<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>منظرنامہ &#187; urdu</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/tag/urdu/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Jul 2010 09:12:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>منظر نامہ ایوارڈز 2009 : مشاورت</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2009 00:00:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[ایوارڈز]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=537</guid>
		<description><![CDATA[آپ سب کو معلوم ہو گا ہی کہ پچھلے سال سے اردو بلاگرز کے لیے ایوارڈز کا سلسلہ منظر نامہ پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کی تجویزسب سے پہلے اردو بلاگر “میرا پاکستان“ نے دی تھی۔ پچھلے سال صرف تین ایوارڈز جاری کیے گئے تھے۔ ١۔ سال 2008ء کا بہترین بلاگ ٢۔ سال 2008ء [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آپ سب کو معلوم ہو گا ہی کہ پچھلے سال سے اردو بلاگرز کے لیے <a href="http://www.manzarnamah.com/category/awards/" >ایوارڈز کا سلسلہ </a>منظر نامہ پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کی تجویزسب سے پہلے اردو بلاگر “<a target="_blank" href="http://www.mypakistan.com/" >میرا پاکستان</a>“ نے دی تھی۔ پچھلے سال صرف تین ایوارڈز جاری کیے گئے تھے۔<br />
١۔ سال 2008ء کا بہترین بلاگ<br />
٢۔ سال 2008ء کا فعال ترین بلاگ<br />
٣۔ سال 2008ء کا بہترین نیا بلاگ<br />
اب چونکہ 2009 بھی اپنے اختتام کی طرف جا رہا ہے تو ہمیں ابھی سے “ایوارڈز 2009“ کی پلاننگ کرنا ہو گی۔ اس سال بہت سے نئے اردو بلاگرز سامنے آئے۔ اور اسی لحاظ ہم تین ایوارڈز کی تعداد بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ پچھلی بار اردو بلاگرز کی طرف سے ایوارڈز کے سلسلے میں منظر نامہ کو کوئی خاص تعاون حاصل نہیں رہا تھا۔ لیکن اس بار آپ تمام اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ ہماری مدد کر کے اس کام کو آسان بنائیں۔ نہ صرف ایوارڈز بلکہ نامزدگیوں میں بھی آپ سب کی مدد درکار ہو گی۔<br />
ذیل میں کچھ ایوارڈز کے نام دئیے جا رہے ہیں، لیکن ان کو شامل کرنا ضروری نہیں۔ آپ سب کے مشورے اور آراء کے بعد ہی سال 2009 کے ایوارڈز منتخب کیے جائیں گے۔<span id="more-537"></span></p>
<p>١۔  بہترین بلاگ<br />
٢۔  فعال ترین بلاگ<br />
٣۔  نیا بہترین بلاگ<br />
٤۔ بہترین مزاح بلاگ<br />
٥۔ بہترین ٹیکنالوجی بلاگ<br />
٦۔ بہترین گپ شپ بلاگ<br />
٧۔ بہترین سیاسی بلاگ<br />
٨۔ بہترین معلوماتی بلاگ<br />
٩۔ بہترین ادبی بلاگ<br />
١٠۔ بہترین بلاگ ڈئزائین</p>
<p>آپ ان ایوارڈز کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ ایوارڈز زیادہ ہیں؟ ان میں سے کس ایوارڈ کو شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یا پھر کوئی اور ایوارڈز جو آپ شامل کرنا چاہتے ہوں؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/10/manzarnamah-awards-09-consultation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>38</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کچھ نئے اردو بلاگرز</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/07/urdu-bloggers/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/07/urdu-bloggers/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Jul 2009 15:21:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[اعلانات/ متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[bloggers]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[اردو، بلاگرز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=431</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے کچھ عرصے میں کافی نئے اردو بلاگرز سامنے آئے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اردو بلاگرز کی فہرست کو ساتھ ساتھ اپڈیٹ کرتے جاتے ہیں۔ ہم ان بلاگرز کے احسان مند ہیں جو میل کر کے ہمیں اپنے بلاگ کے بارے میں اطلاع دیتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہمیں لسٹ اپڈیٹ کرنے میں بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">پچھلے کچھ عرصے میں کافی نئے اردو بلاگرز سامنے آئے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اردو بلاگرز کی فہرست کو ساتھ ساتھ اپڈیٹ کرتے جاتے ہیں۔ ہم ان بلاگرز کے احسان مند ہیں جو میل کر کے ہمیں اپنے بلاگ کے بارے میں اطلاع دیتے رہتے ہیں۔ اس طرح ہمیں لسٹ اپڈیٹ کرنے میں بھی آسانی رہتی ہے۔<br />
کچھ نئے بلاگرز جن کو ہم نے منظر نامہ کی بلاگر فہرست میں شامل کیا، وہ روابط اس تحریر میں بھی دئیے جا رہے ہیں۔ اگر کسی نئے بلاگر کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں وہ اس تحریر پر تبصرے کے ذریعے یا ہمیں میل کر کے بتا سکتا ہے۔ اس پوسٹ کے علاوہ <a href="http://www.manzarnamah.com/urdu-bloggers/" >اس مکمل فہرست</a> میں بھی اپنا نام اور بلاگ کا ربط دیکھیے اگر کوئی غلطی محسوس ہو تو ہمیں اطلاع کریں. شکریہ.</p>
<p style="text-align: right;">١۔ صحرائے کاشف : kashif.urdutech.net<br />
٢۔ عنیقہ ناز : anqasha.blogspot.com<br />
٣۔ محمد احمد : ranaii-e-khayal.blogspot.com<br />
٤۔ غفران : befazool.wordpress.pk<br />
٥۔ کامران اصغر : kami.wordpress.pk<br />
٦۔ حسن جمیل سید : fikr-e-jamil.blogspot.com<br />
٧۔ باذوق (ابن صفی: موضوعاتی بلاگ) : www.ibnsafi.blogspot.com<br />
٨۔ واجد علی بابر : www.poetak.blogspot.com<br />
٩۔ ریحان علی : rehanez.blogspot.com<br />
١٠۔ مطیع الرحمٰن : www.uhjab.blogspot.com<br />
١١۔ طالوت: taloot.blogspot.com<br />
١٢۔ محمد طارق : sweetjaveria.blogspot.com</p>
<p style="text-align: right;">&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8211;<br />
خرم شہزاد خرم (نئے بلاگ کا لنک) : nawaiadab.com/khurram<br />
ابو شامل (نئے بلاگ کا لنک) : www.abushamil.com</p>
<div id="_mcePaste" style="overflow: hidden; position: absolute; left: -10000px; top: 105px; width: 1px; height: 1px;">ماشااللہ بہت خوب۔ پہلی تحریر تو بہت اچھی لکھی ہے۔<br />
اردو بلاگنگ میں خوش آمدید۔امید ہے بلاگنگ جاری رکھیں گے۔</div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/07/urdu-bloggers/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایم بلال سے شناسائی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/06/mbilaal-shanasai/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/06/mbilaal-shanasai/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Jun 2009 11:30:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[شناسائی]]></category>
		<category><![CDATA[bilaal]]></category>
		<category><![CDATA[blog]]></category>
		<category><![CDATA[interview]]></category>
		<category><![CDATA[shanasai]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=417</guid>
		<description><![CDATA[السلام علیکم. ہمارے آج کے مہمان ایک اردو بلاگر ہیں، گو کہ آپ آجکل بلاگنگ کم ہی کر رہے ہیں، لیکن جتنا آپ نے لکھا یا اردو کے لیے کام کیا وہ قابل تعریف ہے۔ آپ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں اور پھر اچانک اپنے شاہکار کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم.<br />
ہمارے آج کے مہمان  ایک اردو بلاگر ہیں، گو کہ آپ آجکل بلاگنگ کم ہی کر رہے ہیں، لیکن جتنا آپ نے لکھا یا اردو کے لیے کام کیا وہ قابل تعریف ہے۔ آپ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں اور پھر اچانک اپنے شاہکار کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔  آپ نے اردو اور کمپیوٹر  پر <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=58" >ایک کتابچہ پی ڈی ایف فائل</a> کی صورت میں بنایا ، جو نئے اردو بلاگرز  یا یوزرز کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ  اچھی طبیعت  کے ساتھ ساتھ اچھی سوچ کے بھی مالک ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ ۔۔۔</p>
<blockquote><p>“یوں تو میں کسی قابل نہیں۔ سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم اہمیت ہے لیکن “قطرہ قطرہ ملے تو سمندر ضرور بنتا ہے” کا قائل ہوں۔ اسی سمندر کی تلاش کے لئے مثبت، فکری اور انقلابی سوچ کو اپنے اندر اور دوسروں کے اندر بیدار کرنے کی وقتاً فوقتاً کوشش کرتا رہتا ہوں۔ ہر بندہ اپنا ایک الگ اندازِ بیاں اور اندازِ سوچ رکھتا ہے اور اگر اسی انداز کو مثبت پہلو دے دے تو وہ کم از کم فکری انداز کا مالک ضرور بن جاتا ہے۔”</p></blockquote>
<p>تو آئیے  <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/" >ایم بلال</a> کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان سے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔<br />
خوش آمدید بلال.<br />
<span style="color: #333399;">شکریہ منظرنامہ و  ناظمین</span></p>
<p>سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔</p>
<p>- آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">@ ضلع گجرات کا ایک چھوٹا سا دیہات اور حالیہ مقام بھی یہی ہے.</span></p>
<p style="text-align: justify;">- کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟<br />
<span style="color: #333399;">@ بقول میرے خاندان کے میں ان پڑھ ہوں وہ اس لئے کہ صرف  بی ایس کمپیوٹر سائنس کیا اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ ویسے اگر میں اپنے خاندانی پس منظر  کو دیکھو تو  پھر میں  واقعی  نکما اور ان پڑھ ہوں۔<br />
اس کے علاوہ ایک زمیندار گھرانہ سے تعلق ہے میرے  پر دادا کھیتی باڑی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک قابل حکیم بھی تھے۔ دادا پہلے سرکاری ملازم رہے پھر وہ بھی کھیتی باڑی کی طرف آ گئے۔ میرے دادا کو  اردو ،پنجابی، عربی، فارسی اور  انگریزی پر کافی عبور تھا۔ میرے  والد صاحب سرکاری ملازم ہیں۔ ہم آج بھی تھوڑی بہت کھیتی باڑی کرتے ہیں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟<br />
<span style="color: #333399;">@ میری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے اصل مقصد کو پہچان سکوں اور اس پر عمل کر سکوں۔ باقی خواہشات کا پہاڑ ہے ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ&#8221; پاکستان کو اپنی زندگی میں پرامن اور ترقی کرتا دیکھ سکوں۔&#8221; یہ میری ایک چھوٹی خواہش ہے ذرا سوچیں کہ بڑی کیا ہوں گی۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟<br />
<span style="color: #333399;">@ 2007 میں گوگل کی مہربانی سے <a target="_blank" href="http://urduweb.org/mehfil/" >اردو محفل</a> ملی اور محفل سے ہی پتہ چلا کہ بلاگنگ بھی کوئی چیز ہے۔ مزید اس کی تفصیل <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> نے سمجھائی کہ بلاگ کیا ہوتا ہے، کیوں ہوتا ہے، کس لئے ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- کب سوچا کہ خود بھی بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟<br />
<span style="color: #333399;">@اردو محفل پر مختلف دوستوں نے مشورہ دیا کہ اپنا بلاگ بناؤ۔اس کے علاوہ مختلف  بلاگ کے بارے میں پتہ چلا تو وہاں جاتا انہیں پڑھتا اور کبھی کبھی دل کرتا کہ میں بھی اپنا بلاگ بناؤں اور شائد اردو ٹیک پر رجسٹر بھی کیا تھا یہ اپریل 2008 کی بات ہے ان دنوں خوب بلاگ پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ بلاگ سے بہتر فورم ہے۔ میری اس سوچ کی ایک مثال آپ <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=267420&#038;postcount=9" >یہاں دیکھ سکتے ہیں</a> لیکن ساتھ ساتھ میں بلاگ بنانے کی کوشش میں بھی تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ دونوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ آخر کار مئی 2008 کے آخر میں میں بلاگ بنانے پر سنجیدہ ہو گیا اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے محفل پر <a target="_blank" href="http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=12631" >یہ دھاگہ</a> شروع کیا اور جون 2008 میں اپنا بلاگ بنا ہی لیا۔ سارہ خان، <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> ، <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمارضیاء</a> اور اردو محفل کی مدد نہ ملتی تو شائد میں آج بھی بلاگ سے بہت دور ہوتا۔ شروع میں بس اپنا بلاگ بنانا ہی مقصد تھا اور کچھ نہیں تھا لیکن اب الحمد اللہ بلاگ کے حوالے سے  میرے سامنے ایک مقصد ہے ایک منزل ہے۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- بلاگنگ کے آغاز میں  کن  کن مشکلات کا سامنا رہا؟<br />
<span style="color: #333399;">@ مجھے زیادہ تر بنیادی معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مجھے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ ورڈپریس کیا ہے۔ اور تو اور ایک جگہ عمار نے لکھا کہ آپ ورڈ پریس کے اردو سانچے فلاں جگہ سے ڈاؤن لوڈ کر لیں تو میں نے جواب میں پوچھا جناب یہ سانچہ کیا ہوتا ہے؟  سیدھی سی بات ہے جب بنیاد کا ہی نہیں پتہ تھا تو مشکلات تو ہونی ہی تھیں۔ کئی کئی گھنٹے چھوٹی چھوٹی چیز کو سمجھنے اور تلاش کرنے میں لگا دیئے۔ تھیم یعنی سانچہ کہاں ہوتا ہے؟ اس میں تبدیلی کیسے کرتے ہیں؟ اور پھر اردو سپورٹ کیسے شامل کرتے ہیں؟ ورڈ پریس کو استعمال کیسے کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جن دوستوں کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں  وہ اور اردو محفل نے قدم قدم پر مجھے سہارا دیا ،مجھے سیکھایا اور ہمت بڑھاتے رہے۔ میں ان تمام کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کیونکہ انہیں لوگوں کی بنیادی معلومات مہیا کرنے کی وجہ سے آج میں کم از کم ایک اچھا بلاگ  سیٹ اپ اور اس کی تھیم خود سے بنا سکتا ہوں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- آپ بلاگ پر کس قسم کے موضوعات پر لکھتے ہیں ؟<br />
<span style="color: #333399;">@شروع میں تو چند پرانی تحریر جو سیاست اور معاشرہ پر لکھی ہوئی تھی وہ ہی بلاگ پر پوسٹ کر دیں۔ اب بھی ان موضوعات پر لکھتا ہوں لیکن کبھی کبھی۔ اس علاوہ مستقبل میں زیادہ توجہ فروغ اردو  و اردو کمپیوٹنگ اور دیگر تعمیری مقاصد کے موضوعات پر لکھنے کا پروگرام ہے۔ باقی اللہ بہتر کرنے والا ہے۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- آپ اتنا اچھا لکھتے ہیں ۔ لیکن آجکل آپ کے بلاگ پر تحاریر کم دکھائی دے رہی ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">@ آپ تحریر پر تبصرہ ہی نہیں کرتے تو پھر لکھنے کا فائدہ؟ ہا ہا ہا یہ صرف مزاح کے لئے تھا۔ باقی حقیقت یہ ہے کہ کچھ مصروفیات اور کچھ میرے عجیب و غریب شوق و جنون لیکن امید ہے آپ لوگ جلد ہی میرے بلاگ پر کچھ اچھا دیکھیں گے۔ جیسے میں آج کل بنیادی نوعیت کی اردو کمپیوٹنگ، اردو بلاگنگ وغیرہ پر لکھ رہا ہوں جو کہ ابھی آف لائن ہی ہیں جیسے ہی کوئی کتابچہ مکمل ہوگا تو اسے بلاگ اور دیگر فورم پر پوسٹ کر دوں گا۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- یہ بتائیے کہ آپ کے بلاگ پر ہمیں بہت سی معلوماتی تحاریر دیکھنے کو ملتی ہیں، جیسے <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=36" >کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے اصول</a>، <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=25" >یونیکوڈ</a> یا <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=27" >رسم الخط</a> کیا ہے؟ شامل ہیں، مزید آپ نے <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/?p=32" >اردو کلیدی تختہ</a> بھی بنایا ہے، اس بارے میں کچھ بتائیں  کہ  اردو کمپیوٹنگ کی طرف پہلے سے رحجان تھا یا اچانک ہی اس کے بارے میں لکھنے یا کام کرنے کا خیال آیا؟<br />
<span style="color: #333399;">@اردو کمپیوٹنگ کی طرف رحجان تو بہت پرانا ہے۔ بہت پہلے جب بلاگ کا نہیں پتہ تھا اور فورم پر میں جاتا نہیں تھا تب بھی اردو اور اردو کمپیوٹنگ کے لئے کچھ کرنے کو دل کرتا رہتا تھا اور تھوڑا بہت  کام کرتا بھی تھا ۔ چھوٹے شہر اور دیہات میں رہنے کے جہاں دیگر دوسرے مسائل ہیں وہاں ایک یہ بھی تھا کہ جو فاصلے بڑے شہر اور جدید ٹیکنالوجی  والوں نے مہینوں میں تہہ کئے وہ میں نے سالوں میں تہہ کئے۔ لیکن اب اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو  جہاں تک مجھ سے ہو سکا آپ سب دوستوں کے تعاون سے  نئے آنے والوں کے وہی اردو کمپیوٹنگ کے مسائل کے حل سالوں نہیں مہینوں نہیں بلکہ صرف چند منٹوں پر مہیا کرنے کی کوشش کروں گا۔جس کے لئے میں اردو کمپیوٹنگ، اردو بلاگنگ، اردو ویب سائٹس کے متعلق بالکل بنیادی باتیں صرف ایک کلک کے فاصلے پر رکھنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر لوگ بنیادی معلومات لکھنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ یہ تو وہ باتیں ہیں جو سب کو پتہ ہوں گی کچھ علیحدہ سے لکھنا چاہئے۔یہاں میں یہ نہیں کہتا کہ اردو کمپیوٹنگ پر بنیادی معلومات آج تک لکھی ہی نہیں گئی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میں تمام بکھری ہوئی  معلومات کو ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان تک رسائی آسانی سے ہو۔  میرے خیال میں اردو کمپیوٹنگ کاعام  لوگوں کو بہت کم پتہ ہے اور جب کوئی اس طرف آتا ہے تو اسے بے شمار مسائل کے حل کی تلاش کرنے اور بنیادی معلومات کے حصول کے لئے کافی وقت دینا پڑتا ہے۔ جب کسی منزل کی طرف جانے کی بنیادی معلومات مل جاتی ہیں تو پھر بندہ ادھر اُدھر سے پوچھ پوچھ کر منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے ،  میرے نزدیک  زیادہ اہمیت بنیادی معلومات کی ہے۔ اس لئے میں صرف ایک کلک کے فاصلے پر زیادہ سے زیادہ بنیادی معلومات دینا چاہتا ہوں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی  فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">@ میرے خیال مجھے بلاگنگ سے بہت فائدہ ہوا ہے، ہو رہا ہے اور امید ہے ہوتا رہے گا۔ میرے نزدیک تو لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لئے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے نظریات جانیں گے۔ مختلف مکاتب فکر کو آسانی سے پڑھ سکیں گے۔ تو نئی سے نئی راہیں کھلیں گی۔ شعور کی منازل تہہ ہو گیں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- اگر آپ  کو  اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے ؟<br />
<span style="color: #333399;">@ میری مادری زبان پنجابی ہے،  میرے ملک کے بہت کم لوگ ٹھیک اردو بولتے ہیں جن میں میں  شامل نہیں  ہوں کیونکہ مجھے اردو آتی ہی نہیں، لیکن پھر بھی مجھے اس سے پیار ہےکیونکہ اردو زبان کی ترقی میں ہی میری اور میرے ملک کی ترقی پوشیدہ ہے۔ یار لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم ترقی کریں گے تو اردو خودبخود ترقی کرے گی جبکہ میں کہتا ہوں جب ہم اردو سے پیار کریں گے تو ہم آسانی سے اور جلدی ترقی کرسکیں گے۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- آپ کیا سمجھتے ہیں کہ  اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟<br />
<span style="color: #333399;">@اردو اور دیگر مقامی زبانوں کو اگر ہم وہ مقام دیتے جن کی وہ مستحق تھیں تو یقنا یہ زبانیں بھی ہمیں وہ مقام دے دیتیں جو کسی ترقی یافتہ ملک سے کم نہ ہوتا۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟<br />
<span style="color: #333399;">@ اپنی عمر میں دس سال اضافہ یا موت دیکھتا ہوں۔ اردو بلاگنگ کو اچھے ، محنتی اور لگن والے لوگ اسی طرح ملتے رہے تو یقینا اسے بہت ترقی کرتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ یا آجکل کن پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں؟<br />
<span style="color: #333399;">@ کچھ خاص نہیں بس آج کل صحافت کا شوق چڑھا ہوا ہے۔ چند پراجیکٹس کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔</span></p>
<p style="text-align: justify;">- کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟<br />
<span style="color: #333399;">@یوں تو میں اس قابل نہیں کہ اردو کی خدمت کرنے والے عظیم لوگوں کو اپنا پیغام دوں بس دعا کی اپیل کر سکتا ہوں کہ مجھ جیسے لوگوں کے لئے دعا کریں کہ ہم بھی اردو کے لئے کچھ کر سکیں۔ باقی بلاگر دوستوں کو یہی کہوں گا ہمت نہ ہارنا مجھ جیسے کئی خاموش قاری ہیں جو آپ کو پڑھتے ہیں۔ ویسے بھی آپ کا کام ہے پیغام پہنچا دینا  بس۔ میں نے اپنے بلاگ پر جب <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/2008/06/10/akhir-kab-tak-yeh-sub-chalay-ga/" >پہلی تحریر</a> لکھی تو کوئی تبصرہ یا رائے نہیں ملی۔ لیکن میں پھر بھی لکھتا رہا اور پھر ایک مہینے اور چھ دن بعد جب <a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog" >افتخار اجمل بھوپال صاحب</a> نے <a target="_blank" href="http://mbilal.paksign.com/2008/07/16/tableeg-ka-tareeqa-behter-karo/#comment-9" >پہلا تبصرہ</a> کیا تو مجھے خوشی ہوئی لیکن اس خوشی کا لکھنے یا نہ لکھنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔</span></p>
<p>کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔<br />
<span style="color: #ff0000;">پسندیدہ:</span><br />
1۔ کتاب ؟<br />
<span style="color: #333399;">قرآن پاک   (کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں اور اگر میں اس کے احکامات پر عمل کرو گا تو یہ مجھے ایک اچھا مسلمان اور انسان بنا دے گی)</span><br />
2۔ شعر ؟<br />
<span style="color: #333399;">فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں<br />
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں</span><br />
3۔ رنگ ؟<br />
<span style="color: #333399;">دھرتی کے سب رنگ پیارے ہے۔</span><br />
4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟<br />
<span style="color: #333399;">دال چاول</span><br />
5۔ موسم<br />
<span style="color: #333399;">ہر موسم کا اپنا اپنا مزہ ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">غلط/درست:</span></p>
<p>1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">غلط ( بلکہ دوسرے بلاگ پڑھنے کی عادت ہو گئی ہے)</span><br />
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">بہت کم ایسا  ہوتا ہے مگر جب ہوتا ہے تو  میں اسی افسوس سے مزید بہت کچھ سیکھتا بھی ہوں۔</span><br />
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">درست۔</span><br />
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">شوق بہت ہے لیکن پڑھی بہت کم ہیں۔</span><br />
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟<br />
<span style="color: #333399;">یہ  تو پتہ نہیں لیکن میرے دوست بہت اچھے ہیں۔</span><br />
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟<br />
<span style="color: #333399;">درست (ویسے یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے ہر کسی کو غصہ آتا ہے مگر کوئی صبر کرتا ہے اور کوئی اظہار کرتا ہے۔)</span></p>
<p><span style="color: #ff0000;">کوئی ایک منتخب کریں :</span><br />
1۔ دولت، شہرت یا عزت؟<br />
<span style="color: #333399;">عزت</span><br />
2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟<br />
<span style="color: #333399;">حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ</span><br />
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟<br />
<span style="color: #333399;">ارینج شادی مگر پسند کر کے کیونکہ میں لاٹری کے حق میں نہیں۔</span><br />
5۔پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟<br />
<span style="color: #333399;">پاکستان</span></p>
<p>اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔<br />
<span style="color: #333399;">@ آپ نے جو کچھ پوچھا ہے میں نے اس پر بھی کافی وضاحت سے کام لیا ہے اور اب پڑھنے والے بور ہو چکے ہیں اس لئے کافی ہے اتنا ہی۔</span></p>
<p>بلال، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/06/mbilaal-shanasai/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2009 06:06:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[ammar]]></category>
		<category><![CDATA[mawra]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[politics]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogs]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منظرنامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، عمار اور ماوراء اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار</a> اور <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ وہی ہے، <a href="http://www.manzarnamah.com/category/selected-blogs/" >مہینے کے منتخب بلاگز</a> پر ایک نظر۔</p>
<p>جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو ہمیں قطعی اندازہ نہ تھا کہ جہاں یہ ہمارے لیے سر کا درد ثابت ہوگا، وہاں قارئین میں بھی مقبولیت حاصل کرے گا۔ قارئین کی طرف سے اگر اس قدر مثبت ردِّ عمل نہ آتا تو شاید ہم اس سلسلہ پر کب کا اللہ اکبر کرچکے ہوتے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' />   ماشاء اللہ، گذشتہ دنوں اُردو بلاگنگ میں مزید کچھ اضافے دیکھنے میں آئے اور کچھ مستقل لکھنے والوں نے اردو بلاگ شروع کیا۔ امید ہے کہ ہمیں مزید معیاری بلاگز پڑھنے کو ملیں گے۔</p>
<p><a href="http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/" >اپریل ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر مختصر تجزیہ</a> پچھلے دنوں پیش کیا جاچکا۔ آئیے، مئی ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/" >امید</a> طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://umeed.urdutech.com/?p=132" >خود کلامی</a>‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں:</p>
<blockquote><p>’’بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے۔<br />
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خواہش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔‘‘</p></blockquote>
<p>اور اس مختصر تحریر کا اختتام اس فکر انگیز جملے پر ہوتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>’’مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خواہش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>’امید‘ سے ہمیں امید ہے کہ باقاعدگی سے اپنے بلاگ پر نظر آئیں  اور اتنی غیر حاضریاں نہ کریں تاکہ ہمیں اچھی اچھی تحاریر پڑھنے کو مل سکیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان یعقوب</a> اردو میں کم ہی بلاگ کرتے ہیں۔ عموماً ان کی تحریر کراچی کے سیاسی حالات کے حوالے سے متحدہ قومی مومنٹ کی وکالت میں ہوتی ہے۔ ’’<a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/archives/452" >فساداتِ ایم کیو ایم کراچی</a>‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر سے اقتباس ملاحظہ ہو:</p>
<blockquote><p>’’جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘</p></blockquote>
<p>ایم کیو ایم مخالف پروپیگنڈے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نتائج نعمان کی نظر میں یوں نکلتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نعمان علی اپنی ایک مختصر تحریر ’’<a target="_blank" href="http://noumanali.com/flight-of-thoughts/2009/05/01/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86-%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%B0%D8%A7%D9%82.html" >مزدوروں کا دن یا ایک مذاق</a>‘‘ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہوا ایک شعر لکھتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر<br />
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے</p>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>وطنِ عزیز کے سنگین حالات کے سبب  متاثرہ علاقوں کے مہاجرین کی  دوسرے صوبوں میں آمد ایک بڑا ایشو ابھر کے سامنے آئی اور کئی ’’عظیم‘‘ رہنماؤں کے چہرے سے ’’حبّ الوطنی‘‘ کا نقاب اتر گیا۔ فرحان دانش’’<a target="_blank" href="http://farhandanish.wordpress.pk/%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D8%AF%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%259" >سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں</a>‘‘ کے موضوع کے تحت لکھتے  ہیں:</p>
<blockquote><p>’’سندھ میں افغانستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرشاہ لطیف بھٹائی کی دھرتی پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے۔ سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور وہ ایک بار پھر سندھ کو خون میں نہلانے‘ دھرتی پر قبضہ جمانے اور مستقل باشندوں کو غلام بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں‘ اس مقصد کیلئے افغان مہاجرین کی آڑ میں لاکھوں افراد کو لاکر سندھ کے شہروں اور قصبوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس اقتباس سے اگرچہ بہت کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بقیہ تحریر بھی یقینا آپ کو کافی کچھ جاننے اور ’حب الوطنی‘ کے جذبے سے سرشار &#8220;افراد&#8221; کا مؤقف سمجھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>شکاری کراچی کے حالات کا رونا روتے ہوئے اپنی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://shekari.0fees.net/?p=239" >ہم کہاں جارہے ہیں</a>‘‘ میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’عجیب افراتفری کا عالم ہے. بدھ 29 اپریل شام چار پانچ بجے سے رات گئے تک چالیس، بیالس افراد سکون کی نیند سو گئے. ان سکون سے سونے والوں میں اکثریت پھٹانوں کی تھی. ایک عرصے سے کراچی میں الطاف بھائی طالبان کا رونا رو رہے تھے کبھی پریشانی میں کھانا پینا چھوڑرہے ہیں تو کبھی نیند نہیں آتی. . . .<br />
اب تک ان کو یا متحدہ کو ہی طالبان دکھائی دیتے رہے اور کسی کو بھی کراچی میں طالبان نظر نہیں آئے. ان طالبان کو منظر پر لانے کے لیے سہراب گوٹھ میں ریڈی میٹ طالبان سامنے لائے گئے جنھوں نے وال چاکنگ کی، چرچ کی انتظامیہ کو دھمکیاں دی اور غائب ہو گئے… لیکن یہ نسخہ بھی کار آمد نہ ہوا تو دوبارہ ایسے طالبان کہیں ظاہر نہ ہوئے. مجھے تو حیرت ہوتی ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو سوات سے صرف ایک چرچ کی انتظامیہ کو دھمکی دینے آئے تو اور پھر دوبارہ سوات واپس چلے گئے.‘‘</p></blockquote>
<p>بات تو خیر سمجھنے کی ہے۔ یہ تو معصوم شکاری ہیں اس لیے شاید حیران ہیں لیکن کوئی اصل شکاریوں کے دامِ فریب کا شکار ہونے والوں سے پوچھے۔</p>
<p>ڈفر کی ایک مختصر مگر اپنے مخصوص دل چسپ انداز میں لکھی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=781" >یہ بچہ کس کا ہے</a>‘‘ سے ایک اقتباس:</p>
<blockquote><p>ڈفر : کیا یہ آپکا بچہ ہے؟<br />
لڑکی : ( شرم نما ہنسی کے ساتھ) نہیں اس کی امی تو اندر وارڈ میں ہیں۔<br />
ڈفر : (ساتھ والے لڑکے سے) دیکھا میں نے کہا تھا نا، ماں کبھی بھی اپنے بچے کو ہینگر کی طرح نہیں لٹکاتی۔</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /><br />
سیاق و سباق جاننے کے لیے ان کے بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کی زحمت تو کرنی ہی پڑے گی۔</p>
<p>محمد وارث کا تعارف کرانا غیر ضروری ہوگا کہ آپ کی قابلیت کے سبھی معترف ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اچھے شاعر ہیں اور علمِ شاعری کا بھرپور مطالعہ رکھتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_07.html" >علمِ عروض اور ہجے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’علمِ عروض دراصل ایک &#8216;ہوا&#8217; ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔<br />
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر &#8216;بناتا&#8217; ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں &#8216;شاعری&#8217; کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔‘‘</p></blockquote>
<p>اس تحریر کے بعد اگلی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/05/blog-post_08.html" >علمِ عروض۔ کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید</a>‘‘ کا مطالعہ بھی  شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔</p>
<p>وہاب اعجاز خان نے محمود نظامی کے نظرنامہ پر <a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post.html" >ایک تجزیہ</a> شایع کیا ہے:</p>
<blockquote><p>محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔<br />
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔<br />
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔<br />
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔</p></blockquote>
<p>وہاب اعجاز خان کی ملکی حالات پر ایک فکر انگیز تحریر ’’<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/2009/05/blog-post_10.html" >مبارک ہو</a>‘‘ بھی سامنے ہے:</p>
<blockquote><p>مبارک ہو جناب۔ اب آپ کے لائف سٹائل کو کوئی خطرہ نہیں۔ صبح اٹھیے۔ واک کے لیے پارک میں جائیے۔ رات کو پارکوں میں جائیے۔ ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ کیجیے۔ بچوں کو بڑے بڑے سکولوں میں داخل کیجیے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیجیے۔ مگر میرا کیا ہوگا۔ میں اپنے گھر سے دور ایک خمیے میں پڑا ہوا ہوں۔ نہ کھانا ہے نہ پینے کو پانی۔ میرے بچے بیمار ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے لائف سٹائل کو بچانے کے لیے مجھے قربانی دینا پڑے گی۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>دو مختلف موضوعات پر وہاب اعجاز خان کی پختہ تحاریر پڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جانب سے مزید معیاری اور مختلف موضوعات پر تحاریر سامنے آئیں گی۔ </p>
<p>اردو بلاگرز میں عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج بھی خوب چل نکلا ہے۔ پہلے صرف موصوف <a target="_blank" href="http://badtamiz.com/blog" >بدتمیز</a> ہوتے تھے، پھر <a target="_blank" href="http://dufferistan.com/" >ڈفر</a> آئے جن پر کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ بدتمیز ٹائپ کی کوئی چیز ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر <a target="_blank" href="http://billubilla.com/" >بلو بلا</a>، <a target="_blank" href="http://lafunga.wordpress.com/" >لفنگا</a>، <a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/" >مسٹر کنفیوژ</a> اور <a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/" >بے فضول</a> سامنے آئے۔ ہمارے سامنے اس وقت بے فضول کی چند تحاریر ہیں، اللہ جانے بے فضول سے ان کی مراد واقعی بے فضول ہے یا فضول جیسے یہاں کچھ لوگ ’فالتو‘ کو ’بے فالتو‘ بولتے ہیں۔۔۔ کیوں؟ بس جی، ایسے ہی، بولنے میں مزا آتا ہے۔ بہرحال، بے فضول کی ایک تحریر ’<a target="_blank" href="http://befazool.wordpress.pk/%d8%b3%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%a7%da%ba/%d9%85%d9%b0%db%8c%da%ba-%da%88%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/" >میں ڈرتا ہوں</a>‘ سے ایک اقتباس پیش ہے:</p>
<blockquote><p>’’تو جی واقعہ یہ ہے کہ ہم تو سدا کے بزدل واقع ہوئے ہیں۔ خوف ہے ناکامی کا، شرمندگی کا اور اذیت کا۔ ظاہر ہے میں تو اکیلا تو نہیں بزدل بیٹھا اس دنیا میں۔ اکثر نام نہاد بہادر جو اپنے سے چھوٹے اور کمزور لوگوں پر منہ زوری کرتے ہیًں، ان کی نسبت تو میں بہادر ہوں ۔ کیونکہ ایک تو ان کو اپنے سے بڑے بندے کی جوتی چاٹتے میں نے دیکھا ہے۔ فلموں میں ہی سہی’ مگر اصل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اور دوسرا یہ کہ میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا’ بس اس سے ڈرتا کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ہی ہی ہی۔ آپ بھی ہنسیے۔</p>
<p>اب ایسا بھی نہیں کہ میں ساری زندگی بزدل رہا ہوں۔ بچپن میں رات کو باغیچے کے اندھیرے کونوں مین جہاں باقی جانے سے ڈرتے تھے، میں کم از کم دھڑکتےدل کے ساتھ ہی سہی، آیۃ الاکرسی پڑھتے ہوئے چلا تو جایا کرتا تھا۔‘‘</p></blockquote>
<p> <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' /> </p>
<p>کراچی میں شدید گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ <a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/" >شب</a> کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کا ذمہ دار انہوں نے بات گھما پھرا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کو ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔  <img src='http://www.manzarnamah.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />  آج تک ہم بوتل میں جن سنتے آئے تھے، شب کی زبانی ذرا ’<a target="_blank" href="http://shab.urdutech.net/2009/05/chai/" >بوتل میں چائے</a>‘ کا قصہ پڑھتے چلیں:</p>
<blockquote><p>آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا ۔ لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>مکمل قصے کے لیے ان کے بلاگ پر جانے کی زحمت فرمائیں۔</p>
<p>شعیب صفدر نے ملک کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے ایک واقعہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/05/blog-post_21.html" >یہ حفاظت کو بنایا ہے</a>‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/" >جعفر</a> کو لکھتے ہوئے چند ہی ماہ گزرے ہیں۔ دل چسپ لکھتے ہیں۔ ’’<a target="_blank" href="http://jafar.wordpress.pk/%da%a9%da%86%da%be-%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%84%da%a9%d8%a7/%d9%88%db%8c%d9%84-%d9%be%d9%84%db%8c%d8%b3%da%88-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1/" >ویل پلیسڈ بلاگر</a>‘‘ ایک اچھی تحریر ہے:</p>
<blockquote><p>فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک۔۔۔۔</p></blockquote>
<p>ایک دن اچانک کیا ہوا، اس کے لیے آپ جعفر کے بلاگ پر مکمل تحریر پڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ابوشامل اردو بلاگرز میں معروف نام ہے۔ گذشتہ دنوں ابوشامل نے اپنا ڈومین خریدا اور ویب ہوسٹنگ لے کر اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/" >ابوشامل ڈاٹ کام</a> پر منتقل کیا۔ اس پر منظرنامہ کی جانب سے انہیں مبارک باد۔ ابوشامل کی اپنی تحاریر تو بلاشبہ لاجواب ہوتی ہی ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://www.abushamil.com/swat-operation-consensus/" >قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو</a>‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>’’جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/" >سعدیہ سحر</a> اردو بلاگنگ کی دنیا میں نسبتاً نئی لکھاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی لکھنا شروع کیا۔ آپ کی تحاریر عموماً مختصر لیکن پُر فکر  ہوتی ہیں۔’’<a target="_blank" href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2009/05/27/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D9%85%D8%B2%D9%88%D8%B1-%DA%BE%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DA%BE%DB%92-%D8%9F/" >کیا مسلم عورت کمزور ہوتی ہے</a>‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتی ہیں:</p>
<blockquote><p>مغربی ممالک مسلم خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے مسلم عورت پردے میں لپٹی ہوئی ڈری سہمی جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جو شادی سے پہلے باپ اور بھائی کی مرضی سے زندگی بسر کرتی ہے شادی کے بعد شوہر کے اشاروں پہ چلتی ہے مسلم عورت جس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔<br />
کیا مسلم عورت حقیقت میں کمزور ہوتی ہے؟</p></blockquote>
<p>تو کیا مسلم عورت واقعی کمزور ہوتی ہے؟ اس کا جواب سعدیہ سحر نے اپنی تحریر میں خوب دیا ہے۔</p>
<p>ان تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط:<br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/?p=1053" >کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟</a> (فرحت کیانی)<br />
<a target="_blank" href="http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/" >عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام</a> (افتخار اجمل بھوپال)<br />
<a target="_blank" href="http://naatiqa.blogspot.com/2009/05/blog-post_28.html" >یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے</a> (م۔م۔مغل)<br />
<a target="_blank" href="http://kami.wordpress.pk/articles/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7-%db%94%db%94%db%94%d8%9f/" >نیکی یا۔۔۔؟</a> (مسٹر کنفیوژ)<br />
<a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/2009/05/10/jabmujhe/" >جب مجھے بور کیا گیا </a>(فہیم اسلم)</p>
<p>بلاگنگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک اہم ترین خوش خبری کے اردو زبان میں، نستعلیق رسم الخط میں پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=541" >اردو سلیکس</a>‘‘ جاری ہوگیا ہے۔ اس کارنامے پر ہم محمد علی مکی کو بے حد مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اردو سلیکس دراصل لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم ہے، مختصر حجم کا ہے، استعمال میں آسان ہے۔ ونڈوز صارفین اسے اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ امید ہے، مستقبل میں اس حوالہ سے ارتقائی سفر جاری رہے گا۔</p>
<h2>بلاگرز کے لیے گُر کی بات:</h2>
<p>چلتے چلتے نئے بلاگرز کے لیے ہم ایک گُر کی بات پیش کرنامناسب سمجھتے ہیں۔ جب آپ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہیں تو پوسٹ ٹائٹل کے ٹیکسٹ ایڈیٹر کے عین نیچے تحریر کا ربط ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug-300x102.png" alt="slug" title="slug" width="300" height="102" class="alignnone size-medium wp-image-409" /></a><br />
پھر ہوتا یوں ہے کہ تحریر آپ کے بلاگ پر شائع ہو تو جاتی ہے لیکن جب ہم اس کا ربط کاپی کرکے کہیں پیسٹ کرتے ہیں تو وہ بہت عجیب و غریب انداز میں سامنے آتا ہے جیسا کہ کافی بلاگرز کی تحاریر کے ربط اس تجزیے کے دوران ہمارے سامنے آئے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug2-300x17.png" alt="slug2" title="slug2" width="300" height="17" class="alignnone size-medium wp-image-411" /></a><br />
کئی بار تو اس طرح کے روابط شیطان کی آنت کی طرح اتنے لمبے ہوجاتے ہیں کہ دو، تین سطور تک پہنچ جاتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ اس ربط کو ایڈیٹ کرکے انگریزی یا رومن میں کرلیا کریں تاکہ آپ کی تحریر کا ربط بالکل واضح رہے جیسے:<br />
<a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3.png" ><img src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/06/slug3-300x28.png" alt="slug3" title="slug3" width="300" height="28" class="alignnone size-medium wp-image-412" /></a><br />
یہاں تک کہ ربط کے درمیان خالی اسپیس بھی نہ دیں۔  امید ہے آپ سب بلاگر حضرات آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ کسی مشکل کی صورت میں سوال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی اپنے میزبانوں کو دیجئے اجازت۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی نئی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اپنا اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا بہت بہت بہت خیال رکھیے گا۔ فی امان اللہ۔ والسلام</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/06/may09-blogs/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اپریل 2009 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 31 May 2009 18:45:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[منتخب بلاگز]]></category>
		<category><![CDATA[2009]]></category>
		<category><![CDATA[april]]></category>
		<category><![CDATA[blogs]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=390</guid>
		<description><![CDATA[منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔ اپریل کے اقتباسات لکھنے میں بہت دیر ہو گئی، جس کی وجہ یہی تھی کہ عمار اور میں امتحانات میں مصروف تھے۔ میں کچھ فارغ ہو گئی ہوں، اور منظر نامہ کی طرف توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گی۔ اپریل میں اردو بلاگنگ میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔</p>
<p>اپریل کے اقتباسات لکھنے میں بہت دیر ہو گئی، جس کی وجہ یہی تھی کہ عمار اور میں امتحانات میں مصروف تھے۔ میں کچھ فارغ ہو گئی ہوں، اور منظر نامہ کی طرف توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گی۔ اپریل میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا، اس بار ذرا مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔</p>
<h1>طنز و مزاح</h1>
<p>سب سے پہلے <a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/" >راشد کامران</a> کی تحریر سے آغاز کرتے ہیں۔ راشد کامران مزاح پر نہایت ہی عمدہ لکھتے ہیں، آپ  کی چند پچھلی تحاریر بھی داد کے لائق تھیں۔ اپریل میں آپ کی تحریر “<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=233" >حقہ ۔۔ زیر زمین وکی پیڈیا سے ایک ورق</a>” جو کہ “حقے” سے متعلقہ ہے،جس میں آپ نے حقے کی تاریخ، ساخت و استعمال پر لکھا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>۔۔۔حقے کی تاریخ۔<br />
مغل شہزادوں کی تعداد اور عمر میں خاطر خواہ اضافے کے پیش نظر کہاجاتا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کچھ ایسی خواہش ظاہر کی کہ “شہزادہ بھی مرجائے اور ملکہ بھی نہ روٹھے”۔ مغل فیملی ڈاکٹر نے ظل الہٰی کے حکم کی تعمیل میں حقے کا نسخہ پیش کیا اور دربار سے وابستہ ہر فرد کے لیے حقہ کا استعمال لازمی قرار پایا۔ جہاں کسی شہزادے نے تخت شاہی کے زیادہ قریب ہونے کی کوشش کی محل کے خواجہ سراؤں نے بادشاہ کے تیور دیکھتے ہوئے چلم میں سنکھیا رکھوا دی۔ تاریخ‌ کی کتابوں میں درج ہے کہ ایک ہی کش میں شہزادہ دھویں کا مرغولا اڑانے سے پہلے ہی رحمتہ اللہ علیہ ہوجایا کرتاتھا۔۔۔<a target="_blank" href="http://www.urdublogging.com/?p=233" >مزید پڑھیں</a></p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=295003433" >اظہر الحق</a> دل میں درد رکھنے والےپاکستانی بلاگر ہیں، آپ کی اکثر تحاریر ملک کے حالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ آپ نے اپنی ایک تحریر میں <a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=652241532" >ایک دہشت گرد سے انٹرویو</a> لیا، جس میں آپ لکھتےہیں کہ۔۔۔</p>
<blockquote><p>آپ کا نام ؟<br />
-دھشت گرد!!</p>
<p>- آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!<br />
- دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !!</p>
<p>- اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں<br />
- ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !!</p>
<p>- اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں<br />
- دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے۔۔۔م<a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/Blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!706.entry?sa=652241532" >زید پڑھیں</a></p></blockquote>
<h1>آپ بیتی</h1>
<p>اظہر الحق کی ہی ایک تحریر  جو ان کے اپنے اور پاکستان سے تعلق کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ “ <a target="_blank" href="http://azharulhaq72.spaces.live.com/blog/cns!430EB3A9F3E8C6EF!708.entry" >میری پہچان، پاکستان</a>” میں آپ لکھتے ہیں کہ  جب گیارہ سال پہلے وہ یو اے ای میں گئے تھے، تو اس وقت سے اب تک  پاکستانیوں سے متعلق حالات بہت مختلف ہیں۔</p>
<blockquote><p>“۔۔۔میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا۔۔۔”</p>
<p>۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں   ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ،  مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ۔۔۔”</p></blockquote>
<p><a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/" >محمد وارث</a> نے  “<a target="_blank" href="http://muhammad-waris.blogspot.com/2009/04/blog-post_26.html" >چاندنی راتیں</a>” کے نام سے تحریر لکھی، جس میں آپ نے اپنا کمرہ اور گھر چھوٹ جانے پراور نئے گھر کے بارے میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔</p>
<blockquote><p>“۔۔۔زندگی کی ہر کروٹ، حشر ساماں ہوتی ہے اور ہر انگڑائی قیامت خیز اور اب زندگی کی ایک اور کروٹ مجھ سے بہت کچھ اگر لے گئی ہے تو بہت کچھ دے بھی گئی ہے۔ ہفتہ ہونے کو آیا کہ مجھ سے وہ میرا وہ کمرہ چُھوٹ گیا ہے جس میں &#8220;بلا شرکتِ غیرے&#8221; میں نے اپنی زندگی کے سینتیس سال بتا دیئے، اس کمرے کے ساتھ اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ سوچنے لگوں تو بیکار ہو جاؤں اور وہ گھر چھوٹ گیا جس میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور جوان ہوا۔ ہمارا وہ چھوٹا سا آبائی گھر جس کی تین منزلہ عمارت میں، میں ایک طرح سے تہہ خانے میں رہ رہا تھا اب اس سے ہجرت کر کے ساتھ والے گھر میں اٹھ آیا ہوں۔۔”</p></blockquote>
<h1>منظر نامہ خبریں</h1>
<p>۔  18 اپریل 2009  بروز ہفتہ <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_10.html" >پہلی نیشنل بلاگرز کانفرنس</a> کراچی میں منعقد کی گئی۔</p>
<p>۔  <a target="_blank" href="http://baazauq.blogspot.com/" >باذوق</a> نے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی منفرد تحریروں کے اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ <a target="_blank" href="http://aabegum.blogspot.com/" >مشتاق احمد یوسفی &#8211; شہ پارے </a>کے نام سے شروع کیا۔</p>
<p>۔  وہاب اعجاز خان نے اپنا نیا اردو بلاگ “<a target="_blank" href="http://ghubar-e-khater.blogspot.com/" >غبارِ خاطر</a> “ کے نام سے شروع کیا۔ ہم انھیں اردو بلاگنگ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔</p>
<p>۔  خورشید آزاد نے اپنا بلاگ <a target="_blank" href="http://bolo.urdutech.net/" >اردو ٹیک</a> سے <a target="_blank" href="http://imaazad.blogspot.com/" >بلاگ سپاٹ</a> پر منتقل کیا۔</p>
<p>۔ منیر عباسی نے ایک بار پھر بلاگنگ کی طرٖ رخ کرتے ہوئے اپریل میں اپنا نیا بلاگ “<a target="_blank" href="http://achoota.blogspot.com/" >طفل مکتب</a>” بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/05/april-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2009/04/nbc-part2/</link>
		<comments>http://www.manzarnamah.com/2009/04/nbc-part2/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 Apr 2009 22:17:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
				<category><![CDATA[بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[conference]]></category>
		<category><![CDATA[Farooq Sattar]]></category>
		<category><![CDATA[govt of sindh]]></category>
		<category><![CDATA[ministry of IT]]></category>
		<category><![CDATA[national]]></category>
		<category><![CDATA[Raza Haroon]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.manzarnamah.com/?p=371</guid>
		<description><![CDATA[از: عمار ابنِ ضیاء ماہ اپریل 2009 کے اوائل ہی میں شعیب صفدر نے اطلاع دے دی تھی کہ حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس میں اردو بلاگنگ کے حوالے پریزنٹیشن پیش کی جائے تو خوب رہے۔ اس سلسلے میں ہماری پہلی ملاقات کیفے نوبہار میں ہوئی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>از: <a target="_blank" href="http://ibnezia.com/blog/" >عمار ابنِ ضیاء</a></p>
<p>ماہ اپریل 2009 کے اوائل ہی میں <a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/" >شعیب صفدر</a> نے اطلاع دے دی تھی کہ حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس میں اردو بلاگنگ کے حوالے پریزنٹیشن پیش کی جائے تو خوب رہے۔ اس سلسلے میں ہماری پہلی ملاقات کیفے نوبہار میں ہوئی جس میں مجھ سمیت شعیب صفدر، <a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/" >ابوشامل</a>، <a target="_blank" href="http://noumaan.sabza.org/" >نعمان یعقوب</a> نے شرکت کی۔اس ملاقات میں چند ایسے بنیادی نکات جمع کیے گئے جن کے تحت پریزینٹیشن تیار کی جانی تھی۔ طے پایا کہ پہلے پریزینٹیشن کے تمام نکات باہمی مشورے سے طے کیے جائیں گے اور پھر ان کو ابوشامل اور میں پریزینٹیشن میں ڈھالیں گے۔</p>
<p>ہوا کچھ یوں کہ باقی سارے احباب تو بذریعہ ای۔میل رابطے میں رہے لیکن میں، اول اپنے دادا کی وفات اور دوم انٹرنیٹ سے رابطہ منقطع ہوجانے کے سبب میں پریزینٹیشن کی تیاری میں کسی قسم کی مدد تو درکنار، صورتحال سے باخبر بھی نہ رہ سکا۔ یہاں تک کہ کانفرنس سے ایک یوم قبل یعنی بروز جمعہ، نعمان یعقوب کے ہاں ملاقات طے پائی۔ حسبِ سابق، اس بار بھی ملاقات میں، مجھ سمیت شعیب صفدر، ابوشامل اور نعمان یعقوب شامل تھے۔ ابوشامل پاور پوائنٹ پر پریزینٹیشن تیار کرچکے تھے۔ نعمان کے ہاں بیٹھ کر تھوڑی بہت تبدیلیاں کی گئیں، اضافے کیے گئے اور طے پایا کہ پریزینٹیشن صرف اور صرف میں پیش کروں گا۔ حالآنکہ اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ میرے ساتھ نعمان بھی شامل رہیں گے۔</p>
<p>رات ساڑھے دس/ گیارہ بجے جب میں گھر پہنچا تو ارادہ اگرچہ یہی تھا کہ تھوڑی مشق کرلوں گا لیکن دن بھر کی تکان کے بعد ہمت بالکل نہیں رہی تھی لہٰذا ایک آدھ بار پریزینٹیشن دیکھ کر بند کردی اور پانی ڈال کر تازہ دم ہوا اور بستر پر۔</p>
<p>اگلے دن یونیورسٹی چلا گیا۔ وہاں کوئی کلاس نہیں ہونی تھی۔ صرف ’’تعلیم‘‘ کی کلاس میں ایک گروپ کی پریزینٹیشن تھی۔ سوچا کہ اس پریزینٹیشن سے شاید مجھے کچھ مدد مل جائے۔ وہ پریزینٹیشن بس مناسب تھی۔ وہاں سے دفتر چلا آیا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں نے اس پریزینٹیشن کو دیکھا، الگ سے کچھ نکات کی تفصیل بھی لکھ لی۔ تین بجے کے قریب <a target="_blank" href="http://fahim.urdutech.net/" >فہیم اسلم</a> کا فون آیا کہ وہ ریگل چوک پہنچ چکا ہے۔میں دفتر سے نکل کر اس کے پاس پہنچا اور ہم بذریعہ رکشہ سواری، ریجنٹ پلازا پہنچ گئے۔</p>
<h2>کانفرنس کا احوال</h2>
<p>ریجنٹ پلازا کے کوہِ نور ہال میں نیشنل بلاگرز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جب ہم (میں اور فہیم) ہال میں داخل ہوئے تو چالیس سے پچاس افراد موجود تھے۔ ہم نے بھی ایک میز سنبھال لی۔ <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com" >ماوراء</a> کی تجویز تھی کی منظرنامہ پر باقاعدہ اپ۔ڈیٹ کیا جاتا رہے۔ اول میں نے ٹوئٹر سے بذریعہ موبائل فون کنیکٹ ہونے کی بہت کوشش کی لیکن اس میں ناکامی رہی۔ isms.pk کی سائٹ میرا اسٹیٹس بروقت اپ۔ڈیٹ نہیں کررہی تھی۔ دوسری کوشش میری یہ تھی کہ ماوراء کو براہِ راست اپڈیٹ کرتا رہوں۔ اس کے لیے مجھے یوفون کی سِم کا سہارا تھا لیکن یوفون نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دغا کی۔ میں نے چار پیغامات بھیجے جو کہ میری طرف سے روانہ ہوئے بھی لیکن ماوراء کو ایک بھی موصول نہ ہوسکا۔ لہٰذا بروقت باخبر کرنے کے تمام تر منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔</p>
<p>شرکا آمد کا سلسلہ اگرچہ کافی پہلے سے شروع ہوگیا تھا لیکن مہمانوں کے انتظار میں کانفرنس اپنے مقررہ وقت ۴ بجے کے بجائے ایک گھنٹہ تاخیر سے یعنی ۵بجے شروع ہوئی۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وزیر آئی ٹی برائے حکومتِ سندھ جناب رضا ہارون صاحب تھے۔ اس کے علاوہ معروف صحافی ارد شیر کاؤس جی بھی اسٹیج پر موجود تھے۔</p>
<p>کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید فرقانِ حمید سے کیا گیا۔ بعد ازاں گیارہ سال کی عمر میں مائیکروسوفٹ سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی طالبہ عمیمہ عادل کو بلایا گیا۔ صوبائی وزیر رضا ہارون نے بتایا کہ چند دن پہلے جب عمیمہ عادل ان کے دفتر آئی اور انہوں نے اسے پیش کش کی کہ اپنی مرضی کا تحفہ مانگ لو تو اس نے لیپ ٹاپ کی خواہش ظاہر کی جسے انہوں نے فوراً قبول کرلیا۔ لہٰذا عمیمہ عادل کو تالیوں کی گونج میں لیپ ٹاپ کا تحفہ دیا گیا۔</p>
<p>اس موقع پر عمیمہ عادل نے بتایا کہ وہ شروع سے نعت خوانی کیا کرتی تھی۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ پڑھائی میں اچھی نہیں ہوگی لیکن وہ نعت خوانی کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی ہمیشہ بہت اچھی رہی۔ ایک رات اس کی والدہ نے خیال ظاہر کیا کہ لوگوں کی باتیں غلط ثابت کرنے کے لیے اُسے آئی ٹی کے شعبہ میں کچھ کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے <a target="_blank" href="http://www.ssuet.edu.pk/" >سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی</a> کے استاذ جناب اسد اللہ صاحب کی عمیمہ نے تعریف کی جنہوں نے بہت مدد کی اور اسے اس قابل کیا۔</p>
<p>بعد ازاں عمیمہ عادل نے مشہور نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے‘‘ کے کچھ بول بھی گنگنائے۔ ارد شیر کاؤس جی نے بھی بے حد سراہا۔ اس موقع پر کانفرنس کچھ سیاسی رنگ اختیار کرگئی جب صوبائی وزیر رضا ہارون نے جذباتی انداز میں یہ کہا کہ سوات کے علاقے میں لڑکی کو کوڑے مارنے والے، لڑکیوں کے اسکول بند کرانے والے ظالم دیکھ لیں کہ ہماری لڑکیاں اتنی باصلاحیت ہیں، کیا وہ ایسی لڑکیوں کا مستقبل تاریک رکھنے کے لیے انہیں تعلیم سے دور کررہے ہیں۔</p>
<p>پونے چھ بجے کانفرنس کی پہلی مقررہ <a target="_blank" href="http://jehanara.wordpress.com/" >جہان آرا</a>  کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنا بلاگ شروع کرنے کے اسباب بیان کیے اور ان موضوعات کا ذکر کیا جن پر لکھنا انہیں پسند ہے۔ انہوں نے معاشرے کی اس روایت پر افسوس کا اظہار کیا کہ لڑکیوں کو تعلیم میں پیچھے رکھ جاتا ہے اور ان کے مطابق یہی چیز ان کے بلاگ شروع کرنے کا محرک بنی۔</p>
<p>اس کے بعد <a target="_blank" href="http://ammar.fuzedbulb.com/" >عمار یاسر </a> کو دعوت دی گئی۔ عمار نے اپنے <a target="_blank" href="http://teabreak.pk" >چائے کے ڈھابے</a>  کا ذکر کیا اور اس پر شائع ہونے والی تحاریر کے موضوعات اور ان کے اعداد و شمار پیش کیے۔</p>
<p>اس کے بعد مائک، اسٹیج پر بیٹھے ارد شیر کاؤس جی کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں پہلے تو کانفرنس کی ضرورت، وجوہات اور اہمیت پر سوال جڑ دیا اور اپنے برابر میں بیٹھے رضا ہارون صاحب سے استفسار کیا کہ اگر وہ انہیں کچھ سمجھا سکیں۔ وزیر آئی ٹی رضا ہارون نے کانفرنس کے اسباب اور اہمیت پر روشنی ڈالی لیکن کاؤس جی اس سے مطمئن نہ ہوئے۔اِدھر اُدھر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنا تکیہ کلام ’’سالا‘‘ استعمال کیا لیکن فوراً ہی اس پر معذرت بھی کرلی۔ اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب اپنے برابر میں متحدہ قومی مومنٹ کے وزیر کی موجودگی کے باوجود یہ کہا: ’’میں ایم کیو ایم کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا کہ ایم کیو ایم میری پسندیدہ جماعت نہیں ہے۔‘‘ اس پر رضا ہارون زیرِ لب مسکراتے رہے۔ تاہم کاؤس جی نے ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فاروق ستار کے اس مؤقف کی حمایت کی جو انہوں نے قومی اسمبلی میں نفاذِ عدل پر اپنایا۔</p>
<p>کاؤس جی کے بعد <a target="_blank" href="http://teeth.com.pk/blog/" >ڈاکٹر عواب علوی</a> کو دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر عواب نے <a target="_blank" href="http://www.slideshare.net/drawab/free-speech-in-pakistan?type=presentation" >فریڈم آف اسپیچ</a> کے موضوع پر تقریر کی۔ متنازعہ کارٹونز شائع ہونے کے بارے میں ڈاکٹر عواب کا مؤقف تھا کہ اس ایشو کو خاص مقاصد حاصل کرنے کے لیے اچھالا گیا اور عوام نے اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچا کر احتجاج کیا۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://nextbyramla.com/" >رملا اختر</a>  نے بھی بلاگنگ کے حوالے سے پریزینٹیشن دی۔ دیگر کئی بلاگرز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض علی کے چشتی اور <a target="_blank" href="http://ciopakistan.com/" >رابعہ غریب</a> نے انجام دیے۔ کانفرنس کے درمیان ڈاکٹر فاروق ستار صاحب بھی تشریف لے آئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کانفرنس کی سب سے طویل تقریر تھی جس میں انہوں نے بلاگنگ، انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://www.flickr.com/photos/rajaislam" >راجا اسلام</a> کی پریزینٹیشن سب سے زیادہ دلچسپ تھی۔ راجا تصویری (فوٹو) بلاگر ہیں۔ آپ نے اپنے بلاگ کے محفوظات سے کچھ دلچسپ اور یادگار تصاویر پیش کیں جن کے پیچھے ایک کہانی تھی اور یہ تصاویر معاشرے کا کوئی نہ کوئی پہلو اجاگر کرتی تھیں۔</p>
<p>سب سے آخر میں، اردو بلاگنگ کے حوالہ سے ہماری پریزینٹیشن تھی۔ اگرچہ وقت بہت کم تھا، فاروق ستار کی طویل اور کچھ حد تک بے مقصد تقریر کانفرنس کا خاصا وقت لے چکی تھی اور اب انہیں ہی جانے کی جلدی تھی۔ لہٰذا جلدی جلدی میں اردو بلاگنگ کے حوالے سے میں نے اپنی پریزینٹیشن کے چند نکات پیش کیے اور یوں کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔</p>
<p>آخر میں چائے کے ساتھ کچھ لوازمات پیش کیے گئے تھے۔ اس دوران چند بلاگرز اور دیگر افراد نے آکر اردو بلاگنگ کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔۔۔ جس کے بعد ہم اپنے اپنے مقامات کو لوٹ گئے۔</p>
<p>میرے خیال میں نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے اور یہ ایک اچھی تقریب تھی لیکن بہرحال <a target="_blank" href="http://google.com.pk/" >گوگل پاکستان</a> اور <a target="_blank" href="http://ciopakistan.com" >سی آئی او پاکستان</a> کے زیرِ اہتمام ہونے والے <a target="_blank" href="http://teeth.com.pk/blog/2008/12/01/karachi-bloggers-meetup-dec-6th" >کراچی بلاگرز میٹ اپ</a> سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام ہونے کے باوجود پریس/ میڈیا کی کوریج دیکھنے میں نہیں آئی۔</p>
<p>کانفرنس کے بارے میں دیگر بلاگرز کی تحاریر:<br />
<a target="_blank" href="http://pensive-man.blogspot.com/2009/04/blog-post_19.html" >شعیب صفدر</a><br />
<a target="_blank" href="http://abushamil.urdutech.com/nbc09/" >ابوشامل</a><br />
<a target="_blank" href="http://naatiqa.blogspot.com/2009/04/blog-post_20.html" >م۔م۔ مغل</a><br />
<a target="_blank" href="http://teeth.com.pk/blog/2009/04/19/national-bloggers-conference-update" >ڈاکٹر عواب علوی</a><br />
<a target="_blank" href="http://karachi.metblogs.com/2009/04/19/national-bloggers-conference-2/" >کراچی میٹرو بلاگ</a><br />
<a target="_blank" href="http://ammar360.com/2009/04/19/national-bloggers-conference-2009/" >عمار</a><br />
<a target="_blank" href="http://www.deadpanthoughts.com/?p=1772" >فیصل کے</a><br />
<a target="_blank" href="http://www.pro-pakistan.com/2009/04/18/pakistan-national-blogger-conference-2009-live-coverage/" >پرو پاکستان</a></p>
<p>کانفرنس میں جو اردو بلاگنگ کی پریزنٹیشن دی گئی، وہ آپ نیچے دئیے گئے لنک پر دیکھ اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔</p>
<div id="scid:8eb9d37f-1541-4f29-b6f4-1eea890d4876:6e431e87-8a60-4797-a007-cf537e1615ed" class="wlWriterEditableSmartContent" style="padding-right: 0px; display: inline; padding-left: 0px; float: none; padding-bottom: 0px; margin: 0px; padding-top: 0px">
<h1><a href="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2009/04/urdublogging2.pps"  target="_blank">اردو بلاگنگ۔ پریزینٹیشن</a></h1>
<p>پریزینٹیشن کی ویڈیو۔ بشکریہ م م مغل</p></div>
<p><object width="445" height="364"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/_gskbDB8Fi4&#038;hl=en&#038;fs=1&#038;rel=0&#038;color1=0x006699&#038;color2=0x54abd6&#038;border=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/_gskbDB8Fi4&#038;hl=en&#038;fs=1&#038;rel=0&#038;color1=0x006699&#038;color2=0x54abd6&#038;border=1" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="445" height="364"></embed></object></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.manzarnamah.com/2009/04/nbc-part2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
