے لگے۔ پھر کچھ ایسا رنگ نکلا کہ تحریر ایک ہونے لگی، تبصرے پچاس۔ بدتمیز کی تحریر ’<a target="_blank" href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/06/14/%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1/" >مہاجر</a>‘ اس کی روشن مثال ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">جب پاکستان بنا تو صرف مہاجرین ’’اردو سپیکنگ‘‘ نہیں تھے۔ آج بین ڈالنے کو صرف اردو سپیکنگ کیوں ہیں؟ بالخصوص ایسے میں جب ان کی تیسری اور چوتھی نسل یہاں پیدا ہوئی ہے یہ لوگ پاکستانی کیوں نہیں بن سکے اور ان کے والدین نے انکے دماغوں میں ’’مہاجر‘‘ زہر کیوں بھر دیا اور یہ آگے اپنی اولادوں میں یہ زہر کیوں منتقل کر رہے ہیں؟</span></p>
<p><span style="color: #993366;">ان کی ٹرمز بھی دیکھ لیں۔ حق پرست پنجابی۔ اگر ان کی بات من و عن تسلیم کر لی جائے تو اپ کو خطاب دیں گے حق پرست پنجابی۔ تائب کارکنان کو نہ جانے کیا خطاب دیتے ہیں جو اصلیت فاش کرتے رہتے ہیں۔</span></p>
<p>اس تحریر پر ہونے والا مباحثہ ہمارے ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے سیاسی پروگرام سے کسی طور کم نہیں ہے کیوں کہ اس میں ایک دوسرے کے نظریات کے پرخچے بھی اُڑائے گئے ہیں اور ایک دوسرے کی ذات کے بھی۔ یعنی ایک مکمل ٹی وی پروگرام ہے۔</p>
<p>حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے کہ بہت سے لوگ اِس کی آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں اور بہت سے لوگ استطاعت رکھنے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ اردو ادب میں سفرنامے لکھے جانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ بہت سے ادیبوں نے مقدس سفر حج/ عمرہ کی داستان بھی رقم کی۔ چوں کہ یہ سفر مقدس ہے اِس لیے حج کے اکثر سفرنامے محبت و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں لیکن مشہور ادیب ممتاز مفتی کا سفرنامۂ حج ’’لبیک‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد ترین سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے آپ شک اور یقین، دونوں کی منزل سے بیک وقت خود کو گزرتا محسوس کرتے ہیں۔ وہاب اعجاز خان نے ’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/06/blog-post_20.html" >ممتاز مفتی (لبیک)</a>‘ پر ایک تجزیہ پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">لبیک ایک متنازعہ کتاب ہے ۔ یہ تصنع بناوٹ اور ریاکاری کے درمیان ، سچ اور خلوص اور جذبے کی ایک مثال ہے ۔ جس نے اپنی حیثیت و اہمیت کو منوالیا ہے۔ لبیک ایک ایسے فنکار کا شاہکار ہے جو تجزیہ کرتا ہے سوچتا ہے محض جذبے میں لتھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ سوچ سمجھ کر اس راستے پر روانہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مزاج دیگر حج ناموں سے ہٹ کر ہے۔ ممتاز مفتی اس رپورتاژ میں عقیدت نہیں پالتے بلکہ عقیدے کو سینچتے نظرآتے ہیں ۔ وہ ایسی کئی باتوں کو منظر عام پر لانے سے نہیں چونکتے ۔ جو دیگر دنیا دار قسم کے لوگ چھپاتے ہیں۔ وہ اپنی داخلی کیفیات کا بیان کھل کر کرتے ہیں۔</span></p>
<p>وہاب اعجاز خان کے اس تجزیے کے علاوہ پچھلی تحاریر بھی دیکھتے ہوئے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اُمید ہے ان کے ذریعے ہمیں کئی اچھی کتب سے آگاہی ہوگی۔</p>
<p>دنیا میں دن منانے کا رواج چل نکلا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن اِس بار ایک تجویز ہے ہفتہ منانے کی۔ شگفتہ ’<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=483" >ہفتۂ بلاگستان</a>‘ کی تجویز دیتے ہوئے لکھتی ہیں:</p>
<p><span style="color: #993366;">میرا دل ہے کہ ہم سب بلاگرز مل کےایک ہفتہ منائیں یعنی کہ ایک ہفتہ منایا جائے بنام ۔ ۔ ۔ ہفتہ بلاگستان ۔ ۔ ۔ ہلکے پھلکے انداز میں اور کچھ سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہوسکے اس تجویز سے پہلے ایک خیال یہاں پیش کیا تھا۔ ۔ ۔ حالیہ تجویز گذشتہ سے پیوستہ ۔ دراصل کچھ اس طرح سوچا کہ یعنی ایسا سلسلہ ہو کہ تمام اردو بلاگرز دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں سب کی ایک ساتھ شرکت ممکن ہو سکے اور اس طرح سب کی ذاتی مصروفیات بھی متاثر نہیں ہوں گی۔</span></p>
<p><strong><em>مختصر مختصر:</em></strong><br />
محمد علی مکی اس بار جو پاکستان آئے ہیں، ہر کچھ دن بعد ایک خوش خبری سناتے ہیں۔ پہلے <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس کا اجراء</a> کیا اور اب <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو اوبنٹو جاری</a> کرکے نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔</p>
<p>ہمارے بہت پرانے بلاگر <a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/466" >نعمان یعقوب کی والدہ محترمہ</a> گذشتہ دنوں انتقال فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون. منظرنامہ اُن سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی والدہ محترمہ کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہے۔</p>
<p>ماہ جون ۲۰۰۹ء میں پاکستانی قوم کو جو ایک بڑی خوشی ملی، وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۰۹ء میں فتح تھی۔ اس موضوع پر کافی سارے بلاگز دیکھنے کو ملے۔<br />
<a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/2009/06/21/aur-hum-jeet-gay/" >اور ہم جیت گئے</a>۔ کہنی سننی<br />
<a target="_blank" href="http://yasirimran.wordpress.com/2009/06/21/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%84/" >فائنل جیت لیا</a>۔ یاسر عمران مرزا<br />
<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/?p=2731" >جیو تو ایسے</a>۔ میرا پاکستان<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1098" >ہم کسی سے کم نہیں</a>۔ دریچہ<br />
<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%b9%d9%88%d9%86%d9%b9%db%8c-20-%da%a9%25d" >عالمی چیمپئن</a>۔ فرحان دانش<br />
<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/t20-worldcup/" >وہ ایک چھکا، یہ ایک فتح</a>۔ ابوشامل<br />
<a target="_blank" href="http://awaz-e-dost.blogspot.com/2009/06/blog-post_22.html" >مبارک باد</a>۔ آوازِ دوست</p>
<p>اس بار ہمارا تبصرہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے لہٰذا باقی باتوں کو اگلی نشست کے لیے مؤخر کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہیں گے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں، خوش رہیں۔ اللہ حافظ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/07/june09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2009 06:06:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[ammar]]></category>
		<category><![CDATA[mawra]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[politics]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، عمار اور ماوراء اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ وہی ہے، <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >مہینے کے منتخب بلاگز</a> پر ایک نظر۔</p>
<p>جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو ہمیں قطعی اندازہ نہ تھا کہ جہاں یہ ہمارے لیے سر کا درد ثابت ہوگا، وہاں قارئین میں بھی مقبولیت حاصل کرے گا۔ قارئین کی طرف سے اگر اس قدر مثبت ردِّ عمل نہ آتا تو شاید ہم اس سلسلہ پر کب کا اللہ اکبر کرچکے ہوتے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' />   ماشاء اللہ، گذشتہ دنوں اُردو بلاگنگ میں مزید کچھ اضافے دیکھنے میں آئے اور کچھ مستقل لکھنے والوں نے اردو بلاگ شروع کیا۔ امید ہے کہ ہمیں مزید معیاری بلاگز پڑھنے کو ملیں گے۔</p>
<p><a href="http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/" >اپریل ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر مختصر تجزیہ</a> پچھلے دنوں پیش کیا جاچکا۔ آئیے، مئی ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/" >امید</a> طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/?p=132" >خود کلامی</a>‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں:</p>
<blockquote><p>’’بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے۔<br />
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خواہش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔‘‘</p></blockquote>
<p>اور اس مختصر تحریر کا اختتام اس فکر انگیز جملے پر ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>’’مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خواہش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>’امید‘ سے ہمیں امید ہے کہ باقاعدگی سے اپنے بلاگ پر نظر آئیں  اور اتنی غیر حاضریاں نہ کریں تاکہ ہمیں اچھی اچھی تحاریر پڑھنے کو مل سکیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان یعقوب</a> اردو میں کم ہی بلاگ کرتے ہیں۔ عموماً ان کی تحریر کراچی کے سیاسی حالات کے حوالے سے متحدہ قومی مومنٹ کی وکالت میں ہوتی ہے۔ ’’<a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/452" >فساداتِ ایم کیو ایم کراچی</a>‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر سے اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<blockquote><p>’’جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘</p></blockquote>
<p>ایم کیو ایم مخالف پروپیگنڈے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نتائج نعمان کی نظر میں یوں نکلتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نعمان علی اپنی ایک مختصر تحریر ’’<a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2009/05/01/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86-%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82.html" >مزدوروں کا دن یا ایک مذاق</a>‘‘ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہوا ایک شعر لکھتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر<br />
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے</p>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>وطنِ عزیز کے سنگین حالات کے سبب  متاثرہ علاقوں کے مہاجرین کی  دوسرے صوبوں میں آمد ایک بڑا ایشو ابھر کے سامنے آئی اور کئی ’’عظیم‘‘ رہنماؤں کے چہرے سے ’’حبّ الوطنی‘‘ کا نقاب اتر گیا۔ فرحان دانش’’<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%259" >سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں</a>‘‘ کے موضوع کے تحت لکھتے  ہیں:</p>
<blockquote><p>’’سندھ میں افغانستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرشاہ لطیف بھٹائی کی دھرتی پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے۔ سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور وہ ایک بار پھر سندھ کو خون میں نہلانے‘ دھرتی پر قبضہ جمانے اور مستقل باشندوں کو غلام بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں‘ اس مقصد کیلئے افغان مہاجرین کی آڑ میں لاکھوں افراد کو لاکر سندھ کے شہروں اور قصبوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس اقتباس سے اگرچہ بہت کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بقیہ تحریر بھی یقینا آپ کو کافی کچھ جاننے اور ’حب الوطنی‘ کے جذبے سے سرشار &#8220;افراد&#8221; کا مؤقف سمجھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>شکاری کراچی کے حالات کا رونا روتے ہوئے اپنی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=239" >ہم کہاں جارہے ہیں</a>‘‘ میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’عجیب افراتفری کا عالم ہے. بدھ 29 اپریل شام چار پانچ بجے سے رات گئے تک چالیس، بیالس افراد سکون کی نیند سو گئے. ان سکون سے سونے والوں میں اکثریت پھٹانوں کی تھی. ایک عرصے سے کراچی میں الطاف بھائی طالبان کا رونا رو رہے تھے کبھی پریشانی میں کھانا پینا چھوڑرہے ہیں تو کبھی نیند نہیں آتی. . . .<br />
اب تک ان کو یا متحدہ کو ہی طالبان دکھائی دیتے رہے اور کسی کو بھی کراچی میں طالبان نظر نہیں آئے. ان طالبان کو منظر پر لانے کے لیے سہراب گوٹھ میں ریڈی میٹ طالبان سامنے لائے گئے جنھوں نے وال چاکنگ کی، چرچ کی انتظامیہ کو دھمکیاں دی اور غائب ہو گئے… لیکن یہ نسخہ بھی کار آمد نہ ہوا تو دوبارہ ایسے طالبان کہیں ظاہر نہ ہوئے. مجھے تو حیرت ہوتی ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو سوات سے صرف ایک چرچ کی انتظامیہ کو دھمکی دینے آئے تو اور پھر دوبارہ سوات واپس چلے گئے.‘‘</p></blockquote>
<p>بات تو خیر سمجھنے کی ہے۔ یہ تو معصوم شکاری ہیں اس لیے شاید حیران ہیں لیکن کوئی اصل شکاریوں کے دامِ فریب کا شکار ہونے والوں سے پوچھے۔</p>
<p>ڈفر کی ایک مختصر مگر اپنے مخصوص دل چسپ انداز میں لکھی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=781" >یہ بچہ کس کا ہے</a>‘‘ سے ایک اقتباس:</p>
<blockquote><p>ڈفر : کیا یہ آپکا بچہ ہے؟<br />
لڑکی : ( شرم نما ہنسی کے ساتھ) نہیں اس کی امی تو اندر وارڈ میں ہیں۔<br />
ڈفر : (ساتھ والے لڑکے سے) دیکھا میں نے کہا تھا نا، ماں کبھی بھی اپنے بچے کو ہینگر کی طرح نہیں لٹکاتی۔</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /><br />
سیاق و سباق جاننے کے لیے ان کے بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کی زحمت تو کرنی ہی پڑے گی۔</p>
<p>محمد وارث کا تعارف کرانا غیر ضروری ہوگا کہ آپ کی قابلیت کے سبھی معترف ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اچھے شاعر ہیں اور علمِ شاعری کا بھرپور مطالعہ رکھتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_07.html" >علمِ عروض اور ہجے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’علمِ عروض دراصل ایک &#8216;ہوا&#8217; ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔<br />
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر &#8216;بناتا&#8217; ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں &#8216;شاعری&#8217; کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس تحریر کے بعد اگلی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_08.html" >علمِ عروض۔ کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید</a>‘‘ کا مطالعہ بھی  شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔</p>
<p>وہاب اعجاز خان نے محمود نظامی کے نظرنامہ پر <a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post.html" >ایک تجزیہ</a> شایع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔<br />
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔<br />
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔<br />
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔</p></blockquote>
<p>وہاب اعجاز خان کی ملکی حالات پر ایک فکر انگیز تحریر ’’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post_10.html" >مبارک ہو</a>‘‘ بھی سامنے ہے:</p>
<blockquote><p>مبارک ہو جناب۔ اب آپ کے لائف سٹائل کو کوئی خطرہ نہیں۔ صبح اٹھیے۔ واک کے لیے پارک میں جائیے۔ رات کو پارکوں میں جائیے۔ ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ کیجیے۔ بچوں کو بڑے بڑے سکولوں میں داخل کیجیے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیجیے۔ مگر میرا کیا ہوگا۔ میں اپنے گھر سے دور ایک خمیے میں پڑا ہوا ہوں۔ نہ کھانا ہے نہ پینے کو پانی۔ میرے بچے بیمار ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے لائف سٹائل کو بچانے کے لیے مجھے قربانی دینا پڑے گی۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>دو مختلف موضوعات پر وہاب اعجاز خان کی پختہ تحاریر پڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جانب سے مزید معیاری اور مختلف موضوعات پر تحاریر سامنے آئیں گی۔ </p>
<p>اردو بلاگرز میں عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج بھی خوب چل نکلا ہے۔ پہلے صرف موصوف <a target="_blank" href="http://badtamiz.com/blog" >بدتمیز</a> ہوتے تھے، پھر <a target="_blank" href="http://dufferistan.com/" >ڈفر</a> آئے جن پر کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ بدتمیز ٹائپ کی کوئی چیز ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر <a target="_blank" href="http://billubilla.com/" >بلو بلا</a>، <a target="_blank" href="http://lafunga.wordpress.com/" >لفنگا</a>، <a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/" >مسٹر کنفیوژ</a> اور <a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/" >بے فضول</a> سامنے آئے۔ ہمارے سامنے اس وقت بے فضول کی چند تحاریر ہیں، اللہ جانے بے فضول سے ان کی مراد واقعی بے فضول ہے یا فضول جیسے یہاں کچھ لوگ ’فالتو‘ کو ’بے فالتو‘ بولتے ہیں۔۔۔ کیوں؟ بس جی، ایسے ہی، بولنے میں مزا آتا ہے۔ بہرحال، بے فضول کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%a7%da%ba/%d9%85%d9%b0%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/" >میں ڈرتا ہوں</a>‘ سے ایک اقتباس پیش ہے:</p>
<blockquote><p>’’تو جی واقعہ یہ ہے کہ ہم تو سدا کے بزدل واقع ہوئے ہیں۔ خوف ہے ناکامی کا، شرمندگی کا اور اذیت کا۔ ظاہر ہے میں تو اکیلا تو نہیں بزدل بیٹھا اس دنیا میں۔ اکثر نام نہاد بہادر جو اپنے سے چھوٹے اور کمزور لوگوں پر منہ زوری کرتے ہیًں، ان کی نسبت تو میں بہادر ہوں ۔ کیونکہ ایک تو ان کو اپنے سے بڑے بندے کی جوتی چاٹتے میں نے دیکھا ہے۔ فلموں میں ہی سہی’ مگر اصل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اور دوسرا یہ کہ میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا’ بس اس سے ڈرتا کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ہی ہی ہی۔ آپ بھی ہنسیے۔</p>
<p>اب ایسا بھی نہیں کہ میں ساری زندگی بزدل رہا ہوں۔ بچپن میں رات کو باغیچے کے اندھیرے کونوں مین جہاں باقی جانے سے ڈرتے تھے، میں کم از کم دھڑکتےدل کے ساتھ ہی سہی، آیۃ الاکرسی پڑھتے ہوئے چلا تو جایا کرتا تھا۔‘‘</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </p>
<p>کراچی میں شدید گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/" >شب</a> کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کا ذمہ دار انہوں نے بات گھما پھرا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کو ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />  آج تک ہم بوتل میں جن سنتے آئے تھے، شب کی زبانی ذرا ’<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2009/05/chai/" >بوتل میں چائے</a>‘ کا قصہ پڑھتے چلیں:</p>
<blockquote><p>آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا ۔ لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>مکمل قصے کے لیے ان کے بلاگ پر جانے کی زحمت فرمائیں۔</p>
<p>شعیب صفدر نے ملک کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے ایک واقعہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/05/blog-post_21.html" >یہ حفاظت کو بنایا ہے</a>‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> کو لکھتے ہوئے چند ہی ماہ گزرے ہیں۔ دل چسپ لکھتے ہیں۔ ’’<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/%da%a9%da%86%da%be-%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%84%da%a9%d8%a7/%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%be%d9%84%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1/" >ویل پلیسڈ بلاگر</a>‘‘ ایک اچھی تحریر ہے:</p>
<blockquote><p>فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>ایک دن اچانک کیا ہوا، اس کے لیے آپ جعفر کے بلاگ پر مکمل تحریر پڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ابوشامل اردو بلاگرز میں معروف نام ہے۔ گذشتہ دنوں ابوشامل نے اپنا ڈومین خریدا اور ویب ہوسٹنگ لے کر اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل ڈاٹ کام</a> پر منتقل کیا۔ اس پر منظرنامہ کی جانب سے انہیں مبارک باد۔ ابوشامل کی اپنی تحاریر تو بلاشبہ لاجواب ہوتی ہی ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/swat-operation-consensus/" >قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو</a>‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> اردو بلاگنگ کی دنیا میں نسبتاً نئی لکھاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی لکھنا شروع کیا۔ آپ کی تحاریر عموماً مختصر لیکن پُر فکر  ہوتی ہیں۔’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/05/27/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D9%85%D8%B2%D9%88%D8%B1-%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DA%BE%DB%92-%D8%9F/" >کیا مسلم عورت کمزور ہوتی ہے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>مغربی ممالک مسلم خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے مسلم عورت پردے میں لپٹی ہوئی ڈری سہمی جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جو شادی سے پہلے باپ اور بھائی کی مرضی سے زندگی بسر کرتی ہے شادی کے بعد شوہر کے اشاروں پہ چلتی ہے مسلم عورت جس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔<br />
کیا مسلم عورت حقیقت میں کمزور ہوتی ہے؟</p></blockquote>
<p>تو کیا مسلم عورت واقعی کمزور ہوتی ہے؟ اس کا جواب سعدیہ سحر نے اپنی تحریر میں خوب دیا ہے۔</p>
<p>ان تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط:<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1053" >کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟</a> (فرحت کیانی)<br />
<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/" >عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام</a> (افتخار اجمل بھوپال)<br />
<a target="_blank" href="http://naatiqa.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html" >یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے</a> (م۔م۔مغل)<br />
<a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/articles/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7-%db%94%db%94%db%94%d8%9f/" >نیکی یا۔۔۔؟</a> (مسٹر کنفیوژ)<br />
<a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/05/10/jabmujhe/" >جب مجھے بور کیا گیا </a>(فہیم اسلم)</p>
<p>بلاگنگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک اہم ترین خوش خبری کے اردو زبان میں، نستعلیق رسم الخط میں پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس</a>‘‘ جاری ہوگیا ہے۔ اس کارنامے پر ہم محمد علی مکی کو بے حد مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اردو سلیکس دراصل لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم ہے، مختصر حجم کا ہے، استعمال میں آسان ہے۔ ونڈوز صارفین اسے اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ امید ہے، مستقبل میں اس حوالہ سے ارتقائی سفر جاری رہے گا۔</p>
<h2>بلاگرز کے لیے گُر کی بات:</h2>
<p>چلتے چلتے نئے بلاگرز کے لیے ہم ایک گُر کی بات پیش کرنامناسب سمجھتے ہیں۔ جب آپ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہیں تو پوسٹ ٹائٹل کے ٹیکسٹ ایڈیٹر کے عین نیچے تحریر کا ربط ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug-300x102.png" alt="slug" title="slug" width="300" height="102" class="alignnone size-medium wp-image-409" /></a><br />
پھر ہوتا یوں ہے کہ تحریر آپ کے بلاگ پر شائع ہو تو جاتی ہے لیکن جب ہم اس کا ربط کاپی کرکے کہیں پیسٹ کرتے ہیں تو وہ بہت عجیب و غریب انداز میں سامنے آتا ہے جیسا کہ کافی بلاگرز کی تحاریر کے ربط اس تجزیے کے دوران ہمارے سامنے آئے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2-300x17.png" alt="slug2" title="slug2" width="300" height="17" class="alignnone size-medium wp-image-411" /></a><br />
کئی بار تو اس طرح کے روابط شیطان کی آنت کی طرح اتنے لمبے ہوجاتے ہیں کہ دو، تین سطور تک پہنچ جاتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ اس ربط کو ایڈیٹ کرکے انگریزی یا رومن میں کرلیا کریں تاکہ آپ کی تحریر کا ربط بالکل واضح رہے جیسے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3-300x28.png" alt="slug3" title="slug3" width="300" height="28" class="alignnone size-medium wp-image-412" /></a><br />
یہاں تک کہ ربط کے درمیان خالی اسپیس بھی نہ دیں۔  امید ہے آپ سب بلاگر حضرات آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ کسی مشکل کی صورت میں سوال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی اپنے میزبانوں کو دیجئے اجازت۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی نئی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اپنا اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا بہت بہت بہت خیال رکھیے گا۔ فی امان اللہ۔ والسلام</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>منظر نامہ 2008</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/01/mnazarnamah2008/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/01/mnazarnamah2008/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Jan 2009 00:05:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سال 2008]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=16</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم، 2008  اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ سال اردو بلاگنگ کے لیے کیسا رہا یا اردو بلاگنگ میں کیا کچھ ہوا، اس پوسٹ  میں ہم اردو بلاگنگ  اور منظر نامہ پر ایک مختصر نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ منظر نامہ کا آغاز بھی اپریل 2008 میں  کیا گیا۔  [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم،</p>
<p>2008  اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ سال اردو بلاگنگ کے لیے کیسا رہا یا اردو بلاگنگ میں کیا کچھ ہوا، اس پوسٹ  میں ہم اردو بلاگنگ  اور منظر نامہ پر ایک مختصر نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ منظر نامہ کا آغاز بھی اپریل 2008 میں  کیا گیا۔  میرے اور عمار کے ذہن میں شاید پہلے سے ایسا خیال تو  تھا ہی۔۔۔لیکن پھر بھی منظر نامہ کا وجود اچانک اور اتفاقی تھا۔ آغاز میں ہم نے اردو بلاگرز سے شناسائی اور اس کے ساتھ مختلف عنوانات پر بلاگرز کو لکھنے کے لیے منظر نامہ جیسا ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیاکرنے کا سوچا تھا ۔لیکن جوں جوں ہم قدم بڑھاتے گئے، آپ سب کی حوصلہ افزائی اور تجاویز سے آج ہم  منظر نامہ پر ایوارڈز اور &#8220;ایک بلاگر ، ایک کتاب&#8221; جیسی مہم کو چلا رہے ہیں۔</p>
<p>منظر نامہ پر آپ ہم آپ کے لیے کیا پیش کرتے ہیں۔۔۔</p>
<p>1۔    اردو بلاگرز کے انٹرویوز (سلسلہ  شناسائی)<br />
2۔    منتخب عنوانات پر آپ کے خیالات (نقطہ نظر)<br />
3۔    ہر ماہ کے بلاگ(اقتباسات)<br />
اس کے علاوہ ۔۔۔<br />
4۔    اردو بلاگ ایوارڈز<br />
5۔   مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب</p>
<p>سلسلہ شناسائی میں اب تک ہمارے جو مہمان بنے ، ان کو تہہ دل سے بہت شکریہ۔ اب تک اکیس بلاگرز کا انٹرویو لیا جا چکا ہے:</p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/14/abu-shamil-interview/" >ابوشامل)فہد( سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/07/03/asma-intr/" >اسماء سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/02/maki-interview/" >مکی سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/06/29/mera-pakistan-inter/" >“میرا پاکستان” سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/08/31/sajid-interview/" >ساجد سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/06/22/iftekhar-ajmal-inter/" >افتخار اجمل سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/08/23/shab-interview/" >شب سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/06/15/interview-with-pakistani/" >پاکستانی سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/08/11/shoiab-safdar-shanasai/" >شعیب صفدر سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/06/07/jahanzaib-interview/" >جہانزیب اشرف سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/08/07/arif-anjum-interview/" >عارف انجم سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/30/shanasai-khawar/" >خاور کھوکر سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/08/03/shakir-interview/" >شاکر عزیز سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/26/shansai-umair-salam/" >عمیر سلام سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/07/23/r-kamran-interview/" >راشد کامران سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/21/shanasai-qadeer/" >قدیر احمد سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/07/17/saadat-interview/" >سعادت سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/05/14/shanasai-zakaria/" >زکریا اجمل سے شناسائی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/07/09/aman-inter/" >امن ایمان سے شناسائی</a></p>
<p>رضوان سے شناسائی</p>
<p>سلسلہ <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/category/%D9%86%D9%82%D8%B7%DB%81-%D9%86%D8%B8%D8%B1/" >نقطہ نظر</a> میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ لیکن ہمارے چند ساتھیوں نے اسے آگے ضرور بڑھایا ہے۔ جن کے ہم شکر گزار ہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابوشامل</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/" >محمد وارث</a></p>
<p>- منظر نامہ پر اردو بلاگرز کے <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/08/award-nominations/" >ایوارڈز کی نامزدگیوں</a> کے سلسلے میں ہم <a target="_blank" href="http://www.zackvision.com/weblog/" >زکریا</a> ، <a target="_blank" href="http://www.urdujahan.com/blog/" >جہانزیب</a> اور <a target="_blank" href="http://simunaqv.blogspot.com/" >نبیل</a> کے شکر گزار ہیں۔</p>
<p>- اسی طرح منظر نامہ پر مختلف امور میں ہماری مدد کرنے پر <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a> اور <a target="_blank" href="http://hala.urdutech.com/" >امن ایمان</a> کا بے حد شکریہ۔</p>
<p>- <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی</a> کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ہم نے منظر نامہ پر <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/21/eik-bloger-eik-kitab/" >ایک بلاگر ، ایک کتاب مہم </a>کا آغاز کیا۔ اب تک پانچ کتابوں پر کام مکمل کیا گیا ہے۔ جو کہ یہ ہیں:</p>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?page_id=262" >وقت کا سفر</a> ۔ <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >محمد علی مکی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?page_id=157" >قطعہ کلامی</a> ۔ <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >محمد علی مکی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/2008/10/monte-cristo/" >مونٹی کرسٹو کا نواب</a> ۔ <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار ضیاء</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/tajdeed-book/" >تجدید و احیائے دین</a> &#8211; <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابو شامل</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2008/12/21/%D9%BE%D8%B7%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%84%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA.html" >پطرس کے مضامین</a> &#8211; <a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >علی نعمان</a></p>
<p>جبکہ کچھ کتابوں پر بلاگرز کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس سال بہت سے نئے اردو بلاگز بھی منظر پر آئے۔ نیچے دی گئی لسٹ میں اگر کسی کا نام شامل نہیں ہے تو  ہمیں آگاہ کریں۔</p>
<p>2008 کے بلاگرز کی فہرست:</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/" >اردو ماسٹر</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/" >منظر نامہ</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://moashrah.blogspot.com/" >معاشرہ</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://kitchen.tuzk.net/" >ماہ رخ</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://noumanali.com/" >نعمان علی</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://phototech81.urdutech.net/" >نوائے ادب</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://aarim.urdutech.net/" >عارم</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://waris.urdutech.net/" >محمد وارث</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/" >شاہدہ اکرم</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://mazloom.urdutech.net/" >مظلوم</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.pakfact.com/" >پاک فیکٹ</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://saud.urdutech.net/" >سعود</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://abukashan.blogspot.com/" >ابوکاشان</a></p>
<p><a href="http://sarapakistan.blogspot.com"  target="_blank">سارہ پاکستان</a></p>
<p><a href="http://tiflaan.wordpress.pk/"  target="_blank">طفل</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://abdulqudoos.info/" >عبدالقدوس</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://wildlife.urdutech.net/" >عزیز امین</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/" >شکاری</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://zain.wordpress.pk/" >زین زیڈ ایف</a></p>
<p>اگر دیکھا جائے تو 2008 اردو بلاگنگ کے لیے اچھا رہا، جہاں اتنے نئے بلاگرز کا اضافہ ہوا، وہاں  <a target="_blank" href="http://www.urdumaster.com/" >اردو ماسٹر</a> جیسا بلاگ بھی سامنے آیا، جہاں <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://sajid.gumbat.com/" >ساجد</a> اردو بلاگرز کے تکنیکی مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نئے بلاگرز کو اردو ماسٹر پر بلاگنگ کے حوالے سے بہت کچھ جاننے کو مل سکتا ہے۔  البتہ 2008 کے آخر میں اردو ٹیک کا غائب ہونا مایوس کن رہا، بلاگرز کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اسی وجہ سے کچھ بلاگرز نے بلاگ سپاٹ یا فری ہوسٹس کا رخ کیا۔</p>
<p>سال کے آخر میں کراچی میں بلاگرز کی نشست بھی ہوئی۔ جہاں <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a>، فہیم اور <a target="_blank" href="http://wakeel.urdutech.net/" >شعیب</a> نے اردو بلاگنگ کی نمائندگی کی۔  اردو بلاگنگ کو اس نشست میں کافی پذیرائی ملی، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ کراچی بلاگرز کی نشست کے بارے میں آپ تفصیل سے <a href="http://ibnezia.com/blog/2008/12/kbm-08/"  target="_blank">عمار کے بلاگ</a> پر پڑھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/01/mnazarnamah2008/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

